2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ہوئی اس وقت کی سپریم کورٹ میں یہ کیس لیکر جایا گیا تو اس وقت چیف جسٹس افتخار چوہدری بن چکا تھا تو افتخار چوہدری نے اس کیس کو ٹیک اپ کیا- اور یوں سٹیل ملز کی نجکاری کے عمل کو غیر شفاف اور غیر قانونی قرار دیا- کیا آپ جانتے ہیں اس وقت بھی ایک کنشورشیئم بنا تھا اور اس کنشورشیئم کی سربراہی عارف حبیب ہی کررہا تھا—جی ہاں یہی عارف حبیب جس نے آج کنشورشیئم بنا کر پی آئی اے کو خریدا– آپ دیکھ رہے ہیں عاصم چوہدری کی وال اور اس خبر کی پوری اصلی اور نیوٹرل تفصیل جاننے کے لیئے جڑے رہیئیے ہمارے ساتھ- اور ہمارے پیج پر فالو کے بٹن کو دبادیجیئے- سٹیل ملز کی نجکاری کے لیئے عارف حبیب کی قیادت میں ایک کنسورشیم بنا جس میں التوارکی گروپ سعودی عرب، میگنیٹوگورسک آئرن اینڈ سٹیل ورکس روس اور عارف حبیب سیکورٹیز لمیٹڈ نے 75 فیصد شیئر ساڑھے 21 ارب روپے میں (21.68 ارب) خرید لیا- -جون 2006 میں سپریم کورٹ نے اس پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق اس نجکاری کو غیر قانونی اور غیر شفاف قرار دیا- اس میں جن چیزوں کو جواز بنا کر یہ فیصلہ دیا گیا ان کی تفصیل میں یہاں بیان کردیتا ہوں تاکہ ایک پوسٹ جو وائرل ہورہی اس میں موجود کچھ انفارمیشن خراب ہونے کے باعث جگ ہنسائی نہ ہوجائے- سپریم کورٹ کے فیصلے میں عارف حبیب پر ذاتی طور پر فراڈ یا کرپشن کا براہ راست الزام نہیں لگایا گیا تھا بلکہ نجکاری کے مجموعی عمل میں پروسیجرل ایرریگولیریٹیز کی نشاندہی کی گئی- جو کہ سرکاری ملازمین کی طرف کی گئی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ سب عارف حبیب کو فائدہ پہنچانے کے لیئے کی گئی ہیں مثلا کنشورشیئم کی تشکیل ہی غیر قانونی قرار دی گئی- رولز کے مطابق کنسورشیم جس وقت بننا چاہیئے تھا اس وقت نہیں بنایا گیا بلکہ بولی کے بعد بنا۔ کچھ آف شور کمپنیاں (ماریشس بیسڈ) شامل کی گئیں جن کے دستاویزات کورٹ میں پیش نہیں کیے گئے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سٹیٹ فنکشنریز کی غلطیوں سے کنسورشیم کے ممبر عارف حبیب کو فائدہ ہوا- پاکستان سٹیل ملز کے اثاثوں (زمین، مشینری، انوینٹری) کی ویلیو اربوں روپے تھی (زمین اکیلی 250 ارب کی بتائی جاتی تھی)، لیکن سارا کچھ مل ملا کر 21.68 ارب میں بیچی جا رہا تھا۔پھر بولی صرف 30 منٹ میں ختم ہوگئی اور سٹیل مل پر اس وقت سارے قرضے پہلے ادا کر دیے گئے تاکہ سٹیل مل ڈیٹ فری بکے- اور یہی سارے کام تقریبا اب پی آئی اے کو بیچنے کے وقت بھی کیئے گئے ہیں– جیسے 18 طیاروں کی قیمت 70 ارب سے زائد، 170 پریمیم سلاٹس کی موجودگی جن میں ایک سلاٹس کی قیمت 30 ملین ڈالر- اس کے علاوہ آپریشنل آفسز، اور دوسری بہت سی چیزیں– اور پھر پی آئی اے کا قرضہ زیرو کرکے یعنی ڈیٹ فری کرکے عارف حبیب اینڈ کنشورشیئم کو دیا گیا–
*ایک گھنٹے میں قتل کیس حل، اے ایس پی شہر بانو نے بھارتی ڈرامے سی آئی ڈی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا*سوشل میڈیا پر ایک پوڈکاسٹ کا کلپ غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے، جس میں ایس پی شہر بانو نقوی ایک سنجیدہ گفتگو کے دوران اچانک موصول ہونے والی فون کال کے بعد انٹرویو ادھورا چھوڑ کر روانہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کال سنتے ہی اے ایس پی شہر بانو میزبان کو یہ کہہ کر رخصت ہوتی ہیں کہ ایک قتل کا واقعہ پیش آ گیا ہے اور انہیں فوری جانا ہوگا۔ ’’آپ اس ہی طرح رہیں ، ایک مرڈر ہوگیا ہے ، میں بس آتی ہوں‘‘۔یہ پوڈ کاسٹ ایک معروف یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا، جہاں گفتگو کے دوران اسکرین بلیک آؤٹ ہوتی ہے اور ناظرین کو بتایا جاتا ہے کہ ایک گھنٹے بعد اے ایس پی شہر بانو واپس آتی ہیں۔ پوڈ کاسٹ دوبارہ وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں رکی تھی۔ میزبان ان کی واپسی پر ان کی پیشہ ورانہ وابستگی کو سراہتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ اس دوران کیا پیش آیا، جس پر اے ایس پی مختصر جواب دیتی ہیں کہ قتل کا واقعہ تھا۔مزید گفتگو میں اے ایس پی شہر بانو نقوی اس قتل کی تفصیلات بھی بیان کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ڈیفنس کے علاقے میں لین دین کے تنازع پر ایک دوست نے دوسرے دوست کو قتل کردیا اور بعد ازاں مقتول کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنالیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مقتول کے رشتے دار بیرونِ شہر سے واپس آئے اور فون کالز کا جواب نہ ملا تو انہوں نے دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو کر صورتحال دیکھی۔ گھر کی مالکن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، جنہوں نے اشاروں کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد اہلِ خانہ نے تھانے جا کر اطلاع دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔یہ پوری تفصیل پوڈ کاسٹ میں محض چند منٹ کے لیے دکھائی گئی، تاہم یہی حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے انٹرویو کی سب سے نمایاں جھلک بن گیا۔ وائرل کلپ کے بعد سوشل میڈیا پر طنز ، تنقید اور تبصروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔کئی صارفین نے اس واقعے کو طنزیہ انداز میں لیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اے ایس پی نے پوڈ کاسٹ کے دوران ایک گھنٹے میں قتل کا کیس حل کر دیا، جو غیر معمولی رفتار ہے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ جتنی دیر میں یہ کیس حل ہوا، اتنی دیر میں وہ ایک تعلیمی سوال بھی حل نہیں کر پاتے۔ بعض صارفین نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایک گھنٹے میں نہ صرف ملزم کی گرفتاری بلکہ مکمل کہانی سامنے آجانا حقیقت پسندانہ ہے؟دوسری جانب کچھ صارفین اے ایس پی شہر بانو نقوی کے حق میں بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پولیس افسر نے ڈیوٹی کو ذاتی مصروفیت پر ترجیح دی، جو قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی اور افسر کو ایسی اطلاع ملتی تو شاید وہ موقع واردات پر جانے کے بجائے ماتحت عملے کو ہدایات دے کر معاملہ نمٹا دیتا، مگر شہر بانو نقوی نے خود جا کر ذمے داری نبھائی۔تاحال اے ایس پی شہر بانو نقوی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر جاری بحث میں یہ سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ چاہے واقعہ حقیقی ہو یا نہیں، کیا اسے اس انداز میں ریکارڈ کرکے ایڈیٹ شدہ شکل میں عوام کے سامنے پیش کرنا ضروری تھا؟ یہی سوال اس پوڈ کاسٹ کو محض ایک انٹرویو سے بڑھا کر ایک متنازع بحث میں تبدیل کرچکا ہے۔
*💥ہم دفاعی قوت کو دفاع کے اعتبار سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں، مولانا فضل الرحمان**🌼سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، فـلسـطـین فوج بھیجنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے، سربراہ جے یو آئی**🔴یہ بات انہوں نے کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ گورنر سندھ نے مولانا فضل الرحمان کو اعزازی ڈگری سے نوازا۔*
صدر آصف علی زرداری کی بغداد میں زیاراتِ مقدسہ پر حاضریصدر مملکت نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کیصدر مملکت نے کاظمیہ مقدسہ میں امامِ موسیٰ الکاظمؑ اور امامِ محمد التقیٰ الجوادؑ کے روضوں پر حاضری دیصدر مملکت نے روضۂ کاظمیہ میں امتِ مسلمہ کے امن، اتحاد اور سلامتی کے لیے دعا کیصدر آصف علی زرداری نے روضۂ کاظمیہ میں زائرین کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیےصدر مملکت نے ائمۂ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو علم، صبر، حکمت اور اخلاقی قوت کا دائمی سرچشمہ قرار دیاصدر آصف علی زرداری کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے مزار پر بھی حاضریصدر نے تمام مزارات کے منتظمین اور مبلغین سے بھی ملاقاتیں کیں
*بریکنگ**سری لنکا میں بدترین سمندری طوفان، پاکستان کے ریلیف آپریشن کی راہ میں بھارتی حکومت کی تنگ نظری اور پاکستان دشمنی حائل*مودی سرکار کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی: انا کی تسکین کیلئے خطے کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگابھارتی حکومت نے فضائی حدود کی بندش کر کے سری لنکا میں پاکستان کے ریسکیو آپریشن میں حائل ہو گئیسمندری طوفان ڈٹوہ نے 28 نومبر کو سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دیسر ی لنکا میں سمندری طوفان ڈٹوہ کے باعث کئی افراد ہلاک، زخمی جبکہ ایک بڑی تعداد بے گھر ہو گئیحکومت پاکستان اور عوام اس مشکل گھڑی میں اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیںسمندری طوفان کے بعد وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی خصوصی ہدایاتپاک فوج کی 45 رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم این ڈی ایم اے اور پاک فضائیہ کی مدد سے سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا روانگی کیلئے تیارسری لنکا بھیجی جانے والی ریسکیو ٹیم ترکیہ میں بھی ناگہانی آفت کے دوران اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے چکی ہے بھارت نے اس انسانی ہمدردی کے مشن کیلئے فضائی اجازت دینے سے انکار کردیااین ڈی ایم اے نے 100 ٹن صلاحیت والے تجارتی کارگو طیاروں کے ذریعے امداد بھیجوانے کی بھی کوشش کیان طیاروں کی روانگی بھی بھارتی فضائی حدود کی بندش سے مشروط ہونے کے باعث سست روی کا شکار ہےپاکستان کی امدادی کھیپ اور ریسکیو ٹیم کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کیلئے زیادہ وقت درکار ہےبھارتی فضائی حدود کی بندش کے باعث 100 ٹن امدادی سامان بحری راستے سے 8 دن میں سری لنکا پہنچے گاامدادی سامان میں ریسکیو کشتیاں، پمپس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، کمبل، دودھ، خوراک اور ادویات شامل ہیںپاک بحریہ کا پی این ایس سیف جو انٹرنیشنل فیلٹ ریویو 2025 کیلئے کولمبو میں موجود تھا امدادی سرگرمیاں میں پہلے ہی مصروف عمل ہےتمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان سری لنکا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رکھے گابھارتی حکومت کا اس ناگہانی صورتحال میں فضائی حدود کی بندش کا فیصلہ انسان دشمنی کی بڑی مثال ہے
بادبان نیوز سروساہم ترین—وزیراعظم ۔۔۔ظہرانہوزیراعظم کا ایشیا کپ کی فاتح انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کا اعلان، ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، شہباز شریف
اسلام آباد۔22دسمبر (بادبان):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انڈر 19 ایشیا کپ کی فاتح پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ وہ پیر کو یہاں انڈر 19 کرکٹ ٹیم ایشیا کپ کی فاتح انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ظہرانے سے خطاب کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے علاوہ ٹیم کے کھلاڑی اور پی سی بی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیر اعظم نے ٹیم کو شاندار جیت پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ایشیا کپ کی فاتح ٹیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم، انتظامیہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشیں اور محسن نقوی کی محنت قابل قدر ہیں۔ وزیراعظم نے علی رضا اور سمیر منہاس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے تمام کھلاڑیوں، کوچز اور دیگر سٹاف کو شاباش دی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔
وزیراعظم نے ہر کھلاڑی کیلئے ایک ایک کروڑ روپے اور ٹیم مینجمنٹ کے ہر رکن کیلئے 25، 25 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں فتح سے قوم نے بھرپور خوشیاں منائیں۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ انڈر 19 ٹیم کی جیت ہمارے لئے بڑا اعزاز اور تاریخی دن تھا۔
ٹیم کے کپتان اور کھلاڑیوں نے انعامات کے اعلان پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے بھرپور تعاون ملا ، کوچز نے کیمپس کے دوران بھرپور محنت کرائی۔
*فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا گیا*پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ریاض میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔پاکستان سعودی دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور سٹریٹجک تعاون کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے پر سعودی عرب نے انہیں کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک میں نئے صاف و شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرائی جائیں اور واضح کیا ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتخابات پر کھڑی ہے، انتقال اقتدار میں عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے تحریک تحفظ آئین پاکستان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور نئے صاف شفاف انتخابات انعقاد کروانے کا مطالبہ کرتی ہے۔اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ قومی کانفرنس کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کروائی جائیں اور عدلیہ پر حملوں، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منصور علی شاہ سمیت تمام ججوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، ان کی اہلیہ، ان کے بہنوں اور سیاسی عمائدین کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے۔قومی کانفرنس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی یقینی بنائی جائے، عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر لگی پابندی فوراً ختم کی جائے۔اپوزیشن اتحاد نے پیکا کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اس سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا
کہ مطیع اللہ، ایمان مزاری، ہادی چھٹا سمیت دیگر کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے، مقدمات بنائے جا رہے ہیں، جس کی مذمت کرتے ہیں اور ان جھوٹے مقدمات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اپوزیشن اتحاد نے غزہ میں پاک فوج بھیجنے کے حوالے سے چھائی دھند کو ختم کرکے سب کو اعتماد میں لینے کا بھی مطالبہ کیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی کانفرنس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کمی لائے جائے، لوگوں پر عائد ٹیکسز میں کمی کی جائے، لوگوں کو لاپتہ کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں، مہارنگ بلوچ سمیت دیگر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے امن جرگے کے متفقہ لائحہ عمل پر عمل کیا جائے، پی ٹی آئی سے پابندی ہٹائی جائے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان افغانستان کے ساتھ بگڑے ہوئے حالات ٹھیک کرنے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کرتی ہے۔صوبائی امور پر مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں اس کا حصہ دیا جائے، معدنیات صوبے کی عوام کی منشا کے بغیر کسی کو نہیں دیے جاسکتے لہٰذا معدنیات سے متعلق صوبے کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔قومی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ہم 8 فروری کو بین الاقوامی طور پر یوم سیاہ منائیں گے اورعوام کو متحرک کرنے کے لیے مرکزی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، بانی پی ٹی آئی سے بھی اسٹریٹ موومنٹ کی ہدایات آئی ہیں، اس حوالے سے صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں مشاورتی کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ اپوزیشن نے طلبہ یونین پر عائد پابندی بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
نایاب ہار، گھڑی اور ڈنر سیٹ تک نہیں چھوڑا گیا ، طلال چودھریہم نے منع نہیں کیا ، آپ کے بچے آپ سے نہیں ملنا چاہتے، طلال چودھریہمدردی حاصل کرنے کیلئے قید تنہائی کا کارڈ نہ کھیلیں، طلال چودھریجیل میں ان کو جتنی سہولیات حاصل ہیں وہ کسی کو نہیں ملیں، طلال چودھریبانی پی ٹی آئی کے بچے پاکستان آئیں، مکمل سکیورٹی دی جائےگی، طلال چودھری
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور غیر قانونی طور پر بیرون ممالک سفر کے خلاف اقدامات پر اجلاساجلاس کو بیرون ملک غیر قانونی سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں اور اقدامات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ یورپ کے ممالک میں غیر قانونی ہجرت، ورک ویزا، وزٹ و ٹورسٹ ویزا کا غلط استعمال، آف لوڈنگ اور ڈی پورٹیشن کی اہم وجوہات ہیں۔ ایئر پورٹس پر ای-گیٹس کا نظام فعال کرنے پر کام جاری ہے۔ غیر قانونی سفر روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔”- ایمیگریشن کا نظام بہتر بنانے کے حوالے سے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔”وزیراعظماجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو 191 رنز سے شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔پاکستان کی جانب سے ملنے والے 348 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم 26.2 اوورز میں 156 رنز بناکر ڈھیر ہوگئی۔بھارت کی جانب سے دیپیش دیویندرن 36 رنز کیساتھ نمایاں رہے، سوریا ونشی 26، ارون پٹیل 19، ارون جارج 16 رنز بنا کر چلتے بنے جبکہ کنشک چوہان اور ویدانت چوہان 9، 9 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔پاکستان کی جانب سے علی رضا نے 4، محمد صیام، عبدالسبحان اور حذیفہ احسن نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔قبل ازیں دبئی میں کھیلے گئے انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 347 رنز سکور کیے اور بھارت کو جیت کے لیے 348 رنز کا ہدف دیا۔بھارت کے خلاف سمیر منہاس نے 17 چوکے اور 9 چھکوں کی مدد سے دھواں دھار 172 رنز کی اننگز کھیلی، انہوں نے 103 رنز محض 71 گیندوں پر بنائے، سمیر اس ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر ہیں۔اس کے علاوہ احمد حسین نے 56، عثمان خان نے 35، کپتان فرحان یوسف نے 19 اور حمزہ ظہور نے 18رنز بنائے۔ محمد صیام 13 اور نقاب شفیق 12رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔بھارت کی جانب سے دپیش دیوندرن نے 3، کھیلان پٹیل اور ہینل پٹیل نے 2-2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان کی شاندار فتح پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیم کو مبارکباد دی۔
*اسلام آباد۔۔۔۔وزارتِ مذہبی امور نے حج 2026 کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی**اسلام آباد۔۔۔ عازمینِ حج کو سعودی عرب لے جانے اور واپس پاکستان لانے کے لیے 4 فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے طے پا گئے ہیں**اسلام آباد۔۔۔ وزارت نے پی آئی اے، سعودی ایئرلائن اور دو پاکستانی نجی فضائی کمپنیوں کے ساتھ حتمی معاہدے کیے ہیں**اسلام آباد۔۔۔ حکومت عازمین کو محفوظ اور بروقت سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔*
🚨 *پاکستان ہمارا سچا اتحادی ہے، یہ دوستی قیامت تک رہے گی: صدر اردوان*ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان ترکیہ کا سچا اور کھرا اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی قیامت تک قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک ترک تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔بحری پلیٹ فارمز کی شمولیت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ مکمل کامیاب آزمائشوں کے بعد جدید جنگی جہاز PNS خیبر پاکستان بحریہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بحریہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چار ملگیم (MILGEM) بحری جہازوں کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تھا، جس پر کامیابی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
نصر من اللہ وفتح قریب : کچے کے ڈا۔کؤؤں کا انجام قریب : ریاست کو چیلنج کرنے کا انجام : چند روز قبل اینٹی ائیر۔کر۔افٹ گن خرید کر فورسز کو دھم۔کیاں دینے والا ظفری چھبیل کچے میں آپریشن کے دوران پار کردیا گیا ، تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس ، پنجاب پولیس اور پاکستان رینجرز کے ایک مشترکہ مشن میں کچے کے متعدد ڈا۔کوؤں کو واصل جہنم کیا گیا ہے ، کئی زخمی اور درجنوں ڈا۔کو ٹھکانے چھوڑ کر بھاگ گئے ، ان ٹھکانوں سے بڑی مقدار مین گو۔لہ بارو۔د ، موبائل فونز ، جدید ترین ہتھیار ، را۔کٹ لا۔نچرز کے علاوہ ڈا۔کوؤں کے بیوی بچے بھی ملے ہیں ۔۔۔ عورتوں اور خواتین کو بالکل کچھ نہیں کہا گیا ۔۔۔یاد رہے کہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ظفری چھبیل نے ایک اینٹی ائیر کرا۔فٹ چلاتے ہوئے ویڈیو بنوا کر اداروں کو چیلنج کیا تھا کہ اب تمہارا دھواں نکال کررکھ دیں گے ، اسکے دیگر ساتھیوں کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جن میں وہ ایک کے بدلے چار والا انتقام لینے کی بات کررہے ہیں ۔۔۔ کچے کے ان ڈا۔کؤؤں کو فورسز نے اس وقت نشانہ بنایا جب ایک بار فرار ہونے کے بعد وہ کشتی کے ذریعے دوبارہ اپنے ٹھکانوں پر آئے تاکہ زخمی ساتھیوں کو لے جا سکیں ،، مگر فورسز نے فضائی آپریشن اور سنائپرز کے ذریعے انہیں نشانہ بنا ڈالا ، ہلا۔ک ہونیوالے ڈا۔کؤوں میں ظفری چھبیل کے علاوہ گمنی اور گوپانگ بھی شامل ہیں جنہیں کچے میں بااثر ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا ۔۔۔۔۔
لیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خانایک عظیم سپاہی، ممتاز معالج اور انسان دوست رہنمالیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کا شمار پاکستان کی
اُن عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف عسکری میدان میں اپنی خدمات سے وطنِ عزیز کا نام روشن کیا بلکہ طب، فلاحِ انسانیت اور خدمتِ خلق کے شعبوں میں بھی ایک درخشاں مثال قائم کی۔ وہ 1921ء میں پیدا ہوئے اور 2017ء میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی خدمات اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔عسکری زندگی کا آغازل
یفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان نے 1942ء میں برطانوی ہندوستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ایک طویل، باوقار اور مثالی عسکری کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 41 برس تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں،
جو اُن کی پیشہ ورانہ وابستگی، نظم و ضبط اور فرض شناسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بطور فوجی معالج اور قائدانہ کردارفہیم احمد خان پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر فوجی معالج تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران طبّی شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں اور پاک فوج کے میڈیکل کور کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی صلاحیتوں، دیانت داری اور قائدانہ اوصاف کے باعث انہیں متعدد اہم اور حساس ذمہ داریاں سونپی گئیں۔1983ء میں وہ پاک فوج کے سرجن جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ یہ منصب اس بات کا اعتراف تھا کہ وہ نہ صرف ایک بہترین ڈاکٹر تھے بلکہ ایک اعلیٰ منتظم اور رہنما بھی تھے۔
اقوامِ متحدہ اور عالمی خدماتفوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کی خدمات کا سفر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے دو برس تک عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تحت اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے صحتِ عامہ کے عالمی منصوبوں میں حصہ لیا اور ترقی پذیر ممالک میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنی مہارت بروئے کار لائی۔ یہ مرحلہ اُن کے بین الاقوامی وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھا۔فلاحِ انسانیت اور خدمتِ خلقاقوامِ متحدہ سے وابستگی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی مکمل طور پر انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے ایک فلاحی ادارہ (این جی او) قائم کیا، جس کے وہ بانی اور سربراہ تھے۔ اس ادارے کے ذریعے وہ تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کی دیکھ بھال، علاج اور معاونت کرتے رہے۔
یہ بچے، جو معاشرے کے کمزور ترین طبقات سے تعلق رکھتے تھے، لیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کے لیے محض مریض نہیں بلکہ ایک امانت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک ان بچوں کی خدمت کی، انہیں علاج فراہم کیا، خاندانوں کو سہارا دیا اور امید کی شمع روشن کیے رکھی۔شخصیت اور کردارلیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان ایک نہایت شفیق، منکسر المزاج، دیانت دار اور نیک سیرت انسان تھے۔ ان کی زندگی سادگی، اخلاص اور ایثار سے عبارت تھی۔ اعلیٰ عسکری عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود وہ عاجزی اور انسان دوستی کی زندہ تصویر تھے۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اصل عظمت طاقت یا عہدے میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔وفات اور وراثت2017ء میں ان کا انتقال ہوا،
مگر وہ اپنے پیچھے خدمت، شرافت اور ایثار کی ایک عظیم روایت چھوڑ گئے۔ ان کی زندگی نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک فرد بیک وقت ایک کامیاب فوجی، ممتاز معالج اور سچا انسان دوست بن سکتا ہے۔اختتامیہلیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی خدمت صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی میں بھی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی فرض، خدمت اور اخلاقی اقدار کے مطابق گزاری۔
عثمان بادی شریف شہید بنگلہ دیش میں حرام کھا کر اتنا موٹا نہیں ہوا کہ مجھے کسی خاص کفن اور تابوت کی ضرورت پڑے۔ میں اپنے رب کے سامنے ایک عام کفن اور تابوت میں ، حلال خون اور مسکراہٹ کے ساتھ حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ “یہ کوئی جذباتی جملہ نہیں تھا، یہ ایک نظریاتی اعلان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ تحریک کے دوران کہے گئے عثمان ہادی شریف کے یہ الفاظ بھی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے “: انسان مر جاتے ہیں، لیکن تحریکیں اور نظریات کبھی نہیں مرتے ۔
” یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نےعثمان ہادی کو اس کی زندگی میں ہی امر کر دیا، اور پھر اس کی شہادت نے انہیں تاریخ کا اٹل حوالہ بنا دیا۔ دوران انتخابی مہم جب وہ ایک سادہ سے رکشے میں پلٹن کےعلاقے سے گزر رہا تھا تو دشمن نے پیچھے سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اس کا گرم، توانا اور بے داغ خون ڈھاکہ کی سرزمین پر گرا، جیسے اس مٹی کو نئی زندگی مل گئی ہو ۔ علاج کے لیے اسے سنگا پور منتقل کیا گیا، مگر زخم صرف جسم کے نہیں تھے ، یہ نظریے کے زخم تھے۔ عثمان ہادی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا، جنتوں کا مکین بنا، اور اپنے ہی الفاظ کی طرح ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ اس کی شہادت پر بنگلہ دیش میں ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک فرد نہیں، ایک علامت بن چکا تھا۔عثمان ہادی شریف 1994ء میں ڈھاکہ میں پیدا ہوا۔ وہ سیاسیات کا طالب علم تھا، مگر محض کتابی علم تک محدود نہیں۔ اس کی سوچ میں آزادی، خود مختاری، استعمار سے بغاوت اور قومی وقار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جب بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے خلاف طلبہ تحریک نے جنم لیا تو عثمان ہادی کی آنکھوں میں وہ چمک پیدا ہوئی جو صرف بچے نظریاتی کارکنوں میں ہوتی ہے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک کی روح رواں بنتا چلا گیا۔ عثمان ہادی نے ہمیشہ دلیل، علم اور جرأت کے ساتھ بھارت کے کردار پر تنقید کی۔
اس کا موقف واضح تھا کہ بنگلہ دیش میں بھارت کا بڑھتا ہوا سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی اثر و رسوخ در حقیقت بنگلہ دیش کی آزادی اور خود مختاری کے خلاف ایک خاموش دراندازی ہے۔ یہی جرات مندانہ موقف اسے نوجوانوں میں مقبول اور طاقتور حلقوں کی نظروں میں خطرہ بناتا چلا گیا۔ یوں عثمان ہادی صرف ایک طالب علم نہیں رہا، بلکہ مزاحمت، خودداری اور بھارت مخالف بیانیے کی ایک زندہ علامت بن گیا اور تاریخ گواہ ہے کہ علامتیں ہمیشہ نشانہ بنتی ہیں۔ اس کی شہادت بنگلہ دیشی عوام کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے، مگر دشمن قوتوں کے لیے یقیناً باعث اطمینان۔ اطلاعات یہی ہیں کہ عثمان ہادی شریف کےقاتلوں کو بھارت میں پناہ مل چکی ہے ، جہاں ان کی سیاسی سرپرست حسینہ واجد پہلے ہی موجود ہیں۔ یہ محض ایک قتل نہیں، بلکہ ایک نظریے کو دبانے کی کوشش ہے۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحے میں ہم بنگلہ دیشی عوام اور اپنے بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ پرامن رہیں، اپنے ہی ملک کے اثاثوں کو نقصان نہ پہنچائیں، اور دشمن کی سازشوں کو سمجھیں۔ اس وقت سب سے بڑی سازش یہی ہو سکتی ہے کہ امن و امان خراب کیا جائے، حالات کو اس نہج پر پہنچایا جائے کہ انتخابات ممکن نہ رہیں، اور بنگلہ دیش ایک بار پھر بیرونی سہاروں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش اب وہ بنگلہ دیش نہیں رہا۔ یہ ایک ابھر تا ہوا، نظریاتی بنگلہ دیش ہے ، جس نے دو قومی نظریے کو ایک بار پھر اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ ہم ایک خوشحال، خود مختار، نظریاتی اور مستحکم بنگلہ دیش کے خواہاں ہیں، اور ان شاء اللہ یہ خواب تعبیر پائے گا۔ دشمن اپنی ہی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل کر راکھ ہو جائے گا، اور عثمان ہادی شریف ٹیپو سلطان کی طرح ! تاریخ کے سینے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو چکا ہے۔
چنیوٹ…چنیوٹ میں کھلی کچہری کا انعقادوفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ کی کھلی کچہری میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی چنیوٹ۔ 19 دسمبر (اے پی ای نیوز ایجنسی رپورٹس بادبانٹیویٹویٹر رپورٹ):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے چنیوٹ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کھلی کچہری میں تمام وفاقی اداروں کے ضلعی نمائندے اور متعلقہ انچارج افسران بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی عملی اقدامات کیے۔
متعدد درخواستوں پر انہوں نے ضلعی افسران سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے عوامی مسائل فوری طور پر حل کروائے، جس پر شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں عوامی خدمت، شفاف حکمرانی اور تیز رفتار کارکردگی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قلیل مدت میں مہنگائی پر قابو پانے، معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبے کامیابی سے شروع کیے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کی مؤثر پالیسیوں کے باعث معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جبکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں، آن لائن شکایتی نظام اور فیلڈ وزٹس کو مزید فعال بنایا گیا ہے۔
انہوں نے ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے بروقت ازالے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو ان کا جائز حق دہلیز پر فراہم کیا جائے۔کھلی کچہری کے اختتام پر شرکاء نے وفاقی وزیر کے عوام دوست رویے اور حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن