160مفت خورے حاجی زکوۃ کے پیسوں پر 7 وزیر ایک گورنر 2ملے ایک تھری سٹار جرنل بھی شامل۔توانائی بچت، لاک ڈاؤن ، حکومتی فیصلہ ہوچکا ۔ يكم جون سے ملک بھر کی تمام مارکیٹس ، بازار آٹھ بجے بند ہوں گی۔۔۔جمھوری لاشوں کو دفنانے کا وقت قریب۔۔ ۔7 نئے لیفٹیننٹ جنرل 2 فور سٹار جنرل فیلڈ مارشل ان ایکشن۔۔80 پی ایم اے لانگ کورس ریٹائر فیاض اور زکریا ستمبر میں ریٹائر ھونگے۔چیف اف جنرل سٹاف کی کردار کشی کرانے والے تھری سٹار کی مراعات ختم 4 ٹو سٹار بھی شامل سھیل رانا رپورٹ۔۔بجٹ میں تیکسوں کی بھرمار مڈل کلاس ختم غریب مر گیا۔۔وزیر اعطم پاکستان کون بیھمانہ احتساب۔حادثے میں چار 4 خواتین جاں بحق، 4 کو زندہ نکال لیا گیا۔وفاقی حکومت نے 150 روپے پٹرول کو 400 روپے مھنگا کر کے اب 22 روپے کم کر دیا یاد رھے حکومت 250 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رھی بجلی 119 روپے فی یونٹ عوام کو فروخت کر رھی ھے اور تھری فیز میٹر پر 4060 روپے فی میٹر ڈاکو ٹیکس وصول کر رھی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وفاقی حکومت نے 150 روپے پٹرول کو 400 روپے مھنگا کر کے اب 22 روپے کم کر دیا یاد رھے حکومت 250 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رھی بجلی 119 روپے فی یونٹ عوام کو فروخت کر رھی ھے اور تھری فیز میٹر پر 4060 روپے فی میٹر ڈاکو ٹیکس وصول کر رھی تفصیلات کے لیے بادبان نیو

اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کرلیے گئے ہیں۔اس سے پہلے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی 5 جون کو ہوگا اور تین جون کو قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں اگلے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی، سالانہ ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی جائے گی جبکہ اقتصادی کارکردگی پر مشتمل رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے چار جون کو جاری ہوگا۔وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ 27-2026 کا حجم 17.1 ٹریلین روپے، معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد تجویز ہے جبکہ اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1 ہزار 727 ارب تجویز ہے آئندہ مالی سال کا ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے، وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1.1 ٹریلین روپے متوقع ہے۔

قرضوں پر سود کیلئے7 ہزار 824 ارب رکھنے، دفاعی شعبے کیلئے 2 ہزار 665 ارب رکھنے کی تجویز ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2768 ارب روپے متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی سات سے دس فیصد تک اضافے کا امکان ہے جبکہ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر بجٹ سے پہلے ہی حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان تنازع بھی شروع ہوگیا ہے اورحکومت نے ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی کے تناسب سے ریلیف دینے کا عندیہ دیا ہے تاہم سرکاری ملازمین نے تنخواہوں اور پنشن میں 100 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کررکھا ہے

۔سرکاری ملازمین کی تنظیم کی جانب سے بجٹ سے ایک روز پہلے وزارت خزانہ اور بجٹ والے دن پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا عندیہ دیا ہے اور واضع کیا ہے کہ اگر چارٹر آف ڈیمانڈز پر عمل نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