
پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے شہدا کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کے ہمراہ شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے شہدا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہادر سپوت قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی قربانیاں دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر شہدا کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، دلی تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے

۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی سلامتی کے لیے جان قربان کرنے والے یہ جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں۔نمازِ جنازہ میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کے علاوہ آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل راؤ عمران سرتاج، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، آئی جی پولیس زلفقار حمید، کمانڈر 102 بریگیڈ سمیت دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ شرکائے تقریب نے شہدا کی خدمات، بہادری اور ایف سی کے کردار کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

بہت ہی بڑی اور اہم ڈویلپمنٹ سامنے آئی ہے سعودی عرب پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات میں ثالثی کے طور پر آ رہا ہے۔سعودی ولی عہد ایم بی ایس نے خصوصی دلچسپی لی ہے۔

کیونکہ افغان طالبان نے سعودی عرب کو پیغام دیا کہ آپ پاکستان کو گارنٹی دے دیں ہم لکھ کر نہیں دیتے ہم آپ کو اعتماد میں لیتے ہیں۔جو چیزیں پاکستان چاہ رہا ہے ہم وہ کر کے دکھائیں گے۔ ایران کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس سے پہلے ممکنہ طور پر معاملات درست ہو جائیں گے۔

ایران، روس، ترکیہ قطر اور سعودی عرب کھل کر سامنے آئے ہیں۔افغان طالبان کو اب متحدہ عرب امارات سے سگنل ملنا بند ہوگئے ہیں۔سعودی کا سامنے آنے کا اصل مقصد یہی تھا کہ انڈیا اور متحدہ عرب امارات کو واضح پیغام دیا جائے۔ہم بالکل بھی پاکستان اور افغانستان کے معاملات کو ایسے نہیں الجھنے دیں گے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے کہا ہے کہ ایران افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کے لیے علاقائی ممالک بشمول روس، قطر، ترکیہ اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت میں مصروف ہے۔

تاکہ ان کے درمیان موجودہ چیلنجز کو ایک مناسب علاقائی فریم ورک کے اندر حل کیا جائے۔ترکیہ سے آنے والے وفد میں صرف پولیٹیکل لوگ نہیں ہوں گے، بلکہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو نے کنفرم کر دیا ہے کہ ترکیہ سے آنے والے وفد میں انٹیلی جنس چیف، انٹیلی جنس آپریشن آفیسر ، وزیر خارجہ اور کچھ ڈپلومیٹس آ رہے ہیں۔ایران سے بھی اسی وفد کی امید ہے لیکن ابھی ان کے وفد کی کنفرمیشن نہیں ہے۔

سعودی عرب سے بھی وفد کی کنفرمیشن ایک دو دن میں ہوجانی ہے۔ کہ کون کون پاکستان آ رہا ہے۔مذاکرات میں پاکستان کے مطالبے پر دونوں لوگ بیٹھیں گے ملٹری حکام کیساتھ ڈپلومیٹس بھی ہوں گے،میرے خیال میں پاکستان کا بہترین فیصلہ ہے کیونکہ گراونڈ کی حقیقت کیا ہے وہ ملٹری آپریشن افیسر بہتر جانتے ہیں مذاکرات کیسے تسلیم کروانے ہیں وہ ڈپلومیٹس بہتر جانتے ہیں۔ جب دونوں حکام ساتھ ہوں گے تو بہت سی چیزیں کلیئر ہو جائیں گی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ایران اور سعودی عرب کا مذاکرات میں ثالث کے طور پر آنا اس خطے میں پاکستان کی اہمیت کو ایک تو بڑھا دے گا

دوسرا افغانستان سے ہر چیز تسلیم کروائی جائے گی نہیں تو دوسری صورت میں افغان طالبان کو ان تینوں کیساتھ جنگ کرنی پڑے گی، اور افغان طالبان اس چیز کو بخوبی سمجھتے ہیںپاکستان بھی یہی چاہ رہا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کو انگیج کیا جائے۔

ایک اور امکان بھی ممکن ہے میری بات غلط بھی ہوسکتی ہے شاید سعودی کی ثالثی میں ایران ثالث نہ بنے۔یا دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر معاملہ حل کروائیں گے۔صفدر حسین بھٹیکوارڈئینیٹر سوشل میڈیا ٹیم پاکستان مسلم لیگ ن چنیوٹ

سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان سعودی عرب کے مضبوط اور تزویراتی دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی تعاون اور انسدادِ دہشت گردی میں مشترکہ کوششوں کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔معزز مہمان نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔










