
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ سفیان مقیم نے اپنے پہلے میچ میں شاندار بولنگ 4 اوورز میں صرف 12 رنز دے کر 1 اہم وکٹیں حاصل کی۔💚🔥بی پی ایل ڈیبیو پر سفیان مقیم کی شاندار اور پاگل کر دینے والی اسپیل 🤯پہلا اوور: 1، 1، 1، 0، 1، 0دوسرا اوور: 1، 0، 0، 0، 0، 1تیسرا اوور: 0، 1، 0، 0، 0، 1چوتھا اوور: 0، 0، وکٹ، 2، 0، 1سری لنکا کے دورے کے لیے منتخب نہ ہونے کے بعد سفیان مقیم کی جانب سے یہ ایک مضبوط پیغام ہے۔🇵🇰💚🔥….

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نوازشریف کے ویژن اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کاوشوں سے زرعی انقلاب برپاپنجاب کاشتکار پہلی مرتبہ مڈل مین/آرھتی کے معاشی چنگل سے آزادملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 8 لاکھ سے زائد کاشتکاروں نے کسان کارڈ حاصل کرلیےایک سال میں کاشتکاروں کو 250 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا ناقابل تردید ریکارڈپنجاب بھر میں چھوٹا کاشتکار وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی بے مثال کسان کارڈ سکیم سے مستفیدکاشتکاروں نے آڑھتی کی بجائے کسان کارڈ کے ذریعے ، کھاد ، بیچ اور پیسٹی سائیڈ خریدنے کو ترجیح دیپنجاب میں کسان کارڈ سکیم کے لئے سینکڑوں ڈیلر رجسٹرڈ ، کاروبار میں بے مثال ترقی20 فیصد کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے ڈیزل خریدا، ادھار اور سود سے بچ گئےپنجاب کا کاشتکار پورے ملک کا محسن ہے، محنت کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ مریم نواز شریفکاشتکاربھائیوں کیلئے تمام وسائل حاضر ہیں، زرعی ترقی کو انتہا پر لیکرجانا چاہتے ہیں۔ مریم نواز شریفپنجاب کے کاشتکار کو خوشحال دیکھنا میرا خواب ہے۔ مریم نواز شریف




ذیل میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں پاک فوج کے کردار پر ایک تفصیلی، تاریخی اور تجزیاتی مضمون اردو میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں بالخصوص UNMIL (لائبیریا) میں پاکستان کے اوّلین مشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، نیز صومالیہ اور دیگر مشنز کا بھی جامع ذکر شامل ہے۔—اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاک فوجعالمی امن کی خاموش مگر مؤثر محافظپاکستان آرمی دنیا کی اُن افواج میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت امن کے قیام، انسانی تحفظ اور ریاستی بحالی میں مسلسل اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے چند ہی برس بعد پاک فوج نے عالمی سطح پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد قوت ہے۔آج پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت سب سے زیادہ امن دستے فراہم کیے، اور ہزاروں پاکستانی فوجیوں نے مختلف براعظموں میں امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔—اقوامِ متحدہ کے امن مشنز: ایک تعارفاقوامِ متحدہ کے امن مشنز کا مقصد ہوتا ہے:جنگ بندی کی نگرانیخانہ جنگی کے بعد امن کی بحالیشہری آبادی کا تحفظریاستی اداروں کی تعمیرِ نوانسانی امداد کی فراہمییہ مشنز فوجی، پولیس اور سول ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں فوجی کردار سب سے حساس اور خطرناک ہوتا ہے۔—پاک فوج اور یو این مشنز: تاریخی پس منظرپاکستان نے پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شرکت کی۔ اس کے بعد سے:افریقہمشرقِ وسطیٰیورپایشیاکے درجنوں ممالک میں پاک فوج نے خدمات انجام دیں۔اہم مشنز میں شامل ہیں:کانگوصومالیہبوسنیاسیرالیونلائبیریا (UNMIL)دارفورہیٹی—صومالیہ میں پاک فوج کا کردار (UNOSOM)پس منظر1990 کی دہائی میں صومالیہ شدید خانہ جنگی، قحط اور ریاستی انہدام کا شکار تھا۔ اقوامِ متحدہ نے UNOSOM کے نام سے امن مشن شروع کیا۔پاک فوج کی خدماتپاک فوج نے صومالیہ میں:امن و امان کی بحالیخوراک کی تقسیم کا تحفظشہری علاقوں کی سیکیورٹیاقوامِ متحدہ کے عملے کا دفاعجیسے انتہائی مشکل فرائض انجام دیے۔قربانیاںصومالیہ میں پاک فوج کو:شدید مزاحمتشہری علاقوں میں جھڑپیںخودکش اور مسلح حملےکا سامنا کرنا پڑا، جن میں کئی پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ یہ قربانیاں آج بھی اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں عزت و احترام سے یاد کی جاتی ہیں۔—UNMIL: لائبیریا میں پاکستان آرمی کا پہلا مشن (خصوصی جائزہ)پس منظرافریقی ملک لائبیریا طویل خانہ جنگی کے بعد مکمل تباہی کا شکار تھا۔ 2003ء میں اقوامِ متحدہ نے UNMIL (United Nations Mission in Liberia) کے نام سے امن مشن قائم کیا۔یہ مشن پاک فوج کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ:پاکستان نے یہاں بڑی تعداد میں فوجی دستے تعینات کیےیہ پاک فوج کے جدید امن مشنز میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہواپاکستان کا پہلا دستہUNMIL میں پاک فوج کے پہلے دستے نے:دارالحکومت مونروویاحساس سرحدی علاقوںسابق جنگجوؤں کے مراکزمیں ذمہ داریاں سنبھالیں۔یہ پہلا موقع تھا کہ:پاک فوج نے ریاستی بحالی (State Reconstruction) میں مرکزی کردار ادا کیاصرف سیکیورٹی نہیں بلکہ ادارہ جاتی امن پر توجہ دی گئیفرائض اور کامیابیاںپاک فوج نے UNMIL میں:سابق جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے (DDR) میں مددپولیس اور سول اداروں کو تحفظشہریوں کے اعتماد کی بحالیانتخابات کے دوران امنکو یقینی بنایا۔لائبیریا کی عوام میں پاکستانی فوجیوں کی:نظم و ضبطشائستگیانسانی ہمدردیکو بے حد سراہا گیا۔—پاک فوج کی خصوصیات جو اسے ممتاز بناتی ہیںاقوامِ متحدہ کے مشنز میں پاک فوج کو ممتاز بنانے والی خصوصیات:مشکل حالات میں نظم و ضبطمختلف ثقافتوں سے ہم آہنگیشہریوں کے ساتھ نرم رویہپیشہ ورانہ تربیتقربانی کا جذبہیہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اکثر اہم اور حساس علاقوں میں پاکستانی دستے تعینات کرتی ہے۔—شہداء اور قربانیاںاقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں:180 سے زائد پاکستانی فوجی شہید ہو چکے ہیںیہ قربانیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ:> پاکستان صرف امن کی بات نہیں کرتا،امن کے لیے قربانی بھی دیتا ہے۔—عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھپاک فوج کی ان خدمات کے باعث:پاکستان کو ایک امن دوست ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیااقوامِ متحدہ میں پاکستان کی عسکری ساکھ مضبوط ہوئیترقی پذیر ممالک میں پاکستان کے لیے احترام بڑھا—اختتامیہاقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاک فوج کی شرکت محض ایک عسکری ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی خدمت، عالمی ذمہ داری اور اخلاقی عزم کی علامت ہے۔ صومالیہ کے میدان ہوں یا لائبیریا کے جنگ زدہ شہر، پاکستانی سپاہی نے ہر جگہ یہ ثابت کیا کہ وہ بندوق کے ساتھ دل بھی رکھتا ہے۔خصوصاً UNMIL میں پہلا مشن پاک فوج کی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے ثابت کیا کہ پاکستان نہ صرف جنگ لڑنا جانتا ہے بلکہ امن قائم کرنا بھی جانتا ہے۔

پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 پہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی جاری کرنے کے بعد پنجاب حکومت نے صوبہ کے تمام اضلاع میں ریٹائرڈ سیشن ججز پہ مشتمل ٹربیونلز قائم کرنے اور متعلقہ اضلاع میں پبلک پراسیکیوٹرز کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عدالت میں آئین اور قانون کے تحت معاملہ کو سلجھانے کی بجائے سیاسی اور سوشل میڈیا پہ ٹرول کر کے مزید الجھا دیا ہے۔بطور قانون کے طالب علم میں سمجھتا ہوں نئے ٹربیونلز خصوصی عدالتیں یا کوئی بھی اضافی نیم عدالتی نظام کا قیام نہ صرف عدلیہ کو مزید کمزور کرتا ہے بلکہ ملک میں نظام انصاف پہ ایک اور بدنما دھبہ بن جاتا ہے ۔میری رائے میں مکمل عدالتی نظام کے ماتحت ججز کی تعداد میں اضافہ اور بائی بک قانون پہ عمل اس میں درج مدت کے اندر فیصلہ اور ججز کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ضروری ہے ۔عدالتی نظام کا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے نہ ہی انتظامیہ کے ماتحت عدلیہ انصاف دے سکتی ہے ۔۔۔
ذیل میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں پاک فوج کے کردار پر ایک تفصیلی، تاریخی اور تجزیاتی مضمون اردو میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں بالخصوص UNMIL (لائبیریا) میں پاکستان کے اوّلین مشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، نیز صومالیہ اور دیگر مشنز کا بھی جامع ذکر شامل ہے۔—اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاک فوجعالمی امن کی خاموش مگر مؤثر محافظپاکستان آرمی دنیا کی اُن افواج میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت امن کے قیام، انسانی تحفظ اور ریاستی بحالی میں مسلسل اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کے چند ہی برس بعد پاک فوج نے عالمی سطح پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد قوت ہے۔آج پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے تحت سب سے زیادہ امن دستے فراہم کیے، اور ہزاروں پاکستانی فوجیوں نے مختلف براعظموں میں امن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔— —

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے چیف ویپ حزب اختلاف ملک عامر ڈوگر کو خط ارسال، ترجمان قومی اسمبلیسابق قائدِ حزبِ اختلاف سے متعلق عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی معلومات کے لیے ملک عامر ڈوگر کو چوتھی مرتبہ خط ارسال، ترجمان قومی اسمبلیاس سے قبل خطوط 19 نومبر، 5 دسمبر اور 19 دسمبر 2025ء کو بھی ارسال کیے گئے ہیں، ترجمان قومی اسمبلیخط میں سابق قائد اختلاف سے متعلق عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کی موجودہ صورتحال سے آگاہی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلیقائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے لیے مطلوبہ معلومات آئینی و قانونی طور پر ضروری ہیں، ترجمان قومی اسمبلیبعض مقدمات میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے، ترجمان قومی اسمبلیمطلوبہ معلومات موصول ہونے کے بعد ہی قائدِ حزبِ اختلاف کے تقرر کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے، ترجمان قومی
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل دائرسابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ ان کے وکیل میاں علی اشفاق کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف قانونی اپیل متعلقہ فورم میں جمع کرا دی گئی ہے۔فیض حمید کو 11 دسمبر کو چار الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 سال قیدِ سخت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر سرکاری راز افشا کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزا کے بعد 40 دن کے اندر اپیل کی جاتی ہے، جس پر حتمی اختیار آرمی چیف کو حاصل ہوتا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ دورہ لاہور کے دوران سزا یافتہ افراد پنجاب اسمبلی آئے۔پریس کانفرنس کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے ساتھ آنے والے لوگ پہلے بھی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں ملوث رہے اور ایسےلوگوں کو جیل میں ڈالنے کے بجائے پنجاب اسمبلی لایا گیا۔اسپیکر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی اعلیٰ سطح انکوائری کرائی گئی ہے اور رپورٹ کارروائی کیلئے جلد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجیں گے۔ملک احمد خان نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس مائنڈ سیٹ کے پیچھے کون ہے ؟ ، جس مائنڈ سیٹ کو مقدس مقامات کا احترام نہیں وہ اسمبلی کا کیا احترام کرے گا، وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی رولز کے مطابق چلائی جاتی ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے رہنے چاہئیں، سیاسی جماعتیں وفاق کو مضبوط کرتی ہیں، اسمبلی میں آنے کیلئے اجازت نامہ کی ضرورت ہوتی ہے، سیکیورٹی کے معاملہ کو کسی صورتحال میں نظر انداز نہیں کیا










