
عثمان بادی شریف شہید بنگلہ دیش میں حرام کھا کر اتنا موٹا نہیں ہوا کہ مجھے کسی خاص کفن اور تابوت کی ضرورت پڑے۔ میں اپنے رب کے سامنے ایک عام کفن اور تابوت میں ، حلال خون اور مسکراہٹ کے ساتھ حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ “یہ کوئی جذباتی جملہ نہیں تھا، یہ ایک نظریاتی اعلان تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ تحریک کے دوران کہے گئے عثمان ہادی شریف کے یہ الفاظ بھی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے “: انسان مر جاتے ہیں، لیکن تحریکیں اور نظریات کبھی نہیں مرتے ۔

” یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نےعثمان ہادی کو اس کی زندگی میں ہی امر کر دیا، اور پھر اس کی شہادت نے انہیں تاریخ کا اٹل حوالہ بنا دیا۔ دوران انتخابی مہم جب وہ ایک سادہ سے رکشے میں پلٹن کےعلاقے سے گزر رہا تھا تو دشمن نے پیچھے سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اس کا گرم، توانا اور بے داغ خون ڈھاکہ کی سرزمین پر گرا، جیسے اس مٹی کو نئی زندگی مل گئی ہو ۔ علاج کے لیے اسے سنگا پور منتقل کیا گیا، مگر زخم صرف جسم کے نہیں تھے ، یہ نظریے کے زخم تھے۔ عثمان ہادی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا، جنتوں کا مکین بنا، اور اپنے ہی الفاظ کی طرح ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ اس کی شہادت پر بنگلہ دیش میں ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک فرد نہیں، ایک علامت بن چکا تھا۔عثمان ہادی شریف 1994ء میں ڈھاکہ میں پیدا ہوا۔ وہ سیاسیات کا طالب علم تھا، مگر محض کتابی علم تک محدود نہیں۔ اس کی سوچ میں آزادی، خود مختاری، استعمار سے بغاوت اور قومی وقار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جب بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے خلاف طلبہ تحریک نے جنم لیا تو عثمان ہادی کی آنکھوں میں وہ چمک پیدا ہوئی جو صرف بچے نظریاتی کارکنوں میں ہوتی ہے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک کی روح رواں بنتا چلا گیا۔ عثمان ہادی نے ہمیشہ دلیل، علم اور جرأت کے ساتھ بھارت کے کردار پر تنقید کی۔

اس کا موقف واضح تھا کہ بنگلہ دیش میں بھارت کا بڑھتا ہوا سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی اثر و رسوخ در حقیقت بنگلہ دیش کی آزادی اور خود مختاری کے خلاف ایک خاموش دراندازی ہے۔ یہی جرات مندانہ موقف اسے نوجوانوں میں مقبول اور طاقتور حلقوں کی نظروں میں خطرہ بناتا چلا گیا۔ یوں عثمان ہادی صرف ایک طالب علم نہیں رہا، بلکہ مزاحمت، خودداری اور بھارت مخالف بیانیے کی ایک زندہ علامت بن گیا اور تاریخ گواہ ہے کہ علامتیں ہمیشہ نشانہ بنتی ہیں۔ اس کی شہادت بنگلہ دیشی عوام کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے، مگر دشمن قوتوں کے لیے یقیناً باعث اطمینان۔ اطلاعات یہی ہیں کہ عثمان ہادی شریف کےقاتلوں کو بھارت میں پناہ مل چکی ہے ، جہاں ان کی سیاسی سرپرست حسینہ واجد پہلے ہی موجود ہیں۔ یہ محض ایک قتل نہیں، بلکہ ایک نظریے کو دبانے کی کوشش ہے۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحے میں ہم بنگلہ دیشی عوام اور اپنے بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ پرامن رہیں، اپنے ہی ملک کے اثاثوں کو نقصان نہ پہنچائیں، اور دشمن کی سازشوں کو سمجھیں۔ اس وقت سب سے بڑی سازش یہی ہو سکتی ہے کہ امن و امان خراب کیا جائے، حالات کو اس نہج پر پہنچایا جائے کہ انتخابات ممکن نہ رہیں، اور بنگلہ دیش ایک بار پھر بیرونی سہاروں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش اب وہ بنگلہ دیش نہیں رہا۔ یہ ایک ابھر تا ہوا، نظریاتی بنگلہ دیش ہے ، جس نے دو قومی نظریے کو ایک بار پھر اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ ہم ایک خوشحال، خود مختار، نظریاتی اور مستحکم بنگلہ دیش کے خواہاں ہیں، اور ان شاء اللہ یہ خواب تعبیر پائے گا۔ دشمن اپنی ہی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل کر راکھ ہو جائے گا، اور عثمان ہادی شریف ٹیپو سلطان کی طرح ! تاریخ کے سینے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو چکا ہے۔










