پاکستانی ڈی جی ملٹری آپریشن اور بھارتی ہم منصب کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دشمن نے نہ صرف زمینی شکست تسلیم کی بلکہ یہ بھی مانا کہ پاک فوج ورکنگ باؤنڈری ، سیالکوٹ سیکٹر میں 5 کلومیٹر ، نارووال میں 3 کلومیٹر ، شیخوپورہ میں 2 کلومیٹر اور بہاولپور سیکٹر میں 4 کلومیٹر تک بھارت کے اندر موجود ہے۔ ایل او سی پر لیپہ ویلی ، حاجی پیر ، نکیال ، دواڑ ، ٹائیگر سیکٹر ، پونچھ ، کپواڑہ اور کھوئی رٹہ جیسے حساس علاقوں میں بھی پاکستانی افواج 5 سے 7 کلومیٹر تک انڈین حدود کے اندر پیش قدمی کر چکی ہیں ۔بے بسی اور شرمندگی کے عالم میں بھارت نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستانی افواج 22 اپریل کی پوزیشن پر واپس چلی جائیں، جس پر پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں انکار کر دیا۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے واضح کیا کہ سیزفائر کا مطلب جنگ بندی ہرگز نہیں ، جب تک بھارت شکست تسلیم کرتے ہوئے تحریری معاہدے پر دستخط نہیں کرتا ( 1971 کا حساب برابر نہیں ہوتا ) ، تب تک ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ڈٹے رہو حافظ صاحب ! وقت آ گیا ہے کہ ستر سالہ مودیانہ غرور کو ملیا میٹ کر کے دشمن کو وہ زخم دیا جائے جو نسلوں تک یاد رہے










