بھیک مانگنے پر مختلف ممالک سے ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کا انکشاف۔۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا قبضہ کیسز میں اے ڈی سی آر اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مزید بااختیار کرنے کا فیصلہ۔۔ عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر وزیر اعظم کے ترجمان کا بیان: ’جیل میں 870 ملاقاتیں ہوئیں، یہ قید تنہائی نہیں….!!!!*نیوزی لینڈ نے پاکستان سمیت 26 ممالک میں ویزا ایپلی کیشن سینٹرکی سروس فیس بڑھا دی۔۔عمران خان کی تینوں بہنوں پر دہشت گردی کا مقدمہ درج پٹرول بم بناکر ہماری طرف پھینکے گئے، پولیس کا بیان۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*آپریشن سندور کے پہلے دن ہی بھارت ہار گیا تھا، سابق وزیراعلیٰ مہاراشٹرا کا اعتراف*بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما پرتھوی راج چوہان نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت آپریشن سندور کے پہلے دن ہی فضائی جنگ میں مکمل شکست کا سامنا کر چکا تھا۔پرتھوی راج چوہان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 7 مئی کو صرف آدھے گھنٹے کی فضائی لڑائی میں بھارتی جہاز مار گرائے گئے اور بھارتی ائیر فورس کے جہازوں کو بعد میں مزید پرواز کرنے سے روک دیا گیا کیونکہ پاکستان ائیر فورس کے حملوں کا خطرہ موجود تھا۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کی ناکامی چھپانے کے لیے ’آپریشن مہادیو‘ کے نام سے جعلی مقابلے شروع کیے۔پرتھوی راج چوہان نے اپنے بیان پر قائم رہنے کا عندیہ دیا اور معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ ان کے اس بیان نے بھارت میں سیاسی حلقوں میں شدید ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

🚨*بھیک مانگنے پر مختلف ممالک سے ہزاروں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کا انکشاف* “`رواں سال 24 ہزار افراد سعودی عرب سے،یو اے ای سے 6 ہزار، آزربیجان سے ڈھائی ہزار پاکستانی بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا،ڈی جی ایف آئی اے““24 ہزار افراد کمبوڈیا گئے جس میں سے 12 ہزار افراد تاحال واپس نہیں آئے،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

*ملک بھر میں میٹرک کی سطح پر 2 نئے تعلیمی گروپ ٹیکنیکل،زراعت شامل کرنے کی تجویز*میٹرک کی سطح پر 2 نئے تعلیمی گروپس سے متعلق آئی بی سی سی کا مشاورتی اجلاس 23 دسمبر کو اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا ہے ۔اس اجلاس میں مضامین کی گروہ بندی اور اعلیٰ تعلیم کے متبادل راستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں انٹر میں پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس میں داخلے کی اہلیت پر بھی غور ہوگا۔اس میں میٹرک کی سطح پر متبادل مضامین کے مساوات پر مشاورت کی جائے گی۔اس کے علاوہ غیر ملکی تعلیمی اسناد کی مساوات سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں جنرل اور ووکیشنل ٹریننگ کی تعلیم سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی جبکہ میٹرک ٹیکنیکل اور زراعت میں کرنے والے طلبا کے میڈیکل اور انجینئرنگ داخلے سے متعلق بھی غور ہوگا۔علاوہ ازیں تعلیمی اصلاحات کے لیے قومی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا قبضہ کیسز میں اے ڈی سی آر اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مزید بااختیار کرنے کا فیصلہوزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا شہریوں کی آسانی اور حفاظت کے لیے ہر سڑک کے ساتھ فٹ پاتھ بنانے کا حکم

شو رومز سے رینٹ پر لی گئی گاڑیاں آگے فروخت کرنے کا مبینہ فراڈ، پولیس کا کردار سوالیہ نشاناسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں مبینہ طور پر کار شو رومز سے گاڑیاں رینٹ پر حاصل کر کے انہیں آگے کم قیمت پر فروخت کرنے کا سنگین جرم تشویشناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ پولیس متاثرین کو بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق حال ہی میں سواں گارڈن اسلام آباد میں قائم Swari 4U نامی کار شو روم سے ایک شہری سید زیشان اشرف جیلانی نے ہونڈا سوک (رجسٹریشن نمبر AJV-ICT-516) ماہانہ 150,000 روپے کے عوض رینٹ پر حاصل کی۔ شو روم مالک کے مطابق مذکورہ گاڑی کی مالیت تقریباً 55 لاکھ روپے ہے۔شو روم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ رینٹ پر لی گئی گاڑی مبینہ طور پر آگے فروخت کر دی گئی ہے۔ شو روم مالک نے گاڑی میں نصب ٹریکر کی مدد سے گاڑی کو ٹریس کیا اور بالآخر اسے برآمد کر کے واپس حاصل کر لیا۔دوسری جانب جس شخص کے قبضے سے ہونڈا سوک برآمد کی گئی، اس نے تھانہ آبپارہ میں درخواست دی کہ اس نے یہ گاڑی 15 لاکھ روپے میں خریدی تھی، اور جب اس سے گاڑی واپس لی گئی تو اس میں خاصی مقدار میں نقد رقم بھی موجود تھی۔اس معاملے پر تھانہ آبپارہ پولیس نے شو روم اونر سے رابطہ کر کے گاڑی تھانے میں پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ تاہم شو روم مالک کا مؤقف ہے کہ گاڑی رینٹ پر دی گئی تھی، جس کے تمام قانونی شواہد، معاہدہ اور دستاویزی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔مزید برآں، جب اس معاملے پر ایس ایچ او تھانہ آبپارہ سے مؤقف جاننے کے لیے سوال نامہ ارسال کیا گیا تو تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس سے پولیس کے کردار پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔کار شو روم کے مالک نے اس سنگین معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف کی فراہمی کے لیے آئی جی اسلام آباد پولیس سے باقاعدہ اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رینٹ پر گاڑیاں لے کر فروخت کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔

ٹرانسپورٹرز کے حکومت پنجاب کے ساتھ مذاکرات:کمرشل گاڑیوں کے جرمانے کو 15 ہزار کی بجائے 4000 روپے رکھنے کا فیصلہمزدا گاڑیوں کی لمبائی 20 فٹ کی بجائے 38 فٹ رکھنے کی منظوریبس کے روٹ کا دورانیہ ایک سال کی بجائے 2 سال کرنے کا فیصلہ

🚨 عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر وزیر اعظم کے ترجمان کا بیان: ’جیل میں 870 ملاقاتیں ہوئیں، یہ قید تنہائی نہیں….!!!!

* پنجاب حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کررہی ہے، عظمیٰ بخاری* پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے نمایاں کام کیا ہے، عظمیٰ بخاریعوام کو اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی وزیراعلیٰ پنجاب کی ترجیح ہے، عظمیٰ بخاریمریم نواز کے گورننس ماڈل میں کسی قسم کی سفارش نہیں چلتی، عظمیٰ بخاریپنجاب حکومت عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہی ہے، عظمیٰ بخاریلیہ میں ایک بچہ مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوا، عظمیٰ بخاریوزیراعلیٰ مریم نواز نے اے سی لیہ کو ہٹانے کا حکم دیا ہے، عظمیٰ بخاریجہاں واقعہ ہوا اس آباد میں مین ہول نہیں بلکہ گڑھا تھا، عظمیٰ بخاریعوام کی خدمت کرنے پر کوتاہی ہو تو اس کو تحفظ نہیں دیا جاتا، عظمیٰ بخاریوزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام منصوبوں میں کوالٹی کا اسٹینڈرڈ ہے، عظمیٰ بخاری

نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشن ملتان ڈویژن کی منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی 5200 گرام آئس برآمد ملزمان گرفتار ۔۔۔۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشن ملتان ڈویژن کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری . ملتان: نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشن ملتان ڈویژن نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی ۔خفیہ اطلاعات پر کی گئی کاروائی کے دوران منشیات فروشوں ملزمان نام شہزاد اور محمد عثمان کے قبضے سے 5200 گرام آئس برآمد کر لی گئی جبکہ ملزمان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تفصیلات کے مطابق ڈرائکٹر نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشن ملتان ڈویژن وقار اعظم SHO نصرت علی جوہر ، کے زیر نگرانی،سب انسپکٹر قدیر اعوان اور ان کی ٹیم نے شیر شاہ ٹول پلازہ پر ناکہ بندی کے دوران کا روائی کرتے ہوئے منشیات کی ترسیل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا اور برآمد ہونے والی آئس کو تحویل میں لے کر ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشن ملتان ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹرولنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کا روائیاں جاری رہیں گی اور پنجاب کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے ہمارا عزم ۔۔منشیات سے پاک پنجاب صحت مند محفوظ پنجاب

لغاری خاندان کی عوام سے غداری نیٹ میٹرنگ ختم؟ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت نے نیٹ میٹرنگ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے

وفاقی حکومت نے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کرنے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نیپرا (NEPRA) نے باضابطہ طور پر ورکنگ شروع کر دی ہے۔

نیٹ میٹرنگ کیا تھی؟

نیٹ میٹرنگ کے تحت اگر کسی گھر یا دکان پر سولر سسٹم لگا ہو تو:

دن کے وقت سولر سے بننے والی اضافی بجلی واپس گرڈ میں چلی جاتی تھی

رات یا ضرورت کے وقت صارف وہی یونٹس گرڈ سے لے لیتا تھا

امپورٹ (لی گئی) اور ایکسپورٹ (دی گئی) بجلی ایک ہی ریٹ پر ایڈجسٹ ہو جاتی تھی

نتیجتاً بہت سے صارفین کے بجلی کے بل زیرو یا بہت کم آتے تھے

اسی وجہ سے لاکھوں صارفین نے سولر سسٹم لگوایا اور اربوں روپے کا ریلیف ملا۔

حکومت نے نیٹ میٹرنگ کیوں ختم کی؟

حکومت اور پاور سیکٹر کے مطابق:

نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا

گرڈ اور سسٹم کے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے تھے

اس لیے حکومت نے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا

نیا نظام: نیٹ بلنگ کیا ہے؟

اب نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں:

گرڈ سے لی گئی بجلی (Import Units) پر قومی ٹیرف لاگو ہوگا (مثلاً 55 سے 65 روپے فی یونٹ)

سولر سے گرڈ کو دی گئی بجلی (Export Units) پر تقریباً 27 روپے فی یونٹ ادا کیے جائیں گے

امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس کا الگ الگ حساب ہوگا

آخر میں دونوں بلوں کا موازنہ کیا جائے گا

آسان مثال (عام آدمی کے لیے)

فرض کریں:

آپ نے گرڈ سے بجلی لی: 300 یونٹ × 60 روپے = 18,000 روپے

آپ نے سولر سے گرڈ کو بجلی دی: 300 یونٹ × 27 روپے = 8,100 روپے

نتیجہ: 18,000 – 8,100 = 9,900 روپے بل ادا کرنا پڑے گا

جبکہ نیٹ میٹرنگ میں یہی بل تقریباً صفر ہوتا تھا۔

کن صارفین پر نئی پالیسی لاگو ہوگی؟

یہ پالیسی صرف نئے سولر کنکشن/کنٹریکٹ لینے والوں پر لاگو ہوگی

جن صارفین کے پاس پہلے سے نیٹ میٹرنگ کا 7 سالہ کنٹریکٹ موجود ہے:

وہ کنٹریکٹ ختم ہونے تک پرانے نظام پر رہیں گے

کنٹریکٹ ایکسپائر ہونے کے بعد نئی نیٹ بلنگ پالیسی لاگو ہوگی

سب سے زیادہ نقصان کن کو ہوگا؟

جو دن میں کم اور رات میں زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں

جن کے پاس بیٹری یا ہائبرڈ سسٹم نہیں

جو مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرتے ہیں

کس کو پھر بھی فائدہ ہو سکتا ہے؟

جو دن کے وقت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں

جن کے پاس بیٹری یا ہائبرڈ سولر سسٹم ہے

جو گرڈ سے بجلی کم لیتے ہیں

اب عام آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟

نیا سولر لگوانے سے پہلے آن گرڈ سسٹم پر دوبارہ غور کریں

ہائبرڈ یا بیٹری سسٹم مستقبل میں زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے

موجودہ سولر صارفین اپنے کنٹریکٹ کی مدت ضرور چیک کریں

حکومت کے اس فیصلے کے بعد سولر صارفین کو وہ فائدہ نہیں ملے گا جو نیٹ میٹرنگ میں مل رہا تھا۔ اب گرڈ سے بجلی مہنگی اور سولر سے بیچی جانے والی بجلی سستی ہوگی، جس سے بجلی کے بل دوبارہ آنا شروع ہو جائیں گے۔

یہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے جس کا اثر ہر اس شخص پر پڑے گا جو سولر سسٹم لگوانے کا ارادہ رکھتا ہے یا پہلے سے سولر استعمال کر رہا ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے امیدوار اور معروف مذہبی اسکالر ہیں، مگر وہ بھی پولیس گردی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ انہیں چار بار زمین پر گرایا گیا واٹر کینن کا آزادانہ استعمال 40 بیورو کریٹ کونسے 10 دن کس کے لئے اھم فائنل راونڈ شروع جج جہانگیری کی ڈگری کے معاملے پر عدالتی کارروائی پر کیے جانے والے اعتراضات مسترد۔۔اڈیالہ کے باہر تمام لائٹیں بند کردی گئی ۔۔رات 2 بجے۔۔منظور وٹو انتقال کر گئے۔۔ وفاقی شرعی عدالت ھای کورت منتقل۔۔جماعت اسلامی کے امیر پر اپنی جماعت نے ٹاوٹی کا الزام عائد کر دیا۔امیر جماعت اسلامی دنیا کا سبب سے بڑا ٹاوٹ ھے۔امریکہ کا بحرالکاہل میں 3 کشتیوں پر حملہ 18 ھلاکتوں کی ویڈیو وائرل۔دنیا بھر میں جہاں چاھیے گئے حملہ کرینگے ٹرمپ کی دھاڑ۔۔ملک میں غیر یقینی صورتحال برقرار خوف کے ساے۔40 ھزار پاکستان کے ھونھار ملک چھوڑ گئے پاکستان میں بےروزگاری عروج پر۔۔مھنگای کا طوفان 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے لگے۔۔پاکستان میں 2 وقت کی روٹی سے لوگ ترسنے لگے 3 سالوں میں مھنگای نے 75 سال کے ریکارڈ توڑ دیئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بدبخت ۔اظہر سیدجنرل باجوہ اور فیض کے لگائے پالتو ججوں کو انقلاب اس وقت نہیں آیا تھا جب کھلے عام قانون انصاف کی عصمت دری ہوتی تھی ۔میڈیا میں خال ہی تھے جو ان ججوں اور ان جنرلوں کے کرتوتوں پر تنقید کرتے تھے ۔اس دور کے پالتو ججوں کو جنرل عاصم منیر کے دور میں انقلاب آیا تو بعض چمونے صحافیوں کو بھی انقلاب آگیا ۔حقیقت میں یہ انقلاب نہیں تھا انسانی حرص اور لالچ تھا۔جب کوئی بتائے مدراس اور چنائی میں بھارتی ایجنسی را کے قائم کردہ سائبر سیلوں نے تمہیں غلام بنا لیا ہے تسلیم نہیں کرتے ۔ان سائبر سیلوں میں بیٹھے نوجوان بھارتی ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے زریعے۔۔ فوج مخالف،انقلابی ججوں ،بلوچ حمائت میں کئے گئے وی لاگز ،پوسٹوں کو گھنٹوں سن کر دیکھ کر لائیک کر کے ،ری پوسٹ کر کے ان انقلابیوں کے ڈالر بنواتے ہیں

۔یہ مزے مزے سے ڈالر وصول کرتے ہیں اور انقلاب انقلاب کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔بھارتی ہماری نقل کرتے ہیں۔جنرل آصف اور جنرل سلیم باجوہ نے جامعات کے میڈیا سٹڈی کے طالبعلموں کی مدد سے ففتھ جنریشن وار کی بنیاد عمران خان کو مسلط کرنے کیلئے رکھی تھی ۔ بھارتیوں نے اسی طرز پر بھارتی جامعات کے طالبعلموں سے کام لینا شروع کر دیا ہے ۔جو پراپیگنڈہ آصف علی زرداری،نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے خلاف ففتھ جنریشن وار پلاٹون کے زریعے کیا جاتا تھا ،اسی طرز پر بھارتی ففتھ جنریشن وار کے زریعے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔

پاکستان جنرل باجوہ کے دور سے نکلنے کی جدو جہد میں مصروف ہے تو بھارتی پاکستان کے انقلابیوں کے زریعے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔افغان ،بلوچ،پی ٹی آئی اور لاکھوں جعلی اکاؤنٹس کے زریعے نفرت پھیلاتے ہیں تو یہاں کے بچونگڑے صحافی اس نفرت کا شکار ہو کر بھارتی پراپیگنڈہ کا جواب دینے والوں کے درپے ہو جاتے ہیں۔ہم تو انہیں بدبخت ہی کہیں گے اس مٹی سے کھاتے ہیں اسی کی پلیٹ میں ہگتے ہیں۔قانون ،انصاف اور عالمی انسانی حقوق کی پاسداری تو خود امریکی گوانتانامو بے بنا کر نہیں کرتے پاکستان کیوں کرے ۔کوئی ریاست اپنی سالمیت کو درپیش خطرات بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی پاکستان کیوں دے ۔جنرل مشرف نے اکبر بگٹی کو شہید کیا ظلم کیا لیکن کیا اس جواز پر بلوچ عسکریت پسندی کو بڑھنے دیا جائے۔جنرل باجوہ اور فیض نے خارجیوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی ظلم کیا ، تو کیا خارجیوں کو دہشتگردی کی کھلی چھٹی دے دی جائے ۔فیصلوں میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن انہیں درست کر لیا جاتا ہے

۔بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں اور خارجیوں کو دیکھتے ہی اڑا دینا غلطیاں درست کرنے کی طرف سفر ہے۔چینیوں نے سی پیک کا آغاز کیا تو اپنے موجودہ صدر کے زریعے تسلسل کی پالیسی بھی بنائی ۔چینی صدر کی تیسری ٹرم چل رہی ہے ۔پاکستان غلطیاں درست کرنے چلا ہے ۔پالیسی سازوں نے جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے زریعے پالیسوں میں تسلسل کی حکمت عملی اپنائی ہے ۔ چینیوں کے مشورے پر عمل کیا ہے ،تاکہ غلطیاں درست کی جائیں ۔پوری دنیا کو پیغام مل گیا ہے ۔بھارت کا روایتی ہتھیاروں میں سبقت کا بھرم آپریشن سیندور میں ٹوٹ گیا ہے ۔یہ بدلتا ہوا پاکستان ہے ، لیکن یہاں مٹھی بھر بد بختوں کو انقلاب آیا ہوا ہے ۔افغان حکومت گھٹنے ٹیک چکی ہے ۔منتوں ترلوں پر اچکی ہے لیکن ان بد بختوں کی پاکستانیت جاگتی ہی نہیں ۔نیو ورلڈ آرڈر تشکیل پا رہا ہے۔خلیجی ممالک پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں

۔ایران ،ترکی چین اور وسط ایشیا کی ریاستیں پاکستان سمیت ایک اتحاد میں ڈھل رہی ہیں لیکن پاکستانی بدبخت جعلی ڈگری والے ججوں کی حمایت کر کے انقلابی بنے ہوئے ہیں۔جو بھی ہے ہمیں خوش گمانی ہے پاکستان بدل رہا ہے ۔تسلسل معاشی استحکام اور خوشحالی کی نوید بنے گا۔ہائی برڈ نظام بد بختوں کو بہت جلد انسان کے بچے اور سچا پاکستانی بنا دے گا۔

بہادری کا دوسرا نام بےنظیر بھٹوتحریر اطہر شریفشہزاد سعید چیمہ صاحب سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی ہدایت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے تنظیمی عہدیداران، کارکنان، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، الائیڈ ونگز اور بالخصوص *شعبۂ اطلاعات کے ذمہ داران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بروز 15 دسمبر سے 27 دسمبر تک اپنی تمام سوشل میڈیا سرگرمیوں کو *شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی عظیم شخصیت کے گرد مرکوز رکھا جائے۔ میں آج سے 27 دسمبر 2025 تک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی کامیابیاں جو پاکستان کی فلاح وبہبود اور اس کے مستقبل کے لیے ان کی اچیومنٹ اور ان کی جہدوجد زندگی مختلف زاویوں سے متعلق سلسلہ وار لکھوں گابے نظیر بھٹو نے ضیا کی 11 سالہ بدترین آمریت کا بہادری کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جو تاریخ کا حصہ ہے-وہ عمر بھر آمریت کو للکارتی رہیں۔ اُن کا طرز سیاست بھی ایسا تھا جس کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہے۔ بینظیر بھٹو ، دھرتی و عوام سے محبت اور بہادری کا تاریخی استعارہسیدنا علی المرتضیٰؓ کا قول ہے زندگی اس طرح بسر کروجب تک زندہ رہو لوگ تمہارے ملنے کیلئے بے تاب رہیں اور جب اس فانی دنیا کو چھوڑ کر جاؤتو لوگ تمھیں بے تابی سے یاد کریں

– ذوالفقارعلی بھٹو کی باصلاحیت اور بہادر بیٹی بے نظیر بھٹوسیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس قول پر پورا اترتی ہیں۔ وہ زندہ رہیں تو پاکستانی عوام اُن کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزار ہا میل کا سفرطے کر کے اُن کی جلسہ گاہوں تک پہنچتے رہے۔

انھوں نے شہادت کو قبول کیا تو اُن کی شہادت کے بعد پاکستان میں بسنے والے لوگوں میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں جس کا دل اِس واقعہ کو یاد کر کے افسردہ نہ ہو تا ہو اور جس کی آنکھ اس الم ناک واقعہ پر اشک بار نہ ہو ئی ہو۔ عالمی سیاسی تاریخ میں اور پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک اگر کوئی ایسا سیاسی اور حکمراں خاندان کا مقابلہ نہیں ہے جس نے قربانیوں کی لازوال جدوجہد اور بہادری کی مثالیں قائم کیں ، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جانیں قربان کر دی ہے تو بلاشبہ یہ بھٹو خاندان ہی ہے۔ سب سے پہلے بانی و قائدچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا نام آتا ہے جنھیں آمریت اور جوڈیشل کلنگ کے ذریعے پھانسی دے کر ملک میں بدترین روایت کو جنم دیا گیا ۔ان کی صاحبزادی اور جانشین، تاحیات چیئرپرسن پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے تو سب کو مات دے دی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے،

وہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آئیں’ پھر بم دھماکے اور ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کلنگ 170 افراد کی شہادتوں کا بار’ سیکڑوں زخمیوں کی تکلیف نہ صرف محسوس کی بلکہ اس بہادر لیڈر نے اگلے دن جان کی پرواہ کیے بغیر اسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کرکے سب کو حیران کردیا۔ 18 اکتوبر2007 سانحہ کار ساز اب تک کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے جس میں 170 افراد کو شہادت نصیب ہوئی۔بہادر بے نظیر بھٹو نے اگلے دن 19 اکتوبر 2007 کو چاروں صوبوں’ آزاد کشمیر اور علاقہ جات سے آئے ہوئے پارٹی رہنماؤں و کارکنوں سے ملاقاتیں کیں-پھر بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے ورثاء سے ملاقاتوں کے لیے روانہ ہو گئیں۔18 اکتوبر 2007 کے واقعات کے بعد بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔بوسنیائی جنگ ایک بین الاقوامی مسلح تنازعہ تھا جو بوسنیا اور ہرزیگووینا میں 1992 اور 1995 کے درمیان ہوا تھا

۔بوسنیا میں تین سال سے جنگ جاری تھی اور سابق یوگوسلاویہ کی نسل پرست سرب افواج نے نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کا خونی کھیل شروع کر رکھا تھا ، ایک لاکھ بےگناہ مسلمان شہید ہو چکے تھے ، لاکھوں ہجرت کر چکے تھے ، ہزاروں مسلمان خواتین کی بےحرمتی کی گئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو عقوبت خانوں میں اذیتیں دی جا رہی تھیں اور اکثر مقامات پر یہ ظلم عالمی امن فوج کی موجودگی کے باوجود ہو رہا تھا ، نومولود مسلم اکثریتی ملک کے دارالحکومت سرائیوو کے محاصرے کو دو سال ہو چکے تھے اور زندگی پر موت کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔چالیس لاکھ آبادی کے ملک میں مسلمانوں کی کل آبادی اٹھارہ لاکھ تھی اور مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ ان کو پچاس پچاس ہزار یا ایک لاکھ کی تعداد میں مختلف یورپی ممالک میں پناہ دینے دینے کے نام پر اپنے ملکوں اور معاشرے میں کھپا دیا جائے اور اس طرح یورپ کے قلب میں ایک مسلم اکثریتی ملک کے قیام کا امکان ہی نا رہے ، کوئی عالمی طاقت یا حکمران کمزور بوسنیائی مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنے کو تیار نہیں تھا

ایسے میں محترمہ بےنظیر بھٹو نے بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے سرائیوو جانے کا فیصلہ کیا اس کے لئے انہوں ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چلر سے رابطہ کیا اور دونوں نے اپنے فیصلے سے اقوامِ متحدہ کو آگاہ کر دیا یہ سنتے ہی ہر طرف کھلبلی مچ گئی ان دونوں دلیر خواتین کو ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ سرائیوو ائیرپورٹ سربوں کے محاصرے میں ہے آپ کے جہاز کو گرایا جا سکتا ہے ، شہر میں ہر طرف سرب فوج کے اسنائپر شوٹر موجود ہیں شہر میں شدید خانہ جنگی ہو رہی ہے آپ دونوں پر قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے پر مسلم دنیا کی یہ دونوں پرعزم رہنما اپنے سرائیوو جانے کے ارادے پر شدت قائم رہیں ، عالمی دنیا کو اب یہ خطرہ درپیش ہو گیا کہ پاکستان اور ترکی دو عظیم ملک ہیں اگر ان کی وزرائے اعظم کے ساتھ کوئی حادثہ یا اونچ نیچ ہو گئی تو پوری دنیا کسی عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے ،

اس خطرے کا احساس ہونے کے بعد امریکہ ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جارح سربوں کو سخت پیغام دیا گیا اور انہیں کسی متوقع جارحیت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کر دیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہیںوہ 3 فروری 1994 کا دن تھا جب پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بےنظیر بھٹو اور ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چلر بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو پہنچیں جہاں کے شہریوں نے ان دونوں کا والہانہ استقبال کیا وہاں انہوں نے بوسنیا کے صدر عالیجاہ عزت بیگ اور بوسنیا کے عوام سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں پاکستان اور ترکی ہر طرح ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اس دورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بوسنیا کا مسئلہ اور وہاں مسلمانوں کا قتلِ عام عالمی طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا جس نے دنیا بھر کا ضمیر جھنجوڑ دیا اور اس دبائو کے نتیجے میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے امریکی افواج کو سرب ٹھکانوں پر گولہ باری کرنے اور ان کی جارحیت محدود کرنے کے احکامات جاری کئے ان اقدامات سے نوزائیدہ بوسنیائی حکومت کو سانس لینے اور اپنی پولیس اور آرمی قائم کرنے کا وقت اور موقع ملا ، بعد میں 1995 میں سرب ، کروٹ اور بوسنین فریقوں کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور آج بوسنیا ہرزیگوینا کا ملک یورپ کے قلب میں اپنی مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ قائم ہے

بوسنیا ہرزیگوینا آج نا ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اس میں مسلمان نا ہوتے اگر بےنظیر بھٹو ہمت نا کرتیں اور ترک وزیراعظم کو ساتھ لے ان سنگین حالات میں بوسنیا کا دورہ نا کرتیں اور اس کے بعد بوسنیا کو خوراک ، اسلحہ اور امداد فراہم نا کرتیں -بینظیربھٹو ہی حقیقی معنوں میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کیلئے جدوجہد کرنے والی نڈر خاتون تھیں۔بینظیربھٹو تاریخ کا حصہ ہیں اور جب بھی تاریخ لکھی جاتی ہے محترمہ بینظیربھٹو جیسی نڈر اور جرات مند خاتون کو تاریخ یاد کرتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جس طرح محترمہ بینظیربھٹو نے آمریت کا مقابلہ کیا ، سختیاں برداشت کیں، جیلیں کاٹیں لیکن وہ نہ تو جھکیں اور نہ ہی بکیں، آج بھی جرات مندی کی جب بھی بات ہوتی ہے تو محترمہ بینظیربھٹو کا نام سرفہرست ہوتا ہے

انڈر 19ایشیاکپ میں پاکستان نے یو اے ای کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔۔ ملک میں ٹھنڈ سیاست میں گرمی 72 ھزار ارب روپے کی کرپشن 40 بیورو کریٹ کونسے 10 دن کس کے لئے اھم فائنل راونڈ شروع۔۔اچھی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں بھارت سے ھارنے کا دکھ لکین فائنل ھم جیت کر بدلہ لینے کے لئے تیار۔74 کرپٹ ترین بیورو کریسی کے فراڈیے اور 4 وزراء شکنجے میں۔۔رانا ٹنگا گرفتار سری لنکا کے کپتان پر الزامات۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے ہی جج جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری کے معاملے پر عدالتی کارروائی پر کیے جانے والے اعتراضات مسترد کر دیے سابق وزیراعلی پنجاب و پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما میاں منظور وٹو انتقال کرگئے ہی۔ مرحوم 2018 سے 2020 تک تحریک انصاف کا حصہ بھی رہے, 2020 میں دوبارہ واپس اپنی جماعت پیپلز پارٹی میں شمولیت کرلی تھی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

