*پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن 97 فیصد بروقت پروازوں کی روانگی کے ساتھ مکمل**21 مئی 2026*پی آئی اے قبل از حج آپریشن 21 مئی کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ ترجمان پی آئی اے۔ رواں سال 210 پروازوں کےذریعے 53,000 سے زائد عازمین حج کو حجازِ مقدس پہنچایا گیا ۔ پی آئی اے کی قبل از حج کی پروازوں کی کامیابی کی شرح 97 فیصد رہی یعنی مجموعی طور پر 97 فیصد سے زائد پروازیں بروقت روانہ ہوئیں۔پی آئی اے کی جانب سے حج پروازوں کی بروقت روانگی مقررہ ہدف سے سات فیصد زائد رہی۔ اس سال 53،000 سے زائد عازمین حج کو پی آئی اے کے ذریعے سعودی عرب پہنچایا گیا ۔ حج آپریشن کے لیے اسلام آباد، کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ اور کوئٹہ سے براہِ راست پروازیں چلائی گئیں۔پی آئی اے کی جانب سے بعد از حج آپریشن کے لئےضروری اقدامات مکمل کر لئے گئے ہیںپی آئی اے کا بعد از حج آپریشن 30 مئی 2026 کو شرو ع ہو گا اور 30جون کو اختتام پذیر ہو گا ۔ترجمان پی آئی اے
راولپنڈی GHQ میں فوجی اعزازات دینے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہداء کے اہلِ خانہ، افسران اور جوانوں کو بہادری اور خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے
۔تقریب میں 50 ستارۂ امتیاز (ملٹری) 12 تمغۂ بسالت دیے گئے، شہداء کے اعزازات انکے خاندانوں نے وصول کیے۔
سرمد علی،صحافت،تمغہ امتیاز اور ڈاکٹر عارف جلالاہلیت اور قیادت کا نتیجہ۔۔۔۔دفاتر کرائے کے لیے خالی ہیں فاروق فیصل خان لائلپور سے ہماری محبت کی وجہ عہد ساز صحافی ظفر ڈوگر اور میاں زاہد سرفراز سے قربت ہے، چبکہ فیصل اباد سے قلبی تعلق لاس اینجلس جا بسنے والے یونیورسٹی کے کلاس فیلو،قومی فتبال ٹیم کے سابق کھلاڑی محبوب الحسن اور وویمن یونیورسٹی فیصل اباد شعبہ میڈیا سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر سلمی عنبر ہین۔۔۔۔ میاں زاہد سرفراز پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نہ صرف انسائیکلوپیڈیا بلکہ کردار ہیں۔عہد فیلڈ مارشل ایوب خان میں پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے سیکرٹری۔ محترمہ فاطمہ جناح کے چیف سپورٹر اور پولنگ ایجنٹ، متعدد مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر رہے ہیں ۔اب بھی ان کا بیٹا علی سرفراز عہد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میں پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی ہے۔میاں زاہد سرفراز پیرانہ سالی کے باوجود پرانے لائلپور کی مجلسی زندگی،دیہی تہذیب اور وضع داری کی علامت ہیں۔ان کی زبان سے ہمیشہ لیلپور ہی سنا ہے۔
وہ صرف بلند آہنگ شخصیت کے مالک ہی نہیں دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔برادر ظفر ڈوگر کو عہد ساز صحافی اس لئے قرار دیتا ہوں کہ اس کی صورت فیصل آباد کی صحافت، علاقائی صحافت سے نکل کر قومی اور مرکزی دھارے میں شامل ہوئی۔روزنامہ ایکسپریس وہ پہلا قومی اخبار ہے جس نے فیصل آباد سے اپنی اشاعت کا اہتمام کیا تو ظفر ڈوگر کو اس کی ادارت کی ذمہ داری سونپی۔کچھ برسوں بعد روزنامہ جنگ کو بھی فیصل آباد سے اخبار شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کی نظر انتخاب بھی ظفر ڈوگر پر پڑی۔ٹی وی چینلز کا دور آیا تو محسن نقوی صاحب نے فیصل آباد سے چینل لانچ کیا تو ان کی جوہر شناس نظر نے بھی ظفر ڈوگر جیسے ہیرے کا انتخاب کیا۔ان دونوں شخصیات کی قربت کے نتیجے میں ہمیں زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف جلال کا تحفہ ملا۔ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر لکھنے کا مطلب آپ کے کئ گھنٹے گئے۔ان کا اتنا تعارف کافی ہے کہ درس و تدریس کے بعد ان کا زیادہ تر وقت فیملی سے زیادہ میاں زاہد سرفراز اور ظفر ڈوگر کی صحبت میں گذرا ہے۔ڈاکٹر صاحب گزشتہ برس ریٹائر ہونے کے بعد قلم قبیلے والوں کے قافلے میں شامل ہو گئے ہیں۔
