Monthly Archives: December 2025
دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف جنگ کی صورت حال

بنگلادیش | طلباء تنظیم “انقلاب مانچا” کے نوجوان رہنما عثمان ہادی کو گزشتہ ہفتے شہر ڈھاکہ میں نقاب پوش نامعلوم افراد نے اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ایک مسجد سے باہر آ رہے تھے۔ وہ سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی موت کی خبر سن کر بنگلادیش کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے، جس دوران دو اخبارات کے دفاتر کو آگ لگائی گئی

اور بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنر کے دفتر پر بھی دھاوا بولا گیا۔آج عثمان ہادی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس سمیت لاکھوں افراد شریک ہوئے۔سربراہ محمد یونس نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل اور عثمان ہادی کے قتل کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
حوالدار محمد وقاص، نائیک خان وائز، سپاہی سفیان حیدراور سپاہی رفعت ماں دھرتی پر قربان
اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق : توشہ خانہ 2 کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10, 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔۔علاقائی کھلاڑیوں کی پالیسی اپنی خواہشات۔پاکستانی انٹیلیجنس کی بڑی کارروائی، کالعدم داعش خراسان۔۔کالعدم داعش خراسان کا ترجمان سلطان عزیز اعظام گرفتاردُھند کے باعث۔۔ *انٹرپول کے ذریعے 2 اشتہاری ملزمان کو دبئی سے گرفتار کر لیا گیا۔۔40 اھم ترین شخصیات گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے قریبی ساتھی 3 ارب فراڈ کا مقدمہ درج۔۔الٹی گنتی شروع۔۔اھم وفاقی وزیر کے فرنٹ مین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری وہ اور اس کے 3 شکرے 43 ارب کے فراڈ میں ملوث۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

مستقبل کا وہ منظرنامہ ہے جس کا حصہ پاکستان کو بہت پہلے ہونا چاہئے تھا لیکن ماضی میں پاکستان نے بہت سے خلیجی ممالک میں اپنی پالیسی منظم نہیں کی لیکن اب پاکستان عالمی سطح پر ایک نیا کھلاڑی بن چکا ہے جو علاقائی کھلاڑیوں کی پالیسی اپنی خواہشات

دُھند کے باعث:ایم-3: فیض پور سے درخانہ بڑی گاڑیوں کے لئے تک بند ہے۔ایم-4: شیر شاہ سے عبدالحکیم تک بند ہے۔ایم-5: شیر شاہ سے ظاہر پیر بڑی گاڑیوں کے لئے تک بند ہے۔ایم-11: لاہور مین ٹول پلازہ سے سمبڑیال تک بند ہے۔

*انٹرپول کے ذریعے 2 اشتہاری ملزمان کو دبئی سے گرفتار کر لیا گیا ہے* سرگودھا پولیس کے مطابق ایک ملزم کو 7 اور دوسرے کو 1 سال بعد گرفتار کیا گیا۔ملزم آکاش نے پرانی دشمنی پر ایک شخص کو قتل کیا تھا۔2019 میں ملزم اکرام علی کی کار کی ٹکر سے 3 بچے جاں بحق ہوئے تھے

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف ڈیفنس اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر لیبیا پہنچے اور وہاں لیبیا کے آرمی چیف فیلڈ مارشل خلیفہ بلقاسم حفتر اور ڈپٹی کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی۔

ڈپٹی پرائم منسٹر/وفاقی وزیر برائے خارجہ کے “نہایت ہی قریبی دوست” و خادم بری امام سرکار راجہ سرفراز اکرم کے بھائی را tvجہ حافظ اعجاز جنجوعہ خلاف 3 ارب روپے کے فراڈ پر مقدمہ درج مقدمہ اسلام آباد میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مدعی سید توقیر حسین شاہ آف فراش ٹاؤن کی مدعیت میں درج کیا گیا

واضع رہے خود کو خادم بری امام سرکار کہلوانے والے راجہ سرفراز اکرم حکومت وقت میں بیٹھے/ن لیگ کے نمبر 3 وزیر ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہونے باعث طاقتور تصور کیے جاتے ہیں جبکہ راجہ اعجاز جنجوعہ کو پراپرٹی کی دنیا میں انکا فرنٹ کہا جاتا ہےواضع رہے راجہ اعجاز جنجوعہ پاکستان مسلم لیگ (ن) جہلم کے صدر بھی ہیں دوسری جانب عدالت گرفتاری کے وارنٹس جاری ہونے کے باجود ایک ہفتے سے پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے سے قاصر ملزمان کی اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے اس معاملے کو دبانے کی کوششیں کررہےملزمان بری امام سرکار کا نام استعمال کر کے ماضی میں بھی اس قسم کی بہت سے کاروائیوں میں ملوث رہ چکے ہیں:

خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی بختاور کیڈٹ کالج برائے طالبات کی پانچویں پاسنگ آؤٹ پریڈ اور سالانہ پیرنٹس ڈے کی تقریب میں شرکت، اس موقع پر انہوں نے خطاب بھی کیا۔
کسان مر گیا فیلڈ مارشل کی طرف نظریں گندم میں ایل ڈی سی کی اربوں روپے کی کرپشن واردات ۔۔۔۔۔سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا اربوں روپے کی کرپشن سامنے آگئی۔۔۔۔ملک میں زراعت کی تباہ ہالی کا آخر ذمہ دار کون؟؟؟؟ سہیل رانا لائیو میں
2 لیفٹیننٹ جنرل کونسے جن کے خلاف بڑی کارروائی 9 میجر جنرل کے تبادلے اھم ترین ملاقاتیں فیلڈ مارشل ان ایکشن۔۔آسٹریلیا میں بھارتیوں کی رہائش گاہوں اور ٹھکانوں پر آسٹریلوی پولیس کے چھاپوں کا آغاز۔۔سید عاصم منیر کے دورہ امریکہ کی تردید ،چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں، ترجمان دفتر خارجہ۔۔ ۔جج نکالنے کا طریقہ سپریم جوڈیشل کونسل۔۔۔وزیراعظم نکالنے کا طریقہ تحریک عدم اعتماد جج کورٹ آرڈر سے وزیراعظم فارغ کرتے تھے ۔۔پارلیمنٹ نے کورٹ آرڈر کے زریعے ایک جعلی جج نکال دیا ۔ائینی ترامیم جمھوریت بھترین انتقام۔۔اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب پارلیمنٹ کے ذریعے ججز کو برطرف کروا سکتے ہیں اس سے پہلے جج وزیر اعظم کو برطرف کرنے تھے۔لاہور ہائیکورٹ نے اسنوکر کاروبار کو جائز قرار دے دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ لیبا 3 بڑے معاھدے۔۔ ایک سال میں 51 ھزار افراد کو اف لوڈ کیا گیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا اعتراف۔۔70 ھزار ارب روپے کی کرپشن 40 بیورو کریٹ ای سی ایل میں۔پنجاب میں 8 لاکھ ٹن گندم میں 10 ھزار ارب روپے کس نے کمایا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ کے مطابق

جج نکالنے کا طریقہ سپریم جوڈیشل کونسل ہے ۔وزیراعظم نکالنے کا طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے۔جج کورٹ آرڈر سے وزیراعظم فارغ کرتے تھے ۔اج پارلیمنٹ نے کورٹ آرڈر کے زریعے ایک جعلی ڈگری والا جج نکال دیا ۔ائینی ترامیم
ڈی جی ایف آئی اے راجہ رفعت صاحب کی قومی اسمبلی کی کمیٹی میں ہوشربا انکشافات اس سال 51 ہزار لوگون کو اف لوڈ کیا گیا۔اس سال 24 ہزار افراد کو صرف سعودی عرب نے بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی نے بھی اس سال 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ آزربیجان نے 2 ہزار 5 سو پاکستانی بھیکاروں کو ڈی پورٹ کیا۔ لوگ عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں ثبوت کے ساتھ اف لوڈ کیا عمرے کے نام پر لوگوں کے پاس یورپ جانے کے ڈاکومنٹس موجود تھے تب آف لوڈ کیا۔اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے 12 ہزاد افراد تاحال واپس نہیں آئے۔

برما میں سیاحتی ویزے پر چار ہزار افراد گے اڑھائی ہزار واپس نہیں آئے۔گزشتہ سالوں میں غیر قانونی جانے والے افراد میں پاکستان ٹاپ فائیو ملکوں میں تھا۔ گزشتہ برس 8 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ گئے۔اس سال تعداد چار ہزار ہوگئی اب تک مجموعی طور پر 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے باعث سعودی عرب نے ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی اور جرمنی نے ہمارے سرکاری پاسپورٹ پر ویزہ فری کردیا۔ ایمی اپلیکیشن جنوری کے وسط میں لانچ کردی جائے گئ۔ ایمی ایپلیکیشن میں بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل ایمیگریشن حاصل کرلیں گے۔ زمبابوے میں ہمارے سفیر نے بتایا ایتھوپیا زمبیا سے غیر قانونی طریقے سے یورپ جارہے ہیں، سیکرٹری سمندر پار پاکستانی اسلام آباد میں ایف آئی اے کے کاونٹر زیادہ عملہ کم ہے۔ ایک جعلی فٹ بال کلب نے فٹ بال ٹیم کو جاپان بھیجا جس میں ایک لنگڑا شخص بھی جاپان چلا گیا ۔ تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ 2022 میں بھی جاپان جعلی کلب کو بھیجا جا چکا ہے۔

کہتے ہیں ایجنسی کے پالتو ججوں نے انقلابی جج فارغ کرایا ،پاگلو فارغ ہونے والا خود بھی تو پرانے مالکوں کے دور میں ایجنسی کا پالتو تھا۔انقلاب اس اکیلئے کو نہیں ایک پورے گروپ کو آیا تھا۔مظاہر ٹرکاں والا،اعجاز الاحسن ،جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ لکھنے والا منصور علی شاہ،جنرل۔مشرف کا صوبائی وزیر المعروف کالا بھونڈ یہ سارے انقلابی تو دم سے عزت چھپا کر بھاگ نکلے ۔استعفی دے کر دوڑ گئے ۔منیب اختر سے ہی کچھ سیکھ لیتے ۔ سب سے زیادہ ہنر مند ہے ۔باغیوں کو انقلاب کی راہ پر ڈال کر خود ججی کرتا ہی جا رہا ہے ۔الذوالفقار کا سابق مجاہد مالکوں نے توڑ کر اپنا بنایا تھا۔جس زمانے میں کراچی یونیورسٹی سے وکالت پاس کی پنجاب کے لوگ ڈگری لینے کراچی ہی جایا کرتے تھے ۔یہ سنہرا دور 1988 سے 1994 تک چلا تھا پھر کراچی میں وکالت کی ڈگری لینے کا عمل کراچی یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر نے اصلاحات کے زریعے ناممکن بنا دیا ۔جس وہم کا شکار جنرل فیض کے فیلڈنگ لگائے پالتو جج بنے یہ جعلی ڈگری والا بھی اسی کانشانہ بنا۔جنہوں نے غلطیاں درست کرنے کا کام شروع کیا وہ غلطیاں درست کر ہی لیتے ہیں ۔پاگل کو اتنی بھی خبر نہیں جنہوں نے جعلی ڈگری کے باوجود جج بننے کا موقع دیا وہ موقع واپس بھی لے لیتے ہیں ۔کیا ضرورت تھی انقلابی بننے کی ۔پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہتے ۔انقلابی بننا تھا تو جنرل فیض کے دور میں بنتے ۔اچھا ملازم مینجمنٹ تبدیل ہونے پر نئی مینجمنٹ کے کانوں کے ساتھ لٹک جاتا ہے ۔پہلے بھی تو کانوں کے ساتھ لٹکے رہتے تھے ۔منزلوں پر منزلیں مارتے رہے۔ایڈھاک سے مکمل جج بننے کا عمل پہلے بھی تو کانوں سے لٹک کر ہی مکمل کیا تھا ۔پرانی مینجمنٹ گئی تو اس کے ساتھ رشتہ بھی ختم ۔ایسے نہیں ہوتا نو سو چوہے کھا کر حج کرنے چل پڑو

کون تھے جنرل امیر عبداللہ نیازی المعروف جنرل نیازی؟جنرل اے کے نیازی 1915 میں پیدا ہوئے، بچپن سے ہی ایک قابل اور ذہین طالبعلم مشہور تھے، تعلیمی میدان میں ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل کیا. تعلیم کے بعد انہوں نے برٹش آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی بہترین کارکردگی اور ذہانت کے سبب جلد ہی انکا شمار بہترین آفیسرز میں ہونے لگا.1942 کی جنگِ عظیم میں برما کی سرزمین پر وہ انتہائی بےجگری اوردلیری سےلڑے اور کئی مواقع پر دشمن کو اپنی ذہانت سے شکست دی. اس بہادری کے صلے میں برطانیہ نے انہیں “ٹائیگر” کا خطاب دیا اور انہیں پروموشن کے ساتھ ساتھ بہادری کے میڈلز سے بھی نوازا گیا. 1965 کی جنگ میں بھی انہوں نے اپنے “ٹائیگر” ہونے کے لقب کی لاج رکھی اور کئی موقعوں پر دشمن کو رسوا کرکے واپس بھیجا۔ اس جنگ میں بھی انہیں کئی میڈلز سے نوازا گیا۔1971 میں جنرل ٹکاخان کے “آپریشن سرچ لائٹ” لانچ کرتے وقت بھی جنرل نیازی نے آگے بڑھ کر خود کو پیش کیا اور کمان سنھبالی جبکہ ان سے کہیں بڑے اور تجربہ کار جنرلز اس آپریشن کو لیڈ کرنے سے انکار کر چکے تھے۔ پاکستان کو ایسی غیر متوقع جنگ کےنتائج شروع دن سے ہی نظر آرہے تھے جس وقت ہم سیاسی حل کے چکروں میں تھے بھارتی فوج کئی ماہ کی تیاری کے بعد مکمل تیار ہوچکی تھی.34000 سے 35000 کے قریب پاک فوج کے مقابلے میں لاکھوں کی تعداد میں مکتی باہنی کے تربیتِ یافتہ دہشتگردوں نے پورے مشرقی پاکستان میں ادھم مچا دیا تھا جن میں ایک بڑی تعداد میں بنگالیوں کے بھیس میں بھارتی فوجی اہلکار اور خفیہ ایجنسی کے لوگ شامل تھے. یہاں تک کہ انہوں نے انڈین کی ایماء پر ڈھاکہ میں باقاعدہ حملہ کردیا اور خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہوچکی تھی.مکتی باہنی کے ہزاروں دہشتگردوں کو پاک فوج کی وردی پہنا کر کھلا چھوڑ دیا گیا، انہوں ملکی املاک کو بےدریغ اور نہایت بےدردی سےنقصان پہنچایا، لوگوں کو سرعام قتل کیا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی جس کا الزام آج تک پاک فوج کے سر تھوپا جاتا ہے اسکا اعتراف خود بھارتی آفیسرز کر چکے ہیں. اس کا بھی جواب اگلی کسی تحریر میں ضرور دونگا ان شاءاللہ. ان سارے حالات کے باوجود جنرل نیازی نے اس مسلہ کے سیاسی حل کے لیے دونوں فریقوں کو منانے کی کوشش کی اور بار بار اس بات کا یقین دلاتے رہے کہ ہماری سیاسی قیادت ملکی حالات کو دوبارہ معمول پر لا سکتی ہے. لیکن دونوں جانب سے سیاسی قیادت جس میں سب سے بڑا قصور بھٹو کا تھا لیکن اب مجیب الرحمان کو بھی راستہ مل چکا تھا. حالات بدتر سے بدتر ہوتے گئے 3 دسمبر 1971 کو پاکستانی ائیر فورس نے بھارتی ائیربیسز پر حملہ کردیا۔ جنگ کی شروعات کا آرڈر بڑی جلدی میں آیا اور جنرل نیازی کو ریڈی ہونے کا آرڈر دیا گیا جبکہ اوپر بتا چکا کہ جنرل نیازی ان حالات کو قابو کرنے کی کوشش میں تھے۔جنگ کا حکم ملنے کے باوجود بھی جنرل نیازی نے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئی سب سے بہترین حکمتِ عملی اپناتے ہوئے تمام بڑے شہروں کو فوجی قلعوں میں تبدیل کرنے کا حکم دیدیا

تاکہ انڈیا کو ہر طرف سے لڑ کر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے اور ایسا ہی ہوا ہر محاذ پہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑ رہی تھی۔ایک قابلِ ذکر بات یاد رہے جنگ کے دوران جنرل نیازی آرام سے نہیں بیٹھے بلکہ اپنے ہیلی کاپٹر میں جنگی علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہے، یہاں تک کے بارڈر پہ فارورڈ بیسز پر بھی اپنے جوانوں کو حوصلہ بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً موجود رہے، جنگ میں زخمی ہونے والے جوانوں کو وہ اپنے ہیلی کاپٹر میں لینے جاتے اور خود انکی دیکھ بھال کرتے رہے.ناکافی اسلحہ اور ناسازگار حالات میں میں اپنے 34000 سے 35000 سپاہیوں سمیت اس جنگ کو جنرل نیازی کی قیادت میں انتہائی بہادری سے لڑا گیا.مکتی باہنی کے دہشتگردوں کی تعداد لاکھوں میں تھی اور پاک فوج کے مقابلے میں ہندوستانی فوج کی تعداد 5 گنا ذیادہ تھی جس میں روس اور اسرائیل کی مدد بھی شامل تھی اور انڈین آرمی کا فاصلہ بھی کم تھا اس لیے انہیں سازوسامان اور جنگی ضروریات پوری کرنے میں کوئی مشکل نہ تھی جبکہ پاک فوج کو کم از کم 6 سے 8 ماہ کا وقت درکار ہوتا اس جنگ کی تیاری کے لیے اگر اس جنگ کا امکان پہلے سے موجود ہوتا…مکتی باہنی کے دہشتگرد گلیوں اور بازاروں میں ہتھیار لے کر دندناتے پھر رہے تھے ایسے وقت میں ان کے خلاف کوئی بھی ایسا اقدام کرنا جس سے سارے ملک میں خانی جنگی شروع ہوسکتی تھی بیوقوفی تھی جبکہ مکتی ناہنی کےدہشتگرد چاہ رہے تھے کہ جنگ زدہ علاقوں میں مزید خون خرابہ ہو…جیسور سیکٹر میں کئی کمانڈرز نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خود ہی ہتھیار ڈالے دیئے تھےجن میں کافی تعداد میں بنگالی بھی شامل تھے جنہوں نے عین جنگ کے دوران اپنا اصل روپ دکھا دیا اور بھارت کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا جس سے کافی دھچکا لگا اور بھارت کا کام مزید آسان ہوا۔ اس کے باوجود بھی جنرل نیازی نے ہمت نہ ہاری اور یہ جنگ دو ہفتوں تک بڑے جوش اور ولولےسے لڑے۔16 دسمبر 1971 کو مغربی پاکستان یعنی ہمارے موجودہ پاکستانی سے بھٹو کی جانب سے جنرل نیازی کو ٹیلیگرام بھیجا گیا کہ کسی بھی طرح اس جنگ کو رکوایا جائے جو کہ ڈھکےچھپے الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہتھیار پھینک دو. دوسری طرف انڈین کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ہم مکتی باہنی کے دہشتگردوں کو اسلحہ سے لیس کرکے فوجیوں کے گھروں پہ دھاوا بول دیں گے اور بیوی بچوں کو مار ڈالیں گے.یاد رکھیے ہمیشہ فوج تک مضبوط رہتی ہے جب تک ملکی سیاسی قیادت جو عوام کی نمائندہ ہوتی ہے اپنی حمایت اور مدد دیتی رہے مگر مغربی پاکستان میں بیٹھی حرام خود قیادت نے پاک فوج سے اپنے ہاتھ اٹھا لیے تھے اور جنرل نیازی اس وقت واحد شخص تھا جس نے حالات کو قابو کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ جنرل نیازی نے اپنے ساتھیوں، انکے خاندانوں کی حفاظت، خاص کر بنگالی عوام کو قتل وغارت گری اور پورے ملک کو خانہ جنگی کی لعنت سے بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی

. انڈیا اور مکتی باہنی ایک بڑی تعداد میں ڈھاکہ میں حملہ آور ہوچکے تھے جنرل نیازی اور ساتھیوں کو بار کہا گیا کہ ہتھیار ڈال دیں لیکن وہ صاف انکار کرتے رہے انکا کہنا تھا کہ چاہے ہم میں سے ایک شخص بھی نہ بچے ہم سارے کے سارے قربان ہو جائیں، خالی ہاتھوں سے بھی لڑنا پڑے ہم لڑیں گے لیکن کسی صورت شکست تسلیم نہیں کریں گے. (جنرل نیازی کی ویڈیو میں نے پہلے کمنٹ میں شئیر کر دی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں)کوئی نہیں جانتا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ انہیں اپنی بات اور اپنے ایک جرات مندانہ فیصلے سے پھرنا پڑا یہ بات انہیں سامنے لانے سے روکنے کے لیےگھناؤنی کوششیں کی گئیں۔ بدقسمتی سے ایک بہادر اور عظیم جنرل ایک بزدل جیسی گالی کا طوق گلے میں لیے آخری بار بطورِ جنرل 1975 میں سامنے آیا تھا جہاں انہیں انکے عہدے سے ہٹا کر، انکے تمغے واپس لے لیے گئے اور ہمیشہ کے لیے تنہائی اور گوشہ نشینی انکا مقدر کر دی گئی.ایک ایسا عظیم جنرل جس نے 30 سال اس ملک کی خدمت کی ان سے انکی پنشن اور میڈیکل مراعات، میڈلز تک بھٹو غدار کی حکومت نے چھین لیں. ایک کمیشن کے ذریعے سارا ملبہ ان پر ڈال کر صاف نے اپنا اپنا دامن جھاڑ لیا.انہوں نے بار بار درخواست کی کہ انکا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ وہ عوام کو حقیقت سے آگاہ تو کرسکیں کہ اس جنگ کی اور سررنڈر کی اصل وجہ کیا تھی اس سررنڈر کا اصل ذمہ دار کون تھا انکی بار بار کورٹ مارشل کی درخواست رد کردی گئی جس کے بعد انہوں نے1998 میں ایک کتاب “بٹرائل آف ایسٹ پاکستان” لکھی اور 2 فروری 2004 لاہور میں انکی وفات ہوئی۔جتنی خدمات انکی پاکستان میں کےلیے 30 سال سے تھیں یہ خدمات اگر انکی کسی اور ملک کے لیے ہوتیں تو شاید انہیں پوجا جاتا انکو ایک عظمت کی علامت سمجھا جاتالیکن ہماری کم ظرفی ہماری ذہنی غلامی ہمیں کبھی اپنے ہیروز کو سراہنے نہیں دیتی۔یہ جو جنرل اے کے نیازی کے سر بزدلی کا طوق ڈالا گیا اس کا حقدار اور جنرل نیازی کو پڑنے والی ہر گالی کا حقدار صرف اور صرف بھٹو جیسا گھٹیا انسان تھا جو پہلے اقتدار کی خاطر اور بعد میں جنگ بندی کی ضد نہ کرتا تو شاید اتنا بڑا سانحہ رونما نہیں ہوتا. ہماری بدقسمتی کہ ایک عظیم ترین جنرل گمنامیوں میں کہیں کھو گیا

اور گالی اسکا مقدر ٹھہری مگر ایک ملک دشمن ملک کے دو ٹکڑے کرنے والا لعنتی آج بھی زندہ ہے۔ اصل نعرہ تو یہ ہونا چاہیے تھا بھٹو کل بھی غدار تھا بھٹو آج بھی غدار ہے۔یہ کوئی فوجی شکست نہیں تھی صرف اور صرف ایک اقتدار کے مارے بھٹو کے لالچ کی وجہ سےہوئی شکست تھی۔میں جنرل اےکے نیازی کو سلام پیش کرتا ہوں انکی عظمت انکی جرات انکی پاکستان کے لیے …… قربانیوں کو میری …طرف سے سُرخ سلام۔ میری سات نسلیں بھی انکے احسانات کا بدل نہیں ہوسکتی جو جنرل اے کے نیازی نے پاکستانی عوام اور بنگالی عوام پہ کیے، ذلت کا طوق اپنے گلے باندھ کر لاکھوں لوگوں کی جان بچا کر خاموشی سے منوں مٹی کے نیچے ابدی نیند سو گیا۔

صدرِ مملکت نے وزیرِ اعظم کے مشورے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری دے دیصدرِ مملکت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری دیاسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو تقرری کے وقت درست ایل ایل بی ڈگری کا اہل نہ ہونے پر عہدہ خالی کرنے کی ہدایت کی⸻
اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ پپو شرارتی۔۔ یہ باؤنڈری کے باہر بیٹھا کھلاڑی کوئی عام کھلاڑی نہیں بلکہ آئی سی سی کے دو فائنلز میں انڈیا کو دھول چٹانے والی ٹیم کا قائد سرفراز ہے اس آدمی میں عاجزی اور انکساری اتنی زیادہ ہے کہ کسی بھی جگہ بیٹھ جاتا ہے کسی کیساتھ بھی بیٹھ جاتا ہے اور ہر کسی کے لیے اچھا بولتا ہے دعا ہے اللہ سرفراز کو کرکٹ کے علاؤہ زندگی کے باقی گراؤنڈز میں بھی سرفراز کرے .سرفراز
اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ پپو شرارتی۔۔ سر فیض حمید کی قیدِ بامشقت کا نواں دن 😕آج سر فیض حمید حسبِ معمول علی الصبح اٹھے، تازہ ہوا کے لیے فارم ہاؤس کے لان میں دو چکر لگائے، پھر ناشتے کی میز پر بیٹھ کر اخبارات دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک اہلکار مودبانہ انداز میں بولا: سر، یاد دہانی ہے کہ آپ قیدِ بامشقت میں ہیں، آج کی مشقت کے طور پر سوئمنگ پول کے کنارے پانچ منٹ زیادہ بیٹھنا ہوگا۔یہ سن کر سر فیض حمید نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ چشمہ سیدھا کیا اور فرمایا: “اصل مشقت تو عام آدمی کی زندگی ہے، باقی سب رسمی کارروائی ہے”، اور یہ کہتے ہوئے آرام دہ کرسی پر ٹیک لگا دی
اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ پپو شرارتی: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کی بطور جج تعیناتی غیر قانونی قرار۔۔ سر فیض حمید کی قیدِ بامشقت کا نواں دن۔۔40 سال بعد جسٹس طارق جہانگیری کی جعلی ڈگری کا پتہ چل گیا 2 وزراء کی برطرفی کا اعلان۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
سر فیض حمید کی قیدِ بامشقت کا نواں دن 😕آج سر فیض حمید حسبِ معمول علی الصبح اٹھے، تازہ ہوا کے لیے فارم ہاؤس کے لان میں دو چکر لگائے، پھر ناشتے کی میز پر بیٹھ کر اخبارات دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک اہلکار مودبانہ انداز میں بولا: سر، یاد دہانی ہے کہ آپ قیدِ بامشقت میں ہیں، آج کی مشقت کے طور پر سوئمنگ پول کے کنارے پانچ منٹ زیادہ بیٹھنا ہوگا۔یہ سن کر سر فیض حمید نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ چشمہ سیدھا کیا اور فرمایا: “اصل مشقت تو عام آدمی کی زندگی ہے، باقی سب رسمی کارروائی ہے”، اور یہ کہتے ہوئے آرام دہ کرسی پر ٹیک لگا دی

یہ باؤنڈری کے باہر بیٹھا کھلاڑی کوئی عام کھلاڑی نہیں بلکہ آئی سی سی کے دو فائنلز میں انڈیا کو دھول چٹانے والی ٹیم کا قائد سرفراز ہے اس آدمی میں عاجزی اور انکساری اتنی زیادہ ہے کہ کسی بھی جگہ بیٹھ جاتا ہے کسی کیساتھ بھی بیٹھ جاتا ہے اور ہر کسی کے لیے اچھا بولتا ہے دعا ہے اللہ سرفراز کو کرکٹ کے علاؤہ زندگی کے باقی گراؤنڈز میں بھی سرفراز کرے .سرفراز
واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق۔۔پاکستان نے چین کے ساتھ ہنگور کلاس کی آٹھ آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کیا۔ٹرمپ سے تیسری ملاقات اھم ترین انتظامات مکمل۔سہیل آفریدی آج یاسمین راشد عمرچیمہ اور باقی اسیران سے لاہور میں ملاقات کریں گے۔۔51 ھزار افراد کو جھازوں سے اف لوڈ کیا گیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے۔6 ھزار افراد کو عمرے کے ویزے پر اف لوڈ کیا گیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے۔۔بجلی کے بلوں میں اضافہ یونٹ 100 روپے کا شھباز حکومت کا کارنامہ۔۔شھباز حکومت غیر سنجیدگی کی آخری حد تک پھنچ گئی۔۔ بیس دسمبر کو اس حماقت کی فرد جرم عائد ہونے جا رہی ہے ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ ہنگور کلاس کی آٹھ آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کیا۔چار چین میں بنائی جا رہی ہیں اور چار پاکستان میں کراچی شپ یارڈ میں ٹیکنالوجی کے تحت بنائئ جائیں *پی ٹی آئی کے 70 ارکان کے پی اسمبلی پر مقدمات، اسلام آباد پولیس ماضی کا ریکارڈ نکال لائی*اسلام آباد: اسلام آباد پولیس پی ٹی آئی کے اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی پر ماضی میں درج مقدمات کی تفصیل سامنے لے آئی۔پی ٹی آئی اراکین کی اکثریت کے پی اسمبلی قانون کو مطلوب ہے، پی ٹی آئی کے 70 ارکان کے پی اسمبلی پر اسلام آباد میں مقدمات درج ہیں۔مقدمات میں دہشت گردی، پولیس رینجرز اہلکاروں کے قتل جیسی سنگین دفعات شامل ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد میں 11 مقدمات میں مطلوب ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کے خلاف 52 ایف آئی آرز درج ہیں۔
ایئر مارشل ملک نور خان — پاکستان کا فولادی معمارایئر مارشل ملک نور خان (22 فروری 1923ء — 15 دسمبر 2011ء) پاکستان کی عسکری، سیاسی اور انتظامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس کے تیسرے کمانڈر اِن چیف، مغربی پاکستان کے چھٹے گورنر، نامور سیاست دان، عالمی شہرت یافتہ منتظم، اور قومی اداروں کے معمار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہیں Man of Steel اور The Man with the Midas Touch جیسے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ دوست احباب انہیں محبت سے نورو کہتے تھے۔—ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرملک نور خان پنجاب کے ضلع چکوال کے قصبہ تمن میں ایک معزز آوان خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صوبیدار میجر ملک مہر خان برطانوی ہند کی فوج میں ایک ممتاز افسر تھے جنہوں نے پہلی جنگِ عظیم میں فرانس اور بیلجیم کے محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ عسکری روایت، نظم و ضبط اور حب الوطنی نور خان کو ورثے میں ملی۔انہوں نے گورنمنٹ مڈل اسکول تمن سے تعلیم کا آغاز کیا، بعد ازاں کرنل براؤن کیمبرج اسکول اور چیفز کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ پھر پرنس آف ویلز رائل انڈین ملٹری کالج میں داخل ہوئے جہاں عسکری تربیت کے ساتھ ساتھ باکسنگ میں غیر معمولی شہرت پائی۔ اسی ادارے میں ان کی رفاقت ایئر مارشل اصغر خان جیسے نامور افسران سے رہی۔—فضائیہ میں شمولیت اور دوسری جنگِ عظیممحض 17 برس کی عمر میں 1941ء میں وہ رائل انڈین ایئر فورس میں کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ برطانیہ میں رائل ایئر فورس کے ساتھ گنری اور بمبار پائلٹ کی تربیت حاصل کی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما محاذ پر جاپانی افواج کے خلاف اہم مشنز اڑائے اور 1944ء میں اراکان فرنٹ پر ایک جرات مندانہ ڈائیو بمبنگ آپریشن انجام دیا۔یہی وہ دور تھا جب ان کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قیادت کے اوصاف نمایاں ہونا شروع ہوئے۔—قیامِ پاکستان اور پاک فضائیہ میں خدمات1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد ملک نور خان نے پاکستان ایئر فورس کا انتخاب کیا۔ وہ پی اے ایف اسٹیشن چکلالہ کے کمانڈر مقرر ہوئے اور جلد ہی لندن میں پاکستان کے پہلے ایئر اتاشی بنے۔ بعد ازاں آر پی اے ایف کالج کے کمانڈنٹ، ایئر ہیڈ کوارٹر میں ڈائریکٹر آرگنائزیشن، اور مختلف کمانڈ اسائنمنٹس پر فائز رہے۔1950ء کی دہائی میں انہوں نے ایف-86 سیبر طیاروں کی شمولیت کی بھرپور وکالت کی، جو بعد ازاں پاک فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے۔ 35 برس کی عمر میں وہ دنیا کے کم عمر ترین ایئر افسران میں شمار ہونے لگے۔—پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے سنہری سال1959ء میں ملک نور خان کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں پی آئی اے نے عالمی سطح پر ایک ممتاز اور منافع بخش ایئر لائن کی حیثیت حاصل کی۔ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل، پیرس کا اسکرائب ہوٹل اور مشرقِ وسطیٰ میں کئی اسٹریٹجک اثاثے پی آئی اے کے پورٹ فولیو میں شامل ہوئے۔ان کے دور کو، اور بعد ازاں ایئر مارشل اصغر خان کے تسلسل کو، پی آئی اے کی تاریخ کے سنہری سال کہا جاتا ہے۔ بعد میں 1973ء میں بطور چیئرمین ان کی واپسی پر بوئنگ 747 اور ڈی سی-10 جیسے وائیڈ باڈی طیارے متعارف ہوئے اور قومی شناخت کی سبز و سنہری لِوری اپنائی گئی۔—پاک فضائیہ کے کمانڈر اِن چیف (1965–1969)23 جولائی 1965ء کو ملک نور خان نے پاک فضائیہ کی کمان سنبھالی۔ چند ہی ہفتوں بعد 1965ء کی جنگ چھڑ گئی۔ محدود وسائل کے باوجود پاک فضائیہ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ نور خان نے نہ صرف قیادت کی بلکہ خود طیارہ اڑا کر آپریشنل تیاریوں کا عملی مظاہرہ کیا۔

جنگ کے بعد انہوں نے چین کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کیا اور ایف-6 طیاروں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا۔ 1967ء کی عرب۔اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹس کی شمولیت بھی انہی کے فیصلوں کا نتیجہ تھی۔—گورنری، اصلاحات اور سیاسی کردار1969ء میں انہیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے تعلیم، صنعت اور محنت کش طبقے کے لیے اصلاحات متعارف کروائیں۔ تعلیمی نظام میں اردو اور بنگالی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کی سفارشات انہی کے دور میں سامنے آئیں۔ ون یونٹ کے خاتمے اور صنعتی مشاورتی پینلز کے قیام میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔بعد ازاں وہ قومی سیاست میں سرگرم رہے، 1985ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1988ء کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔—کھیلوں خصوصاً اسکواش میں انقلابملک نور خان نے پاکستان میں اسکواش کے کھیل کو عالمی سطح تک پہنچانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پی آئی اے کولٹس اسکیم کے ذریعے قمر زمان، محب اللہ خان اور بالخصوص جہانگیر خان جیسے لیجنڈز سامنے آئے۔ کراچی میں پی آئی اے اسکواش کمپلیکس اور پاکستان اوپن جیسے ٹورنامنٹس انہی کی بصیرت کا ثمر ہیں۔—1978ء کا ہائی جیکنگ واقعہ اور بے مثال جرات1978ء میں پی آئی اے کے ایک طیارے کی ہائی جیکنگ کے دوران نور خان نے مسافروں کی جان بچانے کے لیے خود کو یرغمال بنانے کی پیشکش کی۔ مذاکرات کے دوران انہوں نے ہائی جیکر کو قابو کرنے کی کوشش کی اور گولی لگنے کے باوجود حوصلہ نہ ہارا۔ اسی جرات پر انہیں ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔—ذاتی زندگی اور وفات1952ء میں انہوں نے بیگم فرحت سلطان سے شادی کی اور چار بچوں کے والد بنے۔ سادگی، دیانت اور خدمتِ خلق ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ 15 دسمبر 2011ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔—اعزازات (Awards & Decorations)ایئر مارشل ملک نور خان کو ان کی بے مثال جرات، قیادت اور قومی خدمات کے اعتراف میں ملکی اور غیر ملکی سطح پر متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کا شمار ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے عسکری اور سول دونوں میدانوں میں اعلیٰ اعزازات حاصل کیے۔ہلالِ شجاعت (1978ء): یہ اعزاز انہیں 1978ء میں پی آئی اے کے طیارے کی ہائی جیکنگ کے دوران غیر معمولی جرات، مسافروں کی جان بچانے اور اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر عطا کیا گیا۔Midalja għall-Qadi tar-Repubblika (1979ء): مالٹا کا اعلیٰ سول اعزاز، جو انہیں بین الاقوامی ہوا بازی اور انتظامی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔پاک فضائیہ اور قومی سطح کے دیگر تمغے اور اعزازی اسناد، جو ان کی طویل اور شاندار عسکری خدمات کا اعتراف تھیں۔ایئر مارشل نور خان کا نام ان چند افسران میں شامل ہے جنہیں نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ امن کے زمانے میں بھی قومی ہیرو کی حیثیت حاصل رہی۔—عسکری ترقیات (Promotions & Ranks)ایئر مارشل ملک نور خان کی عسکری ترقیات ان کی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور قائدانہ اوصاف کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نہایت کم عمر میں اعلیٰ عسکری عہدے حاصل کیے اور پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک مثال قائم کی۔پائلٹ آفیسر — 6 جنوری 1941ءفلائنگ آفیسر — اکتوبر 1942ءفلائٹ لیفٹیننٹ — 14 جون 1945ءاسکواڈرن لیڈر — نومبر 1946ءونگ کمانڈر — 15 ستمبر 1948ءگروپ کیپٹن — 1954ءایئر کموڈور — 1957ءایئر وائس مارشل — 19 مئی 1964ءایئر مارشل — 5 جولائی 1965ءایئر مارشل کے عہدے تک ان کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاک فضائیہ کے ان چند افسران میں شامل تھے جن پر قیادت، حکمتِ عملی اور اعتماد تینوں حوالوں سے مکمل بھروسا کیا گیا۔ایئر مارشل ملک نور خان صرف ایک عسکری کمانڈر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت قومی معمار تھے۔ فضائی دفاع، قومی ایئر لائن، کھیلوں کی ترقی اور ریاستی نظم و نسق—ہر میدان میں ان کی خدمات ایک روشن مثال ہیں۔ ان کے اعزازات اور ترقیات دراصل پاکستان کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہیں۔
عمران خان کی شہادت ۔ اظہر سید عمران خان کے بیٹے کا باپ کی شہادت کی صورت سیاست میں حصہ لینے کا اعلان مزیدار ہے۔اس کا مطلب ہے مالکوں اور ریاست کی جان سوشل میڈیا انفراسٹرکچر سے جلد چھٹنے والی نہیں۔مبینہ شہید کی میراث سنبھالنے والے کو ایلن مسک سمیت تمام سوشل میڈیا مالکان کی حمایت کے ساتھ مالکوں سے عاجز اور ایٹمی اثاثوں کے درپے قوتوں کے سائبر سیلوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی ۔جنرل باجوہ کی بے مثال قیادت میں ففتھ جنریشن وار کا جو تجربہ کیا گیا اس کے شاندار نتایج نے ایک بہت بڑی پاکستان اور فوج مخالف نئی رائے عامہ ہی پیدا نہیں کی صوبوں کے عوام میں نفرت،لسانی اور نسلی تعصب بھی پیدا کیا۔بھارتیوں نے آپریشن سیندور میں سوشل میڈیا کو اپنے مفادات کے تحت استمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہ داؤ الٹا پڑ گیا۔مثالی صورت وہی ہے جو پی ٹی آئی ٹرولز کے زریعے پیدا کی گئی ہے ۔اس قدر بڑا اور موثر نیٹ ورک شائد ہی دنیا کے کسی ملک میں ہو جتنا پاکستان میں قائم کیا جا چکا ہے ۔کوئی بھی معاملہ تقریبآ ہر پاکستانی تک اس کے ہاتھ میں موجود فون کے زریعے پہنچایا جا سکتا ہے ۔کوئی بھی بیانیہ بنا کر اسے قومی مسلہ بنایا جا سکتا ہے ۔

اس خوفناک عفریت سے جان چھڑانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں سوائے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے یا سوشل میڈیا ایپس کے مالکان کو اپنا بنانے کے ۔انسٹا گرام ،فیس بک یا ٹویٹر کے مالکان یہودی لابی یا امریکی اشارے پر چلیں گے پاکستان کے کہنے میں کبھی نہیں آئیں گے ۔اگر کہیں پر یہ سوچ ہے عمران خان کی شہادت کے بعد اس کے حمایتی سوشل میڈیا سے جان چھوٹ جائے گی ،خوش خبری دی جا سکتی ہے ایسا نہیں ہو گا ۔ ایسا ممکن ہی نہیں ۔یہ انفراسٹرکچر نیا بت عمران خان کے بیٹے کی صورت تراش لے گا بھلے وہ پاکستان آئے یا نہ آئے یہ حمایتی سوشل میڈیا بندوق اس کے کاندھے پر رکھ کر لڑائی جاری رکھے گا۔مستقبل میں کیا ہوتا ہے کون جانے لیکن تجزیہ تو کیا جا سکتا ہے جس طرح تحریک عدم اعتماد سے پہلے عمران خان عوامی حمایت کھو بیٹھا تھا تحریک عدم اعتماد کے بعد صرف فوج مخالف بیانیہ کے زور پر نہ صرف ووٹ بینک دوبارہ حاصل کر لیا بلکہ اس میں شائد اضافہ بھی ہو گیا۔اب یہ دلیل ٹھیک نہیں پی ٹی ائی ضمنی الیکشن ہار گئی ۔ضمنی الیکشن مالکوں کی مرضی سے ہارے اور جیتے جاتے ہیں۔یہی سچ ہے ۔اس سوشل میڈیا کی زہرناکی ثابت ہو چکی ہے تو مالکوں سے عاجز عالمی قوتیں کیوں اسے ختم ہونے دیں گی ۔ففتھ جنریشن وار سے پہلے چھ سیٹوں پر ضمانت ضبط کروا لینے والا اگر طاقتور فوج کیلئے پریشان کن چیلنج بننے کے ساتھ لیڈر کا روپ اختیار کر سکتا ہے تو انہی ہتھیاروں سے اس کے بیٹے کو بھی مسیحا بنایا جا سکتا ہے ۔عمران خان کو تو ووٹ بینک بنا کر دیا گیا تھا بیٹے کو بنے بنائے یوتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی ۔ہمیں لگتا ہے میثاق جمہوریت کے بعد مالکوں نے گملہ میں جو گلاب اگائے تھے انکی خوشبو ابھی کافی دیر آتی رہے گی ۔
ڈی جی ایف آئی اے کی قومی اسمبلی کی کمیٹی میں ہوشربا انکشافات اسلام آباد اس سال 51 ہزار لوگون کو اف لوڈ کیا گیا۔اس سال 24 ہزار افراد کو صرف سعودی عرب نے بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی نے بھی اس سال 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ آزربیجان نے 2 ہزار 5 سو پاکستانی بھیکاروں کو ڈی پورٹ کیا۔ لوگ عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں ثبوت کے ساتھ اف لوڈ کیا عمرے کے نام پر لوگوں کے پاس یورپ جانے کے ڈاکومنٹس موجود تھے تب آف لوڈ کیا۔اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے 12 ہزاد افراد تاحال واپس نہیں آئے۔ برما میں سیاحتی ویزے پر چار ہزار افراد گے اڑھائی ہزار واپس نہیں آئے۔گزشتہ سالوں میں غیر قانونی جانے والے افراد میں پاکستان ٹاپ فائیو ملکوں میں تھا۔ گزشتہ برس 8 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ گئے۔اس سال تعداد چار ہزار ہوگئی اب تک مجموعی طور پر 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے باعث سعودی عرب نے ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی اور جرمنی نے ہمارے سرکاری پاسپورٹ پر ویزہ فری کردیا۔ ایمی اپلیکیشن جنوری کے وسط میں لانچ کردی جائے گئ۔ ایمی ایپلیکیشن میں بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل ایمیگریشن حاصل کرلیں گے۔ زمبابوے میں ہمارے سفیر بتایا ایتھوپیا زمبیا سے غیر قانونی طریقے سے یورپ جارہے ہیں، سیکرٹری سمندر پار پاکستانی اسلام آباد میں ایف آئی اے کے کاونٹر زیادہ عملہ کم ہے۔ ایک جعلی فٹ بال کلب نے فٹ بال ٹیم کو جاپان بھیجا جس میں ایک لنگڑا شخص بھی جاپان چلا گیا ۔ تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ 2022 میں بھی جاپان جعلی کلب کو بھیجا جا چکا ہے۔

اس سے اندازہ لگائیں وزیراعظم شہباز شریف حکومت اہم ایشوز پر کتنی غیرسنجیدہ ہے اور فیصلہ سازی کا معیار کتنا بوگس اور ترجیح زیرو ہے۔ HEC چیرمین کی پوسٹ 29 جولائی یعنی ساڑھے چاہ ماہ سے خالی ہے۔ سیکرٹری ندیم محبوب نے کمشن کا چارج اپنے پاس رکھ لیا ہے اور سمری دبائے بیٹھے ہوئے ہیں اور کمشن چارج پر چلا رہے ہیں جہاں وہ اہم فیصلے کررہے ہیں جو ایک پورے چیرمین کی اتھارٹی ہوتی ہے ایکٹنگ کی نہیں۔ ندیم محبوب کب چاہیں گے کہ نیا چیرمین لگے اور جو مزے کمشن میں کررہے ہیں وہ ختم ہوں لہذا بھینس گئی پانی میں ۔ جیسا آپ کے علم میں ہوگا وزیراعظم شہباز شریف کبھی کبھار پاکستان کے دورے پر آتے ہیں۔ اگر مستقبل قریب میں کبھی وہ پاکستان آن نکلے تو شاید بھی سمری منگوا لیں۔۔ فیصلہ بھی کر