‎بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بدعنوانی کے خطرات سے نمٹنے، چینی کے شعبے پر اشرافیہ (شوگر مافیا) کی گرفت کو ختم کرنے اور غیرملکی ترسیلات زر کی حقیقی لاگت کا پتہ لگانے کے لیے پاکستان پر مزید 11 سخت شرائط عائد کی ہیں۔ ‎نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے پاور سیکٹر میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، گورننس اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور انتہائی غیر موثر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بھی نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ‎آئی ایم ایف نے

جمعرات کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے دوسرے جائزے کے لیے سٹاف لیول رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ قرض دینے والے (عالمی ساہوکار) نے پاکستان پر 11 اضافی شرائط عائد کی ہیں۔ ‎تازہ اضافے سے ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں شرائط کی کل تعداد 64 ہو گئی ہے۔ ‎نئی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان حکومتی ویب سائٹ پر اعلیٰ سطح کے وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات اگلے سال دسمبر تک شائع کرے گا۔ اس کا مقصد آمدنی اور اثاثوں کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس ذمہ داری کو اعلیٰ سطح کے صوبائی سرکاری ملازمین تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سابق وزیراعلی پنجاب و پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما میاں منظور وٹو انتقال کرگئے ہی۔ مرحوم 2018 سے 2020 تک تحریک انصاف کا حصہ بھی رہے, 2020 میں دوبارہ واپس اپنی جماعت پیپلز پارٹی میں شمولیت کرلی تھی۔

اچھی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں بھارت سے ھارنے کا دکھ لکین فائنل ھم جیت کر بدلہ لینے کے لئے تیار۔74 کرپٹ ترین بیورو کریسی کے فراڈیے اور 4 وزراء شکنجے میں۔۔رانا ٹنگا گرفتار سری لنکا کے کپتان پر الزامات۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے ہی جج جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری کے معاملے پر عدالتی کارروائی پر کیے جانے والے اعتراضات مسترد کر دیے سابق وزیراعلی پنجاب و پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما میاں منظور وٹو انتقال کرگئے ہی۔ مرحوم 2018 سے 2020 تک تحریک انصاف کا حصہ بھی رہے, 2020 میں دوبارہ واپس اپنی جماعت پیپلز پارٹی میں شمولیت کرلی تھی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

شرح سود میں نصف فیصد کمی انقلابی فیصلہ ہے ،مقامی قرضوں کا حجم کم ہو گا ،جی ڈی پی کا سائز بڑھے گا ،،مزید دلیرانہ فیصلوں کی ضرورت ہے ،شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں ہونا چاہئے۔۔پٹرول کی قیمتوں میں کمی رد حکومت بدستور 150 روپے فی لیٹر منافع کماے گی۔۔اڈیالہ جیل کے باھر اج پھر میدان سجے گا سیکورٹی ھای الرٹ۔۔انڈر 19 چمپین ٹرافی میں پاکستان پاکستان اج اھم ترین میچ کھیلنے کے لیے تیار۔۔میچ جیت کر فائنل میچ تک رسائی حاصل کرینگے۔۔اچھی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں بھارت سے ھارنے کا دکھ لکین فائنل ھم جیت کر بدلہ لینے کے لئے تیار۔74 کرپٹ ترین بیورو کریسی کے فراڈیے اور 4 وزراء شکنجے میں۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

دہشتگردی اور ایجنسیاں ۔ اظہر سیدآسٹریلیا ان مغربی ممالک میں شامل ہے جس نے غزہ میں کھل کر اسرائیلی بربریت کی مذمت کی اور فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیا۔غزہ سیز فائر کے بعد آسٹریلیا پہلی مغربی ریاست ہے جہاں یہودیوں کو ان کے ایک تہوار کے موقع پر نشانہ بنایا گیا۔آسٹریلیا میں مسلمان باپ بیٹے کی دہشتگردی کو فالس فیلگ آپریشن سمجھا جائے تو اسلامی دہشتگردی کےاگلے واقعات اب کینیڈا اور برطانیہ میں ہونگے ۔کینیڈا اور برطانیہ وہ دو مغربی ممالک ہیں جہاں مقامی ابادی مسلم تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عاجز آئی ہوئی ہے ۔ان دونوں ملکوں میں مسلم تارکین وطن کے خلاف جو سیاسی جماعت مضبوط موقف اپناتی ہے اسے مقامی ابادی کی طرف سے پزیرائی ملتی ہے۔تمام مغربی ممالک میں ایک چیز مشترکہ ہے وہ تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف ہر گزرتے دن ہونے والے سخت اقدامات ہیں ۔آسٹریلیا میں دہشتگردی کے حالیہ واقعہ کے بعد اور کچھ ہو نہ ہو مسلمانوں کے خلاف ویزہ پابندیاں سخت ہونگی اور تارکین وطن کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو گی ۔گیارہ ستمبر کے واقعات جس کامیاب منصوبہ بندی سے ہوئے دنیا کے کسی گروہ میں وہ صلاحیت نہیں اگر پیچھے کوئی ریاست اور اسکی ایجنسی نہ ہو ۔روس اور فرانس کے انقلاب کے وقت سچ مچ کے انقلاب آتے تھے ۔ اب انقلاب اور آزادی کی تحریکیں ایجنسیوں اور ممالک کی مدد سے آتی ہیں۔سکھوں اور تاملوں کی آزادی کی تحریکیں اس وقت ختم ہوئیں جب پاکستان اور بھارت پیچھے ہٹ گئے ۔بلوچستان میں آزادی کی تحریک اس وقت ختم ہو گی جب بھارتی اور خلیجی ممالک پیچھے ہٹ جائیں گے،یا پھر پاکستان ،چین،ایران اور وسط ایشیا کی ریاستیں زیادہ طاقت استمال کر کے بلوچ تحریک کو کچل دیں گی

۔سوڈان میں خانہ جنگی اس وقت ختم ہو گی جب سعودی عرب ،ایران اور امارات کسی مفاہمت پر پہنچ جائیں گے ۔گیارہ ستمبر کے واقعات اسلامی دہشتگردی کہلائے اور ان واقعات کی کوکھ سے مزید اسلامی دہشتگردی القائدہ،داعش،بوکو حرام اور اس طرز کی ان گننت تنظیموں کے زریعے پھیلی ۔اسلامی دہشتگردی کی ان تمام تنظیموں کو مغربی ممالک اور ایجنسیوں کی سپورٹ حاصل تھی ۔ان تنظیموں کی دہشتگردی نے دو دہائیاں مغرب کی وار انڈسٹری چلائی اور مغربی ممالک کی معیشتوں کو بچائے رکھا۔مغرب اب پھر دیوالیہ پن کے دروازے پر ہے ۔چین تیزی کے ساتھ متبادل قوت بن رہا ہے ۔

مغرب کے منصوبہ ساز اب یقینی طور پر کسی نئی حکمت عملی کو اپنائیں گے ۔اس مجوزہ حکمت عملی کے خدو خال ابھی پوری طرح واضح نہیں لیکن تمام مغربی ممالک میں مسلمان تارکین وطن کے خلاف ایک منظم حکمت عملی نظر آرہی ہے اور آئے روز قوانین سخت ہوتے جا رہے ہیں مسلمانوں کو نکالا جائے اور مزید مسلمانوں کو آنے سے روکا جائے۔امریکہ میں افغان مہاجر نیشنل گارڈ کو مار دے یا آسٹریلیا میں مسلمان باپ بیٹا یہودیوں کا قتل عام کریں منطقی نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے “مسلمانوں کو نکالا جائے”مقامی آبادیوں میں مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جائے ۔دہشتگردی کے واقعات مغربی ممالک کے منصوبہ سازوں کیلئے مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔مغرب کا وقت گزر گیا ۔اگلا وقت مشرق یعنی چین کا ہے ۔اس وقت دنیا بھر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مغرب کی اپنی اجارہ داری بچانے کی کوشش ہے اور کچھ نہیں۔دنیا کی پہلی اور دوسری عالمی جنگ منڈیوں اور معاشی مفادات کی جنگ تھی ۔تیسری عالمی جنگ بھی منڈیوں کے تحفظ اور معیشتوں کو بچانے کی جنگ ہو گی ۔

‎بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بدعنوانی کے خطرات سے نمٹنے، چینی کے شعبے پر اشرافیہ (شوگر مافیا) کی گرفت کو ختم کرنے اور غیرملکی ترسیلات زر کی حقیقی لاگت کا پتہ لگانے کے لیے پاکستان پر مزید 11 سخت شرائط عائد کی ہیں۔ ‎نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے پاور سیکٹر میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، گورننس اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور انتہائی غیر موثر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بھی نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ‎آئی ایم ایف نے جمعرات کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے دوسرے جائزے کے لیے سٹاف لیول رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ قرض دینے والے (عالمی ساہوکار) نے پاکستان پر 11 اضافی شرائط عائد کی ہیں۔ ‎تازہ اضافے سے ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں شرائط کی کل تعداد 64 ہو گئی ہے۔ ‎نئی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان حکومتی ویب سائٹ پر اعلیٰ سطح کے وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات اگلے سال دسمبر تک شائع کرے گا۔ اس کا مقصد آمدنی اور اثاثوں کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس ذمہ داری کو اعلیٰ سطح کے صوبائی سرکاری ملازمین تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

طاقت اور بندوق کو سات سلاممحاسبہناصر جمالخدا وجود نہیں رکھتا، وگرنہ ہم لوگجہاں بھی دیکھتے بے ساختہ لپٹ جاتےملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف، سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کے خلاف، جیسے حکم امتناع دیا ہے۔ وہ نظام عدل پر، سپریم کورٹ کا اپنے ہی خلاف عدم اعتماد ہے۔ وہ پھرتیوں کے باعث، اپنے ہی گول میں ، گول کر بیٹھے ہیں۔ جب ملٹری کورٹس کی اجازت دی گئی تھی۔ اُس وقت حالات کچھ اور تھے۔ اس وقت دھشتگرد، دندناتے پھرتے تھے۔ آج ریاست کی ’’بندوق‘‘ دندنا رہی ہے۔ اس وقت بھی عوام خسارے میں تھے۔ آج بھی عوام ہی خسارے میں ہیں۔ہماری عدالتوں کا کمال ہے۔ بلکہ یہ ان کا ’’معجزہ‘‘ ہے۔ جب بھی وقت قیام آتا ہے۔ یہ نادان، طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔یہ کاروبار چمن، اُس نے جب سنبھالا ہےفضا میں۔۔۔ لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہےہجوم گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو!زمینِ صحنِ چمن۔۔۔۔ آج بھی جوالا ہےسنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئیاسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہےظہیر ہم کو یہ عہد بہار، راس نہیںہر ایک پُھول کے سینے پہ ایک چھالا ہےظہیر کاشمیری نے اسی غزل میں، ایک اور شعر بھی کہا کہہمیں خبر ہے ہم ہیں چراغ آخر شبہمارےبعد۔۔۔۔ اندھیرا نہیں اُجالا ہےپتا نہیں، ابھی اور کتنی نسلوں نے آنا ہے۔

جس میں سے شاید کوئی خوش نصیب نسل یہ اُجالا دیکھ سکے۔ قلم کار کو تو یہ ریاست ہی تباہ و برباد ہوتے نظر آرہی ہے۔جہاں ذات اور مفادات، ریاست اور معاشرے سے بڑے ہوجائیں۔ وہاں کیسی تبدیلی اور تعمیر۔۔؟ ریاستیں تو ’’عدل‘‘ پر چلتی ہیں۔ یہاں تو اندھیر نگری ہے۔ عدل کا پیمانہ، ترازو نہیں، بندوق ہے۔ عناد ہے، انا ہے۔ ضد ہے۔پاکستان میں آئین اور عدالتوں کی تدفین ہوچکی۔ بنیادی انسانی حقوق، سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ریاست اور لوگوں سے وفا، متروک مضامین ہیں۔قلم کار کو لوگ کہتےہیں کہ تم عمران خان اور تحریک انصاف کے حق میں لکھ رہے ہو۔قلم کار کا کہنا ہے کہ میرٹ پر لکھنا، اگر اُن کے حق میں جارہا ہے تو میں کیا کروں۔؟ ظلم جب شریفوں پر ہوا۔ پیپلز پارٹی، زرداری،رانا ثناء اللہ، ایاز امیر سمیت جس پر بھی ہوا۔ حتیٰ کہ محسن بیگ، جسے میں، صحافی ہی نہیں مانتا۔ اس کے حق میں بھی لکھا۔ کیا سانحہ ساہیوال پر نہیں لکھا۔آخر، پاکستان کی اشرافیہ سیکھتی کیوں نہیں ہے۔ عمران خان جس راستے پر چل رہا تھا۔ اس کے اتحادی کون تھے۔ آج آپ کے اتحادی کون ہیں۔آخر، آپ کیوں نہیں سوچتے۔ ایسا کب تک چلے گا۔مجھے تو قاضی فائز عیسیٰ سے پہلے بھیکوئی اُمید نہ تھی اور نہ ہی ہے۔وہ کتنے برے طریقے سے بے نقاب ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک قاضی فائز عیسیٰ، قیوم صدیقی، مطیع اللہ، ایک ہی سوچ والے لشکر کے سپاہی ہیں۔ جو’’حکم‘‘ کے بندے ہیں۔”طائے پکار اٹھے تخت و تاج زندہ باد“ملٹری کورٹس پر کیا فیصلہ آنا تھا۔بینچ کی تشکیل کے بعد، اس ملک کے چھابڑی والے کو بھی پتا تھا۔چھ رکنی بینچ بنایا ہی، پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ اڑانے کے لیے تھا۔ہماری معزز عدالتیں لگتا ہے 25 کروڑ لوگوں کو ماموں سمجھتی ہی نہیں ،مانتی بھی ہیں۔جسٹس سردار مسعود کا کنڈیکٹ، سب کچھ واضح کرچکا تھا۔میاں نواز شریف کو جس تیزی سے انصاف مہیا کیا گیا ہے۔

