تازہ تر ین

اشرافیہ حکومت 53 ھزار ارب روپے کی کرپشن کرنے میں کامیاب۔۔ایک کروڑ بیرون ملک پاکستانی 45 بلین ڈالرز کما کر ان کا پیٹ بھرنے میں مصروف۔چوبیس کروڑ لوگ 33 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹ میں مصروف۔چوبیس کروڑ لوگ 33 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹ کر رہے ہیں اور ایک کروڑ بیرون ملک پاکستانی 45 بلین ڈالرز کما کر ان کا پیٹ بھر رہے ہیں تم ایکسپورٹ کیوں نہیں کرتے ؟۔ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کے چیف پاکستان مین بڑی خبر کی گونج۔۔علیمہ خان اور ان کی بہنوں کا دھرنا رات گئے تک جاری۔۔جہاں عورتیں خوف کی زندگی گزارے وھاں معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں اصفہ بھٹو۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

آف لوڈنگ کا طوفان: اگر فوج مصروف ہے تو وزارتِ داخلہ کیوں خاموش لاہور — پاکستانی شہری، جن کے پاس مکمل قانونی دستاویزات، درست ویزے اور مطلوبہ کلیئرنس ہوتی ہے، ملک کے مختلف ایئرپورٹس پر مسلسل غیر قانونی آف لوڈنگ اور ہراسانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ایک تلخ سوال شدت اختیار کر چکا ہے:اگر فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دفاعی ذمہ داریوں میں مصروف ہیں، تو پھر وزیر داخلہ سید محسن نقوی، سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا، DG ایف آئی اے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آخر کر کیا رہے ہیں؟علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سمیت ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ایک ہی خوفناک pattern سامنے آ رہا ہے:جو رشوت دے، وہ جہاز تک پہنچا دیا جاتا ہے۔جو انکار کرے، اسے بے عزت کیا جاتا ہے، ذہنی طور پر توڑا جاتا ہے اور پھر آف لوڈ کر دیا جاتا چاہے اس کے پاس تمام قانونی تقاضے موجود ہوں۔بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے لیے یہ پروازیں عیش نہیں بلکہ گھر کی کفالت کا آخری سہارا ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کا راستہ روکنا کسی جرم سے کم نہیں-یہ سراسر معاشی قتل ہے۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ:وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے اب تک کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا نے نہ کوئی سخت انکوائری کرائی نہ اصلاحاتی قدم اٹھایا۔DG ایف آئی اے نے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کوئی نمایاں ایکشن نہیں دکھایا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔یہ سب دیکھ کر nation یہ سوچنے پر مجبور ہے:کیا پاکستانی عوام ہر طرف موجود خون چوسنے والوں کو پالنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں؟اگر ریاست روزگار نہیں دے سکتی، تو کم از کم ان دروازوں کو بند نہ کرے جن سے محنت کش روزی کماتے ہیں۔ایئرپورٹس پر سرگرم یہ منظم مافیا—سرکاری خاموشی کے سائے میں—پاکستان کے داخلی دروازوں کو ذلت، خوف، اور کرپشن کے اڈوں میں بدل چکا ہے۔قوم جواب مانگتی ہے-

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا ائیر ہیڈ کوارٹرز کا الوداعی دورہ25 نومبر، 2025: اپنی الوداعی مصروفیات کے جزویہ طور پر جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے انکا استقبال کیا۔ ائیر ہیڈ کوارٹرز آمد پر پاک فضائیہ کے ایک چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے سربراہ پاک فضائیہ سے انکے دفتر میں ملاقات کی۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مثالی خدمات اور تینوں مسلح افواج میں ہم آہنگی کو مضبوط و مربوط بنانے میں انکے اہم کردار کی تعریف کی۔ سربراہ پاک فضائیہ نے قومی دفاع کے لیے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی نمایاں خدمات کو بھی سراہا اور دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے پاک فضائیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں، عملی مہارت، جدت طرازی اور اپ گریڈیشن کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت میں پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت و لگن کو سراہا اور دہشتگردی کے عفریت کے خلاف قومی جنگ میں پاک فضائیہ کے اہم کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے مابین موجودہ ہم آہنگی کو بھی سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید فروغ پاتا رہے گا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک فضائیہ کی بھرپور حمایت پر ائیر چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پی اے ایف اور اسکی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

*ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری کی سینئرصحافیوں سے گفتگو*افغانستان کا پاکستان کی طرف سے حملہ کیا جانے کا بیان اسکے وسیع تر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا حصہ ہے :ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان جب بھی کوئی کارروائی کرتاہے اس کاباقاعدہ اعلان کرتاہے:ڈی جی آئی ایس پی آرہماری پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں:ڈی جی آئی ایس پی آردہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے،ڈی جی آئی ایس پی آرافغان رجیم دہشت گردٹھکانوں کےخلاف قابل تصدیق کارروائی کرے:ڈی جی آئی ایس پی آر2021سے2025تک ہم نے افغان حکومت کوباربارانگیج کیا:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریطالبان حکومت نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح نہیں بلکہ ریاست کی طرح فیصلہ کرے،ڈی جی آئی ایس پی آر یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ڈی جی آئی ایس پی آر پاک افغان بارڈرپردہشت گردی اورپولیٹیکل کرائم کاگٹھ جوڑتوڑنےکی ضرورت ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرفیض حمیدکاکورٹ مارشل ایک قانونی اورعدالتی عمل ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریبیرون ممالک سےسوشل میڈیااکاؤنٹس ریاست کےخلاف بیانیہ بنارہےہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

*👈 معزز ممبران! آج کی پوسٹ میں 61 ہیڈلائنز ہیں*🛑 *آج دن بھر کیا کچھ ہوا؟* 🛑 🛑 *25 نومبر 2025 | بروز منگل | | اہم خبروں کی جھلکیاں |👇* 🚨 (1) پاک بحریہ کا سمندری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے بلیسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ🚨 (2) جہاز سے داغا جانے والا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل ملکی سطح پر تیار کیا گیا، نیول چیف اور سائنسدانوں نے تجربے کا مشاہدہ کیا🚨 (3) فوج میں کوئی شخص ذاتی فائدے کےلیے سیاسی ایجنڈے کو پروان چڑھائے تو خوداحتسابی کا نظام حرکت میں آتا ہے، جنرل احمد شریف🚨 (4) فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے، قیاس آرائیاں نہ کی جائیں، ڈی جی آئی ایس پی آر🚨 (5) ہم جب حملہ کرتے ہیں تو اعلانیہ کرتے ہیں چھپ کر نہیں، پاک فوج، افـغـاـ ن طاـ لباـ ن کا الزام مسترد🚨 (6) عمران خان سے ملاقات کیلئے علیمہ خان کا اڈیالہ روڈ پر دھرنا، بڑی تعداد میں کارکنان جمع، نعرے بازی🚨 (7) 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں، ستائیسویں ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی، ترمیم لانے والی قوتوں کی عزت نہیں بڑھی، مولانا فضل الرحمن🚨 (8) پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار ممکنہ طور پر افـغـاـ ن شہری ہیں، آئی جی خیبر پختونخوا پولیس🚨 (9) اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افـغـاـ نستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی، عطا تارڑ🚨 (10) آسٹریلوی سینیٹر پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے پر معطل🚨 (11) راولپنڈی: لڑکی کے بال زبردستی کاٹنے کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ، 3 افراد گرفتار🚨 (12) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کیخلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کا فیصلہ محفوظ🚨 (13) سندھ ہائیکورٹ نے ای چالان کےخلاف فوری حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی🚨 (14) عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ نہیں ہوتا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل🚨 (15) گلگت بلتستان اسمبلی کی 5 سالہ مدت مکمل، جسٹس (ر) یار محمد نگران وزیر اعلیٰ مقرر🚨 (16) حکومت نے سقوط ڈھاکا سے سبق نہیں سیکھا، ’1971 کی طرز‘ پر طاقت چھینی، پی ٹی آئی کا الزام🚨 (17) کراچی میں ایک ماہ کے دوران 71 کروڑ روپے سے زائدکے ای چالان کیے گئے🚨 (18) دجالی حکومت نے بھارت میں آباد بنی میناشے یہودیوں کو اس را_ئیل منتقل کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا 🚨 (19) وزیر اعلیٰ پنجاب کا کھیلوں کو پروان چڑھانے کیلئے ہر ماہ چیمپئن شپ ایونٹس کرانے کا حکم🚨 (20) ہماری طالبات کیلئے فاطمہ جناح، بینظیر بھٹو اورمریم نواز مثال ہیں، یہ شخصیات رول ماڈل ہیں: گورنرپنجاب🚨 (21) شکرگڑھ میں گھر سے 29 سانپ نکل آئے🚨 (22) پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا🚨 (23) مظفر گڑھ: طلبہ کو اسکول لیجانے والے رکشے ریس لگاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے، طالبہ جاں بحق، 13 زخمی🚨 (24) تھائی لینڈ: آخری رسومات کیلئے لائی گئی خاتون تابوت سے زندہ نکل آئی، ویڈیو وائرل🚨 (25) عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت میں 23 دسمبر تک توسیع🚨 (26) ایتھوپیا آتش فشاں: راکھ کے بادل بھارت پہنچ گئے، پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

🚨 (27) اُلتر گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا، برفانی تودے نے وادی ہنزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا🚨 (28) کراچی میں چوری کی انوکھی واردات، ملزمان واردات کے دو روز بعد سارا سامان واپس گھر میں پھینک گئے🚨 (29) برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے جمع کرائی گئی 40 ہزار درخواستوں میں پاکستانی سرفہرست🚨 (30) گیس کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ؟ اوگرا کے متضاد بیانات🚨 (31) ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش🚨 (32) علی ترین نے ملتان سلطانز کی ملکیت چھوڑنے کا اعلان کردیا🚨 (33) ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی🚨 (34) اگر یہی سلسلہ رہا تو ہم کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی🚨 (35) اسلام آباد کچہری خودکش حملے سے متعلق گرفتار ملزم کا بیان؛ ہوشربا انکشافات🚨 (36) بنوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک🚨 (37) سپریم کورٹ لارجر بینچ کے فیصلے کیخلاف اپیل کون سنے گا؟ وفاقی آئینی عدالت کا اصول طے کرنے کا فیصلہ🚨 (38) ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی تحقیقات میں پیش رفت، مزید انکشافات🚨 (39) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی فیلڈ مارشل سے الوداعی ملاقات🚨 (40) جے یو آئی کو دھچکا؛ این اے 251 سے رہنما کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار🚨 (41) اسلام آباد ہائیکورٹ، سماعت کے دوران جج کی طبیعت خراب، اسپتال منتقل🚨 (42) سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلس_طین علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، پاکستان🚨 (43) اسلام آباد کے پارک میں خیمہ زن 539 افـغـاـ ن باشندے گرفتار🚨 (44) پاکستانیوں کیلیے خوشخبری؛ گھر بیٹھے آسٹریلیا کا ویزا حاصل کرنا آسان ہوگیا🚨 (45) شہریوں کے لیے خوشی کی خبر، کراچی چڑیا گھر میں شیرنی نے تین بچوں کو جنم دیا🚨 (46) لاہور؛ پاکستانی نژاد امریکی خاتون سے سابق شوہر کی مبینہ زیـاـ دتی، مقدمہ درج🚨 (47) ٹی 20 ورلڈکپ 2026: پاک۔بھارت ٹیمیں ایک گروپ میں شامل، میچ 15 فروری کو شیڈول🚨

(48) تین کے بجائے دو بیویوں کے ساتھ شادی کی سالگرہ منانے پر اقرار الحسن کو تنقید کا سامنا🚨 (49) سونے کی فی تولہ قیمت 7 ہزار 700 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 36 ہزار 562 روپے ہو گئی🚨 (50) 4 ماہ میں 64 کروڑ 46 لاکھ ڈالرزکے موبائل فونز درآمد🚨 (51) متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری کے شوہر اور پراسیکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ🚨 (52) پاکستانی ٹینس اسٹار اعصام الحق نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا🚨 (53) متحدہ عرب امارات اور اس را_ئیل کے درمیان ریلوے پروجیکٹ پر کام جاری🚨 (54) تھائی لینڈ میں بارشوں کا 300 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا؛ معمولاتِ زندگی ٹھپ؛ ہلاکتیں🚨 (55) خلا میں پھنسے 3 چینی خلا بازوں کی واپسی کیلیے امید نظر آنے لگی🚨 (56) ح_م_ا_س نے غ_ز_ہ جنگ بندی پر صدر ٹرمپ کو لکھا گیا خط قطر کے حوالے کیا🚨 (57) مصر مذاکرات؛ غ_ز_ہ میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام اور ح_م_ا_س کے ہتھیار پھینکنے پر پیشرفت🚨 (58) جہاں عورتیں خوف کی زندگی گزاریں، وہ معاشرے ترقی نہیں کرسکتے: آصفہ بھٹو🚨 (59) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز کو 2 مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا🚨 (60) وزیراعظم کا دانش یونیورسٹی سائٹس کا دورہ، منصوبے کی شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت🚨 (61) اسحاق ڈار سے ایر_انی مشیر علی لاریجانی کی ملاقات، باہمی تعاون کے

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس11 نومبر کو اسلام آباد میں کچہری خودکش حملے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، وزیر اطلاعاتخودکش حملہ آور ہائی سیکور جگہ پر نہیں پہنچ سکے، وزیر اطلاعاتاسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خود کش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا، وزیر اطلاعاتانٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے حملے کے فوری بعد چار ملزمان کو گرفتار کیا، وزیر اطلاعاتانٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے حملے کے 48 گھنٹے کے اندر ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا، وزیر اطلاعاتہینڈل ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا، وزیر اطلاعاتساجد اللہ نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، وزیر اطلاعاتساجد اللہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی، وزیر اطلاعات2023ء میں ساجد اللہ نے داد اللہ نامی شخص سے ملاقات کی، وزیر اطلاعاتاس حملے کی منصوبہ بندی فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے کی، وزیر اطلاعاتداد اللہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے، وزیر اطلاعاتساجد اللہ عرف شینا نے اگست 2025ء میں داد اللہ سے افغانستان جا کر ملاقات کی، وزیر اطلاعاتساجد اللہ اور داد اللہ ایک ایپ کے ذریعے آپس میں رابطے میں رہے، وزیر اطلاعاتدہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اسلام آباد تھے، وزیر اطلاعاتاللہ کا شکر ہے کہ ہم بڑے نقصان سے بچ گئے، وزیر اطلاعاتساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کر کے خودکش حملے کی پلاننگ کی، وزیر اطلاعاتساجد اللہ نے محمد ذالی اور کامران خان کو ہائر کیا، وزیر اطلاعاتاگست 2025ء میں ساجد اللہ شینا اور محمد ذالی افغانستان اکٹھے گئے داد اللہ سے ملاقات کیلئے، وزیر اطلاعاتفتنہ الخوارج کے دہشت گرد عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے بھی ملے شیگل ضلع میں، وزیر اطلاعاتشیگل سے یہ کابل پہنچے اور وہاں داد اللہ سے ملاقات ہوئی، وزیر اطلاعاتداد اللہ نے انہیں راولپنڈی اسلام آباد میں خودکش حملے کے حوالے سے نور ولی محسود کے احکامات پہنچائے، وزیر اطلاعات ساجد اللہ عرف شینا نے پاکستان کے اندر واپس آ کر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی، وزیر اطلاعاتعثمان شنواری ننگر ہار افغانستان کا رہائشی ہے، وزیر اطلاعاتعثمان شنواری کو خودکش جیکٹ لا کر دی گئی اور اسے تمام مواد فراہم کیا اور اس نے جی الیون میں خودکش حملہ کیا، وزیر اطلاعات

