
دہشتگردی اور ایجنسیاں ۔ اظہر سیدآسٹریلیا ان مغربی ممالک میں شامل ہے جس نے غزہ میں کھل کر اسرائیلی بربریت کی مذمت کی اور فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیا۔غزہ سیز فائر کے بعد آسٹریلیا پہلی مغربی ریاست ہے جہاں یہودیوں کو ان کے ایک تہوار کے موقع پر نشانہ بنایا گیا۔آسٹریلیا میں مسلمان باپ بیٹے کی دہشتگردی کو فالس فیلگ آپریشن سمجھا جائے تو اسلامی دہشتگردی کےاگلے واقعات اب کینیڈا اور برطانیہ میں ہونگے ۔کینیڈا اور برطانیہ وہ دو مغربی ممالک ہیں جہاں مقامی ابادی مسلم تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عاجز آئی ہوئی ہے ۔ان دونوں ملکوں میں مسلم تارکین وطن کے خلاف جو سیاسی جماعت مضبوط موقف اپناتی ہے اسے مقامی ابادی کی طرف سے پزیرائی ملتی ہے۔تمام مغربی ممالک میں ایک چیز مشترکہ ہے وہ تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف ہر گزرتے دن ہونے والے سخت اقدامات ہیں ۔آسٹریلیا میں دہشتگردی کے حالیہ واقعہ کے بعد اور کچھ ہو نہ ہو مسلمانوں کے خلاف ویزہ پابندیاں سخت ہونگی اور تارکین وطن کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو گی ۔گیارہ ستمبر کے واقعات جس کامیاب منصوبہ بندی سے ہوئے دنیا کے کسی گروہ میں وہ صلاحیت نہیں اگر پیچھے کوئی ریاست اور اسکی ایجنسی نہ ہو ۔روس اور فرانس کے انقلاب کے وقت سچ مچ کے انقلاب آتے تھے ۔ اب انقلاب اور آزادی کی تحریکیں ایجنسیوں اور ممالک کی مدد سے آتی ہیں۔سکھوں اور تاملوں کی آزادی کی تحریکیں اس وقت ختم ہوئیں جب پاکستان اور بھارت پیچھے ہٹ گئے ۔بلوچستان میں آزادی کی تحریک اس وقت ختم ہو گی جب بھارتی اور خلیجی ممالک پیچھے ہٹ جائیں گے،یا پھر پاکستان ،چین،ایران اور وسط ایشیا کی ریاستیں زیادہ طاقت استمال کر کے بلوچ تحریک کو کچل دیں گی

۔سوڈان میں خانہ جنگی اس وقت ختم ہو گی جب سعودی عرب ،ایران اور امارات کسی مفاہمت پر پہنچ جائیں گے ۔گیارہ ستمبر کے واقعات اسلامی دہشتگردی کہلائے اور ان واقعات کی کوکھ سے مزید اسلامی دہشتگردی القائدہ،داعش،بوکو حرام اور اس طرز کی ان گننت تنظیموں کے زریعے پھیلی ۔اسلامی دہشتگردی کی ان تمام تنظیموں کو مغربی ممالک اور ایجنسیوں کی سپورٹ حاصل تھی ۔ان تنظیموں کی دہشتگردی نے دو دہائیاں مغرب کی وار انڈسٹری چلائی اور مغربی ممالک کی معیشتوں کو بچائے رکھا۔مغرب اب پھر دیوالیہ پن کے دروازے پر ہے ۔چین تیزی کے ساتھ متبادل قوت بن رہا ہے ۔

مغرب کے منصوبہ ساز اب یقینی طور پر کسی نئی حکمت عملی کو اپنائیں گے ۔اس مجوزہ حکمت عملی کے خدو خال ابھی پوری طرح واضح نہیں لیکن تمام مغربی ممالک میں مسلمان تارکین وطن کے خلاف ایک منظم حکمت عملی نظر آرہی ہے اور آئے روز قوانین سخت ہوتے جا رہے ہیں مسلمانوں کو نکالا جائے اور مزید مسلمانوں کو آنے سے روکا جائے۔امریکہ میں افغان مہاجر نیشنل گارڈ کو مار دے یا آسٹریلیا میں مسلمان باپ بیٹا یہودیوں کا قتل عام کریں منطقی نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے “مسلمانوں کو نکالا جائے”مقامی آبادیوں میں مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جائے ۔دہشتگردی کے واقعات مغربی ممالک کے منصوبہ سازوں کیلئے مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔مغرب کا وقت گزر گیا ۔اگلا وقت مشرق یعنی چین کا ہے ۔اس وقت دنیا بھر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مغرب کی اپنی اجارہ داری بچانے کی کوشش ہے اور کچھ نہیں۔دنیا کی پہلی اور دوسری عالمی جنگ منڈیوں اور معاشی مفادات کی جنگ تھی ۔تیسری عالمی جنگ بھی منڈیوں کے تحفظ اور معیشتوں کو بچانے کی جنگ ہو گی ۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بدعنوانی کے خطرات سے نمٹنے، چینی کے شعبے پر اشرافیہ (شوگر مافیا) کی گرفت کو ختم کرنے اور غیرملکی ترسیلات زر کی حقیقی لاگت کا پتہ لگانے کے لیے پاکستان پر مزید 11 سخت شرائط عائد کی ہیں۔ نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے پاور سیکٹر میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، گورننس اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور انتہائی غیر موثر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بھی نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف نے جمعرات کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے دوسرے جائزے کے لیے سٹاف لیول رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ قرض دینے والے (عالمی ساہوکار) نے پاکستان پر 11 اضافی شرائط عائد کی ہیں۔ تازہ اضافے سے ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں شرائط کی کل تعداد 64 ہو گئی ہے۔ نئی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان حکومتی ویب سائٹ پر اعلیٰ سطح کے وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات اگلے سال دسمبر تک شائع کرے گا۔ اس کا مقصد آمدنی اور اثاثوں کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس ذمہ داری کو اعلیٰ سطح کے صوبائی سرکاری ملازمین تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

طاقت اور بندوق کو سات سلاممحاسبہناصر جمالخدا وجود نہیں رکھتا، وگرنہ ہم لوگجہاں بھی دیکھتے بے ساختہ لپٹ جاتےملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف، سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کے خلاف، جیسے حکم امتناع دیا ہے۔ وہ نظام عدل پر، سپریم کورٹ کا اپنے ہی خلاف عدم اعتماد ہے۔ وہ پھرتیوں کے باعث، اپنے ہی گول میں ، گول کر بیٹھے ہیں۔ جب ملٹری کورٹس کی اجازت دی گئی تھی۔ اُس وقت حالات کچھ اور تھے۔ اس وقت دھشتگرد، دندناتے پھرتے تھے۔ آج ریاست کی ’’بندوق‘‘ دندنا رہی ہے۔ اس وقت بھی عوام خسارے میں تھے۔ آج بھی عوام ہی خسارے میں ہیں۔ہماری عدالتوں کا کمال ہے۔ بلکہ یہ ان کا ’’معجزہ‘‘ ہے۔ جب بھی وقت قیام آتا ہے۔ یہ نادان، طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔یہ کاروبار چمن، اُس نے جب سنبھالا ہےفضا میں۔۔۔ لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہےہجوم گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو!زمینِ صحنِ چمن۔۔۔۔ آج بھی جوالا ہےسنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئیاسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہےظہیر ہم کو یہ عہد بہار، راس نہیںہر ایک پُھول کے سینے پہ ایک چھالا ہےظہیر کاشمیری نے اسی غزل میں، ایک اور شعر بھی کہا کہہمیں خبر ہے ہم ہیں چراغ آخر شبہمارےبعد۔۔۔۔ اندھیرا نہیں اُجالا ہےپتا نہیں، ابھی اور کتنی نسلوں نے آنا ہے۔

جس میں سے شاید کوئی خوش نصیب نسل یہ اُجالا دیکھ سکے۔ قلم کار کو تو یہ ریاست ہی تباہ و برباد ہوتے نظر آرہی ہے۔جہاں ذات اور مفادات، ریاست اور معاشرے سے بڑے ہوجائیں۔ وہاں کیسی تبدیلی اور تعمیر۔۔؟ ریاستیں تو ’’عدل‘‘ پر چلتی ہیں۔ یہاں تو اندھیر نگری ہے۔ عدل کا پیمانہ، ترازو نہیں، بندوق ہے۔ عناد ہے، انا ہے۔ ضد ہے۔پاکستان میں آئین اور عدالتوں کی تدفین ہوچکی۔ بنیادی انسانی حقوق، سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ریاست اور لوگوں سے وفا، متروک مضامین ہیں۔قلم کار کو لوگ کہتےہیں کہ تم عمران خان اور تحریک انصاف کے حق میں لکھ رہے ہو۔قلم کار کا کہنا ہے کہ میرٹ پر لکھنا، اگر اُن کے حق میں جارہا ہے تو میں کیا کروں۔؟ ظلم جب شریفوں پر ہوا۔ پیپلز پارٹی، زرداری،رانا ثناء اللہ، ایاز امیر سمیت جس پر بھی ہوا۔ حتیٰ کہ محسن بیگ، جسے میں، صحافی ہی نہیں مانتا۔ اس کے حق میں بھی لکھا۔ کیا سانحہ ساہیوال پر نہیں لکھا۔آخر، پاکستان کی اشرافیہ سیکھتی کیوں نہیں ہے۔ عمران خان جس راستے پر چل رہا تھا۔ اس کے اتحادی کون تھے۔ آج آپ کے اتحادی کون ہیں۔آخر، آپ کیوں نہیں سوچتے۔ ایسا کب تک چلے گا۔مجھے تو قاضی فائز عیسیٰ سے پہلے بھیکوئی اُمید نہ تھی اور نہ ہی ہے۔وہ کتنے برے طریقے سے بے نقاب ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک قاضی فائز عیسیٰ، قیوم صدیقی، مطیع اللہ، ایک ہی سوچ والے لشکر کے سپاہی ہیں۔ جو’’حکم‘‘ کے بندے ہیں۔”طائے پکار اٹھے تخت و تاج زندہ باد“ملٹری کورٹس پر کیا فیصلہ آنا تھا۔بینچ کی تشکیل کے بعد، اس ملک کے چھابڑی والے کو بھی پتا تھا۔چھ رکنی بینچ بنایا ہی، پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ اڑانے کے لیے تھا۔ہماری معزز عدالتیں لگتا ہے 25 کروڑ لوگوں کو ماموں سمجھتی ہی نہیں ،مانتی بھی ہیں۔جسٹس سردار مسعود کا کنڈیکٹ، سب کچھ واضح کرچکا تھا۔میاں نواز شریف کو جس تیزی سے انصاف مہیا کیا گیا ہے۔

اس پر پوری دنیا کے منصفوں کی ہچکی بندھ گئی ہے۔جلد ہی پاکستان جیسا انصاف پوری دنیا میں نافذ کر دیا جائے گا۔جی ہاں پوری دنیا میں ہمارا نمبر 181 میں ہوگا۔انصاف کی فراہمی میں سب ملک ہم سے نیچے ہوں گے۔وہی فیصلوں کی عبارتیں، وہی منصفوں کی روایتیںمیرا حرم تو کوئی اور تھا پہ میری سزا کوئی اور ہےجو لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انھیں غور سےجنہیں راستے میں خبر ہوئی، یہ راستہ کوئی اور ہےریاست کے نام پر اس ملک میں ہمیشہ تباہی ہوئی ہے۔ قومی مفادات کا ٹیکہ، ہمیشہ عوام کو ہی لگاہے۔مشہور بین الاقوامی ماہر معدنیات نوید صدیقی نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان کا قلب اور معدنی وسائل سے مالا مال چاغی میں ایک ڈیڑھ سو کلومیٹر لمبا اور اتنا ہی چوڑا رقبہ حال ہی میں ’’وزیراعظم‘‘ کو الاٹ ہوا ہے۔ کیوں۔۔۔۔۔؟وہ ریکوڈک کو آٹھ ٹریلین ڈالر کاکہتے ہیں۔ آخر کون تھا۔ جس نے نوید صدیقی کو آرمی چیف سے نہیں ملنے دیا۔ آر۔ای۔ ای (زمین کی چیدہ معدنیات) کی فیلڈ میں کون ہے۔ جو وسائل کو کوڑیوں کے بھائو لوٹ رہے ہیں اور مزیدمنصوبے بنائے بیٹھے ہیں۔پاکستان خنجراب سے لیکر کراچی اور تفتان، چاغی تک، قیمتی ترین معدنیات سے بھرا پڑا ہے۔ مگر قدرت نے یہ وسائل اناڑیوں، نکموں اور ہوس پرستوں کے ہاتھ میں دے دیئے ہیں۔ یہ نہ بڑا سوچتے ہیں اور نہ ہی ان کے دماغ اس قابل ہیں۔ ’’ریکوڈک ڈیل‘‘ بدترین ڈیل ہے۔ ہے کوئی جو اس پر، حقائق کو پرکھے۔ پاکستان پر پانچ سو لوگوں کا قبضہ ہے۔ جنہیں اپنا پیٹ اور ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔نظریہ، عزم، ویژن، قوموں کی ترقی، معاشروں کی تشکیل، یہ سب، آج کی پریکٹیکل دنیا میں، متروک سودے ہیں۔”ہماری“ اپنی نسلیں محفوظ ہونی چاہئیں۔ یہ قومیت اور آنے والی نسلیں کیا بلا ہوتی ہیں۔ دیپ، ہمارے محلات ہی میں جلنے چاہئیں۔ ہمارا کام جب چار سو ارب ڈالر کی مری ہوئی معیشت سے چل سکتا ہے۔ تو پھر ہمیں معیشت کو چار ہزار ارب ڈالر کی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اتنی محنت کرنے کا کیا فائدہ، جب یہ معاشرہ خوشحال ہوگا۔ تو ’’باغی‘‘ ہوجائے گا۔ یہ سوچنے لگے گا۔ یہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ لاہور والے سموگ سے مرتے ہیں تو مرجائیں۔ ہم اتنے دن، بیرون ملک یا پرفضا مقام پر گزار لیں گے۔ہم نے ”پبلک کارپوریٹ سیکٹر“ کو مزیدتباہ کرنا ہے۔ جہاں جہاں، پوٹینشل ہے۔ اسے فواد حسن فواد جیسے ایجنٹوں کے ذریعے، خود خریدلیں گے۔کوپ 28 دُبئی میں دنیا کے اکثریتی ممالک ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے 2050 تک فوسل فیول زیرو کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ ہم نے کلین اور گرین انرجی کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ ؟یہاں تو آئی۔ پی۔ پیز کا دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہیٹنگ آڈٹ تک نہیں ہوسکتا۔ پٹرولیم کمپنیاں، کہاں کھڑی ہونگی۔ سستی بجلی، بارہ مہینے کہاں سے دستیاب ہوگی۔ فیوچر انرجی باسکٹ کیا ہے

۔ تیل، گیس، کُول کا کیا ہوگا۔ ہائیڈ، ونڈ، سولر، ایٹمک انرجی، کتنے ہونے چاہئیں۔ الیکٹرک گاڑیاں دفع کریں۔اب تمام گاڑیاں تو نہیں بدلی جا سکتی ہم غریب ملک ہیں۔پٹرول ختم ہو گیا تو پھر کہاں سے مزید ٹیکس حاصل کریں گے۔لوگوں نے تو الیکٹرک کار اپنے گھروں میں سولر پر چارج کر لینی ہے۔جو اُسی وقت ہونگے۔ وہ جانیں اور مسائل جانیں۔ فی الحال تو آئی۔ پی۔ پیز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ آٹو انڈسٹری والے تو اپنی جان ہیں۔ان کا جتنا دل چاہے لوگوں کا خون چوسیں اور گھٹیا اور غیر معیاری کوالٹی والی گاڑیوں کے ذریعے جانیں لیں۔ڈیم بھاڑ میں جائیں۔ رن آف ریور، ٹربائنز کیوں لگائیں۔ وسائل کا زیاں ہے۔ دیکھیں نہ یہ ہزاروں پٹرول پمپ کہاں جائیں گے۔ سعودی آرامکو، تیل بیچنے آرہی ہے۔ کتنی بڑی کامیابی ہے۔ تیل، گیس کی تلاش کے ڈالروں کا کیا مزہ ہوتا ہے۔ آپ کو کیا معلوم ہے۔ہمیں ’’انرجی‘‘ کے لئے،گھروں کو سنگل سورس پر لے جانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ ہم تو ایل۔ این۔ جی امپورٹ کریں گے۔ آخری قطری اپنے بھائی ہیں۔ کل کلاں،کسی کو بھی قطری خطوط کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ڈیفرپیمنٹ والے سعودی تیل کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔لوگ کاربن، آرسینک، سلفر سے مرتے ہیں تو مریں۔ اب اس آبادی کے بم کو ایسے ہی کنٹرول کیا جائے گا۔مینوفیکچرنگ کو دفع کریں۔کارپوریٹ فارمنگ کا ہمارا آئیڈیا دیکھا۔ جنوبی پنجاب، تھل وغیرہ کا ٹھیکہ تیس ہزار روپے فی ایکڑ بھی نہیں۔ ہماری نئی اسکیم دیکھی۔ فوج اپنی ہے۔ وہ وہاں سے ایک لاکھ اسی ہزار روپے تک کا ٹھیکہ لے گی۔ گیارہ من گندم فی ایکڑ اور پھر اگلی فصل، کی قیمت کا اپ خود تعین کر لیں۔ آپ ویسے ہی ادارے کو بُرا بھلا کہتے ہیں کہ انھیں کاروبار نہیں کرنا آتا۔ آپ تجربہ کامیاب ہونے دیں۔ باقی زمین بھی اپنی ہی سمجھیں۔لوگوں کو راشن باندھ دیں گے۔ بنگالیوں کی طرح، قوم بیگار پر کام کرلے گی، تو کیا ہوا۔ اُسے روٹی بھی تو ملے گی۔ بھوک سے خود کشی تو نہیں کرے گی۔ کام تو کرنا چاہئے نا۔؟ جب لوگوں کے پاس زمین نہیں ہوگی۔ سب کچھ کمپنی اور کمپنی کی حکومت کا ہوگا تو جائیدادوں پر جھگڑے بھی نہیں ہونگے

۔قتل اور نسل در نسل جھگڑے اور قانونی چارہ جو میں پیسے ضائع نہیں ہوں گے۔نظام عدل پر انگلیاں بھی نہیں اٹھیں گی کہ 30 50 50 سال چلتا ہے۔ راوی ہر طرف چین لکھے گا۔ باقی رہ گئی تفریح، اس کا انتظام ہو ہیجائے گا۔اب قوم ناشکری نہ بنے۔ بیوروکریسی، عظیم منصفوں سے عقل لے، سکون سے نوکری کرے۔ فسادی،شرارتی منصفوں سے سیکھتے ہوئے، سکون سے نوکری کریں۔ فسادیوں اور شرارتی لوگوں سے بچے۔ بندوق کو روز چومے بوسے دے۔نو مئی کی مذمت کرے اور نعرے لگائے۔۔۔۔۔جہاں پناہ مجھے بازوئوں میں لے لیجئےمیری تلاش میں ہیں گردشیں زمانے کی










