
*کراچی میں چوری کی بڑی واردات، مسلح ملزمان 3 کروڑ سے زائد مالیت کا سونا، لاکھوں روپے نقدی لوٹ کر فرارکراچی: گلستان جوہر بلاک 17 میں واقعے بسیرا شاپنگ سینٹر کے اندر بڑی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان 4 دکانوں سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور لاکھوں نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے.سنار مارکیٹ کے صدرو متاثرہ سنار اعجاز حسین نے واردات کا مقدمہ شارع فیصل تھانے میں نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف درج کرادیا، مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام ساڑھےسات بجے کے قریب واردات میں ملوث 4 نامعلوم ملزمان نے بیٹے لاریب کی بند دکان کا شیشہ توڑکر اندر داخل ہوئے اور لوٹ مار کی ملزمان دکان سے 2 کروڑ 19 لاکھ روپے کا سونا، 20 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ہوئے.مسلح ملزمان نے دوسری دکان پر موجود ملازم جمیل سے 40 لاکھ روپے کا سونا بھی چھینا, مسلح ملزمان نے تیسری دکان کے مالک شرجیل سے آئی فون اور چوتھی دکان سے اسلحہ کے زور پر 70 لاکھ روپے کا سونا لوٹا۔واردات کے بعد مسلح ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے فائرنگ بھی کی جس سے دکان کا شیشہ ٹوٹ گیا دکان کا شیشہ ٹوٹنے سے ایک ملزم زخمی بھی ہوا۔

قومی مذاکراتی کمیٹی کا وفد ، کيا اس کميٹی کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے ؟؟تحريک انصاف کے سابق رہنماؤں نے ،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، کی قيادت ميں ، کراچی ميں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصيات اور صحافيوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کيا ہے اس وفد ميں تحريک انصاف کے کئی سابق رہنما جن ميں سابق وفاقی وزراء محمد علی درانی، فواد چوہدری، محمود مولوی، سابق سینیٹرز ڈاکٹر وسیم شہزاد اور بیریسٹر سیف شامل تھے۔ تحريک انصاف کی سابقہ قيادت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قومی حکومت اور قومی مذاکراتی کے ذریعے مسائل کے حل کرے ، جس میں انکی خواہش ہے کہ اسٹبلشمنٹ، حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں بالخصوص سابق وزیراعظم عمران خان اور انکے ساتھیوں کی رہائی کے لئے سنجیدگی سے غور کرے ، واضح رہے کہ سابق وزير اعظم عمران خان اور انکی بہن عليمہ خان ان تمام رہنماؤں کو غدار اور مفاد پرست قرار ديتی ہيں، ابھی اس بات کی وضاحت باقی ہے کہ کراچی ميں ملاقاتيں کرنے والے ان سابقين کو کيا عمران خان کا اعتماد بھی حاصل ہے ،

دھرتی کا نایاب تحفہ ۔اظہر سیددنیا کے عظیم ترین انسان مٹی پیدا کرتی ہے ،جہاں غلیظ ترین انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مٹی کا ہی قصور ہے ۔پاکستان کے آئین اور قانون کے محافظوں پر نظر ڈالیں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتا ہے ۔کوئی آئین کی پہلی عصمت دری کو نظریہ ضرورت کا کفن پہنا کر دفناتا ہے ،کوئی منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ،کوئی غیر آئینی حکمران کو آئین میں ترامیم کا حق دیتا ہے تو کوئی کسی سیاسی پارٹی کی ٹکٹیں فروخت کرتا ہے ۔کوئی سسلین مافیا کا نام لے کر عوام کو کھوتا بناتا ہے تو کوئی مخصوص ججوں کو ساتھ ملا کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کی فائدے پہنچاتا ہے ۔اس مٹی نے ان نایاب ہیروں کے ساتھ ایک ایسا سپوت بھی پیدا کیا ہے

جو سب سے بازی لے گیا ۔ایسا انوکھا کبھی پیدا ہوا نہ ہو گا ۔اس جیسا کوئی بھی نہیں ۔لائین میں لگ کر ایک غیر آئینی حکمران کا حلف لیا اور جب یہ غیر آئینی حکمران بوجھ بنا تو اسی کے ساتھیوں کی ایما پر باغی بن گیا ۔ائین اور قانون کا محافظ بن گیا ۔اس جیسا کبھی کوئی ماں پیدا نہیں کر سکتی ۔اس کے پاس روتے پیٹتے عوام انصاف کیلئے پہنچے ،ہماری عمر بھی کی کمائی ایک نوسر باز نے اپنا گھر “کے خواب دکھا کر لوٹ لی ہے ۔اس نے عوام سے لوٹی ہوئی اربوں روپیہ کی دولت دیکھی تو بے

بس عوام کو انصاف دینے کی بجائے ملزم کے بیٹے کو اپنی بیٹی دے دی ۔انصاف کو تیل لینے بھیج دیا ۔لالچی اور حریص ہمیشہ بہترین داؤ لگاتا تھا ۔جب غیر آئینی حکمران آیا بھاگ کر اس کا حلف لے لیا ۔جب غیر آئینی حکمران کے اپنے ساتھی اسے بوجھ سمجھنے لگے بھاگ کر انکی کشتی میں بیٹھ گیا ۔بیٹی کے اچھے رشتہ کے متلاشی کے پاس جب ایڈن گارڈن اسکینڈل کا کیس آیا تو ملزم کے ساتھ آنے والے اس کے غیر شادی شادی بیٹے کو تاڑ لیا ۔ایک وچولے وکیل کو بیچ میں ڈالا اپنی بیٹی ملزم کے بیٹے سے بیاہ دی ۔اصل ملزم مر گیا ۔عوام سے لوٹے اربوں روپیہ کے اثاثے بیٹے کو منتقل ہو گئے ۔ان اثاثوں سے اب بیٹی کی زندگی تو سنور ہی گئی تھی نواسوں کی نسلیں بھی سنور گئیں ۔ گھر بیٹھ کر کھائیں گی ۔دنیا کی اس بساط پر اس جج ایسے خوش قمار کم ہی ہونگے جو چال بھی چلتے ہیں قیامت کی چلتے ہیں

اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔ دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے،

جب سلیم 10 سال کا تھا۔لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے “جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔” کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔ رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، “سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔”سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، “جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟”

سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔” سلیم نے کہا، “امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔ گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی

— صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔ لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، “سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔”5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔ آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔ سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، “بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔ سلیم کہتا ہے، “نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے

آپ آج ایرانی ملاوں سے درخواست کرکے دیکھ لیجیے کہ جناب کشمیری مسلمانوں کو مودی سرکار کے حکومتی مظالم اور ریاستی جبر کے خلاف آپکے تعاون کی ضرورت ہے انہیں فوراً سے موت پڑجاے گئ۔لگیں گے ادھر ادھر کی ہانکنے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں کے حق میں انڈیا کے خلاف کبھی آپکے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے۔ایران کے ان ملاوں کی عقل کا ذرا اندازہ لگالیں۔ اسرائیل ایران کی جان کے درپے ہے جبکہ مودی اسی اسرائیل کو اپنا باپ کہتا ہے اور یہ ملا اسی مودی کو اب اپنا باپ بنانے پر تلے ہوے ہیں۔حد ہوتی ہے خچرپن کی بھی۔ ہماری حکومت ایران کے ان ملاوں کو امریکی چھترول سے بچانے کیلیے دن رات ایک کیے ہوے ہے۔ اپنی سلامتی تک داو پہ لگاے ہوے ہے جبکہ یہ ملا ہماری ہی نیتوں پر شک کرتے ہیں اور ہمارے ہی وجود کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مفکر کوتلیا چانکیہ کا اپنی کتاب ارتھ شاستر میں فرمانا ہے کہ آپکے دشمن کا دشمن آپکا دوست ہوتا ہے۔

اب اگر انڈیا کے دشمن ہم ہیں اور ایران انڈیا کا دوست ہے تو ہم توایران کے دشمن ہوے نا۔ہماری عوام جن ایرانی ملاوں کے غم میں دن رات گھُلے جا رہی ہے وہی ملا وسطی ایشیائی ریاستوں کے گیٹ وے کی چابیاں اپنی چاہ بہار کی تھالی میں رکھ کر ہمارے ازلی دشمن کو پیش کررہے ہیں۔ہم نے تو بس قسم کھارکھی ہے ہم سدھرنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے دراصل ٹھیکہ لے رکھا ہے ہمیشہ سے تاریخ کے الٹے رُخ کھڑے ہونے کا۔ ہم ایران کی محبت میں ہر روز اپنے اتحادی امریکہ کو مار کر سوتے ہیں اور دوبئی جیسے اپنے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر خوش ہوتے ہیں جبکہ اسی ایران کے ملا ہماری جان کے دشمن انڈیا کو خطہ میں اپنا سب سے بڑا اتحادی قرار دیتے ہیں۔ایرانی ملاوں والی یہ غلطی ہماری پہلی نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک غلطی ہم افغانستان میں بھی دہرا چکے ہیں۔ جن طالبان کو وہاں بٹھا کر ہم امریکی شکست پر بغلیں بجارہے تھے آج وہی طالبان ہمارے وجود کے درپے ہیں۔امریکہ ان ملاوں کا علاج کیے بغیر اس خطہ سے نکل گیا تو یہی ملا آپکے ساتھ وہ کریں گے کہ آپ افغان طالبان کو بھی بھول جائیں گے۔جب انکے میزایلوں اور ڈرونوں کے گولوں کی تپش سعودیہ اور یو اے ای سے ہوتی ہوئی آپ تک پہنچے گی تو تب پتہ لگے گا کہ کس بھاو بکتی ہے۔

ابھی انڈیا نے صرف افغان طالبان کو گود لیا ہے تو آپکے کڑاکے نکل گئے ہیں۔ جب یہی انڈیا ایرانی ملاوں کے منہ میں چوسنی دیگا تو لگ پتہ جایگا۔فاترالعقل دلیل بھی کیسی دیتے ہیں کہ ایران کا حق ہے اپنے مفادات دیکھ کر تعلقات ٹھیک کرنے کا۔تو کیا یہی اصول ہم پر لاگو نہیں ہوتا؟ ایران اپنا مفاد دیکھ کر انڈیا کا جھولی چُک بن سکتا ہے تو اسرائیل نے کونسا ہماری بھینس مار دی ہے جو ہم اس سے بات نہیں کرسکتے؟ایران اور اسرائیل کی یہ کیسی دشمنی ہے کہ دونوں کا مشترکہ دوست انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے؟ کوئی ارسطو دستیاب ہے تو مجھے یہ پہیلی ضرور سمجھا دے۔سہیل بٹ










