وزیر خزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے مالی سال 25-2024 کا صوبائی بجٹ پیش کردیا جبکہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کہ کسی صوبے نے وفاق سے پہلے اپنا بجٹ پیش کیا۔ خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ جبکہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر36 ہزارمقرر کردی گئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 15 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، اس موقع پر وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپوربھی ایوان میں موجود ہیں۔بجٹ تقاریربجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ آفتاب عالم آفریدی نے کہا کہ 8 فروری کےانتخابات میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح مینڈیٹ دیا، پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بے مثال ترقیاتی کام کیے، خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو تیسری بار منتخب کیا، ترقیاتی منصوبوں میں سے اہم صحت انصاف کارڈ کا اجراء ہے۔آفتاب عالم آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی یکساں سہولیات مفت فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پی ٹی آئی نے اسکولوں،کالجز اور جامعات کی تعداد میں اضافہ کیا، تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کرائے، تعلیمی اصلاحات سے طلبہ کے لیے حصول تعلیم کے زیادہ سے زیادہ موقع پیدا ہوئے، نئےاساتذہ کی بھرتی سے تعلیم کے فروغ میں بہتری آئی، تعلیم قوموں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، نئےاسکولوں کے ساتھ ساتھ کئی اسکولوں کو اپ گریڈ کیا، ایک لاکھ قابل اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔خیبرپختونخوا حکومت کا تاریخ میں پہلی بار وفاق سے پہلے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہوزیرخزانہ نے کہا کہ بہتر سرمایہ کاری وہ ہے جو بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ہو، پی ٹی آئی حکومت عوامی خدمت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی، پی ٹی آئی قیادت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی حکومت آئندہ بھی عوام کے لیے اقدامات اٹھائے گی، عوام کی خدمت کا سفر جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ سے زائد شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، ادویات کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، صوبے کا پہلا برن اینڈ ٹراما سینٹر بہترین خدمات فراہم کررہا ہے۔آفتاب عالم آفریدی نے مزید کہا کہ امن وامان خیبرپختونخوا کا بڑا مسئلہ رہا، پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی امن و امان کے مسئلے پر قابو پایا، دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی ہوئی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پرخصوصی توجہ دی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پر خصوصی توجہ دی، پولیس کو جدید اسلحہ اور بلٹ پروگ گاڑیاں فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے، مقامی حکومتوں کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 20 فیصد فنڈز مختص کیے، خیبرپختونخوا نے اپنی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ کیا۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منصوبوں نے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا، عوام کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا اولین فرض ہے، حکومت کےاقدامات سے غریب طبقہ زیادہ مستفید ہوا، ضم اضلاع کے اخراجات کے لیے اب تک صرف 123 ارب روپے ملے، ضم اضلاع کے لیے 147ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب روپے بنتا ہے، صوبے کو ہرسال واجب الادا رقم اپنے حصے کے مقابلے میں کم ملتی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو 139 ارب روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، ٹیکس شرح کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، ہوٹلوں پر ٹیکس کی شرح 6 فیصد کردی گئی ہے۔آفتاب عالم نے کہا کہ شادی ہالوں کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس ریٹ متعارف کرانے کی تجویز ہے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بڑا ریلیف دیا جارہا ہے، ریسٹورنٹ انوائس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال تمام ہوٹلوں پر لازم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فی کینال پراپرٹی ٹیکس 13 ہزار 600 سے کم کرکے 10 ہزار کردیا گیا ہے، کمرشل پراپرٹی پرٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 2.5 روپے فی مربع فٹ ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 10 ہزار 600 روپے فی کنال بنتا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس کو کم کر کے 10 ہزار وپےفی کنال کرنے کی تجویز ہے، ریونیو موبلائزیشن پلان کے تحت 93.50 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے۔خیبرپختونخوا: نگراں حکومت نے آئندہ 4 ماہ کا بجٹ تیار کرلیاان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر پراونشل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا بل جلد اسمبلی میں پیش ہوگا، تمباکو کی آمدن صوبے کے بجائے وفاق کو جارہی ہے جو صوبے کا حق ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے تمباکو سے متعلق معاملات کو اپنے پاس رکھا ہے۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصداضافے کی تجویز ہے، پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے، کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزارکی جارہی ہے۔خیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیشخیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا بجٹ کا کل حجم 1754 ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 100 ارب سرپلس اور صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ بھی بجٹ میں شامل ہیں، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ریٹائر ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ ۔صوبے میں کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کہ 36 ہزار مقرر۔جائیداد کی منتقلی پر صوبائی ٹیکس 6.5 فیصد سے کم کر رکے 3.5 فیصد کرنے کی تجویز ۔کاشتکار کی بجائے ٹیبیکو کمپنی ٹیکس لگانے کی تجویز ۔ہوٹلوں کے ٹیکس کی شرح 8 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دی۔تمام ہوٹلو کے لئے ریسٹورانٹ انوایس منیجمنٹ سسٹم لازمی قرار۔بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے جبکہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 902 ارب 50 کروڑ ملنے کی توقع ہے اور دہشت گرد کیخلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ ملنے کا امکان ہے۔صوبے کو پن بجلی خالص منافع کی مد میں 33 ارب 9 کروڑ ملیں گے، پن بجلی بقایاجات کی مد میں 78 ارب 21 کروڑ ملے گے جبکہ صوبائی حکومت 93 ارب 50 کروڑ اپنے وسائل سے اکھٹے کرے گی، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر کرے گی۔ضم اضلاع کے لیے 259 ارب 91 کروڑ ملنے کی توقع ہے، وفاق سے ضم اضلاع کے لیے 72 ارب 60 کروڑ ملیں گے، اضافی گرانٹ کی مد میں وفاق سے 55 ارب ملنے کی توقع ہے۔صوبائی حکومت آئندہ برس تنخواہوں ، پینشن اور گرانٹ کی مد میں 1 ہزار 237 ارب سے زائد خرچ کرے گی، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 246 ارب ، تحصیل ملازمین کی تنخواہوں میں 263 ارب خرچ ہوں گے، صوبائی حکومت پیشن کی مد میں 162 ارب 40 کروڑ سے زائد خرچ کرے گی۔جاری اخراجات کی مد میں 264 ارب 70 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 26 ارب 97 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے اخراجات کے لیے 28 ارب 68 کروڑ خرچ ہوں گے، ضم اضلاع میں تنخواہوں ، پینشن اور جاری اخراجات پر 144 ارب 62 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ صحت سہولت کارڈ کے لیے 34 ارب مختص کیے گئے ہیں ۔بجٹ میں تعلیم کے لیے 362 ارب 68 کروڑ اور صحت کے لیے 232 ارب مختص کئے گئے ہیں، اسی طرح صحت سہولت کارڈ میں 28 ارب بندوبستی اضلاع ، 6 ارب قبائلی اضلاع کے لیے ہوں گے، 26 ارب 70 کروڑ گندم کی سبسڈی کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 1404 ارب روپے ہوگاطلبہ کو مفت کتب کی فراہمی کے لیے 9 ارب ، بی آر ٹی کی سبسڈی کے لیے 3 ارب جبکہ ریلیف اقدامات کے لیے اڑھائی ارب مختص کیے گئے ہیں، پناہ گاہوں کے لیے 90 کروڑ، احساس روزگار، نوجوان پروگرام ، ہنر پروگرام کے لیے 12 ارب مختص کئے گئے ہیں، احساس اپنا پروگرام کے لیے 3 ارب مختص اور 5 ہزار گھر تعمیر کیے جائے گے جبکہ سی آر بی سی پروجیکٹ کیلئے 10 ارب مختص ، 3 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے 3 فیصد شیئر کی مد میں دیگر صوبوں سے آمدن بجٹ میں ظاہر کر دیا۔پنجاب سے 28 ارب 80 کروڑ ، سندھ سے 11 ارب 30 کروڑ اور بلوچستان سے 4 ارب 20 کروڑ کا حصہ ظاہر کیا گیا جبکہ وفاق کے ساتھ متنازعہ پن بجلی بقایاجات کے 41 ارب بھی بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے وینڈ فال لیوی کی مد میں 46 ارب 80 کروڑ روپے آمدن ظاہر کردی، تیل پر رائلٹی کی مد میں 26 ارب 20 کروڑ، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں 2 ارب 70 کروڑ اور گیس پر ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 2 ارب 70 کروڑکی آمدن ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے مالی سال 25-2024 کا صوبائی بجٹ پیش کردیا جبکہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کہ کسی صوبے نے وفاق سے پہلے اپنا بجٹ پیش کیا۔ خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ جبکہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر36 ہزارمقرر کردی گئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 15 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، اس موقع پر وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپوربھی ایوان میں موجود ہیں۔بجٹ تقاریربجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ آفتاب عالم آفریدی نے کہا کہ 8 فروری کےانتخابات میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح مینڈیٹ دیا، پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بے مثال ترقیاتی کام کیے، خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو تیسری بار منتخب کیا، ترقیاتی منصوبوں میں سے اہم صحت انصاف کارڈ کا اجراء ہے۔آفتاب عالم آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی یکساں سہولیات مفت فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پی ٹی آئی نے اسکولوں،کالجز اور جامعات کی تعداد میں اضافہ کیا، تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کرائے، تعلیمی اصلاحات سے طلبہ کے لیے حصول تعلیم کے زیادہ سے زیادہ موقع پیدا ہوئے، نئےاساتذہ کی بھرتی سے تعلیم کے فروغ میں بہتری آئی، تعلیم قوموں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، نئےاسکولوں کے ساتھ ساتھ کئی اسکولوں کو اپ گریڈ کیا، ایک لاکھ قابل اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔خیبرپختونخوا حکومت کا تاریخ میں پہلی بار وفاق سے پہلے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہوزیرخزانہ نے کہا کہ بہتر سرمایہ کاری وہ ہے جو بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ہو، پی ٹی آئی حکومت عوامی خدمت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی، پی ٹی آئی قیادت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی حکومت آئندہ بھی عوام کے لیے اقدامات اٹھائے گی، عوام کی خدمت کا سفر جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ سے زائد شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، ادویات کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، صوبے کا پہلا برن اینڈ ٹراما سینٹر بہترین خدمات فراہم کررہا ہے۔آفتاب عالم آفریدی نے مزید کہا کہ امن وامان خیبرپختونخوا کا بڑا مسئلہ رہا، پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی امن و امان کے مسئلے پر قابو پایا، دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی ہوئی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پرخصوصی توجہ دی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پر خصوصی توجہ دی، پولیس کو جدید اسلحہ اور بلٹ پروگ گاڑیاں فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے، مقامی حکومتوں کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 20 فیصد فنڈز مختص کیے، خیبرپختونخوا نے اپنی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ کیا۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منصوبوں نے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا، عوام کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا اولین فرض ہے، حکومت کےاقدامات سے غریب طبقہ زیادہ مستفید ہوا، ضم اضلاع کے اخراجات کے لیے اب تک صرف 123 ارب روپے ملے، ضم اضلاع کے لیے 147ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب روپے بنتا ہے، صوبے کو ہرسال واجب الادا رقم اپنے حصے کے مقابلے میں کم ملتی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو 139 ارب روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، ٹیکس شرح کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، ہوٹلوں پر ٹیکس کی شرح 6 فیصد کردی گئی ہے۔آفتاب عالم نے کہا کہ شادی ہالوں کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس ریٹ متعارف کرانے کی تجویز ہے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بڑا ریلیف دیا جارہا ہے، ریسٹورنٹ انوائس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال تمام ہوٹلوں پر لازم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فی کینال پراپرٹی ٹیکس 13 ہزار 600 سے کم کرکے 10 ہزار کردیا گیا ہے، کمرشل پراپرٹی پرٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 2.5 روپے فی مربع فٹ ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 10 ہزار 600 روپے فی کنال بنتا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس کو کم کر کے 10 ہزار وپےفی کنال کرنے کی تجویز ہے، ریونیو موبلائزیشن پلان کے تحت 93.50 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے۔خیبرپختونخوا: نگراں حکومت نے آئندہ 4 ماہ کا بجٹ تیار کرلیاان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر پراونشل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا بل جلد اسمبلی میں پیش ہوگا، تمباکو کی آمدن صوبے کے بجائے وفاق کو جارہی ہے جو صوبے کا حق ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے تمباکو سے متعلق معاملات کو اپنے پاس رکھا ہے۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصداضافے کی تجویز ہے، پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے، کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزارکی جارہی ہے۔خیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیشخیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا بجٹ کا کل حجم 1754 ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 100 ارب سرپلس اور صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ بھی بجٹ میں شامل ہیں، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ریٹائر ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ ۔صوبے میں کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کہ 36 ہزار مقرر۔جائیداد کی منتقلی پر صوبائی ٹیکس 6.5 فیصد سے کم کر رکے 3.5 فیصد کرنے کی تجویز ۔کاشتکار کی بجائے ٹیبیکو کمپنی ٹیکس لگانے کی تجویز ۔ہوٹلوں کے ٹیکس کی شرح 8 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دی۔تمام ہوٹلو کے لئے ریسٹورانٹ انوایس منیجمنٹ سسٹم لازمی قرار۔بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے جبکہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 902 ارب 50 کروڑ ملنے کی توقع ہے اور دہشت گرد کیخلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ ملنے کا امکان ہے۔صوبے کو پن بجلی خالص منافع کی مد میں 33 ارب 9 کروڑ ملیں گے، پن بجلی بقایاجات کی مد میں 78 ارب 21 کروڑ ملے گے جبکہ صوبائی حکومت 93 ارب 50 کروڑ اپنے وسائل سے اکھٹے کرے گی، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر کرے گی۔ضم اضلاع کے لیے 259 ارب 91 کروڑ ملنے کی توقع ہے، وفاق سے ضم اضلاع کے لیے 72 ارب 60 کروڑ ملیں گے، اضافی گرانٹ کی مد میں وفاق سے 55 ارب ملنے کی توقع ہے۔صوبائی حکومت آئندہ برس تنخواہوں ، پینشن اور گرانٹ کی مد میں 1 ہزار 237 ارب سے زائد خرچ کرے گی، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 246 ارب ، تحصیل ملازمین کی تنخواہوں میں 263 ارب خرچ ہوں گے، صوبائی حکومت پیشن کی مد میں 162 ارب 40 کروڑ سے زائد خرچ کرے گی۔جاری اخراجات کی مد میں 264 ارب 70 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 26 ارب 97 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے اخراجات کے لیے 28 ارب 68 کروڑ خرچ ہوں گے، ضم اضلاع میں تنخواہوں ، پینشن اور جاری اخراجات پر 144 ارب 62 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ صحت سہولت کارڈ کے لیے 34 ارب مختص کیے گئے ہیں ۔بجٹ میں تعلیم کے لیے 362 ارب 68 کروڑ اور صحت کے لیے 232 ارب مختص کئے گئے ہیں، اسی طرح صحت سہولت کارڈ میں 28 ارب بندوبستی اضلاع ، 6 ارب قبائلی اضلاع کے لیے ہوں گے، 26 ارب 70 کروڑ گندم کی سبسڈی کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 1404 ارب روپے ہوگاطلبہ کو مفت کتب کی فراہمی کے لیے 9 ارب ، بی آر ٹی کی سبسڈی کے لیے 3 ارب جبکہ ریلیف اقدامات کے لیے اڑھائی ارب مختص کیے گئے ہیں، پناہ گاہوں کے لیے 90 کروڑ، احساس روزگار، نوجوان پروگرام ، ہنر پروگرام کے لیے 12 ارب مختص کئے گئے ہیں، احساس اپنا پروگرام کے لیے 3 ارب مختص اور 5 ہزار گھر تعمیر کیے جائے گے جبکہ سی آر بی سی پروجیکٹ کیلئے 10 ارب مختص ، 3 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے 3 فیصد شیئر کی مد میں دیگر صوبوں سے آمدن بجٹ میں ظاہر کر دیا۔پنجاب سے 28 ارب 80 کروڑ ، سندھ سے 11 ارب 30 کروڑ اور بلوچستان سے 4 ارب 20 کروڑ کا حصہ ظاہر کیا گیا جبکہ وفاق کے ساتھ متنازعہ پن بجلی بقایاجات کے 41 ارب بھی بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے وینڈ فال لیوی کی مد میں 46 ارب 80 کروڑ روپے آمدن ظاہر کردی، تیل پر رائلٹی کی مد میں 26 ارب 20 کروڑ، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں 2 ارب 70 کروڑ اور گیس پر ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 2 ارب 70 کروڑکی آمدن ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