عمران خان کی سیاسی زندگی:-کرکٹ کیریئر کے دوران میں عمران خان کو کئی مرتبہ سیاسی عہدوں کی پیش کش کی گئی۔ 1987ء میں صدرپاکستان محمد ضیاء الحق نے انھیں مسلم لیگ میں سیاسی عہدے کی پیش کش کی جسے انھوں نے انکار کر دیا۔ نواز شریف نے بھی اپنی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لیے مدعو کیا تھا۔ ضیاء الحق کے ساتھ عمران خان کے اچھے تعلقات تھے، انھوں نے کرکٹ چھوڑ دی تھی لیکن جنرل ضیاء ان کو دوبارہ کرکٹ میں واپس لے کر آئے 1992ء کا ورلڈ کپ بھی جنرل ضیاءکے کہنے پر کھیلا۔1994ء کے آخر میں انھوں نے انٹیلی اجنسی (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ حمید گل اور محمد علی درانی کی قیادت میں پاسبان نامی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اسی انھوں نے سیاست میں باقاعدہ شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی۔۔25 اپریل 1996ء کو تحریک انصاف قائم کر کے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت ان کی سیاسی جماعت کو پاکستان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 32، ایوان بالا میں 7، صوبائی اسمبلی سندھ میں 4، صوبائی سمبلی پنجاب میں 30 اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں 59 نشستیں حاصل ہیں۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے نعرے کرپشن اور سیاسی مافیا کا خاتمےٗ کی وجہ سے مشرف کی فوجی آمریت کی حمایت کی۔

عمران خان کے مطابق مشرف انھیں 2002ء میں وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔2002ء کے ریفرنڈم میں عمران خان نے فوجی آمر کے ریفرنڈم کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ تمام بڑی جماعتوں نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔ 2002ء میں عام انتخابات میں وہ میانوالی کی سیٹ سے قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے۔انھوں نے قومی اسمبلی کی کشمیر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں میں بھی خدمات سر انجام دیں ہیں۔2 اکتوبر، 2007 کو جنرل مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے استعفٰی دیے بغیر صدارتی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا، اس فیصلے کے خلاف آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے دیگر 85 اسمبلی ارکان کے ساتھ مل کر عمران خان نے تحریک چلائی۔ 3 نومبر، 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 14 نومبر کو پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامی حالت کے خلاف طلبہ احتجاج کے دوران میں عمران خان عوامی حلقوں میں نظر آئے۔ اس ریلی کے دوران میں اسلامی جمعیت طلبہ نے عمران خان کو زد و کوب کیا۔ اس احتجاج کے بعد ان کو گرفتار کر کے ڈیرہ غازی خان کی جیل میں بھجوا دیا گیا جہاں یہ چند دن قید رہے۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر “دہشت گردی” قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کر رہے تھے اور جب انھیں انکار کر دیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہو گئے۔ 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔ 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے

اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لے کر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کر سکے۔30 اکتوبر 2011ء کو عمران خان نے لاہور میں 100،000 سے زائد حامیوں کو خطاب کیا، حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی تبدیلیاں حکمران جماعتوں کے خلاف “سونامی” ہیں۔25 دسمبر 2011 ءکو کراچی میں ہزاروں حامیوں پر مشتمل کامیاب عوامی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس وقت سے عمران خان حکمران جماعتوں اور پاکستان میں مستقبل کے سیاسی امکانات کا حقیقی خطرہ بن گیا۔۔ بین الاقوامی ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف دونوں قومی اور صوبائی سطح پر پاکستان میں مقبول جماعتوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ 6 اکتوبر 2012 کو عمران خان نے پاکستان کے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں کوٹائی کے گاؤں پر ڈرون حملے کے خلاف مظاہرین کے ایک کاروان میں شامل ہوئے، 23 مارچ 2013 کو، خان نے اپنے انتخابی مہم کے آغاز پرنیا پاکستان قرارداد متعارف کروائی۔ 29 اپریل کو آبزور جریدے نے عمران خان اور ان کی جماعت کو حکمران مسلم لیگ کے لیے اہم اپوزیشن قرار دیا۔ 2011ء اور 2013 کے درمیان، عمران خان اور نواز شریف کے مابین تلخ جملوں اور الزامات کی بوچھاڑ کا سلسلہ رہا۔ اپریل 2013 سے انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے ایک دوسرے پر تنقید کی۔اس انتخابی مہم کے دوران میں عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو امریکا کی جنگ سے باہر نکالتے ہوئے قبائلی علاقوں میں امن لے کر آئے گا۔ انھوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور ملک کے دوسرے حصوں میں مختلف عوامی اجلاسوں کو خطاب کیا جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف یکساںتعلیمی نظام متعارف کروائے گی جس میں امیر اور غریب بچوں کو مساوات ملے گی۔ انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی، 2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخیریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔ عمران خان نے لاہور کے ہسپتال میں لیٹ کر ویڈیو لنک کے ذریعے نے اسلام آباد میں حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کر کے مہم کا اختتام کیا۔2018

ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی۔17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کے بائیسویں وزیر اعظم پاکستان بن گئے جب کہ ان کے مد مقابل اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کیے۔ انھوں نے 18 اگست 2018ء کو حلف لیا۔ 18 اگست، کو انھوں نے بیس رکنی کابینہ کا اعلان کیا اور وزیر داخلہ اور وزیر پاور کا قلمدان خود کے لیے منتخب کیا۔ بعد ازاں کابینہ میں توسیع کی گئی اور انھوں نے وزیر پاور کا قلمدان عمر ایوب خان کو سونپ دیا۔پہلی گرفتاری اور رہائیاسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کے نتیجے میں، اسلام آباد پولیس اور لاہور پولیس نے 14 مارچ 2023ء کو خان کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کیا۔ 9 مئی کو، عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیم فوجی دستوں نے گرفتار کیا تھا۔ یہ القادر ٹرسٹ کیس میں ان کے مبینہ کردار پر تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی پارٹی کے اراکین نے ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔ ان کی گرفتاری سے مظاہرے ہوئے اور 9 مئی کے فسادات ہوئے ۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ 9 مئی کے فسادات کے بعد، پی ٹی آئی کے بہت سے اراکین نے خان کا ساتھ چھوڑ دیا اور جہانگیر ترین کی قیادت میںاستحکام پاکستان پارٹی بنیاد رکھی۔ 12 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ عمران خان کو محفوظ ضمانت دے دی گئی اور اسی دن رہا کر دیا گیا۔سزا اور دوسری گرفتاری5 اگست 2023ء کو، عمران خان کو دوسری بار گرفتار کیا گیا اور 2018ء سے 2022ء تک اپنی وزارت عظمیٰ کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری قبضے میں ایسے تحائف کی خرید و فروخت کرنے کا الزام ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی جو بیرون ملک دوروں کے دوران وصو

ل کیے گئے تھے اور ان کی مالیت 140 ملین روپے سے زیاد تھی۔

29 اگست 2023ء کو، ایک اپیل کورٹ نے خان کی بدعنوانی کی سزا اور تین سال قید کی سزا معطل کر دی اور ضمانت منظور کر لی۔ بدعنوانی کے مقدمے میں معطل سزا کے باوجود، اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے حکم دیا کہ وہ “سائفر کیس” کے سلسلے میں جیل میں ہی رہیں گے۔ خان نے بارہا الزام لگایا ہے کہ انھیں ایک سائفر یا سفارتی کیبل موصول ہوئی ہے، جس میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ وہاں ایک امریکی شہری نے پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اسے عہدے سے ہٹانے کی سازش کی۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے خان کے خلاف مبینہ سائفر پر معلومات شیئر کرنے اور ریاستی راز افشا کرنے اور اس طرح آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمہ درج کیا۔ 30 جنوری 2024ء کو، خان کو اس کیس میں مجرم قرار دیا گیا اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عمران خان نے 8 فروری کو ہونے والے 2024ءکے پاکستانی عام انتخابات میں ووٹروں سے “اپنے ووٹ سے ہر ناانصافی کا بدلہ لینے” پر زور دیتے ہوئے رد عمل کا اظہار کیا۔ ان کے وکیل نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا اور ان کی قانونی ٹیم نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بہت سے مبصرین نے الزام لگایا کہ یہ سزا 2024 ءکے انتخابات سے قبل خان اور پی ٹی آئی کو سائیڈ لائن کرنے کی مہم کا حصہ تھی۔ خان نے خود اپنے خلاف تمام الزامات کو “سیاسی طور پر محرک” قرار دیا۔ ان کے اس وقت کے وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے نائب شاہ محمود قریشی کو بھی اس کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ خان کی بہن علیمہ نے کہا کہ استغاثہ نے ان کے بھائی کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ اگلے دن، خان کو توشہ خانہ کیس کے لیے مجرم قرار دیا گیا اور اسے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جس میں اسے اور اس کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دیے گئے سرکاری تحائف کی غیر قانونی فروخت شامل تھی، جب وہ وزیر اعظم تھے۔ اگست میں اپنی گرفتاری کے بعد سے، خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کا ٹرائل بھی ہوا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved