خالدہ ضیا کی ڈھاکہ میں تدفین سابقہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور بھارت کی جانب سے
خالدہ ضیا کی ڈھاکہ میں تدفین سابقہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور بھارت کی جانب سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
🚨 سربراہ ن لیگ میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز وطن واپس پہنچ گئےنواز شریف اور مریم نواز اور چند روز قبل بیرون ملک روانہ ہوئے تھے، ذرائعنواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سخت سکیورٹی میں جاتی امراء پہنچے،
🚨 *بھارتی وزیر خارجہ کی ڈھاکا میں سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات، مصافحہ بھی کیا*جے شنکر خود چل کر ایاز صادق کے پاس آئے اور دونوں کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا دونوں رہنما سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کیلئے موجود تھے
…31 دسمبر 2025سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ آمدسپیکر سردار ایاز صادق نے مرحومہ خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان اور بیٹی سے ملاقات کی اور ان کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیادکھ اور رنج کی اس گھڑی میں حکومت پاکستان اور عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ، سپیکر سردار ایاز صادق کی طارق رحمان سے گفتگو مرحومہ خالدہ ضیاء کے بیٹے اور بیٹی نے تعزیت اور نماز جنازہ میں شرکت پر سپیکر سردار ایاز صادق کا شکریہ ادا کیا
سپیکر سردار ایاز صادق نے بنگلہ دیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر خلیل الرحمٰن سے بھی ملاقات کیسپیکر سردار ایاز صادق نے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اظہار ہمدردی و تعزیت کا پیغام پہنچایاسپیکر سردار ایاز صادق کی مشیر قانون بنگلہ دیش آصف نظرل سے بھی ملاقات ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
*پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC): قومی اثاثے سے اسٹریٹجک بوجھ تک اور بحالی کا راستہ*‼️ *تاریخی پس منظر*‼️👈 1947 میں صرف 3 تجارتی جہازوں سے آغاز کرتے ہوئے، پاکستان نے بتدریج اپنی قومی شپنگ فلیٹ کو وسعت دی، جو 1960 کی دہائی تک بڑھ کر 41 جہازوں تک جا پہنچی۔👈 1979 میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن تقریباً 20 جہازوں پر مشتمل فلیٹ آپریٹ کر رہی تھی۔👈 1982 میں کارپوریشن نے اپنی بلند ترین سطح حاصل کی، جب فلیٹ میں 45 جہاز شامل تھے، جن میں آئل ٹینکرز، بلک کیریئرز اور جنرل کارگو جہاز شامل تھے۔👈 اس فلیٹ نے پاکستان کو نہ صرف اہم درآمدات و برآمدات کی ترسیل کے قابل بنایا بلکہ منافع کما کر قومی خزانے میں منافع کی صورت میں بھی حصہ ڈالا۔‼️ *پی این ایس سی کی موجودہ صورتحال*👈آج یہ ترقی تنزلی میں تبدیل ہو چکی تیزی ہے۔ 45 جہازوں سے گھٹ کر PNSC اب صرف 13 جہاز چلا رہی ہے، جن میں سے زیادہ تر پرانے ہیں (تقریباً 50 فیصد فلیٹ کی عمر 20 سال سے زائد ہے)۔👈 اگرچہ کارپوریشن نے مالی سال 2024-25 میں تکنیکی طور پر خالص منافع ظاہر کیا ہے، تاہم یہ اعداد و شمار گہری structural کمزوریوں کو چھپاتے ہیں۔👈 آمدن میں سال بہ سال تقریباً 19 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، مجموعی منافع کی شرح گھٹ کر 29.8 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مالی سال 25/26 کے نتائج کے مطابق خالص منافع میں 34 فیصد کمی ہو کر 3.71 ارب روپے رہ گیا۔👈 اس منافع کا بڑا حصہ اثاثہ جات کی فروخت یا چارٹرنگ سے حاصل ہوا، نہ کہ پائیدار شپنگ آپریشنز سے۔‼️ *مالی کمزور کارکردگی کی وجوہات*
‼️بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور مفاداتی عناصر کے علاوہ، نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں:👈 جہاز عالمی معیار کے مطابق ڈیڈ ویٹ ٹنّیج میں پیچھے رہ گئے، خاص طور پر ڈرائی بلک اور کنٹینر سیگمنٹس میں، جس سے مسابقت اور آمدنی کی صلاحیت محدود ہوئی۔👈 ماضی میں چارٹرنگ فیصلے منافع کے درست تخمینے کے بغیر کیے گئے، جس کے نتیجے میں نقصانات اور اثاثوں کا غیر مؤثر استعمال ہوا۔👈 ملکی شپنگ پاکستان کی مجموعی تجارت کاایک محدود حصہ سنبھالتی ہے، جبکہ زیادہ تر کارگو غیر ملکی جہاز بردار کمپنیاں منتقل کرتی ہیں۔👈 شپنگ کارپوریشن صرف تقریباً 11 فیصد کارگو حجم اور 4 فیصد قدر کے لحاظ سے ہینڈل کرتی ہے۔👈 90 فیصد کارگو غیر ملکی کیریئرز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔👈 فلیٹ کے محدود حجم اور گنجائش کی وجہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے سے قاصر ہے۔👈 زیادہ مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات اور غیر فعال دن (Idle Days) کارکردگی اور منافع کو متاثر کرتے ہیں۔‼️ *نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زوال کے وسیع تر معاشی اثرات*‼️👈 غیر ملکی شپنگ پر انحصار کے باعث پاکستان کو سالانہ 4 سے 8 ارب امریکی ڈالر کا زرِمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔👈 اہم درآمدات پر قومی کنٹرول کی کمی پاکستان کی اسٹریٹجک کمزوری میں اضافہ کرتی ہے۔👈 فلیٹ کی محدود سرگرمی سے سی فیررز، میری ٹائم انجینئرز اور لاجسٹکس پروفیشنلز کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔👈 میری ٹائم ایکو سسٹمجس میں شپ ریپیئر، تربیت، انشورنس اور بندرگاہوں سے منسلک خدمات شامل ہیں، ترقی نہیں کر سکا۔👈 زیادہ فریٹ لاگت عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت کو کمزور کرتی ہے۔‼️ *علاقائی و بین الاقوامی موازنہ*‼️👈 انڈیا کی شپنگ کارپوریشن (SCI) کے پاس 57 سے 64 جہاز ہیں، جو PNSC کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور عالمی سطح پر مربوط فلیٹ ہے۔👈
سری لنکا کے تقریباً 95 جہاز رجسٹرڈ ہیں۔👈 1960 کی دہائی میں جنوبی کوریا کے پاس صرف 10 سے 15 جہاز تھے، جو پاکستان سے کہیں کم تھے۔ 1990 کی دہائی تک جنوبی کوریا کے رجسٹرڈ جہازوں کی تعداد 461 ہو گئی، جبکہ آج اس کا فلیٹ 2,100 سے زائد جہازوں پر مشتمل ہے۔👈 انڈونیشیا، جس کا 1990 کی دہائی میں ایک محدود بین الاقوامی فلیٹ تھا، آج 11,400 سے زائد رجسٹرڈ جہازوں کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا شپنگ فلیٹ رکھتا ہے۔‼️ *اصلاحی اقدام: PNSC کی مینجمنٹ NLC کو سونپنے کا منصوبہ*
‼️👈 درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC) کو، جو اپنی مؤثر مینجمنٹ اور اسٹریٹجک وژن کے لیے جانا جاتا ہے، PNSC کی مینجمنٹ سنبھالنے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔👈 اس انتظام کے تحت NLC، PNSC کو پیشہ ورانہ نظم و نسق اور آپریشنل کارکردگی کی جانب لے جائے گا۔👈 ری اسٹرکچرنگ کے حصے کے طور پر کے 30 فیصد حصص کی مارکیٹ ویلیو پر جانچ کی جائے گی، جبکہ NLC ضروری سرمایہ پیدا کر کے فلیٹ کی مضبوطی اور توسیع میں سرمایہ کاری کرے گا۔‼️ *این ایل سی اور پی این ایس سی کے انضمام سے ممکنہ فوائد*‼️👈 مالی بنیاد مضبوط ہو گی، سرمایہ کاری آئے گی اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو میری ٹائم آپریشنز سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔👈 وسیع تر شیئر ہولڈنگ کے ذریعے زیادہ فنڈنگ دستیاب ہو گی، جس سے فلیٹ کی تجدید اور اثاثوں کے بہتر استعمال میں تیزی آئے گی۔👈 زمینی اور بحری لاجسٹکس کے انضمام سے ٹرانزٹ ٹائم اور غیر فعال دنوں میں کمی آئے گی، جس سے منافع میں اضافہ ہو گا۔👈 بہتر آپریشنل کارکردگی کے نتیجے میں زیادہ ڈیوڈنڈ اور کارپوریٹ ٹیکس کی صورت میں قومی خزانے کو فائدہ ہو گا۔
*ٹریفک قوانین کی مہلت ختم ہو چکی، آج سے دوبارہ کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔* ۔ لائسنس، ہیلمنٹ، منظور شدہ نمبر پلیٹ اور سائیڈ شیشہ نہ ہونے پر بھاری جرمانے کے ساتھ ایف آئی آرز بھی درج ہوں گی۔ موٹر سائیکل پر ٹرپل سواری پر پابندی، 2000 روپے جرمانہ ہوگا۔
‼️ *وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جاہلیت — نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر قانونی کاروباروں کو قائداعظم کے کھاتے میں ڈال دیا**کیا واقعی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فاٹا کے علاقوں کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے 100 سالہ استثنیٰ دیا تھا؟*نہیں ایسا کچھ نہیں تھا 29 دسمبر 2025 کو لاہور میں سینئر صحافیوں اور کالم نویسوں کی سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعدد اہم سوالات کیے گئے۔ملاقات کے دوران صحافی منصور علی خان کے نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں سے متعلق سوال کے جواب میں *سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اجازت قائداعظم نے دی تھی، اور یہ کہ قائداعظم نے تمام قبائلی اضلاع کو سو سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دے دیا تھا۔*📍*آئیے دیکھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے اس بیان میں کتنی حقیقت ہے*آزادی کے وقت بعض قبائلی اور سرحدی علاقے ٹیکس سے مستثنیٰ تھے۔ یہ استثنا برصغیر کے نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے اور قبائلی معاہدوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ قائداعظم نے ان علاقوں کے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عبوری طور پر اپنے موجودہ نظام کے تحت رہیں گے۔*تاہم یہ بھی طے تھا کہ مستقبل میں ریاست قانون سازی یا آئینی ترامیم کے ذریعے ان علاقوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم و نسق میں شامل کرے گی۔*مالاکنڈ ڈویژن میں سوات، بونیر، شانگلہ، لوئر دیر، اپر دیر، چترال (اپر و لوئر)، مالاکنڈ اور کوہستان کے بعض حصے،
جبکہ سابقہ فاٹا میں خیبر، مہمند، باجوڑ، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وہ علاقے تھے جنہیں آزادی کے وقت وقتی رعایت دی گئی تھی۔*اہم نکتہ یہ ہے کہ قائداعظم کی جانب سے کسی مخصوص مدت، خصوصاً سو سال*، کا کہیں کوئی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ٹیکس چھوٹ نہ تو مستقل تھی اور نہ ہی غیر مشروط۔ *اس کا انحصار ہمیشہ ریاست کی صوابدید، قانون سازی اور آئینی ترامیم پر رہا۔**یہ نظام محض اس لیے جاری رہا کہ طویل عرصے تک قانون سازی نہیں کی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ انتظامی مشکلات اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کے باعث ریاست نے ان علاقوں کو مکمل ریاستی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا*۔ *اس فیصلے پر صوبائی حکومت، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے
۔*بالآخر *25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل 247 ختم ہوا، جس کے تحت یہ علاقے وفاقی اور صوبائی قوانین، بشمول ٹیکس قوانین، سے مستثنیٰ تھے۔*آرٹیکل 247 کے خاتمے کے بعد عام ٹیکس قوانین خود بخود ان علاقوں پر لاگو ہو گئے، اگرچہ اس کے باوجود وفاقی حکومت نے عبوری بنیادوں پر مزید رعایتیں بھی فراہم کی جہاں تک نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا تعلق ہے، تو 2024 کے آخر میں جب خیبر پختونخوا میں موجود دو لاکھ سے زائد NCP گاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو اسمگلنگ، منشیات اور دہشت گردی سے جڑے بااثر گروہ فوراً متحرک ہو گئے۔ان گروہوں کے مفادات براہِ راست اس غیر قانونی معیشت سے وابستہ ہیں۔نیشنل ایکشن پلان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی ایک کلیدی نکتہ ہے، کیونکہ یہ گاڑیاں محض مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ دہشت گردی، منشیات اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور سرحد پار جرائم کے نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ اور ناقابلِ سراغ سہولت فراہم کرتی ہیں۔چونکہ ان گاڑیوں کا کوئی باضابطہ ریکارڈ، رجسٹریشن یا ٹریکنگ سسٹم موجود نہیں ہوتا، اس لیے یہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے ایک مثالی ذریعہ بن چکی ہیں۔نیشنل ایکشن پلان اسی لیے NCP گاڑیوں کے مکمل خاتمے کو انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کا لازمی جزو قرار دیتا ہے، تاکہ دہشت گردی، جرائم اور اسمگلنگ کے باہم جڑے نیٹ ورکس کی لاجسٹک بنیاد کو ختم کیا جا سکے۔*حقیقت یہ ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سیاسی سرپرستی میں چلنے والے ایک وسیع “ٹیرر–کرائم–اسمگلنگ نیٹ ورک” کا حصہ ہیں*—ایسا نیٹ ورک جو نہ صرف مقامی معیشت کو یرغمال بنائے ہوئے ہے بلکہ ریاستی رٹ کو بھی کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔24 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے انکشافات نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی۔
*اسی پس منظر میں سہیل آفریدی کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے جواز تراشنا محض لاعلمی نہیں بلکہ ایک خطرناک اور غیر منطقی سیاسی بیانیہ ہے۔**مسئلہ وسائل کا نہیں، مسئلہ ترجیحات، نااہلی اور غیر قانونی سیاسی مفادات کا ہے—اور یہی عناصر خیبر پختونخوا کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔*
حکومت پنجاب کا بہت ہی بڑا فیصلہ۔ پٹواریوں سے بڑے بڑے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ پٹواری سے بیع کی فرد۔انتقال کا اختیار بورڈ آف ریونیو نے واپس لے لیا اب پٹواری کے پاس صرف ریکوری گرداوری اور عدالت میں ریکارڈ فراہم کرنا باقی رہ گیا ۔نئے طریقہ کار کے تحت سائل اراضی ریکارڈ سنٹر یا ای سہولت مرکز سے فرد بیع وصول کرے گا بعد ازاں اشٹام فروش سے باقاعدہ رجسٹری تحریر کروائے گا اور تحصیلدار کے پاس سائل اپنی تمام تر دستاویزات پیش کرے گا اور تحصیلدار ایک دن کے اندر اس رجسٹری کو پاس کرے گا گواہان کی ضرورت نہ ہے 🤲🏻🤲🏻🤲🏻
‼️ *Saudi UAE Issue*‼️Request analytical commentary may please be avoided in tomorrow’s edition being an inter state relations issue. It may only be reported as a news item with no OpEds or analytics in news stories. BAADBAN TV ALERT
*بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء انتقال کرگئیں۔ خالدہ ضیاء بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں*خالدہ ضیاء کی عمر 80 برس تھی، وہ کئی امراض میں مبتلا تھیں۔ بنگلادیش نیشنل پارٹی کے مطابق انتقال دارالحکومت ڈھاکا کے اسپتال میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ہوا۔خالدہ ضیاء بنگلادیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں۔ وہ طویل عرصے سے کئی بیماریوں کا شکار تھیں۔پیر کی شب ان کی طبیعت انتہائی نازک ہوگئی تھی اور ڈاکٹروں کے مطابق انہیں لائف سپورٹ دی جارہی تھی مگر عمر اور خراب صحت کے سبب کئی بیماریوں کا ایک ساتھ علاج ممکن نہ تھا۔بنگلادیش نیشنل پارٹی کی لیڈر خالدہ ضیاء نے انیس سو اکانوے میں وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی۔ وہ سن دو ہزار ایک میں ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئیں تاہم اکتوبر سن دو ہزار چھ میں عام انتخابات کے لیے اقتدار سے الگ ہوگئی تھیں۔ سیاسی کیریئر کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات لگے۔انہیں سن دوہزار اٹھارہ میں پانچ برس کیلیے جیل بھی کاٹنا پڑی تھی۔ عوامی لیگ کی لیڈر شیخ حسینہ واجد سے ان کی طویل سیاسی رقابت بھی رہی۔ بالآخر شیخ حسینہ واجد کو پچھلے سال حکومت چھوڑنا پڑگئی تھی۔ یاد رہے کہ خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان 17 برس کی جلاوطنی گزارنے کے بعد چند روز قبل بنگلا دیش پہنچے ہیں۔
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ سفیان مقیم نے اپنے پہلے میچ میں شاندار بولنگ 4 اوورز میں صرف 12 رنز دے کر 1 اہم وکٹیں حاصل کی۔💚🔥بی پی ایل ڈیبیو پر سفیان مقیم کی شاندار اور پاگل کر دینے والی اسپیل 🤯پہلا اوور: 1، 1، 1، 0، 1، 0دوسرا اوور: 1، 0، 0، 0، 0، 1تیسرا اوور: 0، 1، 0، 0، 0، 1چوتھا اوور: 0، 0، وکٹ، 2، 0، 1سری لنکا کے دورے کے لیے منتخب نہ ہونے کے بعد سفیان مقیم کی جانب سے یہ ایک مضبوط پیغام ہے۔🇵🇰💚🔥….
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نوازشریف کے ویژن اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کاوشوں سے زرعی انقلاب برپاپنجاب کاشتکار پہلی مرتبہ مڈل مین/آرھتی کے معاشی چنگل سے آزادملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 8 لاکھ سے زائد کاشتکاروں نے کسان کارڈ حاصل کرلیےایک سال میں کاشتکاروں کو 250 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا ناقابل تردید ریکارڈپنجاب بھر میں چھوٹا کاشتکار وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی بے مثال کسان کارڈ سکیم سے مستفیدکاشتکاروں نے آڑھتی کی بجائے کسان کارڈ کے ذریعے ، کھاد ، بیچ اور پیسٹی سائیڈ خریدنے کو ترجیح دیپنجاب میں کسان کارڈ سکیم کے لئے سینکڑوں ڈیلر رجسٹرڈ ، کاروبار میں بے مثال ترقی20 فیصد کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے ڈیزل خریدا، ادھار اور سود سے بچ گئےپنجاب کا کاشتکار پورے ملک کا محسن ہے، محنت کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ مریم نواز شریفکاشتکاربھائیوں کیلئے تمام وسائل حاضر ہیں، زرعی ترقی کو انتہا پر لیکرجانا چاہتے ہیں۔ مریم نواز شریفپنجاب کے کاشتکار کو خوشحال دیکھنا میرا خواب ہے۔ مریم نواز شریف
ذیل میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں پاک فوج کے کردار پر ایک تفصیلی، تاریخی اور تجزیاتی مضمون اردو میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں بالخصوص UNMIL (لائبیریا) میں پاکستان کے اوّلین مشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، نیز صومالیہ اور دیگر مشنز کا بھی جامع ذکر شامل ہے۔—اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاک فوجعالمی امن کی خاموش مگر مؤثر محافظپاکستان آرمی دنیا کی اُن افواج میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت امن کے قیام، انسانی تحفظ اور ریاستی بحالی میں مسلسل اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے چند ہی برس بعد پاک فوج نے عالمی سطح پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد قوت ہے۔آج پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت سب سے زیادہ امن دستے فراہم کیے، اور ہزاروں پاکستانی فوجیوں نے مختلف براعظموں میں امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔—اقوامِ متحدہ کے امن مشنز: ایک تعارفاقوامِ متحدہ کے امن مشنز کا مقصد ہوتا ہے:جنگ بندی کی نگرانیخانہ جنگی کے بعد امن کی بحالیشہری آبادی کا تحفظریاستی اداروں کی تعمیرِ نوانسانی امداد کی فراہمییہ مشنز فوجی، پولیس اور سول ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں فوجی کردار سب سے حساس اور خطرناک ہوتا ہے۔—پاک فوج اور یو این مشنز: تاریخی پس منظرپاکستان نے پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شرکت کی۔ اس کے بعد سے:افریقہمشرقِ وسطیٰیورپایشیاکے درجنوں ممالک میں پاک فوج نے خدمات انجام دیں۔اہم مشنز میں شامل ہیں:کانگوصومالیہبوسنیاسیرالیونلائبیریا (UNMIL)دارفورہیٹی—صومالیہ میں پاک فوج کا کردار (UNOSOM)پس منظر1990 کی دہائی میں صومالیہ شدید خانہ جنگی، قحط اور ریاستی انہدام کا شکار تھا۔ اقوامِ متحدہ نے UNOSOM کے نام سے امن مشن شروع کیا۔پاک فوج کی خدماتپاک فوج نے صومالیہ میں:امن و امان کی بحالیخوراک کی تقسیم کا تحفظشہری علاقوں کی سیکیورٹیاقوامِ متحدہ کے عملے کا دفاعجیسے انتہائی مشکل فرائض انجام دیے۔قربانیاںصومالیہ میں پاک فوج کو:شدید مزاحمتشہری علاقوں میں جھڑپیںخودکش اور مسلح حملےکا سامنا کرنا پڑا، جن میں کئی پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ یہ قربانیاں آج بھی اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں عزت و احترام سے یاد کی جاتی ہیں۔—UNMIL: لائبیریا میں پاکستان آرمی کا پہلا مشن (خصوصی جائزہ)پس منظرافریقی ملک لائبیریا طویل خانہ جنگی کے بعد مکمل تباہی کا شکار تھا۔ 2003ء میں اقوامِ متحدہ نے UNMIL (United Nations Mission in Liberia) کے نام سے امن مشن قائم کیا۔یہ مشن پاک فوج کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ:پاکستان نے یہاں بڑی تعداد میں فوجی دستے تعینات کیےیہ پاک فوج کے جدید امن مشنز میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہواپاکستان کا پہلا دستہUNMIL میں پاک فوج کے پہلے دستے نے:دارالحکومت مونروویاحساس سرحدی علاقوںسابق جنگجوؤں کے مراکزمیں ذمہ داریاں سنبھالیں۔یہ پہلا موقع تھا کہ:پاک فوج نے ریاستی بحالی (State Reconstruction) میں مرکزی کردار ادا کیاصرف سیکیورٹی نہیں بلکہ ادارہ جاتی امن پر توجہ دی گئیفرائض اور کامیابیاںپاک فوج نے UNMIL میں:سابق جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے (DDR) میں مددپولیس اور سول اداروں کو تحفظشہریوں کے اعتماد کی بحالیانتخابات کے دوران امنکو یقینی بنایا۔لائبیریا کی عوام میں پاکستانی فوجیوں کی:نظم و ضبطشائستگیانسانی ہمدردیکو بے حد سراہا گیا۔—پاک فوج کی خصوصیات جو اسے ممتاز بناتی ہیںاقوامِ متحدہ کے مشنز میں پاک فوج کو ممتاز بنانے والی خصوصیات:مشکل حالات میں نظم و ضبطمختلف ثقافتوں سے ہم آہنگیشہریوں کے ساتھ نرم رویہپیشہ ورانہ تربیتقربانی کا جذبہیہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اکثر اہم اور حساس علاقوں میں پاکستانی دستے تعینات کرتی ہے۔—شہداء اور قربانیاںاقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں:180 سے زائد پاکستانی فوجی شہید ہو چکے ہیںیہ قربانیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ:> پاکستان صرف امن کی بات نہیں کرتا،امن کے لیے قربانی بھی دیتا ہے۔—عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھپاک فوج کی ان خدمات کے باعث:پاکستان کو ایک امن دوست ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیااقوامِ متحدہ میں پاکستان کی عسکری ساکھ مضبوط ہوئیترقی پذیر ممالک میں پاکستان کے لیے احترام بڑھا—اختتامیہاقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاک فوج کی شرکت محض ایک عسکری ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی خدمت، عالمی ذمہ داری اور اخلاقی عزم کی علامت ہے۔ صومالیہ کے میدان ہوں یا لائبیریا کے جنگ زدہ شہر، پاکستانی سپاہی نے ہر جگہ یہ ثابت کیا کہ وہ بندوق کے ساتھ دل بھی رکھتا ہے۔خصوصاً UNMIL میں پہلا مشن پاک فوج کی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف جنگ لڑنا جانتا ہے بلکہ امن قائم کرنا بھی جانتا ہے۔
پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 پہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی جاری کرنے کے بعد پنجاب حکومت نے صوبہ کے تمام اضلاع میں ریٹائرڈ سیشن ججز پہ مشتمل ٹربیونلز قائم کرنے اور متعلقہ اضلاع میں پبلک پراسیکیوٹرز کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عدالت میں آئین اور قانون کے تحت معاملہ کو سلجھانے کی بجائے سیاسی اور سوشل میڈیا پہ ٹرول کر کے مزید الجھا دیا ہے۔بطور قانون کے طالب علم میں سمجھتا ہوں نئے ٹربیونلز خصوصی عدالتیں یا کوئی بھی اضافی نیم عدالتی نظام کا قیام نہ صرف عدلیہ کو مزید کمزور کرتا ہے بلکہ ملک میں نظام انصاف پہ ایک اور بدنما دھبہ بن جاتا ہے ۔میری رائے میں مکمل عدالتی نظام کے ماتحت ججز کی تعداد میں اضافہ اور بائی بک قانون پہ عمل اس میں درج مدت کے اندر فیصلہ اور ججز کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ضروری ہے ۔عدالتی نظام کا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے نہ ہی انتظامیہ کے ماتحت عدلیہ انصاف دے سکتی ہے ۔۔۔
ذیل میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں پاک فوج کے کردار پر ایک تفصیلی، تاریخی اور تجزیاتی مضمون اردو میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں بالخصوص UNMIL (لائبیریا) میں پاکستان کے اوّلین مشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، نیز صومالیہ اور دیگر مشنز کا بھی جامع ذکر شامل ہے۔—اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاک فوجعالمی امن کی خاموش مگر مؤثر محافظپاکستان آرمی دنیا کی اُن افواج میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت امن کے قیام، انسانی تحفظ اور ریاستی بحالی میں مسلسل اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے چند ہی برس بعد پاک فوج نے عالمی سطح پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد قوت ہے۔آج پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت سب سے زیادہ امن دستے فراہم کیے، اور ہزاروں پاکستانی فوجیوں نے مختلف براعظموں میں امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔— —
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے چیف ویپ حزب اختلاف ملک عامر ڈوگر کو خط ارسال، ترجمان قومی اسمبلیسابق قائدِ حزبِ اختلاف سے متعلق عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی معلومات کے لیے ملک عامر ڈوگر کو چوتھی مرتبہ خط ارسال، ترجمان قومی اسمبلیاس سے قبل خطوط 19 نومبر، 5 دسمبر اور 19 دسمبر 2025ء کو بھی ارسال کیے گئے ہیں، ترجمان قومی اسمبلیخط میں سابق قائد اختلاف سے متعلق عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کی موجودہ صورتحال سے آگاہی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلیقائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے لیے مطلوبہ معلومات آئینی و قانونی طور پر ضروری ہیں، ترجمان قومی اسمبلیبعض مقدمات میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے، ترجمان قومی اسمبلیمطلوبہ معلومات موصول ہونے کے بعد ہی قائدِ حزبِ اختلاف کے تقرر کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے، ترجمان قومی
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل دائرسابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ ان کے وکیل میاں علی اشفاق کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف قانونی اپیل متعلقہ فورم میں جمع کرا دی گئی ہے۔فیض حمید کو 11 دسمبر کو چار الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ سخت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر سرکاری راز افشا کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزا کے بعد 40 دن کے اندر اپیل کی جاتی ہے، جس پر حتمی اختیار آرمی چیف کو حاصل ہوتا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ دورہ لاہور کے دوران سزا یافتہ افراد پنجاب اسمبلی آئے۔پریس کانفرنس کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے ساتھ آنے والے لوگ پہلے بھی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں ملوث رہے اور ایسےلوگوں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے پنجاب اسمبلی لایا گیا۔اسپیکر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی اعلیٰ سطح انکوائری کرائی گئی ہے اور رپورٹ کارروائی کیلئے جلد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجیں گے۔ملک احمد خان نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس مائنڈ سیٹ کے پیچھے کون ہے ؟ ، جس مائنڈ سیٹ کو مقدس مقامات کا احترام نہیں وہ اسمبلی کا کیا احترام کرے گا، وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی رولز کے مطابق چلائی جاتی ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے رہنے چاہئیں، سیاسی جماعتیں وفاق کو مضبوط کرتی ہیں، اسمبلی میں آنے کیلئے اجازت نامہ کی ضرورت ہوتی ہے، سیکیورٹی کے معاملہ کو کسی صورتحال میں نظر انداز نہیں کیا
*پنجاب میں چار سال بعد آٹھویں جماعت کے سالانہ بورڈ امتحانات مارچ 2026 میں منعقد ہوں گے۔*صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خان کے مطابق پیکٹا کی جانب سے سالانہ بورڈ امتحانات کا شیڈول تیار کر لیا گیا ہے ، جس کے تحت امتحانات 5 مارچ 2026 سے شروع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پیکٹا نے امتحانات کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے اور پنجاب بھر میں آٹھویں جماعت کے امتحانات ایک ہی پیٹرن کے تحت منعقد کیے جائیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نوازشریف کے ویژن اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کاوشوں سے زرعی انقلاب برپا پنجاب کاشتکار پہلی مرتبہ مڈل مین/آرھتی کے معاشی چنگل سے آزادملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 8 لاکھ سے زائد کاشتکاروں نے کسان کارڈ حاصل کرلیےایک سال میں کاشتکاروں کو 250 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا ناقابل تردید ریکارڈپنجاب بھر میں چھوٹا کاشتکار وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی بے مثال کسان کارڈ سکیم سے مستفیدکاشتکاروں نے آڑھتی کی بجائے کسان کارڈ کے ذریعے ، کھاد ، بیچ اور پیسٹی سائیڈ خریدنے کو ترجیح دیپنجاب میں کسان کارڈ سکیم کے لئے سینکڑوں ڈیلر رجسٹرڈ ، کاروبار میں بے مثال ترقی20 فیصد کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے ڈیزل خریدا، ادھار اور سود سے بچ گئےپنجاب کا کاشتکار پورے ملک کا محسن ہے، محنت کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ مریم نواز شریفکاشتکاربھائیوں کیلئے تمام وسائل حاضر ہیں، زرعی ترقی کو انتہا پر لیکرجانا چاہتے ہیں۔ مریم نواز شریفپنجاب کے کاشتکار کو خوشحال دیکھنا میرا خواب ہے۔ مریم نواز شریف
سنا ہے کہ ایک شہرت کے بھوکے شخص کو جب کافی عرصے تک کامیابی نہ ملی تو ایک دانا کے مشورے پر اس نے صبح سویرے مسجد میں رفعِ حاجت کر دی۔اس کے بعد ہر بچے اور بوڑھے کو اس کی شکل یاد ہو گئی۔گزشتہ پندرہ برسوں سے عمران نیازی اور اس کے پیروکاروں کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ وہ ہر وقت میڈیا میں رہنا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے کوئی گندگی ہی کیوں نہ کرنی پڑے، تاکہ زومبیز انہیں کہیں بھول نہ جائیں۔گنڈاپور کو ہٹانے کا مقصد بھی یہی تھا، کیونکہ اس کے بندر ناچ سے زومبیز مایوس ہو چکے تھے۔ سہیل آفریدی کو لانے کا مقصد ان میں نئی روح پھونکنا تھا، لیکن یہ نمونہ نیازی کو کیا رہا کروائے گا جو ابھی تک اس سے ملاقات تک نہ کر سکا۔جب دو ماہ تک اڈیالہ کی سڑکوں پر مٹرگشت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو وہ لاہور کی طرف چل پڑا۔ لاہور کے تین چار روزہ دورے میں ہر قدم پر گندگی کرنے کا مقصد صرف میڈیا میں خبروں کی زینت بننا تھا، اس کے سوا کچھ نہیں۔مریم نواز کو ٹک ٹاکر کے طعنے دینے والے زومبیز اپنے اس بیہودہ وزیراعلیٰ کے بارے میں کیا کہیں گے، جو سارا دن کسی نادیدہ پنڈو کی طرح لاہور کی سڑکوں پر تصویریں کھنچوا رہا ہے اور ویڈیوز بنوا رہا ہے؟خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ حال ہیں۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت چندے سے ٹوٹی سڑکیں اور پل تعمیر کر رہے ہیں۔ پچاس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ خواتین کی شرحِ خواندگی سب سے کم ہے۔میرے ایک دوست کے ہائر سیکنڈری اسکول کی حالت یہ ہے کہ ایک ایک کلاس میں دو دو ہزار بچے ہیں، اور پرنسپل صاحب خود اقرار کرتے ہیں کہ اکثر بجلی کا بل میں اپنی تنخواہ سے ادا کرتا ہوں۔صوبے کے دارالحکومت پشاور میں ہر طرف گندگی کے ڈھیر اور ٹوٹی سڑکیں ہیں۔
سب سے بڑے ہسپتال، لیڈی ریڈنگ ہسپتال، میں مریضوں کے لیے بیڈ دستیاب نہیں۔ لیکن جب اس ٹک ٹاکر ذہنی مریض وزیراعلیٰ سے کوئی صحافی صوبے کے ان مسائل کے بارے میں پوچھتا ہے تو اس کا جواب ہوتا ہے:“یہ واٹس ایپ سوال ہے ، عوام کو عمران کی رہائی کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ ”پنجاب اور لاہور کی ترقی کے سوال پر یہ صاحب بڑی بےشرمی سے کہتے ہیں:“میں مانتا ہوں کہ لاہور ترقی یافتہ ہے، سڑکیں اچھی ہیں، کام اچھا ہوا ہے، مگر ترقی سے قومیں نہیں بنتیں۔ یہ میرے لیڈر کا فرمان ہے۔ عمران نے لوگوں کو شعور دیا ہے۔”یہ کیسا شعور ہے جس میں انہیں ترقی تباہ حالی میں نظر آتی ہے، اور خوشحالی بربادی دکھائی دیتی ہے؟لکھ دی لعنت ایسے شعور پر۔خیبر پختونخوا کے شہریوں کو عمران نیازی نامی سزا یافتہ چور کی رہائی سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کو تعلیم، روزگار اور بہترین انفراسٹرکچر چاہیے۔لگتا ہے آئین میں ترمیم کر کے خیبر پختونخوا کے لیے دو وزرائے اعلیٰ کے عہدے متعارف کروانا پڑیں گے:ایک وزیراعلیٰ جو صوبے کے عوام کے مسائل حل کرے، اور دوسرا وہ جو گھڑی چور کی رہائی کے لیے پنجاب میں مٹرگشت کرتا پھرے۔فی الحال اس کام کے لیے یہ والا موزوں ہے، کیونکہ جو کام ن لیگ کے ویلاگرز نہیں کر سکے، وہ اکیلا سہیل آفریدی کر رہا ہے اور یوتھیوں کو پنجاب کی ترقی دکھا رہا ہے۔😭😭😭😭😭
سیکورٹی فورسز کا باجوڑ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن، 5 خوارج جہنم واصل، آئی ایس پی آردہشتگردوں سے لڑتے ہوئے میجر عدیل زمان جام شہادت نوش کرگئے، آئی ایس پی آر
مری میں 31 دسمبر سے یکم جنوری تک دفعہ 144 نافذ کردی گئیمری کے مال روڈ، جی پی او چوک پر نیو ائیر نائٹ کے دوران صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگیبغیر آنے والے افراد مری کے گردونواح میں رہیں گے
*پشاور: پولیس مقابلے میں انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے 5 کارندے سرغنہ سمیت ہلاک*پشاور میں پولیس مقابلے کے دوران انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے سرغنہ سمیت 5 کارندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ ٹارگٹ کلرز گینگ پولیس پر حملےکی منصوبہ بندی کر رہا تھا، ہلاک ملزمان پہلے بھی 2 پولیس اہلکاروں کو شہید کر چکے تھے۔انہوں نے بتایا کہ گینگ سرغنہ نجمل الحسن نے ویڈیو بیان میں پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنےکا اعتراف بھی کیا تھا، ٹارگٹ کلرز گینگ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل میں 30 وارداتوں میں ملوث تھا۔سی سی پی او پشاور کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلرز پشاور میں 12 اور نوشہرہ میں17 افراد کے قتل میں ملوث تھے، ہلاک ٹارگٹ کلرز نے چارسدہ اور درہ آدم خیل میں بھی ایک، ایک شخص کو قتل کیا تھا۔میاں سعید نے بتایا کہ گینگ نے اے این پی رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا تھا، ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو بھی فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا۔
*رواں سال سعودی عرب، دیئی سمیت دیگر خلیجی ممالک سے 20 ہزار 272 پاکستانی ڈی پورٹ کیے گئے، رپورٹ*رواں برس سعودی عرب، دبئی اور دیگر خلیجی ممالک سے 20 ہزار 272 پاکستانی ڈی پورٹ کیے گئے۔ نیوز کے مطابق اس حوالے سے انسانی اسمگلنگ سرکل میں صرف 474 مقدمات درج ہوئے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے مطابق ڈی پورٹ افراد میں زیادہ تر خلیجی ممالک میں بھیک مانگنے کے دھندے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی پورٹیشن دیگر وجوہات کی بناء پر بھی ہوتی ہیں جن میں جعلی سفری دستاویزات پر دوسرے ملک پہنچنا، اوور اسٹے اور چند کیسز میں غیر ملکی امیگریشن آفیسر کا اینٹری دینے سے انکار ہوتا ہے۔
قبضہ مافیا کے لئے بری خبرپنجاب حکومت نے پنجاب میں پراپرٹی کے تنازعات اور قبضوں کے مسائل کے حل کیلئے ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں خصوصی ٹربیونل قائم کردیے جج صاحبان کے ناموں کی فہرست جاری کردی گئییہ ٹربیونل پنجاب حکومت کے نئے پراپرٹی ایکٹ کے تحت مقدمات کی تیز ترین سماعت کرکے 90 روز میں فیصلے کے پابند ہوں گےہر ضلع کے ٹربیونل میں رجسٹرار بھی تعینات کردیے گئے ہیںعدالت کو مطمئن کردیا جائے گا اور پھر قبضہ مافیا کا مکو ٹھپ دیا جائے گالاہور سے بہت اچھی خبر،قبضہ مافیا کے لئے بری خبرپنجاب حکومت نے پنجاب میں پراپرٹی کے تنازعات اور قبضوں کے مسائل کے حل کیلئے ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں خصوصی ٹربیونل قائم کردیے جج صاحبان کے ناموں کی فہرست جاری کردی گئییہ ٹربیونل پنجاب حکومت کے نئے پراپرٹی ایکٹ کے تحت مقدمات کی تیز ترین سماعت کرکے 90 روز میں فیصلے کے پابند ہوں گےہر ضلع کے ٹربیونل میں رجسٹرار بھی تعینات کردیے گئے ہیںعدالت کو مطمئن کردیا جائے گا اور پھر قبضہ مافیا کا مکو ٹھپ دیا جائے گا
وزارت داخلہ کی سفارش پر ، مفرور عادل فاروق راجہ کو کالعدم قرار دینے کی منظوری ۔ عادل فاروق راجہ کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل۔۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی ۔ عادل راجہ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد ۔ کابینہ کی متعلقہ ڈویژن اور اداروں کو فوری کاروائی کی ہدایت ۔ کابینہ ڈویژن کا وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو مراسلہ
پاک بھارت تعلقات ۔اظہر سید جنوبی ایشیا کا امن ،خوشحالی اور ترقی پاک بھارت دوستی میں چھپی ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات بھارت کو اندرونی مسائل سے نجات دلائیں گے پاکستان کی جان بھی بلوچ عسکریت پسندی،خارجیوں کی دہشت گردی ،پی ٹی آئی سائبر سیلوں سے چھوٹ جائے گی ۔افغان ملڑا اپنی اوقات میں اجائے گا۔دونوں ملک دفاعی اخراجات کا رخ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں اضافہ کی طرف منتقل کر دیں گے ۔کارگل وار سے پہلے تک یہ ممکن تھا اب ممکن نہیں رہا۔پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستی کے راستے میں غداری کی دیواریں کھڑی کیں ۔مالکوں کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ بھارت کی طرف قدم بڑھائے تو “ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا”بھارت اور پاکستان میں اس وقت کوئی ایسی بڑی شخصیت موجود نہیں جو دونوں ملکوں کو قریب لا سکے ۔پاکستان میں اگر صدر زرداری اور میاں نواز شریف کو مالکوں کا مکمل مینڈیٹ مل جائے بھارتیوں نے پاکستان نفرت کا اتنا بڑا انفراسٹرکچر کھڑا کر لیا ہے گویا پاکستان کی ماضی کی اسٹیبلشمنٹ ہے جو پاک بھارت دوستی کی کسی بھی کوشش کو ناکام کرنے کیلئے کوئی کارگل برپا کر دے گی ۔بھارت ماضی کا پاکستان بن گیا ہے ۔مذہبی ہندو انتہا پسندی بندوق اور عدلیہ کو ساتھ ملا کر ایک گٹھ جوڑ بنا چکی ہے جہاں الیکشن میں کانگرس کا ووٹ اسی طرح چوری ہوتا ہے جس طرح ماضی میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کیلئے چوری کیا جاتا تھا۔یہاں ن لیگ کو جتایا جاتا تھا وہاں بی جے پی جتائی جاتی ہے ۔یہاں انتہا پسند مذہبی جماعتیں ن لیگ کی چھتری تلے لائی جاتی تھیں وہاں شیوسینا ایسی انتہا پسند جماعتیں بی جے پی کے پیچھے کھڑی ہوتی ہیں۔جو کام یہاں دلال ججوں سے لیا جاتا تھا وہی کام اب وہاں ججوں کو دلال بنا کر لیا جاتا ہے ۔ہم نے غلطیوں سے سیکھ لیا ہے۔ہم غلطیاں درست کرنے چل پڑے ہیں ۔مالک مذہبی اثاثے پسپائی سے پہلے تباہ کر رہے ہیں۔سیاسی اثاثوں سے لبیک اور تحریک انصاف کی طرح نجات حاصل کر رہے ہیں۔عدلیہ میں اصلاحات کے زریعے ججوں کو پالتو بنانے کا کام ترک کر رہے ہیں۔بھارت میں کام الٹا چل پڑا ہے ۔جس محنت سے ہم نے خود کو تباہ کیا اس سے زیادہ محنت بھارتی خود کو تباہ کرنے کیلئے کر رہے ہیں۔بھارتی مالکان کروڑوں مسلمانوں کے خلاف جو ہندو رائے عامہ بنا رہے ہیں اس کے اثرات بھارتی میڈیا،عدلیہ اور انتظامیہ میں جگہ جگہ نظر آنے لگے ہیں۔اب وہاں کوئی واجپائی نہیں اور یہاں آگے بڑھ کر ہاتھ تھامنے والا کوئی نواز شریف یا محترمہ بینظیر بھٹو موجود نہیں ۔
جنرل محمد ضیاءالحق پاکستان کی تاریخ کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ملک کی سیاست، معاشرت اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔ وہ 1977ء سے 1988ء تک پاکستان کے صدر، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور آرمی چیف رہے۔ ان کا دور ایک طرف اسلامائزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے تو دوسری طرف جمہوری عمل کے تعطل اور سیاسی سختیوں کی علامت بھی ہے۔جنرل ضیاءالحق 12 اگست 1924ء کو جالندھر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا۔ انہوں نے انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون سے کمیشن حاصل کیا اور بعد ازاں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیا اور پیشہ ورانہ قابلیت کے باعث تیزی سے ترقی کرتے گئے۔اقتدار تک رسائی1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے آرمی چیف مقرر کیا۔ مگر یہ تقرری جلد ہی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ بن گئی۔5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاءالحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا اور آئین معطل کر دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ 90 دن میں انتخابات کرائے جائیں گے، مگر یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔بھٹو کی پھانسیجنرل ضیاءالحق کے دور کا سب سے متنازع اور دردناک واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تھا۔ 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی، جسے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک متنازع عدالتی و سیاسی فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے قوم کو گہرے زخم دیے۔اسلامائزیشن اور نظامِ حکومتجنرل ضیاءالحق نے ریاست کو اسلامی رنگ دینے کے لیے: • حدود آرڈیننس نافذ کیے • زکوٰۃ و عشر کا نظام متعارف کرایا • شرعی قوانین کو فروغ دیا • نصاب اور عدالتی نظام میں تبدیلیاں کیںان اقدامات کو کچھ حلقے اسلامی تشخص کی بحالی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق ان سے معاشرتی تقسیم اور انتہاپسندی کو تقویت ملی۔افغان جہاد اور عالمی کردار1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان، جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں، افغان جہاد کا مرکز بن گیا۔ امریکہ اور عرب دنیا کی مدد سے مجاہدین کی سرپرستی کی گئی۔اس دور میں: • پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت ملی • معیشت میں وقتی استحکام آیا • مگر اس کے نتیجے میں اسلحہ، منشیات اور شدت پسندی کے مسائل بھی پیدا ہوئےسیاسی عمل اور اختتام1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے اور محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے، مگر اختیارات بدستور صدر کے پاس رہے۔1988ء میں جنرل ضیاءالحق نے اسمبلیاں توڑ دیں، جس سے ایک بار پھر سیاسی بحران پیدا ہوا۔پراسرار موت17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاءالحق ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ آج تک ایک معمہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی افسران اور امریکی سفیر بھی ہلاک ہوئے۔تاریخ کا فیصلہجنرل ضیاءالحق کو کوئی • اسلامی نظام کا علمبردار سمجھتا ہے • کوئی انہیں جمہوریت کا قاتل قرار دیتا ہےحقیقت یہ ہے کہ ان کا دور پاکستان کی سمت کو ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت سے نظام بدلا جا سکتا ہے، مگر قوم کی سوچ اور انجام نہیں
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کی 18ویں برسی پر خراجِ عقیدتہماری دھرتی آج بھی آپ کا نام سرگوشیوں میں دہراتی ہے،جرأت اور وقار کی ایک لازوال دھن۔آپ وہاں ابھریں جہاں خاموشی مسلط تھی،جرأت آپ کی تقدیر میں کندہ تھی۔قربانی اور امید سے جنم لینے والی ایک عظیم رہنما۔اٹھارہ برس گزر چکے ہیں، مگر آپ کی جگہ آج تک کوئی نہ لے سکا۔آپ آج بھی قوم کی دھڑکن ہیں، ایک ایسی روشنی جو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی — بے نظیر بھٹو۔شہادت کی 18ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ایک ایسا نام ہے جو جرأت، استقامت، جمہوریت اور پاکستان کے عوام کے ناقابلِ تسخیر حوصلے کی علامت ہے۔ وہ صرف اپنے عہد کی رہنما نہیں تھیں بلکہ مزاحمت، بصیرت اور امید کی ایک لازوال علامت تھیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بن کر تاریخ رقم کی۔
یہ ایک ایسا سنگِ میل تھا جس نے عالمی تصورات کو بدل دیا اور اسلامی دنیا سمیت پوری دنیا کی لاکھوں خواتین کو حوصلہ اور تحریک دی۔ ان کی قیادت محض وراثت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ برسوں کی جدوجہد، قید و بند، جلاوطنی اور بے مثال ذاتی قربانیوں سے حاصل ہوئی۔ جب جمہوریت آمریت کے شکنجے میں تھی تو انہوں نے سمجھوتے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔بے نظیر بھٹو کو جو چیز واقعی منفرد بناتی تھی وہ عوام کے ساتھ ان کا گہرا اور زندہ تعلق تھا۔ وہ نہ تو اپنی جماعت یا حکومت بلند دیواروں کے پیچھے سے چلاتی تھیں اور نہ ہی خود کو عوام سے دور رکھتی تھیں۔ وہ عوام کے درمیان رہیں، ان کے دکھ درد سنے، اپنے کارکنوں کو گلے لگایا اور ہر حامی کو عزت اور احترام دیا۔ کارکنوں اور عام شہریوں کے ساتھ ان کا ذاتی رابطہ سیاست سے بڑھ کر اعتماد، محبت اور مشترکہ جدوجہد کا ایک مضبوط رشتہ تھا۔ عوام کے لیے وہ صرف وزیرِ اعظم نہیں تھیں بلکہ ان کی اپنی بی بی، ان کی بہن اور ان کی آواز تھیں۔ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی عظیم درسگاہوں سے تعلیم یافتہ محترمہ بے نظیر بھٹو اسلام اور مغرب کے درمیان ایک مضبوط پل بن کر ابھریں۔ انہوں نے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک ترقی پسند، جمہوری اور روشن تصور پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ ایمان، جدیدیت اور جمہوریت عزت اور انصاف کے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ عالمی فورمز پر ان کی آواز ذہانت، وقار اور اخلاقی قوت کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کرتی تھی اور انہوں نے عالمی سطح پر مسلم خواتین کے کردار کو ایک نئی شناخت دی۔محترمہ بے نظیر بھٹو قومی یکجہتی پر گہرا یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں کے عوام کے ساتھ بھی مضبوط سیاسی اور جذباتی رشتہ قائم کیا۔ وہ مساوات، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل پر مبنی ایک مضبوط وفاق کی حامی تھیں اور نسلی، ثقافتی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کرتی رہیں۔ان کی زندگی بے شمار نمایاں کامیابیوں سے عبارت تھی۔ انہوں نے جمہوری عمل کو بحال کیا، شہری آزادیوں کو فروغ دیا، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے آواز بلند کی، اور خواتین، اقلیتوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ، راولپنڈی میں ان کی شہادت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری جمہوری دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ اس سانحے نے ملک میں ایک گہرا سیاسی خلا پیدا کیا، مگر ان کی شہادت نے ان کے مشن کو خاموش نہیں کیا بلکہ مزید مضبوط کر دیا
۔بے نظیر بھٹو محض تاریخ میں زندہ نہیں رہیں بلکہ وہ خود تاریخ بن گئیں۔ ان کا خون ان کے چاہنے والوں اور ہم سب کے لیے ایک عہد بن گیا، ان کی قربانی ایک وعدہ اور ان کا ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج بھی ان کا نام ان دلوں میں امید جگاتا ہے جو انصاف، جرأت اور عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔وہ عوام کے لیے جئیں۔وہ جمہوریت کے لیے ڈٹ گئیں۔انہوں نے جرأت کے ساتھ شہادت کو گلے لگایا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹوایک ہی تھیں — اور ہمیشہ ایک ہی رہیں گی — بے نظیر۔سفدر علی عباسیصدر، پاکستان پیپلز پارٹی ورکرزناہید خانسیاسی معاون برائے شہید محترمہ بے نظیر بھٹوفیاض علی خانسینئر نائب صدر، پی پی پی ورکرزایڈووکیٹ امجد علی بلوچنائب صدرکنور زاہدسیکریٹری جنرل، پی پی پی ورکرزوحید افضل گولڑہ، رائے قیصر، جنید مسعود، طاہر عباسی، سید اقتدار علی شاہ (فنانس سیکریٹری)، امیر رضوی، ابراہیم خان، فرح اسلم، ساجدہ میر، ناہید و تانیا، حر بخاری، چوہدری اسلم، ملک مظہر، نوید صدیق، اختر خواجہ، ثقلین شیرازی، رانا عثمان، انجینئر عاشق رستمائی، انجینئر ذوالفقار سمّیجو، اویس علی عباسی، اختر عباسی، اے محمد احمد، ریاض میمن، زاہد محمود اور دیگر۔
توہین عدالت مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرلاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔درخواست ایک شہری منیر احمد نے معروف وکیل کی وساطت سے دائر کی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم نواز اور عظمیٰ بخاری نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عوامی سطح پر سخت تنقید کی، جو توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔درخواست گزار کے مطابق، پراپرٹی قانون کی معطلی پر سرکاری سطح سے دیے گئے بیانات نے عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کو “لینڈ مافیا” کے حق میں قرار دینا ایک سنگین الزام ہے جس سے عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی جانب سے عدالتی فیصلوں کو سیاسی رنگ دینا غیر قانونی ہے اور یہ عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ ملوث افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں۔ان کے خلاف توہینِ عدالت کی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے نئے پراپرٹی قانون (پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف غیر منقولہ جائیداد ایکٹ) کو معطل کیا، جس پر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا۔
میں ماں ہوں، میرا بےگناہ بیٹا ڈھائی سال سے جیل میں ہے، ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہے نہ ہی ضمانت کا۔ میں یہی سوچتی ہوں کہ ہم جتنی مزاحمت کرسکیں، کریں، ورنہ یہ ظلم ختم نہیں ہوگا۔ ظالم ڈرپوک ہوتا ہے، ہمیں ان سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ وزیرِاعلیٰ میرے گھر آجاتے تو کیا ہو جانا تھا، کچھ بھی نہیں، لیکن یہ ہر چیز سے خوفزدہ ہیں۔نورین نیازی#خان_کا_حکم_سٹریٹ_موومنٹ
مولانا نےبھی ڈاکٹریٹ کر لیا آئندہ سے ڈاکٹر فضل الرحمٰن لکھا اور پکارا جائے ، انہوں نے جواب میں اعزازی ڈگری سے نوازنے والے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو اپنی تیزی سے کمزور ہوتی گورنری کو محفوظ اور دیرپا بنانے کے لیے انہیں چند مُہلک مشوروں سے بھی نوازا ہوگا
*شکارپور: بارات کی بس پر فائرنگ، دلہا سمیت 3 افراد جاں بحق*شکارپور میں قومی شاہراہ بائی پاس پر بارات کی بس پر فائرنگ کے نتیجے میں دلہا سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دلہا، اس کا بھائی اور ڈرائیور شامل ہیں جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ پرانی دشمنی کے باعث پیش آیا، بارات شکارپور شہر سے جیکب آباد جارہی تھی۔
پنجاب حکومت کا اہم فیصلہسرکاری اساتذہ کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے نئی الیکٹرک بائیک سکیم متعارف کرانے کا فیصلہاساتذہ ابتدائی قسط ادا کر کے ای بائیک حاصل کر سکیں گے