بھارتی جے شاہ دوبارہ چیئرمین آئی سی سی منتخب، پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی خطرے میں۔ نیپال نے افغانستان کو شکست دے دی۔پاکستان نے نابینا ایشیا کپ جیت لیا۔پاکستان نے زمبابوے کو 10 وکٹوں سے شکست دے دی۔ثانیہ مرزا بھی دولھا کی تلاش میں۔ایک روز میں کھیل کے میدان میں 3 بڑی کامیابیاں پاکستان ھاکی فائنل میں تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے اھم ادارے کے 6 افسران تبدیل کرنے کا فیصلہبڑے فیصلے اور اھم ترین کانفرنس کی پریس ریلیز گزشتہ ھفتہ جاری نھی کی گئی۔2 صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس افسران کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔اسحاق ڈار کا دورہ ایران۔تحریک انصاف کے 4 میر جعفر کونسے۔حکومت بیانیہ بنانے مین مکمل طور ناکام جب کہ عمران مکلل۔نواز لیگ کے اج 3 اھم ترین وزراء پریس کانفرنس کرینگے۔رشوت اور منصب کا ناجائز استعمال ،سعودی عرب میں 164 سرکاری ملازمین گرفتار۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست لڑائی میں تمام جمہوری سیاسی جماعتیں نہ صرف خاموش تماشائی بلکہ سہولت کاری کا کردار ادا کر رہی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ عمران خان کو کنٹرول کرنا ان کے بس کی بات نہیں اس لیے سیاسی لڑائی کے بجائے “عسکری کاندھوں” پر ساری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے!

وزیراعظم۔۔۔کابینہ اجلاس گفتگو70 ماہ کے بعد افراط زر ایک بار پھر کم ترین سطح پر ہے،آنے والے دنوں میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، ایف بی آر محصولات کا ہدف حاصل کرے تو بہتری آئے گی، وزیر اعظم محمد شہبازشریف کی کابینہ اجلاس کے موقع پر گفتگو

—وزیراعظم۔۔۔کابینہ اجلاس گفتگو70 ماہ کے بعد افراط زر ایک بار پھر کم ترین سطح پر ہے،آنے والے دنوں میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، ایف بی آر محصولات کا ہدف حاصل کرے تو بہتری آئے گی، وزیر اعظم محمد شہبازشریف کی کابینہ اجلاس کے موقع پر گفتگواسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ 70 ماہ کے بعد افراط زر ایک بار پھر کم ترین سطح پر ہے،اس کے آنے والے دنوں میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے،معاشی استحکام کے ساتھ گروتھ میں اضافہ لے کر آنا ہے،ایف بی آر محصولات کا ہدف حاصل کرے تو بہتری آئے گی،فوج کی مکمل گرفت کی وجہ سے افغانستان کو چینی کی سمگلنگ مکمل ختم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی چینی برآمد کی گئی اور ملکی سطح پر قیمتیں بھی کم ہوئیں۔وہ پیر کو کابینہ کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں شرکت پر ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے میں آپ کو ایک اچھی خبر دے رہا ہوں کہ 70 ماہ بعد افراط زر اس نومبر میں اپنی کم ترین سطح پر ہے، 2018ء میں محمد نواز شریف کے دور میں افراط زر 3.5 فیصد تھی،اب اس مہینے میں یہ 4.9 فیصد تک پہنچی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے،اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کیونکہ افراط زر واحد وہ ہتھیار ہے جو غریب آدمی کی غربت میں مزید اضافہ کرتا ہے یا آسودگی لے کر آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ 70 ماہ بعد ایک ریکارڈ کمی آئی ہے، ملک کے اندر عام آدمی، غریب آدمی کا بوجھ مزید کم ہو گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ امید کی جانی چاہئے کہ افراط زر میں کمی سے اب سٹیٹ بینک کے آئندہ اجلاس میں پالیسی ریٹ مزید کم ہوگا،تاہم فیصلہ سٹیٹ بینک نے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ پچھلے دنوں جو دھرنوں نے ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی تھی اور ملک کے اندر خاص طور پر اسلام آباد میں ہر طرف افراتفری اور ہیجان کا ماحول تھا،توڑ پھوڑ کی گئی اور پولیس اور رینجرز کے اہلکار شہید ہوئے، درجنوں زخمی ہوئےاور اپنے ان انتہائی غلط اور غیر قانونی ہتھکنڈوں سےملک کی عالمی سطح پر بے عزتی کرائی گئی۔ ایک دن کے اندر سٹاک ایکسچینج ساڑھے تین ہزار پوائنٹس نیچے آ گئی لیکن ڈی چوک سے پیچھے ہٹتے ساتھ ہی اگلے دن سٹاک ایکسچینج میں دوبارہ فوری بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ افراط زر میں کمی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے،ہم نے مزید عرق ریزی اور محنت سے کام کرنا ہے،اس کے ثمرات آنے والےدنوں میں مثبت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر محصولات کا ہدف حاصل کرے گا تو بہتری آئے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے چینی کی برآمد کی اجازت دی تو اس سے 500 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا اور ملکی سطح پر چینی کی قیمتیں بھی کم ہوئیں۔پاک فوج کے اقدامات سے افغانستان کو چینی کی سمگلنگ کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے۔آج ملک میں چینی کا وافر سٹاک موجود ہے۔اسی طرح ایف بی آر کو بھی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور ان کی ٹیم کی کاوشوں سے یورپ کے لئے پی آئی کی پروازیں بحال ہوگئی ہیں،ان پروازوں کی بندش سے قوم کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ایک منچلے وزیر کے پی آئی اے میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے بیان سے یہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔پی آئی اے کی نجکاری نہ ہونے کی ایک وجہ ان روٹس کی بندش بھی تھی۔اس پر سابق وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔پوری قوم اور سیاسی قیادت کو بھی اس پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔یہ بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ اب گروتھ بھی حاصل کرنی ہے،اقتصادی اہداف حاصل کریں گے۔

فوج کا پر تشدد ھجوم سے براہ راست ٹکراؤ نہیں ھوا وزارت داخلہ۔ملک کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر۔کسی جگہ گورنر راج نھی لگے گا قیصر احمد شیخ۔چیمپئین ٹرافی کے چاروں طرف کنٹینر لگا دئیے گئے باہر نہیں جانے دیں گے۔سیکیورٹی فورسز کی بنوں اور خیبر میں کارروائی، 8 خوارج ہلاک، کیپٹن اور جوان شہید تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ٹای کے ساتھ شلوار قمیض پھننے والے اخری بزرگ

شلوار قمیص کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگآج 200 سے زیادہ ناولوں کے مصنف ایم اسلم کی 41 ویں برسی ہے۔میاں محمد اسلم 6 اگست 1885 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ساری عمر لاہور میں ہی رہے۔ 23 نومبر 1983 کو وفات پائی اور میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہوئے۔ایم اسلم نے اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ شہری جائیداد کی وجہ سے فکرِ معاش تھی نہیں۔ بس گراموفون سنتے تھے اور ناول لکھتے تھے۔ شلوار قمیص پہنتے تھے، اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھتے تھے۔ کہتے تھے یہ میرا شوق ہے۔دوستوں کی خاطر تواضع بہت کرتے تھے لیکن دوست کھانے کے بعد ان سے ناول کا باب سننے سے خائف رہتے تھے۔ ایک بار شائد قتیل شفائی نے کہا ، میاں صاحب ، لوگ آپ کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں،پوچھا ، کیا ؟قتیل نے کہا، کہ آپ زبردستی ناول سناتے ہیں، حالانکہ ایسی تو کوئی بات نہیں،میاں صاحب نے کہا ، ہاں ، ہاںاور یوں احباب اس روز ناول سننے سے محفوظ رہے !ایک بار کسی کے سوال پر بتایا کہ زیادہ غوروفکر کی ضرورت نہیں پڑتی ، بس کوئی گراموفون ریکارڈ لگا کر سنتا ہوں اور ناول کا پلاٹ ذہن میں آجا تا ہے۔ان کے والد میاں نظام دین علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ایم اسلم پہلے شاعری کرتے تھے، علامہ اقبال کو دکھائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ نثر لکھا کریں ۔ انہوں نے یہ مشورہ قبول کرکے ناول افسانے لکھنا شروع کئے اور اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کرڈالا !ناظمہ کی آپ بیتی،عروسِ غربت، معرکۂ بدر،جوئے خون، پاسبانِ حرم، شمشیرِستم، بنتِ حرم، فتحِ مکہ، صبحِ احد، ابو جہل، غزالۂ صحرا ،فتنۂ تاتار ،خونِ شہیداں ، رقصِ ابلیس ، مرزا جی، گناہ کی راتیں ،جہنم ،حسنِ سوگوار ، خار و گل ،رقصِ زندگی ، راوی کے رومان ، درِ توبہ اور شامِ غریباں ایم اسلم کے مشہور ناول ہیں۔معروف ناول نگار فارق خالد بتاتے ہیں ایم اسلم، مشہور مصوّر اُستاد اللہ بخش کے دوست تھے اور ان سے ملنے اکثر پُرانا مسلم ٹاون جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی ناولوں کے سرورق بھی استاد نے ڈیزائن کیے۔ مَیں اُستاد اللہ بخش کا باقاعدہ شاگرد تھا۔ ان پر مَیں نے بڑی محبت سے ایک خاکہ لکھا ہے جو ” سویرا” لاہور کی تازہ اشاعت میں شامل ہے اور اس میں میاں ایم اسلم کا ذکر بھی ہے۔میاں یوسف صلاح الدین کی جس حویلی کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ میاں ایم اسلم کی ہی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی، اس لئے ان کی حویلی پہلے ان کے کزن میاں امیر الدین کو ملی. ان سے ان کے بیٹے اور علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین ( میاں صلی، جو ایم این اے بھی بنے ) کے حصے میں آئی اور پھر ورثے میں میاں یوسف صلاح الدین کے۔علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ کا نکاح میاں صلاح الدین سے ہوا تو خاندان کے بزرگ کی حیثیت کی سے میاں اسلم نے نکاح نامے پر گواہ کے طور پر دستخط کئے۔ اس کا عکس محترم منیب اقبال نے فراہم کیا ہے۔ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے مسعود انور بتاتے ہیں ۔۔۔ 1976 میں ڈینٹل کالج کے قریب انکی رہائش گاہ کے سامنے سے ابا جی کے ساتھہ گزر رہا تھا۔ ایم اسلم باہر کھڑے تھے۔ اباجی بولے جلدی سے نکل چلو ۔ مگر اسلم صاحب کی نظر پڑ گئی اور آواز دے کر بلا لیا۔ چائے بسکٹ کے ساتھہ دو باب ناول کے سنے۔ ابا جی نے بتایا کہ انہوں نے فائلیں بنائی ہوئی ہیں۔ بارش کا منظر 20 صفحات۔ پہلی ملاقات 15 صفحات وغیرہ۔ ناول میں جیسا مقام آتا ھے فائل کھول کر صفحات فٹ کر دیتے ھیں۔ارشد نعیم صاحب نے یاد دلایا ہے کہشاہد احمد دہلوی نے ایم اسلم کا شاندار خاکہ لکھا تھاجس سے ان کی شخصی عظمت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کے راز کا بھی پتہ چلتا ہے.