ملک میں سیاست صحافت عدالتی نظام سب کچھ ختم قتل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

2019 میں ساہیوال کے قریب انٹیلیجنس کی ناکامی اور غلطی کی وجہ سے ایک خاندان کو سی ٹی ڈی نے گولیوں کی بارش کرکے قتل کردیا، 4 لوگ جن میں ایک باپ، ماں، چچا اور بڑی بہن وہ قتل ہوئے، انکے 3 بچے خدا نے بچا لیے۔ جن کا کام انٹیلیجنس اور آپریشن، جن کی غلطی، انہوں نے کمال مہارت سے میڈیا اور اینکروں کی توپوں کا رخ عمران خان اور بزدار کی طرف موڑ دیا۔ بچوں کی یتیمی کی دہائیاں دے کر پروگرام کیے ٹویٹس کیں۔ روف کلاسرہ صاحب نے تو اتنے پروگرام اور سیگمنٹ کیے کہ الامان الحفیظ، آج بھی حوالے دیتے ہیں، کامران شاہد جیسا rabid مہرہ بھی انسانیت کے وہ جوہر دکھاتا رہا کہ شیطان بھی حیران تھا۔ کیا جنگ جیو دنیا سماء کے اینکرز، سب ہی اس پر بول رہے تھے۔جن کی ناکامی اور ظلم تھا انکو بچانے والوں نے کمال مہارت سے بچا لیا۔ لیکن مجال ہے کسی اینکر کی زبان سے کچھ نکلا ہو، نزلہ آج تک عمران خان پر گراتے رہے۔مریم نواز نے جس خاص کردار کے مشورے پر سی سی ڈی نامی ڈیتھ سکواڈ بنایا، جس کے مشورے اور ویژن پر ایک سال میں کم و بیش 1 ہزار سے زائد لوگ جعلی مقابلوں میں مروا دیے، جلسوں میں فخر سے سی سی ڈی کے کارنامے اور خوف کو بیان کرکے کریڈٹ لیتی ہیں۔ جس سفاک افسر کو اس ادارے کا سربراہ لگایا گیا ہے، کبھی اسکے خلاف ان اینکرز اور میڈیا سے ایک لفظ بھی آپ لوگوں نے سنا ہے؟ سربراہ کا نام آپکو معلوم ہے؟آئے دن ظلم کی نئی داستان رقم ہورہی ہے۔ اب ایک ہی گھر کے 5 افراد قتل کرکے 22 بچے یتیم کر دیے گئے۔ دیگر 1 ہزار ماروائے عدالت مقتولین کے سینکڑوں یتیم ہونے والے بچے اسکے علاؤہ ہیں۔۔ سانحہ ساہیوال پر یتیمی کے کارڈ پر پروگرامز کرنے والے اینکرز کہاں مر گئے ہیں؟

اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ۔۔۔۔لکی مروت میں اھم دھشت گرد ھلاک۔۔نفرت کی سیاست ختم ھونی چاہیے مولانا فضل الرھمان۔۔نیو اءیر نایئٹ ھوٹل ریسٹ ھاوسئیز بک۔۔ھارٹ اٹیک اور ھارٹ فئیلر۔۔*متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے یو اے ای کے صدر کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال دونوں ملکوں کے بے مثال روابط کو ظاہر کرتا ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے یو اے ای کے صدر کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال دونوں ملکوں کے بے مثال روابط کو ظاہر کرتا ہےچیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کے سیلوٹ کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے صدر کا گرم جوشی سے جوابی سیلوٹ اسی مضبوط برادرانہ رشتہ کا عکاس ہے

):متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔شیخ محمد بن زاید النہیان اپنے طیارے سے باہر آئےتو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے یو اے ای کے صدر کو پھول پیش کئے۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ یو اے ای کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جیسے ہی ان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے انہیں سلامی دی۔شیخ محمد بن زاید النہیان کے اعزاز میں نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جس کا انہوں نے معائنہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے تعارف کرایا جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔دونوں ممالک کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا،متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بچوں سے ہاتھ ملایا اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور

ایس 400 کیسے تباہ کیا ؟۔ اظہر سیدآپریشن سیندور کے دوران بھارت کے ناقابل شکست سمجھے جانے والے ایس 400 کی تباہی کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔یہ ناقابل یقین کارنامہ پاکستانی شاہینوں نے انجام دیا تھا ۔دفاعی نظام تین سو کلو میٹر دور سے دشمن کی نشاندہی کر سکتا ہے اور بیک وقت ایک سو سے زیادہ لڑاکا جیٹ طیاروں کو انگیج کر سکتا ہے ۔پاکستانی ائر فورس نے جس جرات،بہادری سائنس اور ٹیکنالوجی کے جس تال میل سے اس دفاعی نظام کو تباہ کیا روسی دفاعی مارکیٹ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ترکی اور برازیل نے روس سے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری کے معاہدوں پر بات چیت معطل کر دی جبکہ فلپائن،ایران سمیت متعدد ممالک جو یہ نظام خریدنا چاہتے تھے وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ۔روسی دفاعی نظام کی ایک خصوصیت اسکا الیکٹرانک نظام جام ہونے کے بعد خودکار طریقے سے بحال ہونا ہے ۔جیمنگ کے بعد خودکار بحالی دس سے پندرہ منٹ میں ہوتی ہے۔پاکستانی شاہینوں نے انہی دس سے پندرہ منٹ میں خودکش مشن کیا جو کامیاب ہوا۔اس آپریشن کیلئے درجنوں پائلٹس نے رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا گیا تھا۔پائلٹس کو پتہ تھا اس مشن کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور واپسی کے امکانات اس سے بھی کم ۔بہت احتیاط اور ایک ایک سیکنڈ کی کیلکولیشن سے تیار کردہ مشن میں روسی دفاعی نظام کو جام کیا گیا ۔ دفاعی نظام کے اندھا ہونے کے ساتھ ہی خودکش مشن پر شاہین روانہ ہو گیا اور اگلے گیارہ منٹ میں پاکستانی فائٹر ایس 400 پر پہنچ چکا تھا ۔پائلٹ نے دفاعی نظام کی بیٹریوں کو میزائل سے نشانہ بنایا اور اپنے سارے میزائل استعمال کر لئے۔دفاعی نظام اصل میں اسکی بیٹریاں ہی ہیں وہ تباہ ہو جائیں پیچھے صرف لوہے کے پائپ بچتے ہیں جو سو سالہ بوڑھے کی طرح کھڑے نہیں ہو سکتے اور اسی وجہ سے کچھ پھینک بھی نہیں سکتے۔ دفاعی نظام کی جیمنگ ختم کرنے کے خودکار نظام کی بحالی سے دو منٹ پہلے اسکی بیٹریاں تباہ کر دی گئیں اور پاکستانی پائلٹ بھارتی فضاؤں میں قلابازیاں لگاتا واپس اگیا۔پائلٹ کے استقبال کیلئے ائر چیف خود موجود تھے ۔ارمی چیف اور وزیراعظم کو بھی فوری اس شاندار کامیابی سے آگاہ کر دیا گیا۔اس ناممکن مشن کی کامیابی میں کچھ ہاتھ آپریشن سیندور کے اگلے ہی روز چار رافال ،ایک مگ اور ایک سخوئی جیت کی تباہی کا بھی تھا۔بھارتی فضائیہ نے اپنے قیمتی طیارے تباہ ہونے کے بعد اپنی طیارے گراؤنڈ کر دئے تھے اور دور دراز کے فضائی مستقر منتقل کر دیے تھے ۔پاکستانی جیٹ صرف نو منٹ تک بھارتی فضاؤں میں رہا۔جب تک بھارتی پاکستانی جیٹ کو چیلنج کرنے کیلئے جوابی اقدام کرتے وہ روسی دفاعی نظام تباہ کر کے واپس بھی آگیا تھا۔بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت بھی پاکستان کی سمندری حدود سے ابھی بہت دور ہی تھا لاک کر لیا گیا تھا ۔بھارتی فوجی منصوبہ سازوں نے عقلمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے وکرانت کو لاک ہونے کا سگنل ملتے ہی واپس بلا لیا تھا۔وکرانت کو واپس نہ بلایا جاتا جنگ پھیل جاتی اور لامحدود تباہی خطہ کا مقدر بن جاتی۔پاکستان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا جبکہ بھارتیوں کے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ تھا۔وکرانت کی ممکنہ تباہی کی کوکھ سے ایٹمی جنگ کے خدشات پیدا ہو سکتے تھے بھارتیوں نے اسی جنگ سے بچنے کیلئے وکرانت واپس بلا لیا۔بھارتیوں کی اس برتری کی سوچ اور غلط فہمی کہ پاکستان ان کے سامنے کچھ بھی نہیں تبدیل کرنے کا سارا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور انکے کمانڈ سٹرکچر کا تھا۔فیصلہ یہی ہوا تھا بھارتیوں کو تمام تر موجود وسائل کے ساتھ پوری طاقت سے اس طرح جواب دیا جائے کہ بھارتی طویل مدتی جنگ کی شیطانی سوچ سے باہر نکل آئیں ۔جنگ کی طوالت پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تھی ۔جوابی حملہ میں بھارتیوں کے چار ہزار کلو میٹر کے فوجی اہداف کو گویا اس طرح میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جیسے لائیو نظر آرہے ہوں ۔سائبر وار فئیر سے پورے بھارت کے بجلی کی ترسیل کے نظام پر کنٹرول،ایس 400 کی تباہی ،اکتیس سے زیادہ فوجی تنصیبات پر کامیاب میزائل باری سے بھارتی سچ مچ بوکھلا گئے ،گھبرا گئے ۔”گھس کر ماریں گے”کا نعرہ لگا کر سرجیکل سٹرائیک کرنے والے بھارتی جنگ بندی کیلئے جلدی جلدی امریکی صدر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے ۔جنگ بندی تو ہو گئی لیکن بھارتیوں کے عزت خاک میں مل گئی ۔روایتی ہتھیاروں میں سبقت کا جو دعویٰ بھارتی گزشتہ پچاس سال سے کرتے آرہے ہیں وہ تین دن میں پاکستانیوں نے بلف ثابت کر دیا ۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔یہ عزت اور وقار ایک نوسر باز اور ایک جنرل باجوہ نے بھارتی پائلٹ واپس کر کے خاک میں ملا دیا تھا۔

’’کارٹل کا ڈاکہ یا واردات‘‘؟محاسبہناصر جمالکن چراغوں کی بات کرتے ہوسب ! چراغوں تلے اندھیرا ہےاگر ریاست کے بیٹے ہی، وارداتیوں اور ڈاکوئوں کے ساتھی بن جائیں۔ چوکیدار چوروں ڈاکووں اور لٹیروں کے دوست بن جائیں۔ تو پھر سفید دن میں ہی قومیں لٹتی ہیں۔ یہ پی۔آئی۔اے کی نجکاری نہیں بدترین ڈاکہ ہے۔ ایک میمن سیٹھ نے قلم کار کو کہا کہ جب’’دھندہ‘‘ کرنا شروع کیا تو’’باپ نے بلا کر نصیحت کی‘‘ ملازم چوری کرے تو کاروبار چلتا رہتا ہے۔ مالک خود چور بن جائے تو کاروبار نہیں چلا کرتا۔ اسی میمن نے کہا تھا کہ استاد نے کہا کہ بلی وہ رکھو جو شکار کرنا جانتی ہو۔۔۔ کہیں یہ نہ ہو سالی دودھ پیے اور سوتی رہے۔ اس قوم نے جو بلے اور بلیاں رکھی ہیں۔ وہ تو دودھ پیتے ہیں اور خراٹے لے کے سوتے رہتے ہیں۔ ویسے اس کے بارے میں قوم کا کیا خیال ہے۔۔؟قلم کار !!! ہر کسی سے سوال کر رہا ہے کہ ایک پراپرٹی جو 135 ارب کی بکتی ہے۔ بیچنے والا مالک، خریدنے والے کو کہتا ہے کہ مجھے 135 ارب میں سے 10ارب گیارہ کروڑ دے دو۔ بلکہ اس میں سے بھی فلحال صرف 6 ارب 78 کروڑ دے دو۔ 3 ارب 33 کروڑ سہولت کے ساتھ بھلے ،سال بھر میں دے دینا۔۔چلو !!!تم بھی کیا یاد کرو گے۔باقی 124 ارب 89 کروڑ، کا ایساکرنا۔۔۔ کہ جس پراپرٹی کے عارف بھائی آپ مالک ہیں۔ اس پراپرٹی کی توسیع اور مرمت پر لگا لینا۔ وہ تمہارے ہوئے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ کھربوں کے دیگر اثاثے بھی تمہارے ہوئے۔ جبکہ پراپرٹی پر 650 ارب کا قرض ہمارا ہوا۔ کیونکہ مجھے آپ کے کارٹل سے عشق ھوگیا ہے۔ محبوب پر سب کچھ قربان، اس سے حساب کتاب کیسا۔۔۔؟ ویسے بھی اپن کے کونسا باپ کا مال ہے۔حضور… ایسا دھندہ، دنیا کی تاریخ میں کہیں ہوا ہے۔۔ تو آپ مجھے بتا دیں۔؟ کوئی تو اس قوم کو بتائے اور سمجھائے۔؟؟؟جب پراپرٹی کے ذمہ کوئی قرض نہیں ہے۔ تو آپ اس میں مزید پیسے کیوں ڈالیں گے۔اس ضمن میں قوم کو کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اب پی ائی اے میں مزید پیسے نہیں ڈالنے پڑیں گے۔۔جبکہ PIA نے رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں گیارہ ارب منافع کمایا ہے. تو وہ خسارے میں کیسے ہوئی…پھر دوست کہہ رہے ہیں کہ “بِلو دی بیلٹ” لکھ رہے ہو….بھائی !!! یہ اثاثے میرے ہیں۔ جنہیں تم کوڑیوں کے بھائو، اپنے لاڈلوں میں اندھوں کی ریوڑیوں کی طرح تقسیم کر رہے ہو۔ اب میں، اس پر بولوں بھی نا…. زبان کو سی لوں….. سوگ بھی نہ مناوں۔۔۔بالوں میں خاک بھی نہ ڈالوں۔۔۔ دہائی بھی نہ دوں۔۔مرثیہ اور نوحہ خوانی تو کر لینے دو۔۔۔ اپنے بزرگوں کو تو رو لینے دو۔۔ اور نہیں تو 25 دسمبر کو جو ماتم واجب الادا ہے۔ اسے تو کر لینے دو۔۔۔ زنجیر زنی خود پر ہی تو کر رہے ہیں۔۔۔ ایک کالم کا نوحہ نہیں لکھنے اور تعزیہ بھی نہیں نکالنے دیتے۔۔۔؟ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پرسارے رینٹیڈ صحافی، بابو، سیٹھ، زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ جیسے حکومت اور “بدکاری کمیشن” نے کوئی معجزہ برپا کر دیا ہو…آج ریاست اپنے بچوں سے پوچھ رہی ہے۔۔۔ بولتے کیوں نہیں میرے حق میں آبلے….. پڑ گئے، زبان پہ کیا ؟ اب تو کوئی مجھ کو پوچھتا بھی نہیںیہی !!! ہوتا ہے خاندان میں کیا؟جون ایلیا….آخر اس ڈاکے یا واردات میں اتنی بھی کیا عجلت تھی۔؟پی۔آئی۔اے کی جو دستاویزات “کارٹلز” کو دی گئیں ہیں۔ وہ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئیں۔۔۔۔۔ جب قرضہ حکومت نے اپنے پاس ”پارک“ کر لیا تھا۔ تو پھر ایئر لائن کو تو کسی سبسڈی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیا 650 ارب کا قرض عارف حبیب کنسورشیم نے اپنے سر لے لیا ہے۔؟؟؟ اس کی ذمہ کونسی’’لائبیلٹی‘‘ ہے۔ذرا وہ بھی تو بتا دیں۔۔؟؟؟وہ 6 ارب، 78 کروڑ میں 18 جہاز، 50 ارب سے زائد کی بلڈنگز، 35 ارب کے رینو ویٹیڈ آفسز، 400 گاڑیاں، 64 روٹس، ملازمین کا 10 ارب روپے کا پراویڈنٹ فنڈ اور پی۔آئی۔اے کی ’’گڈول” فری میں لے اڑے۔ یہاں تو خالی نام اربوں میں فروخت ہوتا ہے۔ 64 روٹس کھربوں روپے کے تھے۔ سپیئر پارٹس، ہینگر، کس، کس اثاثے کی بات کریں۔ ایئر پورٹ ہینڈلنگ مشینری، مارکیٹنگ سسٹمز، کس کس کو روئیں۔۔۔۔حکومت نے اگر یہ کام اتنا ہی شفاف کیا ہے تو اثاثہ جات کی ابتدائی تخمینہ رپورٹ جو کنسلٹنٹ نے دی۔

وہ جاری کرے اور اس کے بعد بتائے کہ اس نے اس تخمینہ کی دوہری تصدیق کس سے کروائی ہے۔( ایک دوست کہہ رہے تھے اس ضمن میں جو کنسلٹنٹ ہائر کیا گیا ہے اس نے دنیا کی 17 بڑی ایئر لائنز کی ری اسٹرکچرنگ کی ہے۔۔ میں نے اسے کہا ہمارے والی کی ری اسٹرکچرنگ کرنے کی بجائے بیچی دی۔۔۔ وہ کہنے لگے کنسلٹنٹ سے جو کام لینے کے لیے کہا جاتا ہے۔ وہ کر دیتا ہے۔ اسے تو اپنی فیس سے غرض ہوتی ہے۔) حکومت کا یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے کہ اُسے اس سال بھی پی۔آئی۔اے میں اربوں ڈالنا تھے۔ 650 ارب کے قرضے، اپنے پاس پارک کر لینے کے بعد تو اس سال کم از کم 30 ارب منافع متوقع تھا۔ کیونکہ یورپ کے نئے روٹس کُھل گئے ہیں۔سیاستدان، بابو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ مل کر 78 سالوں سے بھرتیوں، مفادات اور وارداتوں کے رریعے ادارے برباد کرتے رہے۔ انہیں کس نے کوڑیوں کے بھائو قومی اثاثے بیچنے کا حق دیا ہے۔؟؟؟’’کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے‘‘۔ مگر اداروں کی بندر بانٹ بھی حکومتوں کا حق نہیں ہے۔کھربوں روپےجیب سے دیکر پونے سات ارب لے لینا، کہاں کی دانشمندی ہے۔یہ شریف، زرداری اور حافظ عاصم منیر، کیا اپنے کاروبار شوگر ملیں، فوجی فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، ڈی۔ایچ۔اے کو ایسے کسی سیٹھ کو فروخت کر سکتے ہیں۔؟؟؟کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی نہیں ہے۔ پہلے ہم غریبوں کے اثاثے برباد کرتےہو، پھر خود ہی بروکرز کے ذریعے خریدار بن جاتے ہو۔۔۔۔”اتنا بُرا سلوک میری سادگی کے ساتھ… یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج کے صحافی اپنا سب کچھ ہی گروی رکھ چکے ہیں۔ واچ ڈاگ صرف اپنی چھوٹی سی بوٹی سے خوش ہے۔ یہ اپنے اندر ضمیر، قلم، حب الوطنی، حتیٰ کہ انسانیت بھی دفن کرچکے…… منصفوں کی تو بات ہی نہ کریں۔ ظالم کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں۔ کوئی ان کے پاس نجکاری چیلنج کر بھی دے تو،،،،، فیصلہ کیا ھوگا۔ پہلے سے ہی سب کو معلوم ہے۔ جہاں ججوں کو انصاف نہیں مل رہا، وہ عوام کو کیا دیں گے۔پی۔آئی۔اے کی نجکاری قومی اثاثوں کی لوکل ’’اولیکس‘‘ ہے۔ اس کے بعد ہر طرف سے ایک جیسی آوازیں آئیں گی ’’سب بیچ دے‘‘ لے لے۔۔لےلے۔۔…ایسا لگتا ہے۔ملک میں انصاف سے لیکر ضمیر، مزاحمت سے لیکر خودداری، آئین سے لیکر قانون، سب کے سب رخصت ہو گئے ہیں۔ کہیں پر کوئی اصول نام کی شے نہیں بچی۔ بس ایک ہی نظریہ بچا ہے۔ جہاں ظالم کو دیکھو…. جی حجور، جی حجور، جی حجور کی گردان شروع کر دو۔ویسے ہی جناب عمر فاروقؓ یاد آئے۔ مولانا شبلی نے ”الفاروق“ میں لکھا ہے کہ امیر المومنین، مدینہ سے باہر پریشانی کے عالم میں جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ اتنے پریشان کہاں جا رہے ہیں۔ جواب دیا۔۔۔۔ بیت المال کی وہ بکریاں گم ہو گئیں ہیں۔ جن سے یتیموں کی کفالت ہوتی تھی۔۔۔۔ ساتھ ہی کہا کہ عمر نے آگے تھوڑی چیزوں کا حساب دینا ہے۔۔۔۔ اب ان بکریوں کا حساب بھی عمر کو دینا پڑے گا۔؟آج کے فاتحین نے کیا اس زاویے سے کبھی سوچا ہے۔۔قارئین !!!آج والے جو چھڑیاں اور انگلیاں ہلاتے نہیں تھکتے۔ ان سے پوچھنا چاہتا ہوں…. کیا انہوں نے یہی نجکاری والی فتح، اترتی یکھی تھی۔؟آج عارف حبیب اور اس کے کنسورشیم کو ہیرو اور قوم کا مسیحا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عارف حبیب کے حوالے سے تو صحافی زم زم، عنبر مشک کپور، چھڑک کر، عود میں نہائے باتیں کررہے ہیں۔ ان کی پاک بازی اور پاک دامنی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔۔ (جاوداں سیمنٹ اور اسٹیل مل کے نجکاری کے پیچھے تو یقنناً ہم عوام تھے۔)ویسے ہی صحافیوں سے پوچھنا تھا کہ کیا وہ ملک ریاض سے بھی زیادہ سخی ہیں۔ یا ملک ریاض کی غیر موجودگی میں نان نفقہ مشکل ہو رہا تھا۔تو نیا در دیکھ لیا ہے۔؟ کہاں گئی پیپلز یونٹی، اے۔کے۔ڈی کی غلام ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، سب کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔کہاں ہیں وہ خونخور اینکرز جو روزانہ “قیدی” کو چیر پھاڑ کر کھاتے ہیں۔ اُن کے گلوں سے ’اوں‘ تک کی آواز بھی کیوں نہیں نکل رہی۔؟ اگر عارف حبیب، اے۔کے۔ڈی، گوہر اعجاز اور سٹی سکول والے اتنے ہی بڑے “دماغ” ہیں۔ تو پونے سات ارب سے نئی ایئر لائن، جس کے پاس 64 روٹس اور کھربوں کے اثاثے ہوں۔ کھڑی کرکے دکھادیں۔یہ گدھ سیماب لوگ صرف قوم کا مردہ کھا سکتے ہیں۔۔۔سب دوست کہہ رہے ہیں۔ مت لکھو۔ بچوں کا سوچو۔۔۔۔۔ انقلابی بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جتنا لکھ دیا اتنا ہی کافی ہے۔کیا پاگل ہو گئے۔ ہو کن سے پنگا لینے چلے ہو۔کیا تمہیں نہیں پتہ کارٹل کے پیچھے کون ہے۔۔؟ میں انھیں صرف ایک بات کہتا ہوں۔ ابراہیم خلیل اللہ کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ایک ننھی چڑیا چونچ کے ذریعے مسلسل پانی ڈال رہی تھی۔ کسی نے چڑیا کو کہا کہ… اس سے آگ نہیں بجھنے والی۔۔۔۔ چڑیا نے ہنس کے کہا کہ مجھے بھی معلوم ہے۔ مگر میں روز قیامت اللہ کے حضور… اتنا دعویٰ تو رکھوں گی۔ جو میری بساط تھی۔ میں نے تیرے دوست کو بچانے کے لیے اتنی کوشش تو کی تھی۔ میں تاریخ کے اس موڑ پر، نواز شریف، زرداری، انٹرنیشنل ہوٹل لاھور کی نجکاری والا عمران خان اور علامہ اشرفی نہیں، ننھی چڑیا بننا پسند کروں گا۔ میرے چند قطرے اور نحیف کوشش اللہ کے حضور حاضر ہے۔۔۔۔جیسے تخلیق میں خالق کا ہنر بولتا ہے گھر کے ماحول کا لہجے میں اثر بولتا ہے جسم کے ساتھ جڑا ہو یہ ضروری تو نہینسل اچھی ہو تو نیزے پہ بھی سر بولتا ہے

قصر شاہی کے ستوں کانپنے لگ جاتے ہیں مصلحت چھوڑ کہ اے دوست، ڈر بولتا ہے بزدلی خوف کے پردوں میں چھپی رہتی ہے جبر کو آنکھ دکھاتا ہے، نڈر بولتا ہے اِک آواز اٹھانے میں، یہ برکت دیکھی اب ! میرے ساتھ یہاں سارا نگر بولتا ہے خامشی توڑ کے بولوں گا میں ایسے شاہد جس طرح ! کسی دیوار میں ، در بولتا ہے(شاہد خیالوی)

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان شازیہ مری نے گڑھی خدابخش میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، شازیہ مری سکھر سے گڑھی خدابخش پہنچی اور مزار پر حاضری دی انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر شہداء کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی اس وقت ملک بھر سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور کارکنان گڑھی خدابخش پہنچ رہے ہیں جہاں شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو کی 18ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کریں گے۔

*🚨(1) پی ٹی آئی کا بریڈ فورڈ میں احتجاج، پاکستان کے ڈیمارش پر برطانیہ نے شواہد مانگ لیے🚨(2) بریڈ فورڈ احتجاج، اگر برطانیہ میں کوئی جرم ہوا تو پولیس کو شواہد فراہم کیے جائیں، برطانوی ہائی کمیشن🚨(3) پی ٹی آئی احتجاج میں عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں، پاکستان کا برطانوی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ🚨(4) بریڈ فورڈ مظاہرے پر قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب، ڈیمارش جاری🚨(5) پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے آرمی چیف کے قتل کے مطالبے کی ویڈیوز زیر گردش ہیں، پاکستان نے برطانیہ کو خط لکھ دیا🚨(6) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا قافلہ لاہور پہنچ گیا، پنجاب اسمبلی میں آمد🚨(7) وزیر اعلیٰ کے پی، سہیل آفریدی کے سکیورٹی گارڈز اور پنجاب اسمبلی کے گارڈز کے درمیان ہاتھا پائی🚨(8) سہیل آفریدی کو خوش آمدید، یہ پاکستان کا یورپ دیکھنے لاہور آئے ہیں، وزیراطلاعات پنجاب🚨(9) پنجاب حکومت کی مہمان نوازی سب نے دیکھ لی جہاں سہیل آفریدی کی آمد پر رکاوٹیں لگادی گئیں، کے پی حکومت🚨(10) 9 مئی مقدمات کا تفصیلی فیصلہ جاری؛ پی ٹی آئی رہنما محمود الرشید کو 33 سال قید کی سزا🚨(11) 9مئی مقدمات کا تحریری فیصلہ، یاسمین راشد اور عمر چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا🚨(12) یو اے ای کے صدر کی وزیراعظم و فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں، تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق🚨(13) شہباز شریف اور شیخ بن زاید النہیان کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال🚨(14) یو اے ای کے صدر شیخ زاید النہیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ، پرتپاک استقبال، فضائی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش🚨(15) ’’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘‘، صدر یو اے ای کی پاکستان آمد پر خصوصی استقبالی نغمہ جاری🚨(16) فیلڈ مارشل سے اردن کی مسلح افواج کے سربراہ کی ملاقات، دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ🚨(17) پراپرٹی اونرشپ کیس: عدالتی حکم کے باوجود کسی نے زمینوں پر قبضے دلوائے تو نتائج کیلئے تیار رہے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ🚨(18) کراچی: گیارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا🚨(19) بنگلادیش: عثمان ہادی کے قتل کیخلاف انقلاب منچہ کا دھرنا، انصاف کے حصول تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان🚨(20) بھارت: گاؤں میں مسجد کی تعمیر کیلئے سکھ خاتون نے 5 مرلے زمین عطیہ کردی🚨(21) پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کیخلاف درخواست، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس🚨(22) سکیورٹی فورسز کی کوہلو میں کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشت گرد جہنم واصل🚨(23) نفرت کی سیاست ختم ہونی چاہیے، زبردستی کی حکومت ہم پر مسلط کی گئی: مولانا فضل الرحمان🚨(24) اپوزیشن اتحاد نے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کو حتمی شکل دے دی🚨(25) لاہور میں بسنت پر بسیں اور رکشے فری چلانے کا اعلان🚨(26) پی ٹی آئی نے کبھی بھی مذاکرات کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا: اختیار ولی خان🚨(27) نارکوٹکس سبسٹینسز ترمیمی بل 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش ہوکر متعلقہ کمیٹی کو ارسال🚨(28) خیبرپختونخوا حکومت نے سرمائی تعطیلات کے دوران امتحانات لینے پر پابندی عائد کر دی🚨(29) بلوچستان پولیس کے شہدا پیکیج کے تحت ملنے والی مالی معاونت میں اضافہ🚨(30) پی ٹی آئی ایک طرف مذاکرات ، دوسری جانب مزاحمت کی بات کرتی ہے: فیصل کریم کنڈی🚨(31) مانسہرہ: جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق🚨(32) کراچی: 27 دسمبر کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری🚨(33) شہر قائد میں ای چالان سسٹم کا نفاذ، کے ایم سی افسر و ملازم جرمانہ خود ادا کریں گے🚨(34) آصفہ بھٹو زرداری کی گڑھی خدابخش آمد، ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری🚨(35) کراچی میں 4 روزہ عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوگیا🚨(36) ڈکی بھائی دس لاکھ روپے کا چیک گفٹ ملنے پر تنقید کی زد میں آگئے🚨(37) وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری🚨(38) لائیو پروگرام میں اچانک کیا ہوا تھا؟ احسن اقبال نے واقعے کی حقیقت بتادی🚨(39) سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 73 ہزار روپے سے زائد ہوگیا🚨(40) حملے کے بعد شہزاد اکبر کا بیان سامنے آ گیا، سوشل میڈیا پر وائرل تصویر جعلی قرار🚨(41) لکی مروت میں انتہائی مطلوب کمانڈر نصرت اللّٰہ مولوی ہلاک🚨(42) کراچی پورٹ پر تاریخی کارروائی، اسکریپ کے کنٹینر سے لاکھوں ڈالر مالیت کی 47 کلو گرام کوکین برآمد

نیو ائیر پارٹیز منانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کیوں زیادہ ہوتا ہے ۔ موسم سرما کی تعطیلات شروع ہوگئی ہیں ۔ نئے سال کی آمد آمد ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ہر سال ان دنوں میں خاص طور پر کرسمس کی شام ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کی شرح میں تیس فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اگر آپ دل کے مریض ییں ۔ آپ کی انجیوپلاسٹی ہوگئی ہے یا بائی پاس آپریشن ہوگیا یے یا آپ کو حال ہی میں ہارٹ اٹیک ہوا ہے یا آپ ہائی بلڈپریشر اور شوگر کے مریض ہیں یا آپ کا وزن بہت زیادہ ہے تو ان دنوں میں بہت احتیاط کریں ۔ نیو ائیر پارٹیز میں جانے سے احتراز کریں ۔ مرغن نمکین کھانے ۔ تمباکونوشی اور ڈرگز ۔ شراب نوشی ۔ رات تک جاگنا ۔ ذہنی دباؤ ۔ سرد موسم ۔ یہ سب ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئیر پیدا کر سکتے ہیں ۔ آپ کا دل بہت قیمتی یے ۔ ان عارضی جذباتی لمحات میں اپنے دل کو شدید نقصان سے بچائیں ۔ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔ لاہور ۔ پاکستان ۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے ، شاندار استقبال*وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے۔معزز مہمان کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فضائی سلامی دی

*متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے ، شاندار استقبال*وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے۔معزز مہمان کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ، پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے فضائی سلامی دی۔اماراتی صدر کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اماراتی صدر کا دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔امارات کے صدر کے دورہ پاکستان کے تناظر میں اسلام آباد میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر یو اے ای۔۔۔پاکستان آمد متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے استقبال کیاراولپنڈی۔26دسمبر :متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے

—صدر یو اے ای۔۔۔پاکستان آمدمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے استقبال کیا

راولپنڈی۔26دسمبر :متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔شیخ محمد بن زاید النہیان اپنے طیارے سے باہر آئےتو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔

روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے یو اے ای کے صدر کو پھول پیش کئے۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ یو اے ای کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جیسے ہی ان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے انہیں سلامی دی۔شیخ محمد بن زاید النہیان کے اعزاز میں نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جس کا انہوں نے معائنہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے تعارف کرایا

جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔دونوں ممالک کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا،متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بچوں سے ہاتھ ملایا اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور پر بھی بات چیت ہو گی۔

افغان میڈیا کے مطابق تنخواہیں ایسے وقت میں معطل کی گئی ہیں جب سردیوں کے باعث بیشتر خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔۔۔*سرحدی جھڑپ؛ افغانستان سے تاجکستان میں دراندازی کرنے والے تین حملہ آور ہلاک۔۔کوئٹہ بلدیاتی انتخابات روک دئیے گئےالیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشنز روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*👈کیا مریم نواز کا یہ اقدام درست ہے؟**💥وزیراعلیٰ پنجاب کا سکھ برادری کو ہیلمٹ کے قانون سے مستثنیٰ قرار دینے کا اعلان*لاہور: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے سکھ برادری کو بائیک پر ہیلمٹ پہننے کے قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا، ساتھ ہی انہوں ںے اقلیتی کارڈ کی تعداد 75 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے سکھ برادری کو بائیک پر ہیلمٹ پہننے کے قانون سے مستثنیٰ قرار دینے کا اعلان کیا۔ مریم نواز ںے کہا کہ سکھ برادری کو پگڑی پہننے کی وجہ سے ہیلمٹ سے مستثنی کردیا گیا ہے، پگڑی کے سبب انہیں ہیلمٹ پہننے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے، پنجاب وہ صوبہ ہے جس نے واقعی اقلیتوں کو اپنے سر کا تاج بنالیا ہے، حکومت کی کامیابی کا معیار اقلیتوں کا محفوظ ہونا ہے، اگر کوئی اقلیتوں کو نقصان پہنچائے گا یا ان کا حق مارے گا تو ریاست پوری قوت سے ٹکرائے گی۔

کوئٹہ بلدیاتی انتخابات روک دئیے گئےالیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشنز روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیاوفاقی آئینی عدالت کے حکم پر کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشنز روکے گئےکوئٹہ میں بلدیاتی الیکشنز 28 دسمبر کو شیڈول تھے

ایرانی فورسز نے کا خلیج فارس میں 40 لاکھ لیٹر ایندھن سے بھرا جہاز پکڑ لیا 🔹 ایران کی بحریہ کے پہلے ریجن کے کمانڈر سردار غلام شاہی نے بتایا کہ سپاہ نیوی کے پہلے ریجن کے جوانوں نے مکمل انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک انتہائی منظم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا جو 40 لاکھ لیٹر اسمگل شدہ ایندھن لے جا رہا تھا۔ اس جہاز پر 16 غیر ملکی افراد بطور عملہ موجود تھے اور یہ جہاز اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے کی کوشش میں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاز کا مقدمہ مزید قانونی کارروائی کے لیے عدالتی اداروں کو بھیج دیا گیا ہے

*شام میں ترکیہ کے وزیر خارجہ پر اسرائیل کے خلاف بولنے پر پابندی* جیسے ہی ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے دمشق میں ہونے والی پریس کانفرنس میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے بارے میں بات شروع کی، ان کی بات کاٹ دی گئی اور اجلاس کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔

سیکورٹی فورسز نے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو گرفتار ھلاک کرنے کا سلسلہ جاری۔۔شھزاد اکبر کا 50 ارب کا لین دین پاونڈ واپس نہ کرنے پر لتر پریڈ۔۔پاکستانی خفیہ میزائل جن سے پورا بھارت ہل گیا 72 گھنٹے اھم۔۔ پاکستان کی طاقت مساوی مواقع اور مذہب و ذات سے بالاتر آئینی اقدار پر قائم اتحاد میں ہے۔۔۔ برطانوی سرزمین پہ بیرسٹر شہزاد اکبر پر دوسرا حملہ برطانوی ایجنسیوں کی خاموش تائید کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لین دین۔۔دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے۔۔ بھارت: ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں رنز کے انبار، سوالات اٹھنے لگے۔ دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے۔۔ ’ تمیز کے دائرے میں رہنا‘ سرفراز احمد کا جملہ۔شھباز حکومت خطرے کی گھنٹی بج گئی 4 بڑے مالیاتی سکینڈل۔اقلیتوں کو مکمل آزادی ہے۔بنگلا دیش نیشنل پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمان 17 سال بعد ڈھاکا واپس پہنچ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی کے چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی اور مسیحی برادری کے ساتھ تہوار منایا۔ انہوں نے قومی ترقی و سلامتی میں پاکستانی مسیحیوں کی خدمات اور افواجِ پاکستان میں ان کی نسل در نسل قربانیوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی طاقت مساوی مواقع اور مذہب و ذات سے بالاتر آئینی اقدار پر قائم اتحاد میں ہے۔

دو ھزار چھبیس 2026 کا مصنوعی ذھانت کا سین انقلابی ھے- فوائد اور خطرات- مصنوعی ذھانت کے ایجنٹ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ھونگے- ٹریلن ڈالر مزید انوسٹ ھونگے- ڈیٹا سنٹر کی ضروریات بڑھ رھی ہیں – اسی طرح sim, semi conductors کی ضروریات بھی- لیتھم کی ضروریات- حکومتیں ان سب کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں- جیو پالیٹکس کا انحصار اب ایک بھی بجائے درجنوں دوسرے معاملات کے ساتھ جڑ گیا ھے- جنگوں کی نوعیت تبدیل ھو گئی ھے- سیاست اب نیا مشغلہ بن گیا ھے – انجوائے کریں

میسی صدی کے عظیم ترین کھلاڑی بن گئے؛ رونالڈو کا نمبر کیا رہا؟اس فہرست میں مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے 25 عظیم کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے

بھارت: ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں رنز کے انبار، سوالات اٹھنے لگےٹورنامنٹ کے پہلے دن 18 میچز میں مجموعی طور پر 22 سینچریاں بنیں جبکہ ایک میچ میں ڈبل سینچری بھی اسکور کی گئی

دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے1979 اور 1980 میں اپنی ٹیم کو تاریخی کامیابی دلوانے والے عظیم کھلاڑی ہمیشہ کیلیے مداحوں کو اداس چھوڑ گئے

’ تمیز کے دائرے میں رہنا‘ سرفراز احمد کا جملہ ایشیا کپ کی فتح سے زیادہ وائرلسوشل میڈیا صارفین نے سرفراز کو مینٹور مقرر کرنے کے پی سی بی کے فیصلے کی تعریف کی اور انہیں پرجوش، بے لوث اور ایماندار قرار دیا، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو دباؤ اور سیاست زدہ مقابلوں میں خود پر قابو رکھنا سکھا رہے ہیں

پنجاب حکومت، میڈیا ہاؤسز اور خاتون منصف بمقابلہ خاتون وزیراعلٰیپنجاب حکومت نے پہلے ’پولیس مقابلوں‘ کے ذریعے ’سستا اور بروقت انصاف‘ فراہم کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد ’پولیس مقابلوں‘ کے ’سستے طریقے‘ سے ’منشیات فروشی/فروشوں‘ کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔اور اب صوبائی حکومت نے پراپرٹی آرڈیننس جاری کرا کے 90 دنوں میں عوام کو ’فوری قبضے‘ دلانے کے لیے ٹریبیونلز تشکیل دیے کیونکہ سرکاری دعوے کے مطابق ’عدالتیں ناکام ہو چکی ہیں۔‘اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمے کی سماعت کے دوران ’سخت‘ ریمارکس دیے اور پھر آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا۔عدالتی حکم کے مطابق صوبائی حکومت کا جاری کردہ آرڈیننس ملکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’یوں لگتا ہے سرکاری وکلا نے یہ قانون پڑھا ہی نہیں۔

اگر یہ قانون اسی طرح لاگو ہونا ہے تو پھر جاتی امرا (شریف خاندان کے محلات) کو بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جا سکتا ہے۔‘دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے بڑے اور غیرجانبدار میڈیا ہاؤسز نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے یہ سارے ریمارکس اس طرح رپورٹ نہیں کیے۔آج کے روزنامہ ڈان نے اس کیس کو تمام ریمارکس کے ساتھ مکمل رپورٹ کیا۔اب وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ناپسندیدگی کے اظہار کے ساتھ کسی حد تک سخت بیان جاری کیا ہے تو ملک کا ’سب سے بڑا اور غیرجانبدار‘ میڈیا ہاؤس اُس کو ’پورے کا پورا‘ رپورٹ کر رہا ہے۔

اور بار بار ہیڈلائنز کے ساتھ کر رہا ہے۔صوبے کی وزیراعلٰی کہتی ہیں کہ قانون سازی حکومت کا کام ہے جبکہ صوبے کی منصف اعلٰی کہتی ہیں کہ آئین کے تحت ضابطہ کار اختیار کرنا ضروری ہے یعنی Due process of law۔ دیکھتے ہیں ’سستے انصاف‘ سے شروع ہونے والا ’سستے قبضوں‘ کا یہ سفر کہاں جا کر رکتا ہے۔ویسے 8 فروری کے الیکشن کے ’نتائج‘ سے وجود میں آںے والی ن لیگ کی پنجاب حکومت کی وزیراعلٰی اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تیسرے نمبر سے لاہور ہائیکورٹ کی منصف اعلٰی بننے والی دونوں شخصیات کو ’ویمن امپاورمنٹ‘ پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

3 وفاقی وزراء برطرف؟ 8 اھم ترین غیر ملکی شخصیات کی آمد شادی کی تقریبات اسلام آباد مکمل طور پر سیل 8 اھم ترین غیر ملکی شخصیات کی آمد شادی کی تقریباتعرب امارات اور سعودی عرب میں پھڈا۔۔پاکستان کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے سہیل رانا لائیو میں

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق 6 ماہ میں دوسرے آرمی چیف کا قتل.. دونوں ارمی چیف کا قائل اسرائیل ھے.. ایسا عذاب آنے والا ہے جس کے لئے حکومیں تیار نہیں ۔۔۔سرکاری ملازم دیواروں سے سر ٹکرا کر اپنا اور ریاست کا سر پھوڑ رہے ہیں۔شالیمار تھانے میں تعینات سب انسپکٹر اور سابق ایس ایچ او تھانہ لوئی بھیر سہیل اشرف ،خاتون ڈاکٹرکو ہراساں کرنے کی الزام میں۔۔نجکاری یا حرام کاری ذمہ دار کون۔۔دلھن عارف حبیب فاطمہ فڑٹلائر اور کون۔40 بیورو کریسی کے شکرے لاپتہ آسمان کھا گیا یا زمین۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA): ایک قومی ادارے کی داستانِ عروج و زوالپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) محض ایک فضائی کمپنی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، ریاستی وقار اور عالمی سطح پر نمائندگی کی علامت رہی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے ایک دور میں پاکستان کو ہوابازی کے میدان میں ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کا رہنما بنا دیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی ادارہ بدانتظامی، مالی خسارے اور سیاسی مداخلت کا شکار ہو کر زوال کی داستان بن گیا۔—قیام اور ابتدائی دورPIA کی بنیاد 1946 میں اورینٹ ایئرویز کے نام سے رکھی گئی، جو قیامِ پاکستان کے بعد 1955 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی صورت اختیار کر گئی۔ اس وقت پاکستان ایک نیا ملک تھا اور قومی ایئر لائن کا قیام دنیا کو یہ پیغام دینے کے مترادف تھا کہ پاکستان جدید، خود مختار اور ترقی کی راہ پر گامزن ریاست ہے۔ابتدائی برسوں میں PIA نے:کراچی سے لندن کی براہِ راست پروازیں شروع کیںجدید طیارے اپنے بیڑے میں شامل کیےایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پروازیں پھیلائیںیہ وہ زمانہ تھا جب PIA کو ایشیا کی بہترین ایئر لائن قرار دیا جاتا تھا۔—سنہری دور (1960–1970 کی دہائیاں)1960 اور 1970 کی دہائیاں PIA کا سنہری دور کہلاتی ہیں۔ اس دور میں:PIA دنیا کی پہلی ایئر لائن بنی جس نے بوئنگ 707 کو ایشیا میں متعارف کرایافضائی سروس، وقت کی پابندی اور مسافر سہولت میں مثال قائم کیکیبن کریو، پائلٹس اور انجینئرز عالمی معیار کے تھےدیگر ممالک کی ایئر لائنز نے PIA سے تربیت حاصل کییہی وجہ ہے کہ کہا جاتا تھا:> “PIA was a role model airline for the world.”—زوال کا آغازوقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ 1980 کے بعد PIA کو جن مسائل نے گھیر لیا، ان میں نمایاں تھے:1. سیاسی مداخلتحکومتی اثر و رسوخ، غیر پیشہ ورانہ تقرریاں اور سفارش کلچر نے ادارے کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا۔2. مالی خسارہPIA مسلسل خسارے میں جاتی رہی۔ غیر ضروری ملازمین، ناقص فیصلے اور غیر منافع بخش روٹس نے نقصان بڑھایا۔3. انتظامی کمزوریاںنجی اور غیر ملکی ایئر لائنز جدید جہاز، بہتر سروس اور کم کرایوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں جبکہ PIA پرانا نظام لیے کھڑی رہی۔4. عالمی ساکھ کو نقصانحادثات، تاخیر، یورپی فضائی پابندیاں اور اندرونی بدانتظامی نے PIA کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔—PIA اور قومی تشخصاس کے باوجود PIA نے کئی مواقع پر قومی خدمات انجام دیں:قدرتی آفات میں امدادی پروازیںبیرونِ ملک پاکستانیوں کی واپسیحج و عمرہ آپریشنزجنگی اور ہنگامی حالات میں قومی ذمہ داریاںیہ تمام خدمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ PIA محض تجارتی ادارہ نہیں بلکہ قومی خدمت کا ادارہ بھی رہا ہے۔—نجکاری کی بحث اور مستقبلPIA کے مسلسل خسارے کے باعث حکومتِ پاکستان نے نجکاری کا فیصلہ کیا۔ حالیہ برسوں میں:حکومت پر مالی بوجھ بڑھتا گیاقومی خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی رہینتیجتاً نجکاری کو واحد حل سمجھا جانے لگانجکاری کے حامیوں کے مطابق: ✔ ادارے میں پیشہ ورانہ نظم آئے گا✔ خسارہ کم ہوگا✔ سروس کا معیار بہتر ہوگاجبکہ مخالفین کا مؤقف ہے: ✖ ملازمین کا مستقبل غیر یقینی ہوگا✖ قومی اثاثہ ہاتھ سے نکل جائے گا—نتیجہپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی تاریخ دراصل پاکستان کی اپنی تاریخ کا عکس ہے—ایک شاندار آغاز، ایک روشن دور، اور پھر غلط فیصلوں کا بوجھ۔اگر PIA کو خلوصِ نیت، پیشہ ورانہ قیادت اور سیاسی مداخلت سے پاک انتظام دیا جائے تو آج بھی یہ ادارہ دوبارہ عالمی سطح پر اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ PIA کی بحالی صرف ایک ایئر لائن کی بحالی نہیں، بلکہ قومی وقار کی بحالی ہے۔Arif habib group 135 Billion Bid winner….پی آئی اے کے 75فیصد حصص 135 ارب روپیہ میں حاصل کرنے والے عارف حبیب کراچی کے ایک میمن خاندان میں نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کا خاندان بانتوا، گجرات سے تھا، جہاں ان کے پاس چائے کا کاروبار اور کئی جائیدادیں تھیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد، انھوں نے اپنے کاروبار کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی۔ ان کی تعلیم دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوئی اور انھوں نے کبھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لیا۔ 1970ء میں، انھوں نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بروکریج انڈسٹری میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جسے ان کے بھائی نے خریدا تھا۔ 1970 میں، 17 سال کی میں حبیب نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی اسٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) میں اسٹاک بروکر کی حیثیت سے کیا، جسے ان کے بڑے بھائی نے رکھا تھا جنھوں نے تجارتی لائسنس خرید رکھا تھا۔ ان کی ماہانہ تنخواہ 60 روپے تھی۔ انھوں نے اپنے دن ٹریڈنگ ہال میں سرمایہ کاروں کے حصص اور بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے گزارے، جس کا وہ اسٹاک کے بارے میں ان کے علم میں حصہ ڈالنے کا سہرا دیتے ہیں۔ 1992ء میں حبیب کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا صدر منتخب کیا گیا اور انھوں نے اسٹاک ٹریڈنگ سسٹم کو کمپیوٹرائز کیا۔ وہ مزید پانچ بار پاکستان سٹاک ایکسچینج کے صدر منتخب ہوئے۔

لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد علی الحداد سمیت آٹھ سینئر فوجی افسران ترکی میں ایک المناک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کا شکار ہونے والا فوجی طیارہ ترک دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس جا رہا تھا۔ترک حکام کے مطابق پرواز کے کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد ازاں طیارے کا ملبہ انقرہ ایئرپورٹ سے تقریباً 105 کلومیٹر دور ایک دیہی علاقے سے برآمد ہوا۔حادثے میں تباہ ہونے والا طیارہ فالکن 50 جٹ تھا، جو 37 سالہ پرانا جہاز تھا۔

اگست 2020 میں محمد علی احمد الحداد کو لیبیا کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری اس وقت کے وزیر اعظم فیاض السراج نے کی، تقرری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب لیبیا طویل عرصے سے سیاسی انتشار اور عسکری تنازعات کی لپیٹ میں تھا۔اس وقت لیبیا عملی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ دارالحکومت طرابلس میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت قائم ہے، جس کی قیادت عبدالحمید دبیبہ کر رہے ہیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں طاقتور فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی زیرِ قیادت الگ انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہی تقسیم ملک میں پائیدار استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔لیبیا میں جاری یہ بحران 2011 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا، جب نیٹو کی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں دہائیوں سے اقتدار پر قابض رہنما معمر قذافی کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد سے ریاستی ادارے کمزور ہوتے چلے گئے اور ملک مسلسل بدامنی کا شکار رہا۔علاقائی سطح پر ترکی کا کردار خاص طور پر نمایاں ہے، جو طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ ترکی نہ صرف اقتصادی معاونت فراہم کرتا رہا ہے بلکہ دفاعی تعاون بھی اس تعلق کا اہم حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اور باہمی دورے لیبیا کی سیاسی و عسکری صورتحال میں ترکی کے اثر و رسوخ کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔۔

نجکاری یا حرام کاری….؟جاوداں سیمنٹ، PSM، پی،آئی،اے، دلہن اور عارف حبیب !محاسبہناصر جمالاے پیشہ ورو ! اس برگد کو بھی تراش دو سنا ہے! اس کی ٹہنیوں میں دودھ بے شمار ہے پی آئی اے (PIA) کی نجکاری کا ”پنڈورا باکس“ کھل گیا ہے۔ نجکاری ہونی چاہیے۔مگر اس کی آڑ میں حرام کاری “جرم” ہے۔ نجکاری کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ گھر کا “سلور گولڈ” کوڑیوں کے بھاؤ، لاڈلوں کو بیچ دیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کا گذشتہ سال کا منافع 26 ارب ہے۔ پی آئی اے کے 777 (ٹریپل سیون) ایک بوئنگ جہاز کی قیمت 400 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ یہاں ایئر لائن ہی 48 ملین ڈالر میں بیچ دی گئی ہے۔ حکومت کے حصہ میں صرف ساڑھے تین ملین ڈالر آئیں گے۔ ساڑھے 44 ملین ڈالر خریدنے والا، ایئر لائن پر لگائے گا۔ یعنی ایئر لائنز صرف 10.2 ارب روپے میں بیچی گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے چوہدری منظور کہہ رہے ہیں کہ پی آئی اے کے ملازمین کا پراویڈنٹ فنڈ 20 ارب، بلڈنگز تقریباً 50 ارب کی ہیں، 10 ارب کے سپیئر پارٹس ہیں۔ 400 گاڑیاں، فرنشڈ دفاتر، 64 انٹرنیشنل لینڈنگ روٹس جو آج 640 ارب روپے میں بھی نہیں ملتے۔ 25 سال سے چلنے والی ایئر لائنز، سخت ترین کوششوں کے باوجود یہ روٹس نہیں لے سکیں۔ ان کا کہنا ہے، پی آئی اے پر قرضہ 650 ارب کا، مگر اثاثے ہزاروں ارب کے ہیں۔ گذشتہ سال 13 جہازوں کے ساتھ 26 ارب کا PIA نے منافع کمایا ہے۔ اسی سال 6 ماہ میں ساڑھے گیارہ ارب کا منافع کمایا گیا ہے۔ 10 ارب کے سپورٹنگ آلات ہیں۔یورپین روٹس کھلنے سے 40 فیصد مزید منافع آنا تھا۔پی آئی اے کا انتظامی خرچ 16 فیصد پر ہے۔سری لنکن اور ایتھوپیا جیسی ایئر لائن کے اخراجات 22 فیصد پر ہیں۔ پی آئی اے کے اثاثوں کے متعلق ابھی اور بہت سے ہوشربا انکشافات ہوں گے۔جیسے پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثوں کے متعلق ہوئے تھے۔قارئین!!! منصوبہ تو روز ویلٹ، سکرائب پیرس وغیرہ کو بھی ہضم کرنے کا تھا۔ فی الحال اسے موخر کیا گیا ہے۔ شاطر جانتے ہیں کہ ٹھنڈا کر کے کھانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر جو اکاؤنٹس اس نجکاری کو عظیم انقلاب قرار دے رہے ہیں ان کے بارے میں پوری قوم جانتی ہے یہ کون لوگ ہیں۔ ان کا تو ایک ہی ماٹو ہے کہ ”مینوں نوٹ ویکھا میرا موڈ بنے۔۔۔۔کراچی، منگھوپیر کے علاقے میں جاوداں سیمنٹ ہوا کرتی تھی۔ یہ 1961 میں قائم ہوئی۔ اس کا ابتدائی نام ویلیکا سیمنٹ لمیٹڈ تھا۔ 1972 میں بھٹو نے اسے نیشنلائز کر لیا۔ 2006 میں نجکاری کے پردے میں یہ عارف حبیب کے زیر انتظام آئی۔ 2010 میں اسے بند کر دیا گیا۔ 1367 ایکڑ زمین پر عارف حبیب نے مشہور زمانہ نیا ناظم آباد ہاؤسنگ پروجیکٹ کھڑا کر دیا۔ ماشاءاللہ، نجکاری کامیاب ہوگئی۔ مل کی روح آسمانوں پر پرواز کر گئی۔ صرف چار سالوں میں بندش کا ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا۔کیا کبھی کسی حکومت نے اس بارے میں ان سے پوچھا۔؟ یا شرائط ہی ان سے پوچھ کر بنائی گئی تھیں؟اسی سال 2006ء میں عارف حبیب کا نام اسٹیل مل کی نجکاری میں خوب گونجا۔ ان کی نظریں اسٹیل مل کے 18660 ایکڑ زمین پر تھیں۔ 10390 ایکڑ پر پلانٹ، 8070 ایکڑ پر ٹاؤن شپ، 200 ایکڑ کا واٹر ریزوائر ہے۔ اسے 22 ارب میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اسٹیل مل کے پاس اس وقت کیش فلو 7 ارب سے زائد کا تھا۔ اتنی ہی مالیت کا فنش اور اس سے زائد مالیت کا غیر فنش سامان تھا۔ انوینیٹری ان پراسیس اربوں میں تھی۔ صرف 6 ماہ پہلے 65 کروڑ کی سٹیل ملز نے نئی گاڑیاں خریدی تھیں۔65 میل لمبا میٹل ٹریک تھا۔ اپنی جیٹی تھی۔اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ اسٹیل مل ”عارف بھائی“ کو دلہن کی طرح سجا کے پیش کی جا رہی ہے۔ بعدازاں اعتزاز احسن کو عارف حبیب کی جانب سے کیس لڑنے پر من پسند فیس کی آفر بھی کی گئی تھی۔اعتزاز احسن انکاری ہو گئے۔ان کا موقف تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں تقریر کر چکے ہیں۔اب اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ وہ یہ کیس نہ لیں۔پھر سپریم کورٹ نے اس نجکاری کو ختم کر دیا۔ یہیں سے مشرف اور شوکت عزیز کا افتخار چوہدری کا جھگڑا شروع ہوا۔آج قلم کار کو بھی یقین ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی طرح ایک بار پھر پی آئی اے بھی عارف حبیب اور اس کے ساتھیوں کو دلہن کی طرح سجا کے پیش کی جاچکی ہے۔ ایسے میں فوجی فرٹیلائزر کی کنسورشیم میں شمولیت کی خبر آچکی ہے۔فوجی فرٹیلائزر ابتدائی بولی سے خود باہر نکل گیا تھا۔ اس پر ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ایک طرف وفاقی حکومت اور اس کے جید ترین وزراء اپنے سوشل میڈیا کے ” موکلوں“ کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ پھر اسی وفاق کی ذیلی سروس، افواج پاکستان کو کیسے کاروبار کا حق دیا جاسکتا ہے۔ ان کی دکانیں بھی تو بند کروائی جائیں۔ان کے شٹر کیوں ڈاؤن نہیں کیے جاتے۔کیا ہم نے انہیں کاکول میں کاروبار کرنے کی تربیت دی تھی۔یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ہو یا آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، یہ حقیقت نہیں بدل سکتی۔ کیا حکومت کل پی۔ او، ایف واہ ۔ کامرہ، شپ یارڈ جیسے ادارے ایسے ہی چلاتی رہے گی۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لانا ہے تو پھر ان اور دیگر سمیت ماری پٹرولیم کو بھی بیچا جائے۔ جس میں وفاقی حکومت کے 50٪ حصص ہیں۔ امید ہے پر اس پر”ڈاکہ” نہیں ڈلہ ہو گا۔ ماری پٹرولیم تو ایک عرصہ سے وفاق کاحصہ ماننے سے ہی انکاری ہے۔ حالانکہ یہ کمپنی 50/ 50 فیصد برابر سرمایہ کاری پر قائم کی گئی تھی. عوام کے اس مال کا تحفظ کون کرے گا؟میں تو اس لیے بھی ہوں خاکِ وطن کا محافظ یہ بھی بے غریبوں کی کمائی میرے بھائی دشمن تجھے کیسے نظر آنے لگیں دشمن تو نے نہیں دیکھے بھائی ! میرے بھائی (رام ریاض)عارف حبیب کے ساتھی کون ہیں۔ عقیل کریم ڈھیڈی، کو کون نہیں جانتا، وہ کس کا بندہ ہے۔ وہ کس کے لیے۔سب کچھ مینج کرتا ہے۔اسٹاک ایکسچینج میں اتنے ”بلڈ باتھ“ ہوئے اج تک کسی اسٹاک کنگ کا کچھ بگڑا۔ایک اسٹاک کنگ کے خلاف تو کیس سپریم کورٹ تک جا پہنچا تھا۔ کبھ حجازیوں کی بجائے SECP میں کچھ پاگل بھی ھوا کرتے تھے۔ کنسورشیم کا ایک رکن سٹی پرائیویٹ سکول ہے۔پوری قوم اندازہ کر لے تعلیم کتنا منافع بخش کاروبار ہے کہ اب ایک سکول والا بھی ایئر لائن خرید رہا ہے۔ لیک سٹی کے روح رواں،گوہر اعجاز تو کسی تعارف کے ہی محتاج نہیں۔آصف زرداری نے انہیں اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ جب وہ اپٹما کے ان داتا تھے۔ دونوں گیس کمپنیوں کے ایم ڈی ان کے جلال سے تھر تھر کانپتے تھے۔اسحاق ڈار لندن سے حکم دیتے کہ پہلے گوہر اعجاز کی بات سنو وگرنہ تم دفتر سے گھر ہی نہیں جاسکتے۔ اور ایم ڈی رات کو تین تین بجے دفتر سے گھر گئے۔ وہ، محسن نقوی کے 24 ٹی وی کے سرپرست بھی ہیں، حافظ صاحب کی نظر کرم سے، نگران دور میں تجارت کے وزیر رہے۔ابھی تو عارف حبیب معاہدے کے مطابق کسی انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بھی اپنے کنسورشیم میں شامل کر چکے ہیں۔ جبکہ فوجی فاؤنڈیشن کا تو آج مبینہ طور پر اعلان ہوا ہے۔پاکستان کے چھوٹے بچے سے لے کر ایک نابینا تک جانتا ہے کہ یہ پورا میلہ کس کے لیے سجایا گیا تھا اور پی آئی اے کے ”اصل مالکان“ کون ہیں۔ حکومت کو 135 ارب میں سے صرف 10.11 ارب ملیں گے۔ 125 ارب جو کے 92٪ فی صد شیئر ہے۔ کنسورشیم، اپنی نئی نویلی پی آئی۔اے کی بحالی اور توسیع پر خرچ کرے گا۔ 25٪ بقیہ حصص پر حکومت کو ایک سال پریمیم ملے گا۔ جسے کنسورشیم ایک سال تک کسی بھی وقت خرید سکتا ہے۔ ظاہر ہے کنسورشیم 25 فیصد بقایا حصص بھی لازمی لے گا۔قارئین !!!سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ حکومتی ملکیتی ادارے، ساڑھے آٹھ سو ارب روپے سالانہ کھا رہے ہیں۔ ان میں سے پی آئی اے، 25 ارب کھا رہا تھا۔ (پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کا مت پوچھیے گا۔ وہ ور ان کے فصلے ھمیں کتنے کھربوں میں پڑتے ہیں)ہم نے اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا ۔ جبکہ ہم 400 ارب کے قریب فوجی پینشن بھی تو سویلین بجٹ سے ہی دے رہے ہیں۔ یعنی بات 1200 ارب سے اوپر ہے۔اگر 800 یا 1200 ارب سے جان چھڑانی ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ گھر کے اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیں گے۔ یہ لوٹ مار کا مال تو نہیں ہے جو لٹیروں کو لاٹھیوں کے گز بیچ دیا جائے۔؟؟؟کیا اس ملک کو اب کارٹل بنا کر لوٹا جائے گا۔آپ سے پی آئی اے نہیں چل رہی تھی۔ شاھد خاقان عباسی کو 25 سال کے لیے دے دیتے۔اسے کہتے منافع 50/50 ہوگا جبکہ خسارے میں ہم حصہ دار نہیں ہوں گے.وہ نہیں مانتے تو، آپ جہاز ، بلڈنگز، نام ۔۔گڈول اور روٹس کی الگ الگ بولی لگوا لیتے۔ اب اپ ہمیں یہ بھاشن مت دیجیے گا کہ اپ کو باقائد اعظم کی پی آئی اے سے عشق ہے۔اور آپ اسے کے لئے مرے جارہے ہیں۔ ھم قائد کے پاکستان سے آپ سب کی کمٹنٹ دیکھ نہیں بھگت رہے ہیں۔اب حضور۔۔۔ پاکستان کو ایسے تو فروخت نہ کرو۔ چند کوڑیوں کے عوض، اتنی رسوائی۔ اس سے بہتر ہے، آپ اسے بند کر دیتے۔نثار میمن نے روز ویلٹ کی نجکاری یہ کہہ کر روکی تھی کہ روز ویلٹ مین ہٹن نیویارک میں واقعہ ہے۔ وہاں پر صرف پاکستان کا جھنڈا لگا رہے تو خسارہ نہیں ہے۔ ہم ہوٹل کو بند کر دیں گے لیکن پاکستان کا جھنڈا لگا رہے گا۔ لگتا ہے۔اب والوں میں تو خُو، غیرت خودداری سب کچھ ہی چند سکوں کے عوض داؤ پر لگا دی ہے۔ صرف ملی نغموں سے کام چلا لیتے ہیں۔ سیاست دانوں، بابوؤں اور ملازمین (سیاسی بھرتیوں) نے ادارے کو برباد کر دیا۔ ایک نوجوان نے ریونیو 64 کروڑ سے اٹھا کر ساڑھے چار ارب کے قریب پہنچا دیا۔ ادارے نے اسے ہی نشانِ عبرت بنا دیا۔ انجینیئر ایئر لائن اور جنگی پائلٹ مارکیٹنگ دیکھ رہے ہیں۔ یہ تجربے کیا ہم عوام نے کیے ہیں۔؟

اسٹیل مل کو کس نے بند کیا تھا۔جب وہ منافہ کے قریب پہنچنے لگی۔ کون کون شامل تھا۔۔؟؟؟ کس کس کا سٹیل کا کاروبار تھا؟؟؟ہم کب کہہ رہے ہیں۔ خسارے سے نہ بچو۔ ضرور بچو۔ چاہے ادارے بند کر دو۔ ایسے تو نہ بیچو۔ اندھوں کی طرح، اپنوں میں تو ریوڑیاں نہ بانٹو۔آپ خسارے کی وجہ سے نجکاری چاہتے ہیں نا۔؟؟؟پی آئی اے قرضہ 650 ارب روپے ہے۔ اپ کے نزدیک اس کا حل نجکاری ہے۔آج پاکستان ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا مقرض ہے۔ سالانہ خسارہ اربوں ڈالر کا ہے۔ آپ سے ملک نہیں چل رہا۔ کیا پاکستان کو بھی بیچ دیں گے کیا….؟لوگ اور نظام بدلنا حل ہے۔ یا ملک بیچنا حل ہے۔؟؟؟ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جسے نشئی کہتے تھے وہ جیل میں ایکسرسائز کر رہا ہے۔اور جو تندرست ہیں وہ گھر کی چیزیں بیچ رہے ہیں۔۔ویسے ہی جاپانی ہائیکو یاد آگئیسب کچھ بیچ کھایا ہےایک پڑیا کی خاطر ابکاغذ چن کر لایا ہے۔۔MCB، یو بی ایل، کی نجکاری کی فیوض و برکات گنواؤں کیا۔؟پاکستان کی عسکری، سیاسی، بیوروکریٹک اور سیٹھ نسل اور نسلیں، ناکام ہو چکی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اقتداد ایجنٹوں کی بجائے عوام کو منتقل کر دیا جائے۔ آپ یقین کیجئے عوام اس سے مراد عمران خان تو قطعاً نہیں ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ تباہی مچائے گا۔اس کی ٹیم میں عثمان بزدار،محمود خان، رزاق داؤد، زلفی بخاری،فرح گوگی، پیرنی، فواد چوہدری اور حماد اظہر جیسے وسیم اکرم پلس ہوں گے۔۔۔۔لیکن اگر وہ پھر بھی عوام کی چوائس ہے تو ایک بار پھر عوام کو اپنا شوق پورا کر لینے دیں۔ عوام جانیں اور وہ جانے….آپ ایکسٹینشن کے چکر میں شوق پورے کرنے سے باز رہیں۔ ریاست پرابلم میں ہے۔ اسے اپنا راستہ خود بنانے دیں۔ آپ برائے مہربانی، ہماری جان چھوڑ دیں۔ یا پھر ہمیں بتا دیں کہ ھم سب یہ ملک چھوڑ دیں….؟قحط سالی سے رہائی کی یہی دو صورتیں ہیں یا تیرا خون بہے یا میرا فن برسےیہی دعا ہے !!! مری، اے ارضِ وطن تجھ پہ ! بادل کی طرح میرا جیون برسے میرے شعروں پہ کسی شخص نے بھی داد نہ دی تری ! آواز پہ سکے بھی چھناچھن برسے (رام ریاض)

کچے کے ڈاکوؤں نے اپنے ایک جزیرہ کا نام تحریک انصاف کے سربراہ کے نام پر کچہ عمرانی رکھا ہوا تھا ۔گرفتار ڈاکوؤں کا کہنا ہے کہ پولیس کاروائی میں متعدد ساتھیوں سمیت مارے جانے والا گروپ کا سربراہ انور اندھڑ عمران خان کا شیدائی تھا ،کہتا تھا اس طرح لوٹ مار کرو پورا ملک چیخ اٹھے لیکن کچھ کر نہ سکے ایک علاقہ کچہ کراچی اور ایک علاقہ کچہ رجوانی بازیاب کروایا گیا ہے جہاں جدید ترین اسلحہ کےبہت بڑے زخائر ملے ہیں۔

کچے کے علاقہ میں پولیس اور رینجرز آپریشن کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں۔ڈرون حملوں میں اب تک دو درجن سے زیادہ ڈاکو مارے جا چکے ہیں ۔بڑی تعداد میں زخمی ہیں ۔ڈاکووں کی اکثریت فرار ہو رہی ہے ۔اب تک اغواء کئے گئے چھ افراد بازیاب ہو چکے ہیں۔بڑی تعداد میں جدید ترین اسلحہ برآمد ہو چکا ہے ۔اس مرتبہ پریشن کی نگرانی رینجرز کر رہی ہے۔ڈاکووں کا علاج کرنے والے جس ڈاکٹر اور ڈسپنر کو کچے کے علاقہ سے پکڑا گیا ہے وہ بھی رینجرز نے اپنی تحویل میں لے لئے ہیں ۔

خاک سے اڑان تک حبیب جالب اور حبیب رفیق تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

✈️🌟 عارف حبیب — خاک سے اُڑان تکپی آئی اے خریدنے والے عارف حبیب کون ہیں؟ کراچی کی تنگ گلیوں میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ گھر میں آسائشیں کم تھیں، مگر اس کے خواب… آسمان سے بھی اونچے تھے اور اس لڑکے کا نام تھا عارف حبیب ہجرت کے بعد اس کے خاندان نے نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ تعلیم میٹرک تک تھی، مگر سیکھنے کا جنون کسی بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں تھا۔ 1970 میں اس نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک چھوٹے بروکر کی حیثیت سے قدم رکھا۔ وہ روزانہ گھنٹوں مارکیٹ کو دیکھتا، سمجھتا، اور نوٹ کرتا وقت گزرتا گیااس کی ایمانداری، محنت اور تیز نظر نے اسے دوسروں سے آگے نکال دیا۔ وہ چھوٹا بروکر آہستہ آہستہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہونے لگا۔پھر ایک دن اس نے وہ قدم اٹھایا جس نے اسکی زندگی بدل دی اس نے عارف حبیب گروپ کی بنیاد رکھی ۔ ایک ایسا گروپ جو آج اسٹیل، سیمنٹ، فرٹیلائزر، انرجی، رئیل اسٹیٹ اور فنانس جیسے بڑے شعبوں میں کام کرتا ہے۔عارف حبیب صرف ایک بزنس مین نہیں وہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے والوں میں سے ایک ہے۔1️⃣ ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار دیااس کے گروپ کی کمپنیوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار چلتا ہے۔ اس نے ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جہاں نوکریاں کم تھیں، اور لوگوں کو باعزت روزگار ملا۔2️⃣ Naya Nazimabad — کراچی کا نیا چہرہایک ایسا ہاؤسنگ پروجیکٹ جس نے ہزاروں خاندانوں کو محفوظ، صاف اور جدید رہائش فراہم کی۔ یہ پروجیکٹ کراچی کی ترقی کی علامت بن گیا۔3️⃣ اسٹاک مارکیٹ کو بحرانوں سے نکالاوہ کئی بار پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین رہے۔ مشکل وقتوں میں انہوں نے مارکیٹ کو سنبھالا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، اور ملکی فنانشل سسٹم کو مضبوط کیا۔4️⃣ انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاریانہوں نے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ لگا کر ملک میں توانائی کی کمی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔عارف حبیب کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو کم لوگ جانتے ہیں وہ دل سے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔1️⃣ Arif Habib Foundationیہ فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، کھیل، اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔ غریب خاندانوں کی مدد، اسکولوں کی سپورٹ، اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا اس کے اہم مقاصد ہیں۔2️⃣ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی سپورٹوہ مختلف اسپتالوں، ٹرسٹس، اور تعلیمی اداروں کو فنڈنگ دیتے ہیں، تاکہ غریب مریضوں کا علاج ہو سکے اور بچوں کو تعلیم مل سکے۔3️⃣ کھیل اور نوجوانوں کی ترقیNaya Nazimabad میں اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور کھیلوں کی سہولیات ان کی اس سوچ کی علامت ہیں کہ “صحت مند نوجوان ہی مضبوط قوم بناتے ہیں۔”✈️ اور آج… سب سے بڑا سنگِ میلاس نے پاکستان کی قومی ایئرلائن PIA کا 75٪ حصہ خرید لیا۔135 ارب روپے کی اس تاریخی ڈیل نے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی پرائیویٹائزیشن ہے۔اور انہوں نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا اور مزید 20 طیارے مزید پی آئی اے میں لائے جائیں گے۔ایک وقت تھا جب وہ اسٹاک مارکیٹ کے باہر کھڑے ہو کر سینئر بروکرز کو دیکھتا تھا۔ آج وہ ایک ایسی ایئرلائن کا مالک ہے جس کے جہاز دنیا بھر کے آسمانوں پر اُڑتے ہیں۔🌤️ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں — یہ امید کی کہانی ہےیہ کہانی بتاتی ہے کہ:“کامیابی ڈگریوں سے نہیں، حوصلے سے ملتی ہے ” “اصل طاقت حالات میں نہیں، انسان کے اندر ہوتی ہے۔” “اگر نیت صاف ہو اور محنت سچی… تو ایک میٹرک پاس لڑکا بھی قومی ایئرلائن کا مالک بن سکتا ہے۔”