تازہ تر ین

لبنان شام عراق لیبیا یمن کا خاتمہ کر کے سعودی اور عرب اب اپنے انجام کی طرف گامزن۔۔پورٹ اینڈ شپنگ کارپوریشن کو 400 ارب روپے کا منافع دینے پر وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کو وزارت سے علیحدہ کر دیا گیا پاکستان قومی حکومت کی طرف گامزن وزیر اعظم فائنل۔حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج 72 گھنٹے اھم قرار۔۔16 رکنی کابینہ اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے شخص کو تعینات کیا جائے گا۔۔12 وزارتوں کو ختم 4 گروپس مثال کے طور پوسٹل ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ کے 2 مزید گروپس ختم کر دئیے جائیں گے۔دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن۔۔3 سال میں 28 ھزار ارب روپے کی کرپشن ذمہ دار کون۔۔2025 پاکستان میں مھنگای اور بے روزگاری عروج پر رھی۔لوٹ مار کرپشن کا راج 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے۔اھم ترین شخصیات کے اثاثوں میں کھربوں روپے کا اضافہ۔۔سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف۔اڈیالہ کے باہر یہ آج تک کا سب سے بڑا crowd تھا….پنجاب حکومت کا اپنی حکومت کے خلاف واک آؤٹ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC): قومی اثاثے سے اسٹریٹجک بوجھ تک اور بحالی کا راستہ*‼️ *تاریخی پس منظر*‼️👈 1947 میں صرف 3 تجارتی جہازوں سے آغاز کرتے ہوئے، پاکستان نے بتدریج اپنی قومی شپنگ فلیٹ کو وسعت دی، جو 1960 کی دہائی تک بڑھ کر 41 جہازوں تک جا پہنچی۔👈 1979 میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن تقریباً 20 جہازوں پر مشتمل فلیٹ آپریٹ کر رہی تھی۔👈 1982 میں کارپوریشن نے اپنی بلند ترین سطح حاصل کی، جب فلیٹ میں 45 جہاز شامل تھے، جن میں آئل ٹینکرز، بلک کیریئرز اور جنرل کارگو جہاز شامل تھے۔👈 اس فلیٹ نے پاکستان کو نہ صرف اہم درآمدات و برآمدات کی ترسیل کے قابل بنایا بلکہ منافع کما کر قومی خزانے میں منافع کی صورت میں بھی حصہ ڈالا۔‼️ *پی این ایس سی کی موجودہ صورتحال*👈آج یہ ترقی تنزلی میں تبدیل ہو چکی تیزی ہے۔ 45 جہازوں سے گھٹ کر PNSC اب صرف 13 جہاز چلا رہی ہے، جن میں سے زیادہ تر پرانے ہیں (تقریباً 50 فیصد فلیٹ کی عمر 20 سال سے زائد ہے)۔👈 اگرچہ کارپوریشن نے مالی سال 2024-25 میں تکنیکی طور پر خالص منافع ظاہر کیا ہے، تاہم یہ اعداد و شمار گہری structural کمزوریوں کو چھپاتے ہیں۔👈 آمدن میں سال بہ سال تقریباً 19 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، مجموعی منافع کی شرح گھٹ کر 29.8 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مالی سال 25/26 کے نتائج کے مطابق خالص منافع میں 34 فیصد کمی ہو کر 3.71 ارب روپے رہ گیا۔👈 اس منافع کا بڑا حصہ اثاثہ جات کی فروخت یا چارٹرنگ سے حاصل ہوا، نہ کہ پائیدار شپنگ آپریشنز سے۔‼️ *مالی کمزور کارکردگی کی وجوہات*

‼️بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور مفاداتی عناصر کے علاوہ، نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں:👈 جہاز عالمی معیار کے مطابق ڈیڈ ویٹ ٹنّیج میں پیچھے رہ گئے، خاص طور پر ڈرائی بلک اور کنٹینر سیگمنٹس میں، جس سے مسابقت اور آمدنی کی صلاحیت محدود ہوئی۔👈 ماضی میں چارٹرنگ فیصلے منافع کے درست تخمینے کے بغیر کیے گئے، جس کے نتیجے میں نقصانات اور اثاثوں کا غیر مؤثر استعمال ہوا۔👈 ملکی شپنگ پاکستان کی مجموعی تجارت کاایک محدود حصہ سنبھالتی ہے، جبکہ زیادہ تر کارگو غیر ملکی جہاز بردار کمپنیاں منتقل کرتی ہیں۔👈 شپنگ کارپوریشن صرف تقریباً 11 فیصد کارگو حجم اور 4 فیصد قدر کے لحاظ سے ہینڈل کرتی ہے۔👈 90 فیصد کارگو غیر ملکی کیریئرز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔👈 فلیٹ کے محدود حجم اور گنجائش کی وجہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے سے قاصر ہے۔👈 زیادہ مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات اور غیر فعال دن (Idle Days) کارکردگی اور منافع کو متاثر کرتے ہیں۔‼️ *نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زوال کے وسیع تر معاشی اثرات*‼️👈 غیر ملکی شپنگ پر انحصار کے باعث پاکستان کو سالانہ 4 سے 8 ارب امریکی ڈالر کا زرِمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔👈 اہم درآمدات پر قومی کنٹرول کی کمی پاکستان کی اسٹریٹجک کمزوری میں اضافہ کرتی ہے۔👈 فلیٹ کی محدود سرگرمی سے سی فیررز، میری ٹائم انجینئرز اور لاجسٹکس پروفیشنلز کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔👈 میری ٹائم ایکو سسٹمجس میں شپ ریپیئر، تربیت، انشورنس اور بندرگاہوں سے منسلک خدمات شامل ہیں، ترقی نہیں کر سکا۔👈 زیادہ فریٹ لاگت عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت کو کمزور کرتی ہے۔‼️ *علاقائی و بین الاقوامی موازنہ*‼️👈 انڈیا کی شپنگ کارپوریشن (SCI) کے پاس 57 سے 64 جہاز ہیں، جو PNSC کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور عالمی سطح پر مربوط فلیٹ ہے۔👈

سری لنکا کے تقریباً 95 جہاز رجسٹرڈ ہیں۔👈 1960 کی دہائی میں جنوبی کوریا کے پاس صرف 10 سے 15 جہاز تھے، جو پاکستان سے کہیں کم تھے۔ 1990 کی دہائی تک جنوبی کوریا کے رجسٹرڈ جہازوں کی تعداد 461 ہو گئی، جبکہ آج اس کا فلیٹ 2,100 سے زائد جہازوں پر مشتمل ہے۔👈 انڈونیشیا، جس کا 1990 کی دہائی میں ایک محدود بین الاقوامی فلیٹ تھا، آج 11,400 سے زائد رجسٹرڈ جہازوں کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا شپنگ فلیٹ رکھتا ہے۔‼️ *اصلاحی اقدام: PNSC کی مینجمنٹ NLC کو سونپنے کا منصوبہ*

‼️👈 درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC) کو، جو اپنی مؤثر مینجمنٹ اور اسٹریٹجک وژن کے لیے جانا جاتا ہے، PNSC کی مینجمنٹ سنبھالنے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔👈 اس انتظام کے تحت NLC، PNSC کو پیشہ ورانہ نظم و نسق اور آپریشنل کارکردگی کی جانب لے جائے گا۔👈 ری اسٹرکچرنگ کے حصے کے طور پر کے 30 فیصد حصص کی مارکیٹ ویلیو پر جانچ کی جائے گی، جبکہ NLC ضروری سرمایہ پیدا کر کے فلیٹ کی مضبوطی اور توسیع میں سرمایہ کاری کرے گا۔‼️ *این ایل سی اور پی این ایس سی کے انضمام سے ممکنہ فوائد*‼️👈 مالی بنیاد مضبوط ہو گی، سرمایہ کاری آئے گی اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو میری ٹائم آپریشنز سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔👈 وسیع تر شیئر ہولڈنگ کے ذریعے زیادہ فنڈنگ دستیاب ہو گی، جس سے فلیٹ کی تجدید اور اثاثوں کے بہتر استعمال میں تیزی آئے گی۔👈 زمینی اور بحری لاجسٹکس کے انضمام سے ٹرانزٹ ٹائم اور غیر فعال دنوں میں کمی آئے گی، جس سے منافع میں اضافہ ہو گا۔👈 بہتر آپریشنل کارکردگی کے نتیجے میں زیادہ ڈیوڈنڈ اور کارپوریٹ ٹیکس کی صورت میں قومی خزانے کو فائدہ ہو گا۔

*ٹریفک قوانین کی مہلت ختم ہو چکی، آج سے دوبارہ کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔* ۔ لائسنس، ہیلمنٹ، منظور شدہ نمبر پلیٹ اور سائیڈ شیشہ نہ ہونے پر بھاری جرمانے کے ساتھ ایف آئی آرز بھی درج ہوں گی۔ موٹر سائیکل پر ٹرپل سواری پر پابندی، 2000 روپے جرمانہ ہوگا۔

‼️ *وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جاہلیت — نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر قانونی کاروباروں کو قائداعظم کے کھاتے میں ڈال دیا**کیا واقعی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فاٹا کے علاقوں کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے 100 سالہ استثنیٰ دیا تھا؟*نہیں ایسا کچھ نہیں تھا 29 دسمبر 2025 کو لاہور میں سینئر صحافیوں اور کالم نویسوں کی سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے متعدد اہم سوالات کیے گئے۔ملاقات کے دوران صحافی منصور علی خان کے نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں سے متعلق سوال کے جواب میں *سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی اجازت قائداعظم نے دی تھی، اور یہ کہ قائداعظم نے تمام قبائلی اضلاع کو سو سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دے دیا تھا۔*📍*آئیے دیکھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے اس بیان میں کتنی حقیقت ہے*آزادی کے وقت بعض قبائلی اور سرحدی علاقے ٹیکس سے مستثنیٰ تھے۔ یہ استثنا برصغیر کے نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے اور قبائلی معاہدوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ قائداعظم نے ان علاقوں کے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عبوری طور پر اپنے موجودہ نظام کے تحت رہیں گے۔*تاہم یہ بھی طے تھا کہ مستقبل میں ریاست قانون سازی یا آئینی ترامیم کے ذریعے ان علاقوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم و نسق میں شامل کرے گی۔*مالاکنڈ ڈویژن میں سوات، بونیر، شانگلہ، لوئر دیر، اپر دیر، چترال (اپر و لوئر)، مالاکنڈ اور کوہستان کے بعض حصے،

جبکہ سابقہ فاٹا میں خیبر، مہمند، باجوڑ، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وہ علاقے تھے جنہیں آزادی کے وقت وقتی رعایت دی گئی تھی۔*اہم نکتہ یہ ہے کہ قائداعظم کی جانب سے کسی مخصوص مدت، خصوصاً سو سال*، کا کہیں کوئی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی یہ ٹیکس چھوٹ نہ تو مستقل تھی اور نہ ہی غیر مشروط۔ *اس کا انحصار ہمیشہ ریاست کی صوابدید، قانون سازی اور آئینی ترامیم پر رہا۔**یہ نظام محض اس لیے جاری رہا کہ طویل عرصے تک قانون سازی نہیں کی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ انتظامی مشکلات اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کے باعث ریاست نے ان علاقوں کو مکمل ریاستی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا*۔ *اس فیصلے پر صوبائی حکومت، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے

۔*بالآخر *25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں آئین کا آرٹیکل 247 ختم ہوا، جس کے تحت یہ علاقے وفاقی اور صوبائی قوانین، بشمول ٹیکس قوانین، سے مستثنیٰ تھے۔*آرٹیکل 247 کے خاتمے کے بعد عام ٹیکس قوانین خود بخود ان علاقوں پر لاگو ہو گئے، اگرچہ اس کے باوجود وفاقی حکومت نے عبوری بنیادوں پر مزید رعایتیں بھی فراہم کی جہاں تک نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا تعلق ہے، تو 2024 کے آخر میں جب خیبر پختونخوا میں موجود دو لاکھ سے زائد NCP گاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو اسمگلنگ، منشیات اور دہشت گردی سے جڑے بااثر گروہ فوراً متحرک ہو گئے۔ان گروہوں کے مفادات براہِ راست اس غیر قانونی معیشت سے وابستہ ہیں۔نیشنل ایکشن پلان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی ایک کلیدی نکتہ ہے، کیونکہ یہ گاڑیاں محض مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ دہشت گردی، منشیات اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور سرحد پار جرائم کے نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ اور ناقابلِ سراغ سہولت فراہم کرتی ہیں۔چونکہ ان گاڑیوں کا کوئی باضابطہ ریکارڈ، رجسٹریشن یا ٹریکنگ سسٹم موجود نہیں ہوتا، اس لیے یہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے ایک مثالی ذریعہ بن چکی ہیں۔نیشنل ایکشن پلان اسی لیے NCP گاڑیوں کے مکمل خاتمے کو انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کا لازمی جزو قرار دیتا ہے، تاکہ دہشت گردی، جرائم اور اسمگلنگ کے باہم جڑے نیٹ ورکس کی لاجسٹک بنیاد کو ختم کیا جا سکے۔*حقیقت یہ ہے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سیاسی سرپرستی میں چلنے والے ایک وسیع “ٹیرر–کرائم–اسمگلنگ نیٹ ورک” کا حصہ ہیں*—ایسا نیٹ ورک جو نہ صرف مقامی معیشت کو یرغمال بنائے ہوئے ہے بلکہ ریاستی رٹ کو بھی کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔24 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جانب نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے انکشافات نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی۔

*اسی پس منظر میں سہیل آفریدی کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے جواز تراشنا محض لاعلمی نہیں بلکہ ایک خطرناک اور غیر منطقی سیاسی بیانیہ ہے۔**مسئلہ وسائل کا نہیں، مسئلہ ترجیحات، نااہلی اور غیر قانونی سیاسی مفادات کا ہے—اور یہی عناصر خیبر پختونخوا کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔*

حکومت پنجاب کا بہت ہی بڑا فیصلہ۔ پٹواریوں سے بڑے بڑے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ پٹواری سے بیع کی فرد۔انتقال کا اختیار بورڈ آف ریونیو نے واپس لے لیا اب پٹواری کے پاس صرف ریکوری گرداوری اور عدالت میں ریکارڈ فراہم کرنا باقی رہ گیا ۔نئے طریقہ کار کے تحت سائل اراضی ریکارڈ سنٹر یا ای سہولت مرکز سے فرد بیع وصول کرے گا بعد ازاں اشٹام فروش سے باقاعدہ رجسٹری تحریر کروائے گا اور تحصیلدار کے پاس سائل اپنی تمام تر دستاویزات پیش کرے گا اور تحصیلدار ایک دن کے اندر اس رجسٹری کو پاس کرے گا گواہان کی ضرورت نہ ہے 🤲🏻🤲🏻🤲🏻

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved