Major General. Rana Imran Sartaj’s (I.G FC KPK) Mother has left this world by the will of Allah (SWT).Namaz e Janaza will be 9am tomorrow morning
Major General. Rana Imran Sartaj’s (I.G FC KPK) Mother has left this world by the will of Allah (SWT).Namaz e Janaza will be 9am tomorrow morning

*کراچی میں مظاہرہ؛ حلیم عادل شیخ سمیت پی ٹی آئی کے 20 خواتین و مرد کارکنان گرفتار*کراچی پریس کلب کے باہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سمیت 20 کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔عمران خان سے ملاقاتوں کی کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا جس کے اختتام پر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کے احتجاج سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری کراچی پریس کلب کے باہر پہنچی اور پھر دھاوا بول کر پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی حلیم عادل شیخ سمیت دیگر کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔

این ایچ اے سی ای او کی تقرری نے نیا بحران چھیڑ دیا:پارلیمانی کمیٹیاں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی قانونی خلاف ورزی پر خاموشرانا تصدق حسیناسلام آباد — انجینئرنگ کمیونٹی، این ایچ اے کے پیشہ وران، اور حکومتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین میں اس وقت شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جب وفاقی حکومت نے ایک بار پھر NHA (Amendment) SOE Act 2024 کو نظرانداز کرتے ہوئے کیپٹن (ر) اسداللہ خان (BS-21, PAS) کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کردیا۔یہ تقرری اس بنیاد پر شدید تنقید کی زد میں ہے کہ قانون کے مطابق این ایچ اے کے اعلیٰ انجینئرنگ و تکنیکی عہدے صرف اہل، تجربہ کار اور متعلقہ پیشہ ور انجینئروں کے لیے مخصوص ہیں— نہ کہ سیاسی یا بیوروکریٹک شخصیات کے لیے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹن (ر) اسداللہ خان جو اس وقت پنجاب حکومت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضیاء اللہ خان (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں — کو وزارت مواصلات کے ماتحت تعیناتی کے لیے این ایچ اے میں بطور سی ای او بھیجا گیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ملک کی کھربوں روپے کی شاہراہوں کی نگران اتھارٹی کو سیاسی تعلقات رکھنے والے افسران کے لیے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ یہ ادارہ گہرے انجینئرنگ، مالیاتی نظم و ضبط اور آپریشنل اہلیت کا متقاضی ہے

۔پارلیمنٹ کا اپنا قانون — کھلی خلاف ورزی کے باوجود مکمل خاموشیاین ایچ اے ایس او ای ایکٹ میں سی ای او کے لیے واضح، غیر مبہم، اور سخت معیار وضع ہے۔مگر اس کے باوجود یہ تقرری کھلی آنکھوں کے سامنے کی گئی اور پارلیمانی نگرانی کے ادارے مکمل طور پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی — سب خاموش تماشائیسب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ:قائمہ کمیٹی برائے مواصلاتچیئرمین سینٹاسپیکر قومی اسمبلیتینوں ہی اس کھلی قانونی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ خاموشی ایک خطرناک پیغام دے رہی ہے:> اگر پارلیمنٹ اپنے ہی منظور کردہ قوانین کا دفاع نہیں کرے گی، تو اس کی اتھارٹی پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے۔یہ طرز عمل حکمرانی کے لیے تباہ کن ہے کیونکہ ادارہ جاتی حفاظتی دیواریں سیاسی مصلحت کے ہاتھوں ٹوٹ رہی ہیں۔این ایچ سی اجلاس ای-چینل کے ذریعے “منظوری” — محض ربڑ اسٹیمپمزید حیران کن بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے کونسل (NHC) کا اجلاس محض ایک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ ای-سرکولیشن کے ذریعے بلایا گیا تاکہ:کیے گئے فیصلے پر بعد ازاں رسمی مہر ثبت کی جا سکے۔کسی نے یہ دیکھنے کی زحمت تک نہ کی کہ ایس او ای ایکٹ کیا کہتا ہے اور تقرری کا درست طریقہ کار کیا ہے

۔یہ پورا عمل ایک مشینی منظوری کے سوا کچھ نہ تھا۔قانونی طوفان سر اٹھا رہا ہے: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح خبرداریاںاندرونی ذرائع کے مطابق اگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے این ایچ اے میں مزید کسی افسر— خاص طور پر کسی ڈیپوٹیشنسٹ — کو ممبر ایڈمن یا کسی ترقیاتی عہدے پر تعینات کرنے کی کوشش کی تو:پورا این ایچ اے انتظامیہ عدالتی کارروائی کے لیے طلب ہو سکتی ہے۔خصوصاً حالیہ فیصلے کے بعد جو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا ہے، جس میں واضح کہا گیا ہے کہ:> ڈیپوٹیشن پر خدمات صرف وہاں لی جا سکتی ہیں جہاں اندرونِ ادارہ اہل اور تجربہ کار افسر دستیاب نہ ہوں۔این ایچ اے میں، حقیقت اس کے برعکس ہے:سینئر ترینتجربہ کارمکمل طور پر اہل افسرانکو مسلسل ان کے جائز حقِ ترقی اور تبادلوں سے محروم رکھا جا رہا ہے

۔اس کے برعکس تنازعوں میں گھرے اور بیرونی اثر و رسوخ رکھنے والے افسران مسلط کیے جا رہے ہیں۔یہ صورت حال این ایچ اے کو ایک انتظامی اور قانونی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔مالی اسکینڈلز اور قیادت کا بحران — مزید اندیشےیہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب:شاہریار سلطانعمر سعید دونوں کو 5 نومبر 2025 کو وسیع مالی بے ضابطگیوں کے باعث ہٹایا گیا۔ایسی حساس صورتحال میں تکنیکی اور پیشہ ور انجینئر کی تعیناتی ناگزیر تھی، مگر حکومت نے ایک بار پھر سیاسی و غیر تکنیکی تقرری کا فارمولا دہرایا ہے۔آگے کیا ہوگا؟نئے سی ای او این ایچ اے میں گہرے انتظامی مسائل اور بدعنوانیوں کا سامنا کس حد تک کر پائیں گے — اس پر شدید شکوک ہیں۔لیکن اصل سوال کچھ اور ہے:> اگر پارلیمنٹ اپنی ہی بنائی ہوئی قانون سازی کا دفاع نہیں کرے گی، تو پاکستان کے اداروں کو سیاسی اور بیوروکریٹک قبضے سے کون بچائے گا؟این ایچ اے میں جنم لیتا ہوا بحران اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں-یہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

اے ٹی وی کے ملازمین قابل تحسین ہیں جنہوں نے کل اپنا پیٹ کاٹ کر وکیل کی فیس کے لیے پیسے اکٹھے کیے اور سی ایم ہائی کورٹ میں دائر کی، اج ہائی کورٹ نے 15 تاریخ دے دی اور فیصلہ دیا اگر 15 تاریخ تک وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے پلان سامنے نہ ایا تو اے ٹی وی کی پراپرٹی بیچ کر ملازمین کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔حیرت اس بات کی ہے اس جمہوری دور میں حکومتی سطح پر کوئی اس ادارے کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہا۔خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی، کیونکہ صدر پاکستان اصف علی زرداری کا اس ادارے کو کامیاب بنانے میں بڑا ہاتھ رہا ہے۔ گو کہ میرا براہ راست اب اے ٹی وی سے واسطہ نہیں رہا لیکن میں نے زندگی کے تقریبا 12 سال اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات محنت کر کے اسے مقبول ترین چینل بنایا ۔ میرا سفر پروڈیوسر سے شروع ہوا اور جنرل منیجر تک پہنچا ۔ہماری ٹیم میں سینکڑوں لوگ شامل تھے ۔ لاہور ،کراچی ، پشاور ،کوئٹہ ، ملتان اور اسلام آباد کے دفاتر میں بیٹھے افرادصرف اے ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے۔جبار صاحب کی سربراہی میں یہ ایسی ٹیم تھی جس نے میڈیا انڈسٹری کے لیے ٹیکنیکل ہنر مند، اینکرز ،نیوز کاسٹرز ،اسکرپٹ رائٹرز اور اداکار تیار کئے ۔وقت گزرنے کے ساتھ اے ٹی وی کے ساتھ وہی ہوا جو پاکستان میں ہوتا آیا ہے ،جوکامیاب ہوتا ہے سب اسے گرانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔ ایک سادہ اور محنتی انسان جس نے میڈیا انڈسٹری کو کھڑا کیا تھا اب وہ آنکھوں میں کھٹکنے لگا تھا۔2017 میں جب اے ٹی وی کو ختم کیا گیا تو ایس آر بی سی کے ملازمین نے خوشیاں منائیں حالانکہ اس وقت بھی سینکڑوں خاندان بے روزگار ہوئے تھے ۔سپورٹس سٹار انٹرنیشنل جس نے اے ٹی وی کی بنیاد رکھی تھی یہ سینکڑوں لوگ اس ادارے سے منسلک تھے جن کو بے روزگار کر دیا گیا ۔اے ٹی وی کو چلانے میں سپورٹس سٹار انٹرنیشنل کے ہنرمند کام کرتے تھے اور ایس آر بی سی کے لوگ صرف میٹھا پھل کھاتے تھے ۔ 2017 سے آج 2025 تک اے ٹی وی صرف نقصان میں گیا۔بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود ایس ار بی سی اے ٹی وی نہیں چلا سکا۔ تقریبا تین سال سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں ۔۔افسوس اس ادارے کو گرانے میں جن لوگوں نے اس وقت کی طاقتور شخصیت سکھیرا کے ساتھ مل کر اسے تباہ کرنے میں کردار ادا کیا،

آج وہ اسی صف میں کھڑے ہیں لیکن ہم ایس آر بی سی کے ملازمین کے دکھ میں شریک ہیں جو 15 دسمبر 2026 تک سولی پر لٹکے رہیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بے روزگاری کس بلا کا نام ہے ۔یہ فیصلہ ایک جمہوری دور میں کیا گیا ہے ، ہماری اب بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کوشش ہے کہ حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس لے تاکہ لوگوں کا روزگار اور جمہوریت کا بھرم قائم رہے۔میں وفاقی حکومت ، اور وزارت اطلاعات سے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اگر اپ ایک ٹک ٹاکر کے چینل کو سپورٹ دے سکتے ہیں تو اے ٹی وی کو سپورٹ دیجئے یہ اپ کے بہت کام ائے گا اب بھی کئی پرائیویٹ کمپنیاں “اے ٹی وی ” کو چلانا چاہتی ہیں لہذا ورکرز کا روزگار بچانے کے لئے اس نکتے پر غور کریں اور اپنا فیصلہ واپس لیں تاکہ 280 خاندان بے روزگار نہ ہوں ۔یاد رکھیں جب آپ کسی کی روزی روٹی چھینتے ہیں تو اس n
*Is the National Assembly shifting from a legislative body to a Constituent Assembly? A constitutional earthquake in the making.*
انڈے تو ہم سب ہی روزانہ ناشتے میں کھاتے ہیں اور درجنوں کے حساب سے خریدتے بھی ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی انڈے کا وزن کیا ہے؟ انڈوں کا معیار بھی ان کے وزن کے مطابق ہوتا ہے۔ یعنی انڈا بھی سبزی پھل کی طرح درجہ اول، دوم اور سوم ہوتا ہے۔ اور دکاندار گاھکوں کو اس انڈے کے فنڈے میں بھی چونا لگاتے ہیں۔ اپنے یہاں بڑا انڈہ دیتے ھوۓ مرغی کو اتنی تکلیف نہیں ھوتی جتنی ان دو نمبر جھوٹے دوکانداروں کو ھے۔عام صارفین کو شاید یہ علم نہ ہو کہ سب سے چھوٹا انڈا تقریباً 50 گرام تک اور درمیانہ انڈا عموما 60 گرام تک اور سب سے بڑا انڈا عموما 70 گرام تک ھوتا ھے۔۔

ایک دور دراز گاؤں کا وہ خاموش لڑکا… جسے لوگ اکثر تنہائی میں بیٹھا ہوا دیکھتے تھے۔ اس کی آنکھوں میں اداسی بھی تھی اور روشنی بھی اداسی والدین کے بچھڑ جانے کی، اور روشنی ایک بڑے خواب کی۔ لوگ اسے یتیم، بے سہار، اور مستقبل سے خالی سمجھتے تھے، مگر اس کے دل کی گہرائی میں ایک آگ جلتی تھی:”میں اپنے ملک کے لیے زندہ بھی رہوں گا، اور ضرورت پڑی تو جان بھی دوں گا۔”اس نے ہر مشکل، ہر طعنہ، ہر تنہائی کو برداشت کیا۔ پڑھائی میں وہ خاموش مگر مسلسل محنت کرنے والوں میں سے تھا۔ جب اسے فوج میں داخلے کا موقع ملا، تو اس نے اسے صرف نوکری نہیں سمجھا اس نے اسے اپنی نئی زندگی سمجھا۔⭐ فوج اس کا خاندان بن گئیجیسے ہی اس نے وردی پہنی، وہ سمجھ گیا کہ“یہی میرا گھر ہے، یہی میرا خاندان!”اس کے پاس اپنا کوئی قریبی خون کا رشتہ نہیں تھا، اس لیے اس نے یونٹ کو ہی اپنا سب کچھ بنا لیا۔ وہ اکثر کہتا تھا:“اگر میں کبھی شہید ہو جاؤں، تو میری ہر چیز میرا نام، میرا نامۂ عمل، میری یاد سب کچھ میری یونٹ کے نام ہے۔ یہی لوگ میرے وارث ہیں، یہی میرا خاندان!”اس نے ہر قدم پر ثابت کیا کہ خاندان خون کا نہیں، وفاداری کا ہوتا ہے۔⭐ 40 سالہ خدمات خراجِ تحسینوقت گزرتا گیا… لڑکا جوان ہوا، افسر بنا، کمانڈر بنا۔اس کے کردار، ایمانداری، ذہانت اور قیادت نے اسے وہاں پہنچایا جہاں پہنچنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔٭ 40 سال کی مسلسل خدمت٭ سینکڑوں کی رہنمائی٭ ہزاروں کے لیے مثال٭ اور ملک کے دفاع میں گنتی سے باہر فیصلےجب اس کی سروس نے چار دہائیاں مکمل کیں تو فوج کے ہر سپاہی نے اسے یوں خراجِ تحسین پیش کیا جیسے کوئی قافلہ اپنے رہنما کو سجدۂ شکریہ پیش کرتا ہے۔اس کے لیے الوداعی تقریب میں صرف سلامی نہیں تھی یہ ایک عہد کے ختم ہونے کا اعلان بھی تھا⭐ آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹافپھر وہ دن آیا جب اس نے تاریخ میں وہ مقام پایا جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔وہ ملک کاآخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹیبنا۔اس عہدے کے ساتھ ہی اس کا سفر ایک نئے مقام پر پہنچ گیا وہ مقام جہاں پہنچ کر انسان صرف عہدہ نہیں ہوتا، تاریخ بن جاتا ہے۔جب وہ رخصت ہوا، تو لوگ صرف ایک سپاہی کو نہیں رخصت کر رہے تھے…وہ ایک عہد کو رخصت کر رہے تھے۔آخر میں، جب پوری فوج نے ایک آواز ہو کر کہا:“تم نے 40 سال اس ملک کا سر فخر سے بلند رکھا!”تو اس کی آنکھوں میں وہی روشنی جگمگا اٹھی جو بچپن کے ایک تنہا لڑکے کی آنکھوں میں تھی۔اور تب دنیا نے جانا کہ وہ لڑکا کون تھا جنرل ساحر شمشاد

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا جاری ہے۔ ان کے ہمراہ چیئرمین تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان مشر محمود خان اچکزئی، صوبائی وزراء اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین موجود ہیں۔ سرد رات کے باوجود قائدین اور کارکنان کے حوصلے بلند اور نعرے بازی جاری ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ریماکس۔ میاں صاحب کی جو آپ نے بات کی وہ ایوان سے باہر تھی اسکا ایوان سے کوئی تعلق نہیں۔عمر ایوب خان صاحب کی سیٹ کی بات کی وہ معاملہ ٹرائبیونل ہے آپ وہاں جہاں ہم بھی جاتے رہے ہیں۔اسپیکر نے گوہر علی خان کی بات کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے کل 342 نہیں بلکہ 336 اراکین ہیں۔آپ کے لیڈر کہتے ہیں کہ ہندوستان سے بات کر لیں افغانستان سے بات کر لیں ہم بار بار مذکرات کی پیشکش لیکن آپ ہماری بات نہیں سنتے۔

شمالی وزیرستان کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ26 نومبر 2025 کو میرانشاہ میں پاک فوج کے زیرِ انتظام ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ منعقد ہوا ۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور قیام امن کے حوالے سے قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا ۔جرگے میں شمالی وزیرستان کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی اور فلاحی کاموں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔جی او سی نے کہا کہ عوام، سول انتظامیہ اور پاک فوج کے باہمی تعاون سے ہی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔ قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔جرگے کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا ۔

سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہارمنامہ۔27نومبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار اور بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،زراعت ،آئی ٹی ،معدنیات، توانائی اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ہیں، بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ شراکت داری کریں،ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس افرادی قوت ،وسائل، ابھرتی منڈی،سٹرٹیجک محل وقوع اور نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے،پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں

کاروباری برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی فیاضی اور گرمجوشی سے خوش آمدید کہنے پر بحرین کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں ،ہم اپنے بحرینی بھائیوں خاص طور پر شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی مہمان نوازی سے مستفید ہوئے ہیں جس انداز میں ہمارا استقبال کیا گیا وہ ہمیشہ ہمیں یاد رہے گا ،بحرین ا ٓ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر آئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان دو برادر ملک ہیں اور ہمارے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں ،یہ تعلقات ثقافتی ،مذہبی، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور یہی ہمارے تعلقات کے ستون ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن آج وہ ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کےلئے آئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم سے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ زراعت، آئی ٹی، اے آئی، فن ٹیک اور دیگر تمام شعبوں سمیت اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے،ہم ان شعبوں میں اپنی کوششوں، علم ،تجربے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے عزم کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ا ن کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیش رفت لانا ہے، شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی پر ان کا انتہائی شکر گزار ہوں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ملاقاتوں کا ماحول بالکل ایک خاندان کے مل بیٹھنے جیسا تھا اور یہ ملاقاتیں انتہائی با مقصد اور نتیخہ خیز رہی ہیں ، اسی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ میں یہاں مہمان نہیں ہوں بلکہ اپنے خاندان کے افراد، اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملنے آیا ہوں

۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہماری طاقت ہیں ہمارے 60 فیصد نوجوانوں کی عمر15 سے 30 سال کے درمیان ہے،نوجوان آبادی ایک چیلنج ،بڑی نعمت اور ایک موقع بھی ہے، چینی کہاوت کے مطابق یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ایک زبردست موقع بھی ہے ہم اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اس چیلنج کو عظیم موقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انہیں آئی ٹی ،اے آئی ،فنی و پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر شعبوں میں تربیت دے کر اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے اور اپنے بحرینی کاروباری بھائیوں کے ساتھ مل کر ہم ان شعبوں میں ایک زبردست قوت بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہی وقت ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ وقت اور لہر کسی کا انتظار نہیں کرتی،یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے کہ بحرین میں ہماری متحرک پاکستانی کمیونٹی ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں موجود ہے، یہ کمیونٹی ہمارے لئے باعث فخر ہے، جس ملک کا بھی میں نے دورہ کیا ہے میں نے پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت کی ہے اور میں نے وہاں پاکستانیوں کی داستانیں سنی ہیں جن کی پاکستان سے محبت کبھی کم نہیں ہوئی اگرچہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور محنت کو دوسرے ممالک اور ثقافتوں کی ترقی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شناخت کسی جغرافیہ کی پابند نہیں ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں یہ شناخت ان پاکستانیوں کے دلوں میں موجود ہوتی ہے ،یہاں بحرین میں بھی یہی جذبہ کسی شک و شبہ سے بالاتر واضح طور پر نظر آتا ہے ، عظیم پاکستانیوں کو بحرین اور پاکستان دونوں کے لیے خدمات پر سلام پیش کرتا ہوں، یہ پاکستان کے عظیم سفیر ہیں اور پاکستان کی قومی معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے پر ان پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کی محنت و کوششوں سے کمائی ہوئی رقم قیمتی ترسیلات زر کی شکل میں گزشتہ مالی سال کے دوران 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک رہی، یہ انتہائی قابل قدر ہے ،شاہ بحرین کی پاکستانیوں کے لیے فراخدالانہ حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے گزارش کروں گا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بحرین کے بھی عظیم سفیر بنیں کیونکہ پاکستان اور بحرین یک جان دو قالب ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی زبردست خدمات سے اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں کو خود پر فخر کرنے پر مجبور کر دیں گے، آپ کےلئے پاکستان اور میرے دروازےہمیشہ کھلے رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ کی بصیرت افروز، متحرک اور دانشمندانہ قیادت اور بحرین کے ولی عہد و وزیراعظم کی عظیم قیادت اور رہنمائی میں بحرین معاشی ترقی، مالیاتی جدت اور انسانی مرکزیت پر مبنی ترقی کی ایک مشعل کے طور پر ابھرا ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے ماڈل سے بہت متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسیع مواقع ، ہنرمندی ، وسائل اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد والی مارکیٹ کا حامل ملک ہے جو تزویراتی محل وقوع رکھتا ہے

،بحرین کی مالیاتی مہارت ،کاروباری بصیرت اور عالمی نقطہ نظر کا اشتراک ہو جائے تو پاکستانی منڈیاں وسیع امکانات کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے جو معاشی اصلاحات، ڈیجیٹل جدیدیت اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے فیصلہ کن کردار کا حامل ہو چکا ہے، ہم نے سرخ فیتے کی رکاوٹوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اپنے ضوابط کو مضبوط بنایا ہے، زرعی کاروبار، آئی ٹی ،معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے نئے شعبوں میں طویل مدت شرکت داری کے لیے کھول دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین کے نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ ،وزیر صنعت، وزیر خارجہ اور بحرین کے کاروباری اداروں کے سرمایہ کار پاکستان آئیں ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، آپ کے عظیم تجربے اور مہارت سے ہم سیکھیں گے، آپ اپنے مشورے اور علم سےپاکستان کی صنعت اور زراعت کو متحرک بنائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد دستخط ہونے کی توقع ہے ،اس معاہدے سے پاکستان اور جی سی سی ممالک بالخصوص بحرین کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کےطور پر ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ایک قوم کے سی ای او کے طور پر مخاطب ہیں جو بحرینی کاروباری افراد کے ساتھ شراکت کی خواہاں اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور بحرین کی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی طور پرمفید سفر میں تعاون کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر آپ جلدی پہنچنا چاہتے ہیں تو اکیلے جائیں اور اگر اپ دور جانا چاہتے ہیں تو اکٹھے سفر کریں، ہم پاکستان اور بحرین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں

چاہے آپ ایک بحرینی سرمایہ کار ہوں جو پاکستان میں امکانات دیکھ رہے ہوں یا ایک پاکستانی کاروباری شخص ہوں جو بحرین کی عظیم ترقی میں حصہ ڈال رہا ہو، دعا ہے کہ یہ لمحہ ایک جرأت مندانہ اور معنی خیز تعاون کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی ہمارے تعلقات کی تجدید ہے،نسل در نسل پاکستانی شہریوں نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بہت سے پاکستانی مملکت بحرین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بنک ،یونائٹڈبنک اور نیشنل بنک جیسے پاکستانی مالیاتی ادارے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ہمارے مالیاتی شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ا ٓرہے ہیں،پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے، یہ خطہ جدت ، پائیداری اور تکنیکی برتری کا مرکز بنتا جارہا ہے،مملکت بحرین کو اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر فخر ہے، بحرین ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہا ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، کاروباری جذبہ اور جرأت مندانہ خیالات خوشحال مستقبل کی بنیاد بنے ہیں ۔مالیاتی خدمات کےلئے بحرین کا جدید نظام بہترین افرادی قوت اور ابھرتا ہوا فن ٹیک موجود ہے، بحرین کا جدید نظام پاکستانی بنکوں اور جدت کاروں کےلئےعلاقائی اورعالمی سطح پر بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو اگے بڑھاتے ہوئے وژن 2050ء کی بنیاد رکھ رہا ہے ،ہم پاکستان کو ایک مشترکہ معاشی مستقبل کے حامل شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

معیشت پر توجہ دیں ۔ اظہر سیدنادہندگی سے ریاست بچ گئی لیکن ریاست میں رہنے والوں کی اکثریت نادہندہ ہو گئی ہے۔روزگار نہیں ہے ۔مہنگائی ہے ۔صنعتی عمل مہنگے انفراسٹرکچر یعنی بجلی ،پانی ،گیس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ،مہنگے قرضوں اورقوت خرید میں کمی کی وجہ سے منافع بخش نہیں رہا ۔پیچھے زندگی گزارنے کیلئے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ بچتا ہے ،یا پھر بیرون ملک نقل مکانی ۔نوجوان فراڈ سیکھ رہے ہیں یا پھر بیرون ملک جانے کیلئے اپنی کشتیاں جلا رہے ہیں۔ریاست کے مالکوں کو سوچنا چاہئے خلیجی ممالک میں پاکستانی بھیک کیوں مانگتے ہیں۔زندگی تو گزارنا ہے ۔کیسے گزاریں ۔معاش کا بندوبست تو کرنا ہے کیسے کریں ۔ائر پورٹس پر نوجوانوں کو بیرون ملک سفر سے روکنا مسلہ کا حل نہیں ہے ۔شائد دس پندرہ فیصد بیرون ملک جا کر بھیک مانگتے ہونگے باقی تو قسمت آزمانے نکلتے ہیں ۔معیشت ٹھیک کریں سارے مسائل حل ہو جائیں گے ۔خارجی جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں انہیں بے روزگار نوجوانوں کی وجہ سے بھی ایندھن ملتا ہے ۔افغان ملڑے جو پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔مدارس میں جو لاکھوں بچوں کو غریب والدین دینی تعلیم کیلئے جمع کراتے ہیں اور مولوی ان سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔والدین خوشحال ہونگے تو وہ اپنے بچوں کو مدارس بھیجنے کی بجائے اعلی تعلیم دلائیں گے ۔چوری ،ڈکیتی،رشوت ،ملاوٹ چور بازاری ہر معاشرتی بیماری کے پیچھے معیشت ہے ۔ریاست بانجھ نہیں ہے ۔شاندار زہین لوگ موجود ہیں۔خلوص نیت کے ساتھ کام کرنا شروع کریں گے تو بتدریج معیشت مستحکم ہوتی جائے گی ۔افسران، ججوں ،وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کی مراعات ختم کریں قومی اعتماد پیدا ہو گا ۔بہتری کا راستہ نکلے گا۔ٹیکس بڑھا کر اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے معیشت نہیں چلتی۔ عوامی مسائل میں اضافہ سے معیشت کی جڑیں کھوکھلی ہوتی جاتی ہیں۔بہت مسائل ہیں ۔طاقتور فوج احتجاج کرنے والوں کو بندوق سے خاموش تو کر سکتی ہے معاشی استحکام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ایجنسی اگر ملک دشمنوں کو پاتال سے جاکر پکڑ لیتی ہے تو آئی پی پی ایز کے مالکان کی ڈی بریفنگ سے انہیں کیوں مہنگی بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی پر مجبور نہیں کر سکتی۔لوگ پریشان ہیں۔غریب لوگوں کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ۔انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے اور جنگی بنیادوں پر عملدرامد کی ۔

افغانستان میں سرحدی علاقوں میں مبینہ فضائی اور ڈرون حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہےافغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ خوست میں پاکستان کی سرحد کے قریب ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم نو بچوں اور ایک خاتون سمیت دس شہری ہلاک ہوئے۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا اور نہ ہی یہ غیر اعلانیہ ہوتی ہیں۔

اسلام آباد پولیس میں تقررو تبادلےوفاقی پولیس میں دیگر صوبوں سے پی ایس پی افسران کی آمد کا سلسلہ جاری گریڈ 18 کے فلائیٹ لیفٹیننٹ ریٹائرڈ ذیشان علی ایس پی رورل تعیناتذیشان علی کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 47ویں کامن سے ہےکیپٹن ریٹائرڈ انضمام خان سے ایس پی رورل کا اضافی چارج واپس

معیشت پر توجہ دیں ۔ اظہر سیدنادہندگی سے ریاست بچ گئی لیکن ریاست میں رہنے والوں کی اکثریت نادہندہ ہو گئی ہے۔روزگار نہیں ہے ۔مہنگائی ہے ۔صنعتی عمل مہنگے انفراسٹرکچر یعنی بجلی ،پانی ،گیس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ،مہنگے قرضوں اورقوت خرید میں کمی کی وجہ سے منافع بخش نہیں رہا

۔پیچھے زندگی گزارنے کیلئے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ بچتا ہے ،یا پھر بیرون ملک نقل مکانی ۔نوجوان فراڈ سیکھ رہے ہیں یا پھر بیرون ملک جانے کیلئے اپنی کشتیاں جلا رہے ہیں۔ریاست کے مالکوں کو سوچنا چاہئے خلیجی ممالک میں پاکستانی بھیک کیوں مانگتے ہیں۔زندگی تو گزارنا ہے ۔کیسے گزاریں ۔معاش کا بندوبست تو کرنا ہے کیسے کریں ۔ائر پورٹس پر نوجوانوں کو بیرون ملک سفر سے روکنا مسلہ کا حل نہیں ہے ۔شائد دس پندرہ فیصد بیرون ملک جا کر بھیک مانگتے ہونگے باقی تو قسمت آزمانے نکلتے ہیں

۔معیشت ٹھیک کریں سارے مسائل حل ہو جائیں گے ۔خارجی جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں انہیں بے روزگار نوجوانوں کی وجہ سے بھی ایندھن ملتا ہے ۔افغان ملڑے جو پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔مدارس میں جو لاکھوں بچوں کو غریب والدین دینی تعلیم کیلئے جمع کراتے ہیں اور مولوی ان سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے

۔والدین خوشحال ہونگے تو وہ اپنے بچوں کو مدارس بھیجنے کی بجائے اعلی تعلیم دلائیں گے ۔چوری ،ڈکیتی،رشوت ،ملاوٹ چور بازاری ہر معاشرتی بیماری کے پیچھے معیشت ہے ۔ریاست بانجھ نہیں ہے ۔شاندار زہین لوگ موجود ہیں۔خلوص نیت کے ساتھ کام کرنا شروع کریں گے تو بتدریج معیشت مستحکم ہوتی جائے گی

۔افسران، ججوں ،وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کی مراعات ختم کریں قومی اعتماد پیدا ہو گا ۔بہتری کا راستہ نکلے گا۔ٹیکس بڑھا کر اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے معیشت نہیں چلتی۔ عوامی مسائل میں اضافہ سے معیشت کی جڑیں کھوکھلی ہوتی جاتی ہیں۔بہت مسائل ہیں ۔طاقتور فوج احتجاج کرنے والوں کو بندوق سے خاموش تو کر سکتی ہے معاشی استحکام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ایجنسی اگر ملک دشمنوں کو پاتال سے جاکر پکڑ لیتی ہے تو آئی پی پی ایز کے مالکان کی ڈی بریفنگ سے انہیں کیوں مہنگی بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی پر مجبور نہیں کر سکتی۔لوگ پریشان ہیں۔غریب لوگوں کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ۔انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے اور جنگی بنیادوں پر عملدرامد کی ۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان صرف اکیلا مجرم نہیں تھا اسے لانے والے اُس سے بڑے مجرم تھے۔ ان سے بھی پورا پورا حساب لینا چاہیے، عمران خان کا بیانیہ تھا کہ دوسروں کو وہ چور اور ڈاکو کہتے تھے لیکن خود وہ چوری اور ڈاکے میں سب سے آگے ، لڑائی جھگڑا فتنہ فساد الزام تراشی گریبانوں کو پکڑتے تھے، نواز شریف

آف لوڈنگ کا طوفان: اگر فوج مصروف ہے تو وزارتِ داخلہ کیوں خاموش لاہور — پاکستانی شہری، جن کے پاس مکمل قانونی دستاویزات، درست ویزے اور مطلوبہ کلیئرنس ہوتی ہے، ملک کے مختلف ایئرپورٹس پر مسلسل غیر قانونی آف لوڈنگ اور ہراسانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ایک تلخ سوال شدت اختیار کر چکا ہے:اگر فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دفاعی ذمہ داریوں میں مصروف ہیں، تو پھر وزیر داخلہ سید محسن نقوی، سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا، DG ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آخر کر کیا رہے ہیں؟علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سمیت ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ایک ہی خوفناک pattern سامنے آ رہا ہے:جو رشوت دے، وہ جہاز تک پہنچا دیا جاتا ہے۔جو انکار کرے، اسے بے عزت کیا جاتا ہے، ذہنی طور پر توڑا جاتا ہے اور پھر آف لوڈ کر دیا جاتا چاہے اس کے پاس تمام قانونی تقاضے موجود ہوں۔بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے لیے یہ پروازیں عیش نہیں بلکہ گھر کی کفالت کا آخری سہارا ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کا راستہ روکنا کسی جرم سے کم نہیں-یہ سراسر معاشی قتل ہے۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ:وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے اب تک کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا نے نہ کوئی سخت انکوائری کرائی نہ اصلاحاتی قدم اٹھایا۔DG ایف آئی اے نے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کوئی نمایاں ایکشن نہیں دکھایا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔یہ سب دیکھ کر nation یہ سوچنے پر مجبور ہے:کیا پاکستانی عوام ہر طرف موجود خون چوسنے والوں کو پالنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں؟اگر ریاست روزگار نہیں دے سکتی، تو کم از کم ان دروازوں کو بند نہ کرے جن سے محنت کش روزی کماتے ہیں۔ایئرپورٹس پر سرگرم یہ منظم مافیا—سرکاری خاموشی کے سائے میں—پاکستان کے داخلی دروازوں کو ذلت، خوف، اور کرپشن کے اڈوں میں بدل چکا ہے۔قوم جواب مانگتی ہے-

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا ائیر ہیڈ کوارٹرز کا الوداعی دورہ25 نومبر، 2025: اپنی الوداعی مصروفیات کے جزویہ طور پر جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے انکا استقبال کیا۔ ائیر ہیڈ کوارٹرز آمد پر پاک فضائیہ کے ایک چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے سربراہ پاک فضائیہ سے انکے دفتر میں ملاقات کی۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مثالی خدمات اور تینوں مسلح افواج میں ہم آہنگی کو مضبوط و مربوط بنانے میں انکے اہم کردار کی تعریف کی۔ سربراہ پاک فضائیہ نے قومی دفاع کے لیے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی نمایاں خدمات کو بھی سراہا اور دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے پاک فضائیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں، عملی مہارت، جدت طرازی اور اپ گریڈیشن کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت میں پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت و لگن کو سراہا اور دہشتگردی کے عفریت کے خلاف قومی جنگ میں پاک فضائیہ کے اہم کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے مابین موجودہ ہم آہنگی کو بھی سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید فروغ پاتا رہے گا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک فضائیہ کی بھرپور حمایت پر ائیر چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پی اے ایف اور اسکی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

*ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری کی سینئرصحافیوں سے گفتگو*افغانستان کا پاکستان کی طرف سے حملہ کیا جانے کا بیان اسکے وسیع تر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا حصہ ہے :ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان جب بھی کوئی کارروائی کرتاہے اس کاباقاعدہ اعلان کرتاہے:ڈی جی آئی ایس پی آرہماری پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں:ڈی جی آئی ایس پی آردہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے،ڈی جی آئی ایس پی آرافغان رجیم دہشت گردٹھکانوں کےخلاف قابل تصدیق کارروائی کرے:ڈی جی آئی ایس پی آر2021سے2025تک ہم نے افغان حکومت کوباربارانگیج کیا:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریطالبان حکومت نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح نہیں بلکہ ریاست کی طرح فیصلہ کرے،ڈی جی آئی ایس پی آر یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ڈی جی آئی ایس پی آر پاک افغان بارڈرپردہشت گردی اورپولیٹیکل کرائم کاگٹھ جوڑتوڑنےکی ضرورت ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرفیض حمیدکاکورٹ مارشل ایک قانونی اورعدالتی عمل ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریبیرون ممالک سےسوشل میڈیااکاؤنٹس ریاست کےخلاف بیانیہ بنارہےہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

*👈 معزز ممبران! آج کی پوسٹ میں 61 ہیڈلائنز ہیں*🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑 🛑 *25 نومبر 2025 | بروز منگل | | اہم خبروں کی جھلکیاں |👇* 🚨 (1) پاک بحریہ کا سمندری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے بلیسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ🚨 (2) جہاز سے داغا جانے والا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل ملکی سطح پر تیار کیا گیا، نیول چیف اور سائنسدانوں نے تجربے کا مشاہدہ کیا🚨 (3) فوج میں کوئی شخص ذاتی فائدے کےلیے سیاسی ایجنڈے کو پروان چڑھائے تو خوداحتسابی کا نظام حرکت میں آتا ہے، جنرل احمد شریف🚨 (4) فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے، قیاس آرائیاں نہ کی جائیں، ڈی جی آئی ایس پی آر🚨 (5) ہم جب حملہ کرتے ہیں تو اعلانیہ کرتے ہیں چھپ کر نہیں، پاک فوج، افـغـاـ ن طاـ لباـ ن کا الزام مسترد🚨 (6) عمران خان سے ملاقات کیلئے علیمہ خان کا اڈیالہ روڈ پر دھرنا، بڑی تعداد میں کارکنان جمع، نعرے بازی🚨 (7) 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں، ستائیسویں ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی، ترمیم لانے والی قوتوں کی عزت نہیں بڑھی، مولانا فضل الرحمن🚨 (8) پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار ممکنہ طور پر افـغـاـ ن شہری ہیں، آئی جی خیبر پختونخوا پولیس🚨 (9) اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افـغـاـ نستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی، عطا تارڑ🚨 (10) آسٹریلوی سینیٹر پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے پر معطل🚨 (11) راولپنڈی: لڑکی کے بال زبردستی کاٹنے کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ، 3 افراد گرفتار🚨 (12) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کا فیصلہ محفوظ🚨 (13) سندھ ہائیکورٹ نے ای چالان کےخلاف فوری حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی🚨 (14) عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ نہیں ہوتا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل🚨 (15) گلگت بلتستان اسمبلی کی 5 سالہ مدت مکمل، جسٹس (ر) یار محمد نگران وزیر اعلیٰ مقرر🚨 (16) حکومت نے سقوط ڈھاکا سے سبق نہیں سیکھا، ’1971 کی طرز‘ پر طاقت چھینی، پی ٹی آئی کا الزام🚨 (17) کراچی میں ایک ماہ کے دوران 71 کروڑ روپے سے زائدکے ای چالان کیے گئے🚨 (18) دجالی حکومت نے بھارت میں آباد بنی میناشے یہودیوں کو اس را_ئیل منتقل کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا 🚨 (19) وزیر اعلیٰ پنجاب کا کھیلوں کو پروان چڑھانے کیلئے ہر ماہ چیمپئن شپ ایونٹس کرانے کا حکم🚨 (20) ہماری طالبات کیلئے فاطمہ جناح، بینظیر بھٹو اورمریم نواز مثال ہیں، یہ شخصیات رول ماڈل ہیں: گورنرپنجاب🚨 (21) شکرگڑھ میں گھر سے 29 سانپ نکل آئے🚨 (22) پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا🚨 (23) مظفر گڑھ: طلبہ کو اسکول لیجانے والے رکشے ریس لگاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے، طالبہ جاں بحق، 13 زخمی🚨 (24) تھائی لینڈ: آخری رسومات کیلئے لائی گئی خاتون تابوت سے زندہ نکل آئی، ویڈیو وائرل🚨 (25) عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت میں 23 دسمبر تک توسیع🚨 (26) ایتھوپیا آتش فشاں: راکھ کے بادل بھارت پہنچ گئے، پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

🚨 (27) اُلتر گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا، برفانی تودے نے وادی ہنزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا🚨 (28) کراچی میں چوری کی انوکھی واردات، ملزمان واردات کے دو روز بعد سارا سامان واپس گھر میں پھینک گئے🚨 (29) برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے جمع کرائی گئی 40 ہزار درخواستوں میں پاکستانی سرفہرست🚨 (30) گیس کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ؟ اوگرا کے متضاد بیانات🚨 (31) ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش🚨 (32) علی ترین نے ملتان سلطانز کی ملکیت چھوڑنے کا اعلان کردیا🚨 (33) ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی🚨 (34) اگر یہی سلسلہ رہا تو ہم کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی🚨 (35) اسلام آباد کچہری خودکش حملے سے متعلق گرفتار ملزم کا بیان؛ ہوشربا انکشافات🚨 (36) بنوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک🚨 (37) سپریم کورٹ لارجر بینچ کے فیصلے کیخلاف اپیل کون سنے گا؟ وفاقی آئینی عدالت کا اصول طے کرنے کا فیصلہ🚨 (38) ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی تحقیقات میں پیش رفت، مزید انکشافات🚨 (39) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی فیلڈ مارشل سے الوداعی ملاقات🚨 (40) جے یو آئی کو دھچکا؛ این اے 251 سے رہنما کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار🚨 (41) اسلام آباد ہائیکورٹ، سماعت کے دوران جج کی طبیعت خراب، اسپتال منتقل🚨 (42) سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلس_طین علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، پاکستان🚨 (43) اسلام آباد کے پارک میں خیمہ زن 539 افـغـاـ ن باشندے گرفتار🚨 (44) پاکستانیوں کیلیے خوشخبری؛ گھر بیٹھے آسٹریلیا کا ویزا حاصل کرنا آسان ہوگیا🚨 (45) شہریوں کے لیے خوشی کی خبر، کراچی چڑیا گھر میں شیرنی نے تین بچوں کو جنم دیا🚨 (46) لاہور؛ پاکستانی نژاد امریکی خاتون سے سابق شوہر کی مبینہ زیـاـ دتی، مقدمہ درج🚨 (47) ٹی 20 ورلڈکپ 2026: پاک۔بھارت ٹیمیں ایک گروپ میں شامل، میچ 15 فروری کو شیڈول🚨

(48) تین کے بجائے دو بیویوں کے ساتھ شادی کی سالگرہ منانے پر اقرار الحسن کو تنقید کا سامنا🚨 (49) سونے کی فی تولہ قیمت 7 ہزار 700 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 36 ہزار 562 روپے ہو گئی🚨 (50) 4 ماہ میں 64 کروڑ 46 لاکھ ڈالرزکے موبائل فونز درآمد🚨 (51) متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری کے شوہر اور پراسیکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ🚨 (52) پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا🚨 (53) متحدہ عرب امارات اور اس را_ئیل کے درمیان ریلوے پروجیکٹ پر کام جاری🚨 (54) تھائی لینڈ میں بارشوں کا 300 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا؛ معمولاتِ زندگی ٹھپ؛ ہلاکتیں🚨 (55) خلا میں پھنسے 3 چینی خلا بازوں کی واپسی کیلیے امید نظر آنے لگی🚨 (56) ح_م_ا_س نے غ_ز_ہ جنگ بندی پر صدر ٹرمپ کو لکھا گیا خط قطر کے حوالے کیا🚨 (57) مصر مذاکرات؛ غ_ز_ہ میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام اور ح_م_ا_س کے ہتھیار پھینکنے پر پیشرفت🚨 (58) جہاں عورتیں خوف کی زندگی گزاریں، وہ معاشرے ترقی نہیں کرسکتے: آصفہ بھٹو🚨 (59) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز کو 2 مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا🚨 (60) وزیراعظم کا دانش یونیورسٹی سائٹس کا دورہ، منصوبے کی شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت🚨 (61) اسحاق ڈار سے ایر_انی مشیر علی لاریجانی کی ملاقات، باہمی تعاون کے

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس11 نومبر کو اسلام آباد میں کچہری خودکش حملے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، وزیر اطلاعاتخودکش حملہ آور ہائی سیکور جگہ پر نہیں پہنچ سکے، وزیر اطلاعاتاسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خود کش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا، وزیر اطلاعاتانٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے حملے کے فوری بعد چار ملزمان کو گرفتار کیا، وزیر اطلاعاتانٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے حملے کے 48 گھنٹے کے اندر ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا، وزیر اطلاعاتہینڈل ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا، وزیر اطلاعاتساجد اللہ نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، وزیر اطلاعاتساجد اللہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی، وزیر اطلاعات2023ء میں ساجد اللہ نے داد اللہ نامی شخص سے ملاقات کی، وزیر اطلاعاتاس حملے کی منصوبہ بندی فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے کی، وزیر اطلاعاتداد اللہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے، وزیر اطلاعاتساجد اللہ عرف شینا نے اگست 2025ء میں داد اللہ سے افغانستان جا کر ملاقات کی، وزیر اطلاعاتساجد اللہ اور داد اللہ ایک ایپ کے ذریعے آپس میں رابطے میں رہے، وزیر اطلاعاتدہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اسلام آباد تھے، وزیر اطلاعاتاللہ کا شکر ہے کہ ہم بڑے نقصان سے بچ گئے، وزیر اطلاعاتساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کر کے خودکش حملے کی پلاننگ کی، وزیر اطلاعاتساجد اللہ نے محمد ذالی اور کامران خان کو ہائر کیا، وزیر اطلاعاتاگست 2025ء میں ساجد اللہ شینا اور محمد ذالی افغانستان اکٹھے گئے داد اللہ سے ملاقات کیلئے، وزیر اطلاعاتفتنہ الخوارج کے دہشت گرد عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے بھی ملے شیگل ضلع میں، وزیر اطلاعاتشیگل سے یہ کابل پہنچے اور وہاں داد اللہ سے ملاقات ہوئی، وزیر اطلاعاتداد اللہ نے انہیں راولپنڈی اسلام آباد میں خودکش حملے کے حوالے سے نور ولی محسود کے احکامات پہنچائے، وزیر اطلاعات ساجد اللہ عرف شینا نے پاکستان کے اندر واپس آ کر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی، وزیر اطلاعاتعثمان شنواری ننگر ہار افغانستان کا رہائشی ہے، وزیر اطلاعاتعثمان شنواری کو خودکش جیکٹ لا کر دی گئی اور اسے تمام مواد فراہم کیا اور اس نے جی الیون میں خودکش حملہ کیا، وزیر اطلاعات

عمران خان کی سیاسی زندگی:-کرکٹ کیریئر کے دوران میں عمران خان کو کئی مرتبہ سیاسی عہدوں کی پیش کش کی گئی۔ 1987ء میں صدرپاکستان محمد ضیاء الحق نے انھیں مسلم لیگ میں سیاسی عہدے کی پیش کش کی جسے انھوں نے انکار کر دیا۔ نواز شریف نے بھی اپنی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لیے مدعو کیا تھا۔ ضیاء الحق کے ساتھ عمران خان کے اچھے تعلقات تھے، انھوں نے کرکٹ چھوڑ دی تھی لیکن جنرل ضیاء ان کو دوبارہ کرکٹ میں واپس لے کر آئے 1992ء کا ورلڈ کپ بھی جنرل ضیاءکے کہنے پر کھیلا۔1994ء کے آخر میں انھوں نے انٹیلی اجنسی (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ حمید گل اور محمد علی درانی کی قیادت میں پاسبان نامی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اسی انھوں نے سیاست میں باقاعدہ شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی۔۔25 اپریل 1996ء کو تحریک انصاف قائم کر کے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت ان کی سیاسی جماعت کو پاکستان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 32، ایوان بالا میں 7، صوبائی اسمبلی سندھ میں 4، صوبائی سمبلی پنجاب میں 30 اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں 59 نشستیں حاصل ہیں۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے نعرے کرپشن اور سیاسی مافیا کا خاتمےٗ کی وجہ سے مشرف کی فوجی آمریت کی حمایت کی۔

عمران خان کے مطابق مشرف انھیں 2002ء میں وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔2002ء کے ریفرنڈم میں عمران خان نے فوجی آمر کے ریفرنڈم کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ تمام بڑی جماعتوں نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔ 2002ء میں عام انتخابات میں وہ میانوالی کی سیٹ سے قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے۔انھوں نے قومی اسمبلی کی کشمیر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں میں بھی خدمات سر انجام دیں ہیں۔2 اکتوبر، 2007 کو جنرل مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے استعفٰی دیے بغیر صدارتی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا، اس فیصلے کے خلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے دیگر 85 اسمبلی ارکان کے ساتھ مل کر عمران خان نے تحریک چلائی۔ 3 نومبر، 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 14 نومبر کو پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامی حالت کے خلاف طلبہ احتجاج کے دوران میں عمران خان عوامی حلقوں میں نظر آئے۔ اس ریلی کے دوران میں اسلامی جمعیت طلبہ نے عمران خان کو زد و کوب کیا۔ اس احتجاج کے بعد ان کو گرفتار کر کے ڈیرہ غازی خان کی جیل میں بھجوا دیا گیا جہاں یہ چند دن قید رہے۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر “دہشت گردی” قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کر رہے تھے اور جب انھیں انکار کر دیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہو گئے۔ 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔ 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے

اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لے کر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کر سکے۔30 اکتوبر 2011ء کو عمران خان نے لاہور میں 100،000 سے زائد حامیوں کو خطاب کیا، حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی تبدیلیاں حکمران جماعتوں کے خلاف “سونامی” ہیں۔25 دسمبر 2011 ءکو کراچی میں ہزاروں حامیوں پر مشتمل کامیاب عوامی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس وقت سے عمران خان حکمران جماعتوں اور پاکستان میں مستقبل کے سیاسی امکانات کا حقیقی خطرہ بن گیا۔۔ بین الاقوامی ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف دونوں قومی اور صوبائی سطح پر پاکستان میں مقبول جماعتوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ 6 اکتوبر 2012 کو عمران خان نے پاکستان کے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں کوٹائی کے گاؤں پر ڈرون حملے کے خلاف مظاہرین کے ایک کاروان میں شامل ہوئے، 23 مارچ 2013 کو، خان نے اپنے انتخابی مہم کے آغاز پرنیا پاکستان قرارداد متعارف کروائی۔ 29 اپریل کو آبزور جریدے نے عمران خان اور ان کی جماعت کو حکمران مسلم لیگ کے لیے اہم اپوزیشن قرار دیا۔ 2011ء اور 2013 کے درمیان، عمران خان اور نواز شریف کے مابین تلخ جملوں اور الزامات کی بوچھاڑ کا سلسلہ رہا۔ اپریل 2013 سے انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے ایک دوسرے پر تنقید کی۔اس انتخابی مہم کے دوران میں عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو امریکا کی جنگ سے باہر نکالتے ہوئے قبائلی علاقوں میں امن لے کر آئے گا۔ انھوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور ملک کے دوسرے حصوں میں مختلف عوامی اجلاسوں کو خطاب کیا جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف یکساںتعلیمی نظام متعارف کروائے گی جس میں امیر اور غریب بچوں کو مساوات ملے گی۔ انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی، 2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخیریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔ عمران خان نے لاہور کے ہسپتال میں لیٹ کر ویڈیو لنک کے ذریعے نے اسلام آباد میں حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کر کے مہم کا اختتام کیا۔2018

ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی۔17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کے بائیسویں وزیر اعظم پاکستان بن گئے جب کہ ان کے مد مقابل اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کیے۔ انھوں نے 18 اگست 2018ء کو حلف لیا۔ 18 اگست، کو انھوں نے بیس رکنی کابینہ کا اعلان کیا اور وزیر داخلہ اور وزیر پاور کا قلمدان خود کے لیے منتخب کیا۔ بعد ازاں کابینہ میں توسیع کی گئی اور انھوں نے وزیر پاور کا قلمدان عمر ایوب خان کو سونپ دیا۔پہلی گرفتاری اور رہائیاسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کے نتیجے میں، اسلام آباد پولیس اور لاہور پولیس نے 14 مارچ 2023ء کو خان کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کیا۔ 9 مئی کو، عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیم فوجی دستوں نے گرفتار کیا تھا۔ یہ القادر ٹرسٹ کیس میں ان کے مبینہ کردار پر تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی پارٹی کے اراکین نے ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔ ان کی گرفتاری سے مظاہرے ہوئے اور 9 مئی کے فسادات ہوئے ۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ 9 مئی کے فسادات کے بعد، پی ٹی آئی کے بہت سے اراکین نے خان کا ساتھ چھوڑ دیا اور جہانگیر ترین کی قیادت میںاستحکام پاکستان پارٹی بنیاد رکھی۔ 12 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ عمران خان کو محفوظ ضمانت دے دی گئی اور اسی دن رہا کر دیا گیا۔سزا اور دوسری گرفتاری5 اگست 2023ء کو، عمران خان کو دوسری بار گرفتار کیا گیا اور 2018ء سے 2022ء تک اپنی وزارت عظمیٰ کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری قبضے میں ایسے تحائف کی خرید و فروخت کرنے کا الزام ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی جو بیرون ملک دوروں کے دوران وصو
ل کیے گئے تھے اور ان کی مالیت 140 ملین روپے سے زیاد تھی۔

29 اگست 2023ء کو، ایک اپیل کورٹ نے خان کی بدعنوانی کی سزا اور تین سال قید کی سزا معطل کر دی اور ضمانت منظور کر لی۔ بدعنوانی کے مقدمے میں معطل سزا کے باوجود، اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے حکم دیا کہ وہ “سائفر کیس” کے سلسلے میں جیل میں ہی رہیں گے۔ خان نے بارہا الزام لگایا ہے کہ انھیں ایک سائفر یا سفارتی کیبل موصول ہوئی ہے، جس میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ وہاں ایک امریکی شہری نے پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اسے عہدے سے ہٹانے کی سازش کی۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے خان کے خلاف مبینہ سائفر پر معلومات شیئر کرنے اور ریاستی راز افشا کرنے اور اس طرح آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمہ درج کیا۔ 30 جنوری 2024ء کو، خان کو اس کیس میں مجرم قرار دیا گیا اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عمران خان نے 8 فروری کو ہونے والے 2024ءکے پاکستانی عام انتخابات میں ووٹروں سے “اپنے ووٹ سے ہر ناانصافی کا بدلہ لینے” پر زور دیتے ہوئے رد عمل کا اظہار کیا۔ ان کے وکیل نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا اور ان کی قانونی ٹیم نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بہت سے مبصرین نے الزام لگایا کہ یہ سزا 2024 ءکے انتخابات سے قبل خان اور پی ٹی آئی کو سائیڈ لائن کرنے کی مہم کا حصہ تھی۔ خان نے خود اپنے خلاف تمام الزامات کو “سیاسی طور پر محرک” قرار دیا۔ ان کے اس وقت کے وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے نائب شاہ محمود قریشی کو بھی اس کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ خان کی بہن علیمہ نے کہا کہ استغاثہ نے ان کے بھائی کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ اگلے دن، خان کو توشہ خانہ کیس کے لیے مجرم قرار دیا گیا اور اسے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جس میں اسے اور اس کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دیے گئے سرکاری تحائف کی غیر قانونی فروخت شامل تھی، جب وہ وزیر اعظم تھے۔ اگست میں اپنی گرفتاری کے بعد سے، خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کا ٹرائل بھی ہوا۔
Not just change — a major transformation! Not “about to happen”… it has already happened! For explosive inside details, keep watching Sohail Rana Live — on Baadban News!