تازہ تر ین

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔اسلام آباد میں نجی یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کامیاب ہونے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، تعلیم،آگاہی اور شعور کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ دیتی ہے،تعلیم کے ساتھ ٹیکنالوجی کا حصول بھی ناگزیر ہے

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔اسلام آباد میں نجی یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کامیاب ہونے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، تعلیم،آگاہی اور شعور کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ دیتی ہے،تعلیم کے ساتھ ٹیکنالوجی کا حصول بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم کو دورحاضر کے تقاضوں اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے، نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، نوجوانوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں،چھٹی کے دن یہاں آیا،ہمارے لیے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میرے والد وزیر صحت تھے، انہوں نے نشتر ہسپتال ملتان کی بنیاد رکھی، ڈی ایچ کیو مظفر گڑھ اور ڈی ایچ کیو میانوالی کی بنیاد بھی میرے والد نے رکھی، میں نے بھی تعلیم اور صحت کیلئے بہت کام کیا، گیلانی لا کالج کا معیار اتنا بلند ہے کہ آسانی سے داخلہ نہیں ملتا۔چیئرمین سینیٹ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی پڑھا ہوں، آپ طلبہ میں سے ہی مستقبل میں صدر،وزیراعظم ،چیئرمین سینیٹ اور وزرا ہوں گے، آپ سب مستقبل کے لیڈر ہیں، مجھے خوشی ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ 65 فیصد نوجوان ہی پاکستان کو تبدیل کریں گے۔تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ملیرمیں قیمتی زمین مفت ملک ریاض خاندان کو دی گئی، برطانوی حکومت نے اس کیس میں کہا یہ رقم مشکوک ہے۔ ٹرانزیکشن کے بعد برطانوی حکومت نے یہ خاندان برطانیہ میں نہ رہے اورنا ان کی رقم چائیے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملیرمیں قیمتی زمین مفت ملک ریاض خاندان کو دی گئی، برطانوی حکومت نے اس کیس میں کہا یہ رقم مشکوک ہے۔ ٹرانزیکشن کے بعد برطانوی حکومت نے کہا کہ یہ خاندان برطانیہ میں نہ رہے اورنا ان کی رقم چائیے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کے حوالے سے کہا کہ برطانیہ میں ملک ریاض فیملی کے نو اکاوئنٹس پائے گیے ، نیشنل کرائم ایجنسی نے ان اکاوئنٹس کا آڈٹ کیا گیا تھا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ برطانوی حکومت نے بزنس ٹائیکون کی اپیلیں خارج کی اورانکے ویزہ بھی منسوخ کیے، حقیقت پہلے بھی واضح تھی کہ بزنس ٹائیکون کے کچھ اکؤنٹس برطانیہ میں فریز ہوجاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہ ایک اکاؤنٹ سے حسن نواز خان سے خریداری کی گئی، بزنس ٹائیکون کو 460 ارب روپے کی اراضی زمین کراچی کے وسط میں دی گئی تھی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک ریاض کے خلاف برطانیہ میں کوئی جرم ثابت نہیں تھا، صرف ان کے اکاؤنٹس میں پیسہ تھا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے مابین ایک معاہدہ ہوا، یہ دو فریقین کا معاہدہ ہے، معاہدہ میں لکھا ہے کہ فریز اکاؤنٹس کو ڈی فریز کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں لکھا گیا کہ جورقم ہے وہ ریلیز کیا جائے گا اورسپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جائی گی،بلکل غلط مفروضہ تھا کہ ملک ریاض نے ملیر کے زمین کی رقم ادا کرنی تھی۔القادر ٹرسٹ کیس (190 ملین پاؤنڈ ریفرنس) میں سزا کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی ہے، مذکورہ درخواست 21 جنوری کو ہائی کورٹ میں دائر کئے جانے کا امکان ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو وکلا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔وکلا میں بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ شامل ہیں، جن کے وکالت نامے مجرموں سے دستخط کرانے کیلئے اڈیالہ جیل حکام کے حوالے کردئے گئے ہیں۔ جیل حکام وکالت نامے پیر کو وکلا کو واپس کریں گے۔