ہم خوش تھے کہ ان کا قلم زراعت اور زرعی تحقیق پر اٹھے گا، ہم سمجھ پائیں گے کہ ہماری زراعت کے ساتھ کیا ہوا اور کیا کرتے کی ضرورت ہے۔۔۔ان موضوعات پر انہوں نے لکھا بھی لیکن انہوں نے بھی اب ان موضوعات کو منتخب کرنا شروع کر دیا ہے جو ہم جیسے نیم خواندہ کی چراگاہ ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے تازہ آرٹیکل میں اے پی این ایس(مالکان اخبارات کی تنظیم)کے صدر اور حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی جن کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز کا حقدار ٹھہرایا کی ذاتی صفات اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بیان کیا ہے۔ان کے مضمون کا عنوان ہے”سرمد علی۔۔پاکستانی جمہوری صحافت کے عہد ساز معمار قلم،قیادت اور ستارہ امتیاز”سرمد علی صاحب کو یہ اعزاز ملنے پر بہت مبارک۔اللہ پاک ان کو مزید کامیابیوں سے نوازے۔شخصی خوبیوں کو چھوڑ کر ایک صحافی ہونے کے ناطے ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے نتیجے پر گفتگو تو کی جا سکتی ہے۔ماضی میں ان کے دور صدارت میں ان کی تنظیم پر تنقید کے نتیجے میں خاکسار اور اس وقت جس ادارے میں کام کر رہا تھا دونوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اب تو ملازمت کا کوئی سلسلہ بھی نہیں۔سو پیارے ڈاکٹر عارف جلال صاحب سرمد صاحب کہاں اور کب سے عہد ساز معمار قلم ہوئے۔ان کے قلم سے کوئی ایک خبر، کالم ،مضمون، اداریہ لکھا ہوا موجود ہو تو اگاہ کیجئے گا۔۔وہ مارکیٹنگ کے ایک باصلاحیت انسان ہیں
جہنوں نے اپنی محنت سے اپنے ادارے اور اس کی بدولت صنعت میں بڑا مقام بنایا لیکن قلم کار نہیں ہیں۔وہ اس جدید صحافت کے معمار ضرور ہیں جس میں ادارتی پالیسی کلی طور پر مارکیٹنگ کے تابع ہے،جس میں ایڈیٹر شعبہ اشتہارات کے ہیڈ کو جوابدہ ہے۔وہ ادارتی مواد کے عوض استہارات کی اچھی ڈیل کرنے کے ماہر ہیں۔وہ صحافیوں یا ایڈیٹرز کی کسی تنطیم کے صدر نہیں بلکہ مالکان اخبارات کے کاروباری مفادات کو تحفظ دینے والی تنطیم کے صدر ہیں۔
اس حیثیت میں ان تنظیموں کے حصے بخرے کرنے میں بھی ان کا کردار کلیدی ہے۔اج ایڈیٹرز اور عامل صحافیوں کی تنظیموں کی اولین ترجیح اشتہارات کا حصول اور پیمنٹ کی ادائیگی ہے تو اس کا سہرا بھی ڈاکٹر صاحب کے ممدوع سرمد صاحب کو جاتا ہے۔ان کی قیادت، اہلیت اور وژن کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ جس کے وہ کرتا دھرتا ہیں کے دفاتر برائے فروخت اور کرائے کے لئے خالی ہیں کے اشتہار دے رہا ہے۔ باقی تمام اخبارات اور صحافت حکومت کے سامنے اشتہارات کا کشکول اور صحافی عیدی کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔
اداکارہ مومنہ اقبال سے ہراسگی اور دھمکیوں کے معاملے میں لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ ملوث نکلے۔اداکارہ کی جانب سے ثاقب چدھڑ اور انکی بیوی سمیرا خان کو درخواست میں نامزد کیا گیا ہےاین سی سی آئی اے لاہور نے لیگی رکن پنجاب اسمبلی اور انکی بیوی کو 22 مئی کو طلب کرلیا۔ذرائع
امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: پاکستانی ثالثی نازک مرحلے میں داخل، وزیر داخلہ محسن نقوی کا ہنگامی دورہ تہرانپاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مستقل خاتمے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششیں اب ایک انتہائی نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان تازہ ترین پیش رفت کی تفصیلی تفصیلات درج ذیل ہیں
:وزیر داخلہ محسن نقوی کا 24 گھنٹوں میں دوسرا دورہ تہرانخطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکا کی جانب سے ملنے والی حالیہ تجاویز کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے (اور گزشتہ 24 گھنٹوں) کے دوران دوسری مرتبہ ہنگامی دورے پر تہران پہنچے ہیں۔ اہم ملاقاتیں: تہران پہنچنے پر محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام بشمول جنرل احمد وحیدی سے اہم ترین ملاقاتیں کیں، جن میں عسکری اور سول قیادت کو امریکی تجاویز پر اعتماد میں لیا گیا۔ دورے کا مقصد: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک (امریکا اور ایران) کے درمیان پیغامات کی فوری منتقلی اور دونوں جانب سے موصول ہونے والے مسودوں (Texts) کی مزید وضاحت اور ابہام دور کرنے کے لیے ہے۔امریکا کا نیا مسودہ اور ایرانی موقفذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو ایک نیا مسودہ/تجاویز پیش کی گئی ہیں،
جس میں سابقہ پیشکشوں کے مقابلے میں ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے نسبتاً بہتر مراعات (Incentives) شامل کی گئی ہیں۔ ایران کا ردِعمل: ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران کو امریکی تجاویز کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور وہ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم، ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات (تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے) پر سختی سے قائم ہے۔مذاکرات کا اگلا دور: عید کے بعد اسلام آباد میںپاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی مسلسل پسِ پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں دونوں فریقین کو دوبارہ براہِ راست میز پر لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
دوسرا دور: پاکستان کی اولین ترجیح 8 اپریل سے نافذ العمل عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اور ایران کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا اگلا اور حتمی دور عید کے فوراً بعد اسلام آباد میں شیڈول کیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود حتمی مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ سفارتی حلقوں کا تجزیہ: عید کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں مستقل امن یا دوبارہ ممکنہ کشیدگی کا فیصلہ کرنے میں تاریخی نوعیت کے حامل ہوں گے۔
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان اسلام آباد پہنچ گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے نور خان ایئربیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا۔
خاتون اول محترمہ آصفہ بھٹو زرداری بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھیں۔ روائیتی ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے معزز مہمان کو پھول پیش کیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایوانِ صدر پہنچنے پر پرنس رحیم آغا خان کا استقبال کیا
*کراچی میں چوری کی بڑی واردات، مسلح ملزمان 3 کروڑ سے زائد مالیت کا سونا، لاکھوں روپے نقدی لوٹ کر فرارکراچی: گلستان جوہر بلاک 17 میں واقعے بسیرا شاپنگ سینٹر کے اندر بڑی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان 4 دکانوں سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور لاکھوں نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے.سنار مارکیٹ کے صدرو متاثرہ سنار اعجاز حسین نے واردات کا مقدمہ شارع فیصل تھانے میں نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف درج کرادیا، مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام ساڑھےسات بجے کے قریب واردات میں ملوث 4 نامعلوم ملزمان نے بیٹے لاریب کی بند دکان کا شیشہ توڑکر اندر داخل ہوئے اور لوٹ مار کی ملزمان دکان سے 2 کروڑ 19 لاکھ روپے کا سونا، 20 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ہوئے.مسلح ملزمان نے دوسری دکان پر موجود ملازم جمیل سے 40 لاکھ روپے کا سونا بھی چھینا, مسلح ملزمان نے تیسری دکان کے مالک شرجیل سے آئی فون اور چوتھی دکان سے اسلحہ کے زور پر 70 لاکھ روپے کا سونا لوٹا۔واردات کے بعد مسلح ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے فائرنگ بھی کی جس سے دکان کا شیشہ ٹوٹ گیا دکان کا شیشہ ٹوٹنے سے ایک ملزم زخمی بھی ہوا۔
قومی مذاکراتی کمیٹی کا وفد ، کيا اس کميٹی کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے ؟؟تحريک انصاف کے سابق رہنماؤں نے ،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، کی قيادت ميں ، کراچی ميں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصيات اور صحافيوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کيا ہے اس وفد ميں تحريک انصاف کے کئی سابق رہنما جن ميں سابق وفاقی وزراء محمد علی درانی، فواد چوہدری، محمود مولوی، سابق سینیٹرز ڈاکٹر وسیم شہزاد اور بیریسٹر سیف شامل تھے۔ تحريک انصاف کی سابقہ قيادت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قومی حکومت اور قومی مذاکراتی کے ذریعے مسائل کے حل کرے ، جس میں انکی خواہش ہے کہ اسٹبلشمنٹ، حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں بالخصوص سابق وزیراعظم عمران خان اور انکے ساتھیوں کی رہائی کے لئے سنجیدگی سے غور کرے ، واضح رہے کہ سابق وزير اعظم عمران خان اور انکی بہن عليمہ خان ان تمام رہنماؤں کو غدار اور مفاد پرست قرار ديتی ہيں، ابھی اس بات کی وضاحت باقی ہے کہ کراچی ميں ملاقاتيں کرنے والے ان سابقين کو کيا عمران خان کا اعتماد بھی حاصل ہے ،
دھرتی کا نایاب تحفہ ۔اظہر سیددنیا کے عظیم ترین انسان مٹی پیدا کرتی ہے ،جہاں غلیظ ترین انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مٹی کا ہی قصور ہے ۔پاکستان کے آئین اور قانون کے محافظوں پر نظر ڈالیں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتا ہے ۔کوئی آئین کی پہلی عصمت دری کو نظریہ ضرورت کا کفن پہنا کر دفناتا ہے ،کوئی منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ،کوئی غیر آئینی حکمران کو آئین میں ترامیم کا حق دیتا ہے تو کوئی کسی سیاسی پارٹی کی ٹکٹیں فروخت کرتا ہے ۔کوئی سسلین مافیا کا نام لے کر عوام کو کھوتا بناتا ہے تو کوئی مخصوص ججوں کو ساتھ ملا کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کی فائدے پہنچاتا ہے ۔اس مٹی نے ان نایاب ہیروں کے ساتھ ایک ایسا سپوت بھی پیدا کیا ہے
جو سب سے بازی لے گیا ۔ایسا انوکھا کبھی پیدا ہوا نہ ہو گا ۔اس جیسا کوئی بھی نہیں ۔لائین میں لگ کر ایک غیر آئینی حکمران کا حلف لیا اور جب یہ غیر آئینی حکمران بوجھ بنا تو اسی کے ساتھیوں کی ایما پر باغی بن گیا ۔ائین اور قانون کا محافظ بن گیا ۔اس جیسا کبھی کوئی ماں پیدا نہیں کر سکتی ۔اس کے پاس روتے پیٹتے عوام انصاف کیلئے پہنچے ،ہماری عمر بھی کی کمائی ایک نوسر باز نے اپنا گھر “کے خواب دکھا کر لوٹ لی ہے ۔اس نے عوام سے لوٹی ہوئی اربوں روپیہ کی دولت دیکھی تو بے
بس عوام کو انصاف دینے کی بجائے ملزم کے بیٹے کو اپنی بیٹی دے دی ۔انصاف کو تیل لینے بھیج دیا ۔لالچی اور حریص ہمیشہ بہترین داؤ لگاتا تھا ۔جب غیر آئینی حکمران آیا بھاگ کر اس کا حلف لے لیا ۔جب غیر آئینی حکمران کے اپنے ساتھی اسے بوجھ سمجھنے لگے بھاگ کر انکی کشتی میں بیٹھ گیا ۔بیٹی کے اچھے رشتہ کے متلاشی کے پاس جب ایڈن گارڈن اسکینڈل کا کیس آیا تو ملزم کے ساتھ آنے والے اس کے غیر شادی شادی بیٹے کو تاڑ لیا ۔ایک وچولے وکیل کو بیچ میں ڈالا اپنی بیٹی ملزم کے بیٹے سے بیاہ دی ۔اصل ملزم مر گیا ۔عوام سے لوٹے اربوں روپیہ کے اثاثے بیٹے کو منتقل ہو گئے ۔ان اثاثوں سے اب بیٹی کی زندگی تو سنور ہی گئی تھی نواسوں کی نسلیں بھی سنور گئیں ۔ گھر بیٹھ کر کھائیں گی ۔دنیا کی اس بساط پر اس جج ایسے خوش قمار کم ہی ہونگے جو چال بھی چلتے ہیں قیامت کی چلتے ہیں
اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔ دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے،
جب سلیم 10 سال کا تھا۔لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے “جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔” کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔ رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، “سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔”سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، “جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟”
سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔” سلیم نے کہا، “امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔ گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی
— صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔ لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، “سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔”5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔ آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔ سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، “بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔ سلیم کہتا ہے، “نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے
آپ آج ایرانی ملاوں سے درخواست کرکے دیکھ لیجیے کہ جناب کشمیری مسلمانوں کو مودی سرکار کے حکومتی مظالم اور ریاستی جبر کے خلاف آپکے تعاون کی ضرورت ہے انہیں فوراً سے موت پڑجاے گئ۔لگیں گے ادھر ادھر کی ہانکنے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں کے حق میں انڈیا کے خلاف کبھی آپکے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے۔ایران کے ان ملاوں کی عقل کا ذرا اندازہ لگالیں۔ اسرائیل ایران کی جان کے درپے ہے جبکہ مودی اسی اسرائیل کو اپنا باپ کہتا ہے اور یہ ملا اسی مودی کو اب اپنا باپ بنانے پر تلے ہوے ہیں۔حد ہوتی ہے خچرپن کی بھی۔ ہماری حکومت ایران کے ان ملاوں کو امریکی چھترول سے بچانے کیلیے دن رات ایک کیے ہوے ہے۔ اپنی سلامتی تک داو پہ لگاے ہوے ہے جبکہ یہ ملا ہماری ہی نیتوں پر شک کرتے ہیں اور ہمارے ہی وجود کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مفکر کوتلیا چانکیہ کا اپنی کتاب ارتھ شاستر میں فرمانا ہے کہ آپکے دشمن کا دشمن آپکا دوست ہوتا ہے۔
اب اگر انڈیا کے دشمن ہم ہیں اور ایران انڈیا کا دوست ہے تو ہم توایران کے دشمن ہوے نا۔ہماری عوام جن ایرانی ملاوں کے غم میں دن رات گھُلے جا رہی ہے وہی ملا وسطی ایشیائی ریاستوں کے گیٹ وے کی چابیاں اپنی چاہ بہار کی تھالی میں رکھ کر ہمارے ازلی دشمن کو پیش کررہے ہیں۔ہم نے تو بس قسم کھارکھی ہے ہم سدھرنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے دراصل ٹھیکہ لے رکھا ہے ہمیشہ سے تاریخ کے الٹے رُخ کھڑے ہونے کا۔ ہم ایران کی محبت میں ہر روز اپنے اتحادی امریکہ کو مار کر سوتے ہیں اور دوبئی جیسے اپنے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر خوش ہوتے ہیں جبکہ اسی ایران کے ملا ہماری جان کے دشمن انڈیا کو خطہ میں اپنا سب سے بڑا اتحادی قرار دیتے ہیں۔ایرانی ملاوں والی یہ غلطی ہماری پہلی نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک غلطی ہم افغانستان میں بھی دہرا چکے ہیں۔ جن طالبان کو وہاں بٹھا کر ہم امریکی شکست پر بغلیں بجارہے تھے آج وہی طالبان ہمارے وجود کے درپے ہیں۔امریکہ ان ملاوں کا علاج کیے بغیر اس خطہ سے نکل گیا تو یہی ملا آپکے ساتھ وہ کریں گے کہ آپ افغان طالبان کو بھی بھول جائیں گے۔جب انکے میزایلوں اور ڈرونوں کے گولوں کی تپش سعودیہ اور یو اے ای سے ہوتی ہوئی آپ تک پہنچے گی تو تب پتہ لگے گا کہ کس بھاو بکتی ہے۔
ابھی انڈیا نے صرف افغان طالبان کو گود لیا ہے تو آپکے کڑاکے نکل گئے ہیں۔ جب یہی انڈیا ایرانی ملاوں کے منہ میں چوسنی دیگا تو لگ پتہ جایگا۔فاترالعقل دلیل بھی کیسی دیتے ہیں کہ ایران کا حق ہے اپنے مفادات دیکھ کر تعلقات ٹھیک کرنے کا۔تو کیا یہی اصول ہم پر لاگو نہیں ہوتا؟ ایران اپنا مفاد دیکھ کر انڈیا کا جھولی چُک بن سکتا ہے تو اسرائیل نے کونسا ہماری بھینس مار دی ہے جو ہم اس سے بات نہیں کرسکتے؟ایران اور اسرائیل کی یہ کیسی دشمنی ہے کہ دونوں کا مشترکہ دوست انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے؟ کوئی ارسطو دستیاب ہے تو مجھے یہ پہیلی ضرور سمجھا دے۔سہیل بٹ
حکومت پاکستان نے نجکاری کمیشن کے ذریعے بجلی کی تین بڑی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کی نجکاری کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اظہار دلچسپی (EOIs) کو باضابطہ طور پر مدعو کیا ہے۔ اس نجکاری میں سرمایہ کاروں کے لیے تین تقسیم کار کمپنیوں میں سے ہر ایک میں مینجمنٹ کنٹرول کے ساتھ 51% سے 100% تک شیئر ہولڈنگ حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد کارکردگی میں بہتری ، خدمات کی فراہمی کو معیاری بنانا، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پاکستان کے پاور سیکٹر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مشترکہ طور پر پنجاب اور اسلام آباد کے بڑے صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں 14 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ نجکاری کا یہ عمل بین الاقوامی طور پر رائج طریقہ کار کے مطابق شفاف مقابلہ کے انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کار انفرادی طور پر یا کنسورشیم کے حصے کے طور پر اہلیت کے معیار کے مطابق شرکت کر سکتے ہیں.اظہار دلچسپی کے نوٹس کے مطابق ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے علیحدہ پیشکش جمع کرانی ہو گی. پیشکش جمع کرانے کی آخری تاریخیں ذیل ہیں: فیسکو: 7 جولائی 2026 گیپکو: 6 اگست 2026آئیسکو : 7 ستمبر 2026 سرمایہ کاری کے مواقع، نجکاری کے ڈھانچے اور دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کے لیے نجکاری کمیشن اور مالیاتی مشیر کی جانب سے مشترکہ طور پر سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن بریفنگ بھی منعقد کی جائے گی۔ حکومت پاکستان پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کو توانائی کے شعبے کو جدید اور فعال بنانے،
نجی شعبے کی شراکت کی حوصلہ افزائی اور صارفین کی خدمات کے معیار کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھتی ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مالیاتی استحکام، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور طویل مدتی اقتصادی استحکام میں مثبت کردار ادا ہوگا۔نجکاری کمیشن ڈسکوز کے موجودہ ٹیرف کے ڈھانچے، ملٹی ائیر ٹیرف کے نظام، بزنس ماڈل اور سپلائرز کےموجودہ فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں اور پاور سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے گا
جس سے پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے کاروبار میں نجی شعبے کی تیز رفتار اور زیادہ موثر شرکت میں مدد ملے گی۔ نجکاری کمیشن کا عزم ہے کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ریگولیٹری شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے پر تعاون ماحول پیدا کرے ۔ نجکاری کے عمل میں شمولیت کے لیے اہلیت کے تقاضوں اور اظہار دلچسپی جمع کرانے سے متعلق تفصیلی معلومات نجکاری کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔
لوکل آبادیوں میں لی گئی رھائیش جھاں پر بسیں پھنچ ھی نھی سکتی دوسری طرف مسجد جن کی طرف بنایا گیا سٹاپ حرم سے 4 کلومیٹر دور 25 کلومیٹر سفر کر کے حاجی جب پھنچتا ھے تو اسکو حرم میں باب عبدالعزیز اور باب فھد گیٹ پر پھنچنے کے لیے 25 منٹ چاھیے
جب کہ دوسرا بس سٹاپ مسکوٹا جس سے 2 منٹ میں حاجی حرم میں پھنچ جاتا ھے
لوکل آبادیوں میں لی گئی رھائیش جھاں پر بسیں پھنچ ھی نھی سکتی دوسری طرف مسجد جن کی طرف بنایا گیا سٹاپ حرم سے 4 کلومیٹر دور 25 کلومیٹر سفر کر کے حاجی جب پھنچتا ھے تو اسکو حرم میں باب عبدالعزیز اور باب فھد گیٹ پر پھنچنے کے لیے 25 منٹ چاھیے جب کہ دوسرا بس سٹاپ مسکوٹا جس سے 2 منٹ میں حاجی حرم میں پھنچ جاتا ھے