تازہ تر ین

علامہ راجہ ناصر عباس، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے امیدوار اور معروف مذہبی اسکالر ہیں، مگر وہ بھی پولیس گردی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ انہیں چار بار زمین پر گرایا گیا واٹر کینن کا آزادانہ استعمال 40 بیورو کریٹ کونسے 10 دن کس کے لئے اھم فائنل راونڈ شروع جج جہانگیری کی ڈگری کے معاملے پر عدالتی کارروائی پر کیے جانے والے اعتراضات مسترد۔۔اڈیالہ کے باہر تمام لائٹیں بند کردی گئی ۔۔رات 2 بجے۔۔منظور وٹو انتقال کر گئے۔۔ وفاقی شرعی عدالت ھای کورت منتقل۔۔جماعت اسلامی کے امیر پر اپنی جماعت نے ٹاوٹی کا الزام عائد کر دیا۔امیر جماعت اسلامی دنیا کا سبب سے بڑا ٹاوٹ ھے۔امریکہ کا بحرالکاہل میں 3 کشتیوں پر حملہ 18 ھلاکتوں کی ویڈیو وائرل۔دنیا بھر میں جہاں چاھیے گئے حملہ کرینگے ٹرمپ کی دھاڑ۔۔ملک میں غیر یقینی صورتحال برقرار خوف کے ساے۔40 ھزار پاکستان کے ھونھار ملک چھوڑ گئے پاکستان میں بےروزگاری عروج پر۔۔مھنگای کا طوفان 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے لگے۔۔پاکستان میں 2 وقت کی روٹی سے لوگ ترسنے لگے 3 سالوں میں مھنگای نے 75 سال کے ریکارڈ توڑ دیئے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بدبخت ۔اظہر سیدجنرل باجوہ اور فیض کے لگائے پالتو ججوں کو انقلاب اس وقت نہیں آیا تھا جب کھلے عام قانون انصاف کی عصمت دری ہوتی تھی ۔میڈیا میں خال ہی تھے جو ان ججوں اور ان جنرلوں کے کرتوتوں پر تنقید کرتے تھے ۔اس دور کے پالتو ججوں کو جنرل عاصم منیر کے دور میں انقلاب آیا تو بعض چمونے صحافیوں کو بھی انقلاب آگیا ۔حقیقت میں یہ انقلاب نہیں تھا انسانی حرص اور لالچ تھا۔جب کوئی بتائے مدراس اور چنائی میں بھارتی ایجنسی را کے قائم کردہ سائبر سیلوں نے تمہیں غلام بنا لیا ہے تسلیم نہیں کرتے ۔ان سائبر سیلوں میں بیٹھے نوجوان بھارتی ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے زریعے۔۔ فوج مخالف،انقلابی ججوں ،بلوچ حمائت میں کئے گئے وی لاگز ،پوسٹوں کو گھنٹوں سن کر دیکھ کر لائیک کر کے ،ری پوسٹ کر کے ان انقلابیوں کے ڈالر بنواتے ہیں

۔یہ مزے مزے سے ڈالر وصول کرتے ہیں اور انقلاب انقلاب کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔بھارتی ہماری نقل کرتے ہیں۔جنرل آصف اور جنرل سلیم باجوہ نے جامعات کے میڈیا سٹڈی کے طالبعلموں کی مدد سے ففتھ جنریشن وار کی بنیاد عمران خان کو مسلط کرنے کیلئے رکھی تھی ۔ بھارتیوں نے اسی طرز پر بھارتی جامعات کے طالبعلموں سے کام لینا شروع کر دیا ہے ۔جو پراپیگنڈہ آصف علی زرداری،نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے خلاف ففتھ جنریشن وار پلاٹون کے زریعے کیا جاتا تھا ،اسی طرز پر بھارتی ففتھ جنریشن وار کے زریعے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔

پاکستان جنرل باجوہ کے دور سے نکلنے کی جدو جہد میں مصروف ہے تو بھارتی پاکستان کے انقلابیوں کے زریعے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔افغان ،بلوچ،پی ٹی آئی اور لاکھوں جعلی اکاؤنٹس کے زریعے نفرت پھیلاتے ہیں تو یہاں کے بچونگڑے صحافی اس نفرت کا شکار ہو کر بھارتی پراپیگنڈہ کا جواب دینے والوں کے درپے ہو جاتے ہیں۔ہم تو انہیں بدبخت ہی کہیں گے اس مٹی سے کھاتے ہیں اسی کی پلیٹ میں ہگتے ہیں۔قانون ،انصاف اور عالمی انسانی حقوق کی پاسداری تو خود امریکی گوانتانامو بے بنا کر نہیں کرتے پاکستان کیوں کرے ۔کوئی ریاست اپنی سالمیت کو درپیش خطرات بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی پاکستان کیوں دے ۔جنرل مشرف نے اکبر بگٹی کو شہید کیا ظلم کیا لیکن کیا اس جواز پر بلوچ عسکریت پسندی کو بڑھنے دیا جائے۔جنرل باجوہ اور فیض نے خارجیوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی ظلم کیا ، تو کیا خارجیوں کو دہشتگردی کی کھلی چھٹی دے دی جائے ۔فیصلوں میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن انہیں درست کر لیا جاتا ہے

۔بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں اور خارجیوں کو دیکھتے ہی اڑا دینا غلطیاں درست کرنے کی طرف سفر ہے۔چینیوں نے سی پیک کا آغاز کیا تو اپنے موجودہ صدر کے زریعے تسلسل کی پالیسی بھی بنائی ۔چینی صدر کی تیسری ٹرم چل رہی ہے ۔پاکستان غلطیاں درست کرنے چلا ہے ۔پالیسی سازوں نے جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے زریعے پالیسوں میں تسلسل کی حکمت عملی اپنائی ہے ۔ چینیوں کے مشورے پر عمل کیا ہے ،تاکہ غلطیاں درست کی جائیں ۔پوری دنیا کو پیغام مل گیا ہے ۔بھارت کا روایتی ہتھیاروں میں سبقت کا بھرم آپریشن سیندور میں ٹوٹ گیا ہے ۔یہ بدلتا ہوا پاکستان ہے ، لیکن یہاں مٹھی بھر بد بختوں کو انقلاب آیا ہوا ہے ۔افغان حکومت گھٹنے ٹیک چکی ہے ۔منتوں ترلوں پر اچکی ہے لیکن ان بد بختوں کی پاکستانیت جاگتی ہی نہیں ۔نیو ورلڈ آرڈر تشکیل پا رہا ہے۔خلیجی ممالک پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں

۔ایران ،ترکی چین اور وسط ایشیا کی ریاستیں پاکستان سمیت ایک اتحاد میں ڈھل رہی ہیں لیکن پاکستانی بدبخت جعلی ڈگری والے ججوں کی حمایت کر کے انقلابی بنے ہوئے ہیں۔جو بھی ہے ہمیں خوش گمانی ہے پاکستان بدل رہا ہے ۔تسلسل معاشی استحکام اور خوشحالی کی نوید بنے گا۔ہائی برڈ نظام بد بختوں کو بہت جلد انسان کے بچے اور سچا پاکستانی بنا دے گا۔

بہادری کا دوسرا نام بےنظیر بھٹوتحریر اطہر شریفشہزاد سعید چیمہ صاحب سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی ہدایت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے تنظیمی عہدیداران، کارکنان، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، الائیڈ ونگز اور بالخصوص *شعبۂ اطلاعات کے ذمہ داران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بروز 15 دسمبر سے 27 دسمبر تک اپنی تمام سوشل میڈیا سرگرمیوں کو *شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی عظیم شخصیت کے گرد مرکوز رکھا جائے۔ میں آج سے 27 دسمبر 2025 تک محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی کامیابیاں جو پاکستان کی فلاح وبہبود اور اس کے مستقبل کے لیے ان کی اچیومنٹ اور ان کی جہدوجد زندگی مختلف زاویوں سے متعلق سلسلہ وار لکھوں گابے نظیر بھٹو نے ضیا کی 11 سالہ بدترین آمریت کا بہادری کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جو تاریخ کا حصہ ہے-وہ عمر بھر آمریت کو للکارتی رہیں۔ اُن کا طرز سیاست بھی ایسا تھا جس کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہے۔ بینظیر بھٹو ، دھرتی و عوام سے محبت اور بہادری کا تاریخی استعارہسیدنا علی المرتضیٰؓ کا قول ہے زندگی اس طرح بسر کروجب تک زندہ رہو لوگ تمہارے ملنے کیلئے بے تاب رہیں اور جب اس فانی دنیا کو چھوڑ کر جاؤتو لوگ تمھیں بے تابی سے یاد کریں

– ذوالفقارعلی بھٹو کی باصلاحیت اور بہادر بیٹی بے نظیر بھٹوسیدنا علی المرتضیٰؓ کے اس قول پر پورا اترتی ہیں۔ وہ زندہ رہیں تو پاکستانی عوام اُن کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزار ہا میل کا سفرطے کر کے اُن کی جلسہ گاہوں تک پہنچتے رہے۔

انھوں نے شہادت کو قبول کیا تو اُن کی شہادت کے بعد پاکستان میں بسنے والے لوگوں میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں جس کا دل اِس واقعہ کو یاد کر کے افسردہ نہ ہو تا ہو اور جس کی آنکھ اس الم ناک واقعہ پر اشک بار نہ ہو ئی ہو۔ عالمی سیاسی تاریخ میں اور پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک اگر کوئی ایسا سیاسی اور حکمراں خاندان کا مقابلہ نہیں ہے جس نے قربانیوں کی لازوال جدوجہد اور بہادری کی مثالیں قائم کیں ، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جانیں قربان کر دی ہے تو بلاشبہ یہ بھٹو خاندان ہی ہے۔ سب سے پہلے بانی و قائدچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا نام آتا ہے جنھیں آمریت اور جوڈیشل کلنگ کے ذریعے پھانسی دے کر ملک میں بدترین روایت کو جنم دیا گیا ۔ان کی صاحبزادی اور جانشین، تاحیات چیئرپرسن پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے تو سب کو مات دے دی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے،

وہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آئیں’ پھر بم دھماکے اور ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کلنگ 170 افراد کی شہادتوں کا بار’ سیکڑوں زخمیوں کی تکلیف نہ صرف محسوس کی بلکہ اس بہادر لیڈر نے اگلے دن جان کی پرواہ کیے بغیر اسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کرکے سب کو حیران کردیا۔ 18 اکتوبر2007 سانحہ کار ساز اب تک کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے جس میں 170 افراد کو شہادت نصیب ہوئی۔بہادر بے نظیر بھٹو نے اگلے دن 19 اکتوبر 2007 کو چاروں صوبوں’ آزاد کشمیر اور علاقہ جات سے آئے ہوئے پارٹی رہنماؤں و کارکنوں سے ملاقاتیں کیں-پھر بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے ورثاء سے ملاقاتوں کے لیے روانہ ہو گئیں۔18 اکتوبر 2007 کے واقعات کے بعد بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔بوسنیائی جنگ ایک بین الاقوامی مسلح تنازعہ تھا جو بوسنیا اور ہرزیگووینا میں 1992 اور 1995 کے درمیان ہوا تھا

۔بوسنیا میں تین سال سے جنگ جاری تھی اور سابق یوگوسلاویہ کی نسل پرست سرب افواج نے نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کا خونی کھیل شروع کر رکھا تھا ، ایک لاکھ بےگناہ مسلمان شہید ہو چکے تھے ، لاکھوں ہجرت کر چکے تھے ، ہزاروں مسلمان خواتین کی بےحرمتی کی گئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو عقوبت خانوں میں اذیتیں دی جا رہی تھیں اور اکثر مقامات پر یہ ظلم عالمی امن فوج کی موجودگی کے باوجود ہو رہا تھا ، نومولود مسلم اکثریتی ملک کے دارالحکومت سرائیوو کے محاصرے کو دو سال ہو چکے تھے اور زندگی پر موت کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔چالیس لاکھ آبادی کے ملک میں مسلمانوں کی کل آبادی اٹھارہ لاکھ تھی اور مغربی ممالک کی کوشش تھی کہ ان کو پچاس پچاس ہزار یا ایک لاکھ کی تعداد میں مختلف یورپی ممالک میں پناہ دینے دینے کے نام پر اپنے ملکوں اور معاشرے میں کھپا دیا جائے اور اس طرح یورپ کے قلب میں ایک مسلم اکثریتی ملک کے قیام کا امکان ہی نا رہے ، کوئی عالمی طاقت یا حکمران کمزور بوسنیائی مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنے کو تیار نہیں تھا

ایسے میں محترمہ بےنظیر بھٹو نے بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے سرائیوو جانے کا فیصلہ کیا اس کے لئے انہوں ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چلر سے رابطہ کیا اور دونوں نے اپنے فیصلے سے اقوامِ متحدہ کو آگاہ کر دیا یہ سنتے ہی ہر طرف کھلبلی مچ گئی ان دونوں دلیر خواتین کو ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ سرائیوو ائیرپورٹ سربوں کے محاصرے میں ہے آپ کے جہاز کو گرایا جا سکتا ہے ، شہر میں ہر طرف سرب فوج کے اسنائپر شوٹر موجود ہیں شہر میں شدید خانہ جنگی ہو رہی ہے آپ دونوں پر قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے پر مسلم دنیا کی یہ دونوں پرعزم رہنما اپنے سرائیوو جانے کے ارادے پر شدت قائم رہیں ، عالمی دنیا کو اب یہ خطرہ درپیش ہو گیا کہ پاکستان اور ترکی دو عظیم ملک ہیں اگر ان کی وزرائے اعظم کے ساتھ کوئی حادثہ یا اونچ نیچ ہو گئی تو پوری دنیا کسی عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے ،

اس خطرے کا احساس ہونے کے بعد امریکہ ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جارح سربوں کو سخت پیغام دیا گیا اور انہیں کسی متوقع جارحیت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کر دیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہیںوہ 3 فروری 1994 کا دن تھا جب پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بےنظیر بھٹو اور ترک وزیراعظم محترمہ تانسو چلر بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو پہنچیں جہاں کے شہریوں نے ان دونوں کا والہانہ استقبال کیا وہاں انہوں نے بوسنیا کے صدر عالیجاہ عزت بیگ اور بوسنیا کے عوام سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں پاکستان اور ترکی ہر طرح ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اس دورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بوسنیا کا مسئلہ اور وہاں مسلمانوں کا قتلِ عام عالمی طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا جس نے دنیا بھر کا ضمیر جھنجوڑ دیا اور اس دبائو کے نتیجے میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے امریکی افواج کو سرب ٹھکانوں پر گولہ باری کرنے اور ان کی جارحیت محدود کرنے کے احکامات جاری کئے ان اقدامات سے نوزائیدہ بوسنیائی حکومت کو سانس لینے اور اپنی پولیس اور آرمی قائم کرنے کا وقت اور موقع ملا ، بعد میں 1995 میں سرب ، کروٹ اور بوسنین فریقوں کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور آج بوسنیا ہرزیگوینا کا ملک یورپ کے قلب میں اپنی مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ قائم ہے

بوسنیا ہرزیگوینا آج نا ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اس میں مسلمان نا ہوتے اگر بےنظیر بھٹو ہمت نا کرتیں اور ترک وزیراعظم کو ساتھ لے ان سنگین حالات میں بوسنیا کا دورہ نا کرتیں اور اس کے بعد بوسنیا کو خوراک ، اسلحہ اور امداد فراہم نا کرتیں -بینظیربھٹو ہی حقیقی معنوں میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کیلئے جدوجہد کرنے والی نڈر خاتون تھیں۔بینظیربھٹو تاریخ کا حصہ ہیں اور جب بھی تاریخ لکھی جاتی ہے محترمہ بینظیربھٹو جیسی نڈر اور جرات مند خاتون کو تاریخ یاد کرتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جس طرح محترمہ بینظیربھٹو نے آمریت کا مقابلہ کیا ، سختیاں برداشت کیں، جیلیں کاٹیں لیکن وہ نہ تو جھکیں اور نہ ہی بکیں، آج بھی جرات مندی کی جب بھی بات ہوتی ہے تو محترمہ بینظیربھٹو کا نام سرفہرست ہوتا ہے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved