
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی کے چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی اور مسیحی برادری کے ساتھ تہوار منایا۔ انہوں نے قومی ترقی و سلامتی میں پاکستانی مسیحیوں کی خدمات اور افواجِ پاکستان میں ان کی نسل در نسل قربانیوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی طاقت مساوی مواقع اور مذہب و ذات سے بالاتر آئینی اقدار پر قائم اتحاد میں ہے۔

دو ھزار چھبیس 2026 کا مصنوعی ذھانت کا سین انقلابی ھے- فوائد اور خطرات- مصنوعی ذھانت کے ایجنٹ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ھونگے- ٹریلن ڈالر مزید انوسٹ ھونگے- ڈیٹا سنٹر کی ضروریات بڑھ رھی ہیں – اسی طرح sim, semi conductors کی ضروریات بھی- لیتھم کی ضروریات- حکومتیں ان سب کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں- جیو پالیٹکس کا انحصار اب ایک بھی بجائے درجنوں دوسرے معاملات کے ساتھ جڑ گیا ھے- جنگوں کی نوعیت تبدیل ھو گئی ھے- سیاست اب نیا مشغلہ بن گیا ھے – انجوائے کریں

میسی صدی کے عظیم ترین کھلاڑی بن گئے؛ رونالڈو کا نمبر کیا رہا؟اس فہرست میں مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے 25 عظیم کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے
بھارت: ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں رنز کے انبار، سوالات اٹھنے لگےٹورنامنٹ کے پہلے دن 18 میچز میں مجموعی طور پر 22 سینچریاں بنیں جبکہ ایک میچ میں ڈبل سینچری بھی اسکور کی گئی

دنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی 72 برس کی عمر میں چل بسے1979 اور 1980 میں اپنی ٹیم کو تاریخی کامیابی دلوانے والے عظیم کھلاڑی ہمیشہ کیلیے مداحوں کو اداس چھوڑ گئے
’ تمیز کے دائرے میں رہنا‘ سرفراز احمد کا جملہ ایشیا کپ کی فتح سے زیادہ وائرلسوشل میڈیا صارفین نے سرفراز کو مینٹور مقرر کرنے کے پی سی بی کے فیصلے کی تعریف کی اور انہیں پرجوش، بے لوث اور ایماندار قرار دیا، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو دباؤ اور سیاست زدہ مقابلوں میں خود پر قابو رکھنا سکھا رہے ہیں

پنجاب حکومت، میڈیا ہاؤسز اور خاتون منصف بمقابلہ خاتون وزیراعلٰیپنجاب حکومت نے پہلے ’پولیس مقابلوں‘ کے ذریعے ’سستا اور بروقت انصاف‘ فراہم کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد ’پولیس مقابلوں‘ کے ’سستے طریقے‘ سے ’منشیات فروشی/فروشوں‘ کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔اور اب صوبائی حکومت نے پراپرٹی آرڈیننس جاری کرا کے 90 دنوں میں عوام کو ’فوری قبضے‘ دلانے کے لیے ٹریبیونلز تشکیل دیے کیونکہ سرکاری دعوے کے مطابق ’عدالتیں ناکام ہو چکی ہیں۔‘اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمے کی سماعت کے دوران ’سخت‘ ریمارکس دیے اور پھر آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا۔عدالتی حکم کے مطابق صوبائی حکومت کا جاری کردہ آرڈیننس ملکی آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’یوں لگتا ہے سرکاری وکلا نے یہ قانون پڑھا ہی نہیں۔

اگر یہ قانون اسی طرح لاگو ہونا ہے تو پھر جاتی امرا (شریف خاندان کے محلات) کو بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جا سکتا ہے۔‘دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے بڑے اور غیرجانبدار میڈیا ہاؤسز نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے یہ سارے ریمارکس اس طرح رپورٹ نہیں کیے۔آج کے روزنامہ ڈان نے اس کیس کو تمام ریمارکس کے ساتھ مکمل رپورٹ کیا۔اب وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ناپسندیدگی کے اظہار کے ساتھ کسی حد تک سخت بیان جاری کیا ہے تو ملک کا ’سب سے بڑا اور غیرجانبدار‘ میڈیا ہاؤس اُس کو ’پورے کا پورا‘ رپورٹ کر رہا ہے۔

اور بار بار ہیڈلائنز کے ساتھ کر رہا ہے۔صوبے کی وزیراعلٰی کہتی ہیں کہ قانون سازی حکومت کا کام ہے جبکہ صوبے کی منصف اعلٰی کہتی ہیں کہ آئین کے تحت ضابطہ کار اختیار کرنا ضروری ہے یعنی Due process of law۔ دیکھتے ہیں ’سستے انصاف‘ سے شروع ہونے والا ’سستے قبضوں‘ کا یہ سفر کہاں جا کر رکتا ہے۔ویسے 8 فروری کے الیکشن کے ’نتائج‘ سے وجود میں آںے والی ن لیگ کی پنجاب حکومت کی وزیراعلٰی اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تیسرے نمبر سے لاہور ہائیکورٹ کی منصف اعلٰی بننے والی دونوں شخصیات کو ’ویمن امپاورمنٹ‘ پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔










