تازہ تر ین

پروفیسر ساجد میر اللہ کے حضور پیش ہوگئے انا للہ وانا الیہ راجعون (نوٹ: یہ لیاقت بلوچ صاحب کیساتھ میر صاحب کی عیادت کے لیے جانے والے سالار صاحب کی تحریر ہے)اس کمرے میں انرجی سیور بلب روشن ہے،پورے کمرے میں ایک ہی بلب ہے۔اس کے ساتھ دیوار پر پرانے طرز کا پنکھا لگا ہوا ہے۔ دیوار کے ساتھ اولڈ اسٹائل کی لکڑی کی الماریاں ہیں جن بیش قیمت تحائف اور برتنوں کی بجائے کتابیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ سادہ سی میز پر بھی کتب بکھڑی ہوئی ہیں۔ اسٹیل کی پرانی الماری اور اس کے اوپر کچھ سامان ہے۔ کمرے کا فرش پرانے چپس کا ہے۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پروفیسر ساجد میر اللہ کے حضور پیش ہوگئے انا للہ وانا الیہ راجعون (نوٹ: یہ لیاقت بلوچ صاحب کیساتھ میر صاحب کی عیادت کے لیے جانے والے سالار صاحب کی تحریر ہے)اس کمرے میں انرجی سیور بلب روشن ہے،پورے کمرے میں ایک ہی بلب ہے۔اس کے ساتھ دیوار پر پرانے طرز کا پنکھا لگا ہوا ہے۔ دیوار کے ساتھ اولڈ اسٹائل کی لکڑی کی الماریاں ہیں جن بیش قیمت تحائف اور برتنوں کی بجائے کتابیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ سادہ سی میز پر بھی کتب بکھڑی ہوئی ہیں۔ اسٹیل کی پرانی الماری اور اس کے اوپر کچھ سامان ہے۔ کمرے کا فرش پرانے چپس کا ہے۔ بستر بھی پرانے اسٹائل کا سنگل بیڈ ہے۔ لیاقت بلوچ صاحب جس کرسی پر بیٹھے ہیں وہ پلاسٹک کی ہے۔ اس کے پیچھے موجود کرسی بھی پرانے طرز کی ہے۔ یہ وہ کمرہ ہے جہاں پانچ مرتبہ کے منتخب سینیٹر نے اپنے آخری دن گزارے ہیں۔ بستر پر موجود انسان کا نام ”پروفیسر ساجد میر“ ہے۔ یہ ان کا “لگژری” بیڈ روم تھا۔ پروفیسر صاحب نے ۱۹۶۰ میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا تھا۔ اس کے بعد اسلامیات میں ۱۹۶۹ میں ماسٹرز مکمل کیا۔ علم و ادب سے خاص لگاؤ تھا۔ سیاست میں پروفیسر صاحب ۱۹۹۴ سے ۵ مرتبہ سینیٹ کے ممبر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ جمعیت اہلحدیث کے امیر بھی تھے۔ آپ نے ۸۶ سال کی عمر پائی۔ ساری زندگی درویشی کی گزاری۔ اللہ آپ سے راضی ہو۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved