
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی ۔خواجہ محمد اصف عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کے بارے میں بحث حالیہ برسوں میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، خاص طور پر 27ویں آئینی ترمیم کے بعد۔ اس ترمیم کی ضرورت سمجھنے کے لیے ہمیں پچھلے چند سالوں میں سپریم کورٹ کے کام کرنے کے انداز کو دیکھنا ہوگا، جہاں ایک محدود گروپ کے جج صاحبان ہی ملک کے تمام بڑے سیاسی مقدمات سنتے رہے۔یہ سلسلہ پانامہ کیس سے شروع ہوا۔ اس وقت چیف جسٹس ثاقب نثار نے وہ بینچ تشکیل دیا جس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔ اس بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزاور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔نواز شریف کی نااہلی کے بعد ایک اور بینچ بنایا گیا تاکہ یہ طے کیا جائے کہ ان کی نااہلی کتنی مدت کے لیے ہوگی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینچ نے فیصلہ دیا کہ نااہلی تاحیات ہوگی

۔اس کے بعد ایک اور بینچ بنا جس کی سربراہی بھی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی، اور اس میں جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔ اس بینچ نے قرار دیا کہ کوئی نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ ایک بار پھر وہی ججز نمایاں تھے۔اس کے بعد تقریباً ہر بڑے سیاسی مقدمے میں وہی چند ججز سامنے آتے رہے۔ عمران خان کی بنی گالہ جائیداد سے متعلق کیس میں بینچ میں چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے۔ ڈیم فنڈ کے معاملے میں بھی یہی نام نظر آئے، یعنی چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر۔2021 میں یہ معاملہ عدالت کے سامنے آیا کہ ازخود نوٹس (suo motu) لینے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اس وقت قائم مقام چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس علی مزہر اور جسٹس امین احمد نے فیصلہ دیا کہ ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے۔

اس فیصلے سے چیف جسٹس کے اختیارات میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ اب وہی طے کرتے ہیں کہ کون سا کیس سنا جائے اور کون سے جج اسے سنیں گے۔یہی طرز عمل بعد کے تمام اہم مقدمات میں جاری رہا۔ عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق کیس میں بینچ میں چیف جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس میاں خیل اور جسٹس مندوخیل شامل تھے

۔ پی ٹی آئی کے دھرنے سے متعلق کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل تھے۔ توہینِ عدالت کے کیس میں، جس میں پی ٹی آئی پر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام تھا، بینچ میں چیف جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس نقوی اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے۔ صرف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو فوراً عدالت میں طلب کیا جانا چاہیے

۔اسی طرح آرٹیکل 63 اے سے متعلق کیس میں، کہ اگر کوئی رکن اپنی جماعت کے فیصلے کے خلاف ووٹ دے تو اس ووٹ کو شمار کیا جائے یا نہیں، ایک ہی گروپ کے ججز یعنی چیف جسٹس بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک رخ کا فیصلہ دیا، جب کہ جسٹس میاں خیل اور جسٹس مندوخیل نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے۔ان تمام برسوں میں یہ بات واضح نظر آئی کہ ملک کے سیاسی نوعیت کے تمام اہم مقدمات میں صرف چند ججز ہی مسلسل سامنے آئے،

جب کہ دیگر سینئر ججز جیسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس سردار طارق مسعود کو شاذ و نادر ہی ایسے بینچوں میں شامل کیا گیا۔یہ صورتحال ایک بڑا سوال پیدا کرتی ہے کہ آخر کیوں ہمیشہ وہی چند ججز سیاسی مقدمات سنتے رہے اور باقی ججز کو نظرانداز کیا گیا۔ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ کے اندر توازن اور شفافیت کی کمی ہے۔27ویں آئینی ترمیم کا مقصد اسی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ یہ ترمیم عدلیہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے ہے.

پاکستان کرکٹ کے باؤ جی – عبدالقادِرکرکٹ میں کچھ لوگ ریکارڈ چھوڑتے ہیں…اور کچھ کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔عبدالقادِر وہ کہانی ہے جو آج بھی ہر کرکٹ لور کے دل میں زندہ ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا سمجھتی تھی کہ لیگ اسپن مر چکی ہے۔فاسٹ باؤلرز کا دور… رفتار، باؤنس، تھرلاور اسی شور میں لاہور کی گلیوں سے ایک لڑکا نکلا جس نے دنیا کو بتایا:“اصل فن لیگ سپن ہے، باقی سب شور ہے!”اور پھر عبدالقادِر نے ایسی گیند گھمائی کہ آج بھی انگلینڈ میں پبوں میں کرکٹ کی باتوں میں وہ قصے سنائے جاتے ہیں۔سابق انگلش بیٹسمین اور کپتان گراہم گوچ جس نے دونوں عظیم لیگ سپنرز کو کھیلا، اس نے واضح کہا،عبد القادر شین وارن سے بہتر تھا! یہ تعریف نہیں، اس مدعے پر مہر ہے۔ویوین رچرڈز دنیا کا سب سے خطرناک بیٹسمین…جو فاسٹ بولرز کو آنکھیں دکھا کر کھیلتا تھا

…وہ بھی عبدالقادِر کے سامنے محتاط ہو جاتا تھا۔کیوں؟کیونکہ قادِر پڑھا نہیں جاتا تھا۔گوگلی، فلپر، مختلف قسم کی ڈلیوریز ہر اوور میں…اور بیٹسمین کا دماغ گھوم جاتا تھا۔شین وارن بھی اُسی سے متاثر تھا سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والا لیگ اسپنرجس نے پوری دنیا میں لیگ اسپن کو نیا جنم دیا…وہ بھی کہتا تھا:میں نے عبد القادر کو دیکھ کر سیکھا۔یعنی اگر شین وارن ایک قصہ ہےتو اس کا پہلا صفحہ عبدالقادِر لکھ کر گیا تھا۔اور ہاں… وہ بیٹنگ بھی کر لیتا تھا!نیچے آ کر وکٹ بھی بچاتا تھا، میچ بھی لمبا کرتا تھا۔وہ صرف اسپنر نہیں…ایک مکمل پرفارمر تھا۔6 ستمبر 2019 کو وہ اس دنیا سے انتقال کر گئے…لیکن کرکٹ کے میدانوں میں آج بھی جب کوئی نوجوان لیگ اسپنر گیند گھماتا ہے،تو کہیں نہ کہیں عبدالقادِر کی لیگیسی موجود ہوتی ہے۔۔ باسط سبحانی#fblifestyle

اٹلی کی شرح پیدائش میں ریکارڈ کمی- گزشتہ سال صرف 370,000 بچوں کی پیدائش پچھلی اڑھائی صدیوں میں کم ترین شرح ہےماہرین کے مطابق شرح پیدائش میں اس قدر کمی اٹلی کے مستقبل کے لئے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ موجودہ شرح فی عورت ایک بچے تک آ گئی ھے-یہ ایک طویل المدتی رجحان ہے جو 1960 کی دہائی سے جاری ہے اور 2008 کے معاشی بحران کے بعد مزید تیز ہو گیا- اس بحڑان کی اہم وجوہات میں نوجوانوں میں مستقل نوکریوں اور مناسب تنخواہوں کی کمی، عورتوں کی کم ملازمت کی شرح (51.3%)، بچوں کی پرورش کی ناکافی سہولیات، دیر سے شادیاں (پہلی ماں بننے کی اوسط عمر 31.4 سال)، 18-34 سال کے 70.5% نوجوانوں کا والدین کے ساتھ رہنا، روایتی خاندانی ڈھانچہ ، نوجوانوں کی ہجرت (2024 میں 191,000 افراد باہر چلے گئے)، بوڑھوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں، کمزور ویلفیئر سسٹم، علاقائی فرق، اور حکومتی پالیسیوں کی ناکامی شامل ہیں – ماہرین خبردار کیا ہے کہ صرف مالی امداد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ بہتر نوکریاں، چائلڈ کیئر سہولیات اور سماجی تبدیلیاں ضروری ہیں

ستائیسویں آئینی ترمیمزمین چپ ہے زماں چپ ہے آسماں بھی چپہے چپ کا شور کچھ ایسا کہ لا مکاں بھی چپضعیف لوگ محلات میں ہیں ایستادہنحیف ذہن ہوئے چپ ہیں جسم و جاں بھی چپکوئی صدا کسی دربار سے نہیں آثیغلام گردشیں بھی چپ ہیں پاسباں بھی چپیہ کیا کہ منبر و محراب کے جھمیلے میںخطیب عصر ہے چپ شور واعظاں بھی چپصحافیوں میں کہاں ہے قلم کی مزدوریہوئے ہیں چپ سبھی اخبار سرخیاں بھی چپعدالتوں میں کھلے عام جج کی ہے تضحیکوکیل چپ ہیں بیاں چپ گواہیاں بھی چپہوئے ہیں چپ در و دیوار سب مکانوں کے

مکین چپ ہیں کہ ہے جان ناتواں بھی چپکچھ آیسے زہر کی بارش ہوئی ہے شہر میں آجہر ایک فرد ہوا چپ مشام جاں بھی چپشکستہ ناؤ ہوئی چپ کہ پانیوں کے بیچقضا کے خوف سے پتوار بادباں بھی چپفضا میں پھیلے ہوئے پر سمیٹ کر پنچھی گھروں کو لوٹ چلے چپ ہیں آشیاں بھی چپ یہاں وہاں پہ ہوئی چپ کا راز کھولے کون۔۔کسی کے حکم کے آگے ہوئی زباں بھی چپاداسیوں کے بھنور میں گھرے ہوئے ہیں تمامیہ کائنات بھی ہے چپ یہ کہکشاں بھی چپعوام چپ ہے کہ سنتا نہیں کوئی فریادہر ایک سمت ہیں سائے ہیں سائباں بھی چپہمارے دیس کو آسیب نے ہے گھیر لیاہوائیں چپ ہیں نظام اور حکمراں بھی چپ