اس پر پوری دنیا کے منصفوں کی ہچکی بندھ گئی ہے۔جلد ہی پاکستان جیسا انصاف پوری دنیا میں نافذ کر دیا جائے گا۔جی ہاں پوری دنیا میں ہمارا نمبر 181 میں ہوگا۔انصاف کی فراہمی میں سب ملک ہم سے نیچے ہوں گے۔وہی فیصلوں کی عبارتیں، وہی منصفوں کی روایتیںمیرا حرم تو کوئی اور تھا پہ میری سزا کوئی اور ہےجو لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انھیں غور سےجنہیں راستے میں خبر ہوئی، یہ راستہ کوئی اور ہےریاست کے نام پر اس ملک میں ہمیشہ تباہی ہوئی ہے۔ قومی مفادات کا ٹیکہ، ہمیشہ عوام کو ہی لگاہے۔مشہور بین الاقوامی ماہر معدنیات نوید صدیقی نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان کا قلب اور معدنی وسائل سے مالا مال چاغی میں ایک ڈیڑھ سو کلومیٹر لمبا اور اتنا ہی چوڑا رقبہ حال ہی میں ’’وزیراعظم‘‘ کو الاٹ ہوا ہے۔ کیوں۔۔۔۔۔؟وہ ریکوڈک کو آٹھ ٹریلین ڈالر کاکہتے ہیں۔ آخر کون تھا۔ جس نے نوید صدیقی کو آرمی چیف سے نہیں ملنے دیا۔ آر۔ای۔ ای (زمین کی چیدہ معدنیات) کی فیلڈ میں کون ہے۔ جو وسائل کو کوڑیوں کے بھائو لوٹ رہے ہیں اور مزیدمنصوبے بنائے بیٹھے ہیں۔پاکستان خنجراب سے لیکر کراچی اور تفتان، چاغی تک، قیمتی ترین معدنیات سے بھرا پڑا ہے۔ مگر قدرت نے یہ وسائل اناڑیوں، نکموں اور ہوس پرستوں کے ہاتھ میں دے دیئے ہیں۔ یہ نہ بڑا سوچتے ہیں اور نہ ہی ان کے دماغ اس قابل ہیں۔ ’’ریکوڈک ڈیل‘‘ بدترین ڈیل ہے۔ ہے کوئی جو اس پر، حقائق کو پرکھے۔ پاکستان پر پانچ سو لوگوں کا قبضہ ہے۔ جنہیں اپنا پیٹ اور ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔نظریہ، عزم، ویژن، قوموں کی ترقی، معاشروں کی تشکیل، یہ سب، آج کی پریکٹیکل دنیا میں، متروک سودے ہیں۔”ہماری“ اپنی نسلیں محفوظ ہونی چاہئیں۔ یہ قومیت اور آنے والی نسلیں کیا بلا ہوتی ہیں۔ دیپ، ہمارے محلات ہی میں جلنے چاہئیں۔ ہمارا کام جب چار سو ارب ڈالر کی مری ہوئی معیشت سے چل سکتا ہے۔ تو پھر ہمیں معیشت کو چار ہزار ارب ڈالر کی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اتنی محنت کرنے کا کیا فائدہ، جب یہ معاشرہ خوشحال ہوگا۔ تو ’’باغی‘‘ ہوجائے گا۔ یہ سوچنے لگے گا۔ یہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ لاہور والے سموگ سے مرتے ہیں تو مرجائیں۔ ہم اتنے دن، بیرون ملک یا پرفضا مقام پر گزار لیں گے۔ہم نے ”پبلک کارپوریٹ سیکٹر“ کو مزیدتباہ کرنا ہے۔ جہاں جہاں، پوٹینشل ہے۔ اسے فواد حسن فواد جیسے ایجنٹوں کے ذریعے، خود خریدلیں گے۔کوپ 28 دُبئی میں دنیا کے اکثریتی ممالک ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے 2050 تک فوسل فیول زیرو کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ ہم نے کلین اور گرین انرجی کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ ؟یہاں تو آئی۔ پی۔ پیز کا دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہیٹنگ آڈٹ تک نہیں ہوسکتا۔ پٹرولیم کمپنیاں، کہاں کھڑی ہونگی۔ سستی بجلی، بارہ مہینے کہاں سے دستیاب ہوگی۔ فیوچر انرجی باسکٹ کیا ہے

۔ تیل، گیس، کُول کا کیا ہوگا۔ ہائیڈ، ونڈ، سولر، ایٹمک انرجی، کتنے ہونے چاہئیں۔ الیکٹرک گاڑیاں دفع کریں۔اب تمام گاڑیاں تو نہیں بدلی جا سکتی ہم غریب ملک ہیں۔پٹرول ختم ہو گیا تو پھر کہاں سے مزید ٹیکس حاصل کریں گے۔لوگوں نے تو الیکٹرک کار اپنے گھروں میں سولر پر چارج کر لینی ہے۔جو اُسی وقت ہونگے۔ وہ جانیں اور مسائل جانیں۔ فی الحال تو آئی۔ پی۔ پیز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ آٹو انڈسٹری والے تو اپنی جان ہیں۔ان کا جتنا دل چاہے لوگوں کا خون چوسیں اور گھٹیا اور غیر معیاری کوالٹی والی گاڑیوں کے ذریعے جانیں لیں۔ڈیم بھاڑ میں جائیں۔ رن آف ریور، ٹربائنز کیوں لگائیں۔ وسائل کا زیاں ہے۔ دیکھیں نہ یہ ہزاروں پٹرول پمپ کہاں جائیں گے۔ سعودی آرامکو، تیل بیچنے آرہی ہے۔ کتنی بڑی کامیابی ہے۔ تیل، گیس کی تلاش کے ڈالروں کا کیا مزہ ہوتا ہے۔ آپ کو کیا معلوم ہے۔ہمیں ’’انرجی‘‘ کے لئے،گھروں کو سنگل سورس پر لے جانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ ہم تو ایل۔ این۔ جی امپورٹ کریں گے۔ آخری قطری اپنے بھائی ہیں۔ کل کلاں،کسی کو بھی قطری خطوط کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ڈیفرپیمنٹ والے سعودی تیل کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔لوگ کاربن، آرسینک، سلفر سے مرتے ہیں تو مریں۔ اب اس آبادی کے بم کو ایسے ہی کنٹرول کیا جائے گا۔مینوفیکچرنگ کو دفع کریں۔کارپوریٹ فارمنگ کا ہمارا آئیڈیا دیکھا۔ جنوبی پنجاب، تھل وغیرہ کا ٹھیکہ تیس ہزار روپے فی ایکڑ بھی نہیں۔ ہماری نئی اسکیم دیکھی۔ فوج اپنی ہے۔ وہ وہاں سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے تک کا ٹھیکہ لے گی۔ گیارہ من گندم فی ایکڑ اور پھر اگلی فصل، کی قیمت کا اپ خود تعین کر لیں۔ آپ ویسے ہی ادارے کو بُرا بھلا کہتے ہیں کہ انھیں کاروبار نہیں کرنا آتا۔ آپ تجربہ کامیاب ہونے دیں۔ باقی زمین بھی اپنی ہی سمجھیں۔لوگوں کو راشن باندھ دیں گے۔ بنگالیوں کی طرح، قوم بیگار پر کام کرلے گی، تو کیا ہوا۔ اُسے روٹی بھی تو ملے گی۔ بھوک سے خود کشی تو نہیں کرے گی۔ کام تو کرنا چاہئے نا۔؟ جب لوگوں کے پاس زمین نہیں ہوگی۔ سب کچھ کمپنی اور کمپنی کی حکومت کا ہوگا تو جائیدادوں پر جھگڑے بھی نہیں ہونگے

۔قتل اور نسل در نسل جھگڑے اور قانونی چارہ جو میں پیسے ضائع نہیں ہوں گے۔نظام عدل پر انگلیاں بھی نہیں اٹھیں گی کہ 30 50 50 سال چلتا ہے۔ راوی ہر طرف چین لکھے گا۔ باقی رہ گئی تفریح، اس کا انتظام ہو ہیجائے گا۔اب قوم ناشکری نہ بنے۔ بیوروکریسی، عظیم منصفوں سے عقل لے، سکون سے نوکری کرے۔ فسادی،شرارتی منصفوں سے سیکھتے ہوئے، سکون سے نوکری کریں۔ فسادیوں اور شرارتی لوگوں سے بچے۔ بندوق کو روز چومے بوسے دے۔نو مئی کی مذمت کرے اور نعرے لگائے۔۔۔۔۔جہاں پناہ مجھے بازوئوں میں لے لیجئےمیری تلاش میں ہیں گردشیں زمانے کی

کون سچا کون جھوٹا سی ڈی اے کا کریک ڈاؤن مسلم کالونی ملیا مٹ رندھاوا ان ایکشن تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

بری امام اسلام آباد میں ڈپلومیٹک انکلیو کی پشت پر ہے۔۔ اس کو خالی کرانا اس لیے مقصود ہے کہ سیکیورٹی خدشات جو اچانک پیدا ہوئے ان سے نمٹا جا سکے اور اسکو پوش سیکٹر بنایا جا سکے! اعلی عدالتوں نے مسلم کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تجاوزات پر اسٹے دے رکھا ہے لیکن سی ڈی اے نے اس اسٹے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا ہے اور چند گھنٹوں کے نوٹس پر لوگوں کے مکان مسمار

شرح سود 10اشارعییہ 5 فیصد پر برقرار۔۔اسٹیٹ بینک ان ایکشن۔۔شہربانو کے والدین کے وارنٹ گرفتاری جاری وجہ عمران خان کا ساتھ دینا۔۔بجلی نہیں, گیس نہیں, ٹوٹی سڑکیں, کباڑہ ٹرانسپورٹ, کھلے گٹر لیکن چالان کا نظام جدید۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*سڈنی حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف*سڈنی کے ساحل پر حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔24 سالہ حملہ آور نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ نوید کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ ماں اٹلی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس حملے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، ہم اکثر بات کرتے تھے کہ اس کے پاس اسلحے کے لائسنس تھےواضح رہے کہ آسٹریلیا میں دہشت گردی کے واقعے میں پاکستان کے خلاف اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا بےنقاب ہو گیا ہے۔سڈنی کے ساحل پر دہشت گرد کارروائی کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، واقعے کے بعد اسرائیلی، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔اسرائیلی اخبار یروشلم نے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا جبکہ ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔

*پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں فضا تک مار کرنیوالے میزائل کے فائر پاور کا مظاہرہ* افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت نے پاک بحریہ کی جنگی صلاحیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا، پاک بحریہ پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں فضا تک مار کرنے والے میزائل کی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیت کی توثیق کردی۔پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں `FM-90(N) ER` سطح سے فضا تک مار کرنے والے میزائل کی کامیاب لائیو ویپن فائرنگ کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیت کی توثیق کی۔فائر پاور کے مظاہرے کے دوران پاک بحریہ کے جہاز نے انتہائی مینوریبل فضائی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔بیان میں کہا گیا کہ اس مظاہرے سے پاک بحریہ کی جنگی صلاحیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے۔کمانڈر پاکستان فلیٹ ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹ پر اس لائیو فائرنگ کا مشاہدہ کیا اور کمانڈر پاکستان فلیٹ نے فائرنگ میں شریک افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور اعلیٰ کارکردگی کو سراہا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ہر صورت پاکستان کے سمندری دفاع کو یقینی بنانے اور قومی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کردیاسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود میں کمی کر دی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں شرح سود میں کمی کی گئی ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود 50 بیسز پوائنٹس کم کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے سود کی نئی شرح 10.50 فیصد مقرر کی ہے۔واضح رہے کہ پالیسی کمیٹی نے رواں سال ہونے والے 5 مئی کے اجلاس میں شرح سود 1 فیصد کم کر کے 11 فیصد کیا تھا۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت پنجاب کابینہ کا اجلاسوزیراعلی پنجاب کی ہر محکمے کو ملازمین کی انکوائری 3 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کا نیا باب، راولپنڈی میں پنجاب کا دوسرا آئی ٹی سٹی بنے گاپنجاب کابینہ نے جدید ترین ٹریفک لائٹس کی تنصیب کی منظوری دے دیہر روڈ پر زیبرا کراسنگ بنا کر ذریعے پیدل چلنے والوں کے کے لئےسڑکیں محفوظ بنائی جائیں گیوزیراعلی مریم نواز شریف کی ہر شہر کی ہر روڈ کے گڑھوں کو پُر کرنے کی ہدایت پنجاب میں پہلی خودمختار امتحانی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

*چیئرمین این آئی آر سی جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی عہدے سے مستعفی*اسلام آباد: چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) شوکت عزیزصدیقی نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج اور چیئرمین این آئی آر سی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ شوکت عزیزصدیقی نے ذاتی وجوہات کی بنا پر چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ جسٹس (ر) شوکت عزیز نے صدرمملکت کو سیکرٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز کے ذریعے معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس بھجوا دیا

*سڈنی حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف*سڈنی کے ساحل پر حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔24 سالہ حملہ آور نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ نوید کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ ماں اٹلی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس حملے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، ہم اکثر بات کرتے تھے کہ اس کے پاس اسلحے کے لائسنس تھےواضح رہے کہ آسٹریلیا میں دہشت گردی کے واقعے میں پاکستان کے خلاف اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا گمراہ کن پروپیگنڈا بےنقاب ہو گیا ہے۔سڈنی کے ساحل پر دہشت گرد کارروائی کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، واقعے کے بعد اسرائیلی، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔اسرائیلی اخبار یروشلم نے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا جبکہ ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔

*نظام کی جھلک ملاحظہ فرمائیں!!!!* گوجرانوالہ میں 2013ء کے دوران ڈکیتی میں چھینی گئی سیاہ رنگ کی ہنڈا موٹرسائیکل کو پولیس آج تک برآمد نہ کرسکی ، لیکن E چالان سسٹم نے موٹرسائیکل کے اصل مالک عثمان کے گھر دو ہزار روپے کا چالان بھیج دیا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ واردات اروپ کے علاقے میں ہوئی تھی اور تھانہ اروپ میں مقدمہ بھی درج ہے ، مگر ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔ اس کے باوجود پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نے عثمان کے نام 18 نومبر کا چالان جاری کر کے خبردار کیا ہے کہ اگر 25 دسمبر تک دو ہزار روپے جمع نہ کروائے گئے تو موٹرسائیکل ضبط کر لی جائے گی۔

حملہ آور باپ سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آیا تھا، بیٹا یہیں پیدا ہوا: وزیر داخلہ ٹونی برکآسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برک تصدیق کی ہے کہ سڈنی کی بونڈائی بیچ کے حملہ آور نوید اکرم اکتوبر 2019 میں ’آسٹریلین سکیورٹی انٹیلیجنس کی نظر میں آئے تھے۔ٹونی برک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آئے تھے، جسے 2001 میں پارٹنر ویزا پر منتقل کیا گیا تھا، اور وہ تب سے ریذیڈنٹ ریٹرن ویزا پر ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ’ساجد اکرم کا بیٹا نوید اکرم ایک آسٹریلوی شہری ہے جو یہاں 2001 میں پیدا ہوا۔‘