وکیل خالد یوسف کا کہنا ہے کہ وکالت نامے جیل حکام نے لے لئے ہیں اور ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔واضح رہے کہ 17 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جبکہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے مراکش کشتی حادثے میں بچ جانے والے 21 پاکستانیوں کی فہرست جاری کردی گئی ہے جب کہ متاثرہ شہریوں کی وطن واپسی کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مراکش میں کشتی ڈوبنے کے حوالے سے بیان کے مطابق بچ جانے والے پاکستانیوں کے ناموں کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہی ہے، رباط میں پاکستانی سفارتی مشن کے ذریعے متاثرہ شہریوں کو فوری امداد فراہم کی گئی اور سفارتخانے کی جانب سے متاثرہ شہریوں کے لیے کھانے، پینے، ادویات اور کپڑوں سمیت بنیادی ضرورت کی اشیا کا انتظام کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ حکومت مراکش میں متعلقہ حکام سے قریبی رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ شہریوں کی دیکھ بھال اور وطن واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔ترجمان کے مطابق بچ جانے والے شہریوں کی وطن واپسی کے عمل اقدامات کیے جارہے ہیں، جب کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح وبہبود کیلئے پرعزم ہیں ۔کشتی حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیکشتی حادثے میں بچ جانے والوں میں مدثر حسین، وسیم خالد، محمد خالق، عبدالغفار، گل شمیر، تنویراحمد، عباس کاظمی، غلام مصطفیٰ، بدرمحی الدین، عمران اقبال شامل ہیں۔اس کے علاوہ شعیب ظفر، علی حسن، مہتاب الحسن، عزیربشارت، محمد آصف، مجاہد علی، عامر علی، عمر فاروقی، بلاول اقبال، ارسلان اور عرفان احمد بھی حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں میں شامل ہیں۔واضح رہے کہ 16 جنوری کو مغربی افریقہ کے راستے غیر قانونی طور پر اسپین جانے والی کشتی حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم واکنگ بارڈرز نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ سے کشتی کے ذریعے اسپین پہنچنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہوئی۔مراکش کے حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز حادثے کا شکار ہونے والی تارکین وطن کی ایک کشتی سے 36 افراد کو بچایا گیا ہے جو 2 جنوری کو افریقی ملک موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں 86 تارکین وطن سوار تھے، جن میں 66 پاکستانی بھی شامل تھے۔بعد ازاں، ترجمان دفتر خارجہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپین جانے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہونے والی تارکین وطن کی کشتی میں 80 مسافر سوار تھے جن میں متعدد پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان رواں سال جون تک پانڈا بانڈ جاری کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرویو کے دوران کیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا پانڈا بانڈز سے چین کی کیپیٹل مارکیٹس میں شمولیت اور چینی سرمایہ کاروں سے 20 کروڑ ڈالر جمع کرنے کا ارادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف منتقل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن میں پائیداری حاصل کی جائے۔انہوں نے سی پیک کے نئے فیز کی اہمیت پر زور دیا اور واضح کیا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ مزید چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔انہوں نے ہانگ کانگ کو پاکستان میں تجارتی اور مالیاتی مواقع کا جائزہ لینے کے لیے وفود بھیجنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے لیے ایک موزوں مقام ثابت ہو سکتا ہے۔ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے ورلڈ بینک گروپ، آئی ایم ایف اور دیگر اہم ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مؤثر پارٹنر کوآرڈینیشن کی اہمیت پر زور دیا ہے، تاکہ پاکستان میں توانائی کے شعبے اور ملکی محصولات کو متحرک کرنے سمیت اہم اصلاحات کے نفاذ میں مدد جاری رکھی جا سکے اور عطیہ دہندگان کی صف بندی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ 14 جنوری کو اسلام آباد کے لیے کنٹری پارٹنرشپ کی منظوری دینے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی سمری کے مطابق انہوں نے 2026 سے 2035 تک پاکستان کے لیے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کی بھرپور حمایت کی۔ایگزیکٹو بورڈ نے فیصلہ کیا کہ بینک انتظامیہ 18 سے 24 ماہ میں نئے طریقہ کار کے تحت پہلے چند سی پی ایفز کے نفاذ کے بارے میں بورڈ کو بریفنگ دے گی۔پاکستان کا سی پی ایف ورلڈ بینک گروپ کے نئے کنٹری انگیجمنٹ ماڈل کی اہم خصوصیات کو اپنانے کی پہلی مثال ہے، جسے فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے، ڈائریکٹرز نے سی پی ایف کے انتخاب اور 6 بنیادی نتائج پر اس کی توجہ کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے ورلڈ بینک گروپ کے مضبوط نقطہ نظر اور عالمی علم، نجی شعبے کے حل پر مجوزہ انحصار، ترقی کو درست سمت میں رکھنے، مضبوط اور دیرپا نتائج کو یقینی بنانے کے لیے اعداد و شمار، نگرانی اور تشخیص کے ایجنڈے پر بڑھتی ہوئی توجہ کو سراہا۔آٹو فنانسنگ دسمبر 2024 میں بڑھ کر 235 ارب روپے کی سطح سے تجاوز کر گئی، جو اس سے پچھلے مہینے میں 234 ارب 60 کروڑ روپے تھی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں آٹو فنانسنگ منفی رہی، جو اکتوبر میں 236 ارب روپے، ستمبر 2024 میں 227.541 ارب روپے اور اگست 2024 میں 227.296 ارب روپے تھی، جون 2022 میں یہ 368 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی تھی۔اسٹیٹ بینک نے 10 جون کو پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردیا، اس کے بعد 29 جولائی کو مزید کمی کرکے 19.5 فیصد، 12 ستمبر کو 17.5 فیصد، 4 نومبر کو 15 فیصد اور 16 دسمبر کو 13 فیصد کر دی تھی۔آٹو پارٹس بنانے والے/ برآمد کنندہ اور مہران کمرشل کے ڈائریکٹر مشہود علی خان نے کہا کہ 2025 کے پہلے 6 ماہ امید افزا ہوں گے، کیوں کہ بینک اور اسمبلرز شرح سود میں کمی کے رجحان کے درمیان پروموشنل آفرز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کچھ بڑی نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد اپنی اچھی تنخواہوں کی وجہ سے آٹو فنانسنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنخواہ لینے والا یا ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ کمانے والا شخص 50 ہزار روپے ماہانہ کی قسط کی وجہ سے بینک قرض پر 660 سی سی سوزوکی آلٹو خریدنے سے بھی قاصر ہے، اور اس کے علاوہ تعلیمی، گروسری اور یوٹیلٹی بلوں میں اضافے کے مسائل سے بھی دوچار ہے۔مشہود علی خان نے کہا کہ آئندہ بجٹ اقدامات، سیاسی ماحول، زرمبادلہ کے ذخائر، روپے اور ڈالر کے مقابلے میں برابری آٹو سیکٹر کے نقطہ نظر کا تعین کریں گے، یہ دیکھا گیا ہے کہ درآمدی اشیا کی زیادہ مانگ غیر ملکی زرمبادلہ کا بحران پیدا کرتی ہے، اس طرح کھپت کو روکنے کے لیے پابندیاں سامنے آتی ہیں۔مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ 27 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں مزید 100 بی پی ایس کی کمی کی جائے گی، جس کی بنیاد کنزیومر پرائس انڈیکس میں کمی ہے۔ٹاپ لائن سیکیورٹیز کو توقع ہے کہ جنوری کے لیے سی پی آئی سال بہ سال 2.5 سے 3.0 فیصد (0.6 فیصد ایم او ایم) رہنے کی توقع ہے، جس سے مالی سال 25 کے 7 ماہ کی اوسط 6.66 فیصد ہوجائے گی، جب کہ مالی سال 24 کے 7 ماہ میں یہ 28.73 فیصد تھی۔تاہم کار اسمبلرز اور بینکرز کا خیال ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک آٹو لونز کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 سے 60 لاکھ روپے کر دے تو آٹو فنانسنگ میں مزید شدت سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل قرضوں کی حد 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کی ادائیگی کی مدت میں 5 سال کی کمی اور 1000 سی سی سے کم کی گاڑیوں کے لیے 3 سال کی ادائیگی کی مدت میں کمی اور ڈاؤن پیمنٹ کی شرط کو بڑھا کر 30 فیصد کرنے کی وجہ سے کار فنانسنگ دباؤ کا شکار رہی تھی۔رواں سال حجاج قربانی کی مدمیں 9 ارب 94 کروڑ 61 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کریں گے۔ذرائع کےمطابق رواں برس عازمین حج سےقربانی کیلئے55،500 روپےفی کس وصول کیےجا رہےہیں،سرکاری حج اسکیم کے تحت 35 ہزار سے زائد عازمین نے قربانی کی رقم جمع کرادی۔پاکستان سےرواں برس1لاکھ 79 ہزار210 عازمین سرکاری اور نجی اسکیم کے تحت حج اداکریں گے،89 ہزار605 عازمین سرکاری اسکیم اور اتنے ہی پرائیویٹ اسکیم کےتحت حجازمقدس جائیں گے۔دنیا کے سب سے طاقت ور ملک امریکا کے عروج کے اسباب اور غلبے کی کئی وجوہات ہیں جن میں بلاشبہ امریکی ڈالر بھی شامل ہے۔ ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی کرنسی ہے، جو سونے سے لے کر ایندھن تک سب کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے اور چند دہائیوں سے ممالک کے درمیان زیادہ تر تجارتی تبادلوں کے لیے بھی استعمال کی گئی۔ڈالر اس مقام پر کیسے پہنچا؟اکثر ممالک اپنی کرنسیوں کو سونے سے جوڑتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ ہر بینک نوٹ کے لیے سونے کی ایک مخصوص مقدار رکھتے تھے۔ چونکہ سونا محدود مقدار میں موجود ہے اس لیے رقم کی مقدار بھی محدود تھی اور اس کی چھپائی خود بخود محدود ہو گئی۔اس بنیاد پر ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی تبادلے کیے، جیسا کہ ہر ملک نے اپنی مقامی کرنسی میں ایک اونس سونے کی قیمت کا تعین کیا۔پہلی عالمی جنگ سے پہلے ایک اونس کی قیمت 4.25 پاؤنڈ سٹرلنگ تھی۔ امریکہ میں 20.67 ڈالر، جس کا مطلب ہے کہ ہر برطانوی پاؤنڈ کی قیمت ڈالر میں 4.87 تھی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved