
بنگلادیش | طلباء تنظیم “انقلاب مانچا” کے نوجوان رہنما عثمان ہادی کو گزشتہ ہفتے شہر ڈھاکہ میں نقاب پوش نامعلوم افراد نے اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ایک مسجد سے باہر آ رہے تھے۔ وہ سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی موت کی خبر سن کر بنگلادیش کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے، جس دوران دو اخبارات کے دفاتر کو آگ لگائی گئی

اور بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنر کے دفتر پر بھی دھاوا بولا گیا۔آج عثمان ہادی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس سمیت لاکھوں افراد شریک ہوئے۔سربراہ محمد یونس نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل اور عثمان ہادی کے قتل کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔










