
ایک دور دراز گاؤں کا وہ خاموش لڑکا… جسے لوگ اکثر تنہائی میں بیٹھا ہوا دیکھتے تھے۔ اس کی آنکھوں میں اداسی بھی تھی اور روشنی بھی اداسی والدین کے بچھڑ جانے کی، اور روشنی ایک بڑے خواب کی۔ لوگ اسے یتیم، بے سہار، اور مستقبل سے خالی سمجھتے تھے، مگر اس کے دل کی گہرائی میں ایک آگ جلتی تھی:”میں اپنے ملک کے لیے زندہ بھی رہوں گا، اور ضرورت پڑی تو جان بھی دوں گا۔”اس نے ہر مشکل، ہر طعنہ، ہر تنہائی کو برداشت کیا۔ پڑھائی میں وہ خاموش مگر مسلسل محنت کرنے والوں میں سے تھا۔ جب اسے فوج میں داخلے کا موقع ملا، تو اس نے اسے صرف نوکری نہیں سمجھا اس نے اسے اپنی نئی زندگی سمجھا۔⭐ فوج اس کا خاندان بن گئیجیسے ہی اس نے وردی پہنی، وہ سمجھ گیا کہ“یہی میرا گھر ہے، یہی میرا خاندان!”اس کے پاس اپنا کوئی قریبی خون کا رشتہ نہیں تھا، اس لیے اس نے یونٹ کو ہی اپنا سب کچھ بنا لیا۔ وہ اکثر کہتا تھا:“اگر میں کبھی شہید ہو جاؤں، تو میری ہر چیز میرا نام، میرا نامۂ عمل، میری یاد سب کچھ میری یونٹ کے نام ہے۔ یہی لوگ میرے وارث ہیں، یہی میرا خاندان!”اس نے ہر قدم پر ثابت کیا کہ خاندان خون کا نہیں، وفاداری کا ہوتا ہے۔⭐ 40 سالہ خدمات خراجِ تحسینوقت گزرتا گیا… لڑکا جوان ہوا، افسر بنا، کمانڈر بنا۔اس کے کردار، ایمانداری، ذہانت اور قیادت نے اسے وہاں پہنچایا جہاں پہنچنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔٭ 40 سال کی مسلسل خدمت٭ سینکڑوں کی رہنمائی٭ ہزاروں کے لیے مثال٭ اور ملک کے دفاع میں گنتی سے باہر فیصلےجب اس کی سروس نے چار دہائیاں مکمل کیں تو فوج کے ہر سپاہی نے اسے یوں خراجِ تحسین پیش کیا جیسے کوئی قافلہ اپنے رہنما کو سجدۂ شکریہ پیش کرتا ہے۔اس کے لیے الوداعی تقریب میں صرف سلامی نہیں تھی یہ ایک عہد کے ختم ہونے کا اعلان بھی تھا⭐ آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹافپھر وہ دن آیا جب اس نے تاریخ میں وہ مقام پایا جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔وہ ملک کاآخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹیبنا۔اس عہدے کے ساتھ ہی اس کا سفر ایک نئے مقام پر پہنچ گیا وہ مقام جہاں پہنچ کر انسان صرف عہدہ نہیں ہوتا، تاریخ بن جاتا ہے۔جب وہ رخصت ہوا، تو لوگ صرف ایک سپاہی کو نہیں رخصت کر رہے تھے…وہ ایک عہد کو رخصت کر رہے تھے۔آخر میں، جب پوری فوج نے ایک آواز ہو کر کہا:“تم نے 40 سال اس ملک کا سر فخر سے بلند رکھا!”تو اس کی آنکھوں میں وہی روشنی جگمگا اٹھی جو بچپن کے ایک تنہا لڑکے کی آنکھوں میں تھی۔اور تب دنیا نے جانا کہ وہ لڑکا کون تھا جنرل ساحر شمشاد

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا جاری ہے۔ ان کے ہمراہ چیئرمین تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان مشر محمود خان اچکزئی، صوبائی وزراء اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین موجود ہیں۔ سرد رات کے باوجود قائدین اور کارکنان کے حوصلے بلند اور نعرے بازی جاری ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ریماکس۔ میاں صاحب کی جو آپ نے بات کی وہ ایوان سے باہر تھی اسکا ایوان سے کوئی تعلق نہیں۔عمر ایوب خان صاحب کی سیٹ کی بات کی وہ معاملہ ٹرائبیونل ہے آپ وہاں جہاں ہم بھی جاتے رہے ہیں۔اسپیکر نے گوہر علی خان کی بات کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے کل 342 نہیں بلکہ 336 اراکین ہیں۔آپ کے لیڈر کہتے ہیں کہ ہندوستان سے بات کر لیں افغانستان سے بات کر لیں ہم بار بار مذکرات کی پیشکش لیکن آپ ہماری بات نہیں سنتے۔

شمالی وزیرستان کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ26 نومبر 2025 کو میرانشاہ میں پاک فوج کے زیرِ انتظام ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ منعقد ہوا ۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور قیام امن کے حوالے سے قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا ۔جرگے میں شمالی وزیرستان کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی اور فلاحی کاموں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔جی او سی نے کہا کہ عوام، سول انتظامیہ اور پاک فوج کے باہمی تعاون سے ہی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔ قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔جرگے کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا ۔

سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہارمنامہ۔27نومبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار اور بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،زراعت ،آئی ٹی ،معدنیات، توانائی اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ہیں، بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ شراکت داری کریں،ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس افرادی قوت ،وسائل، ابھرتی منڈی،سٹرٹیجک محل وقوع اور نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے،پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں

کاروباری برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی فیاضی اور گرمجوشی سے خوش آمدید کہنے پر بحرین کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں ،ہم اپنے بحرینی بھائیوں خاص طور پر شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی مہمان نوازی سے مستفید ہوئے ہیں جس انداز میں ہمارا استقبال کیا گیا وہ ہمیشہ ہمیں یاد رہے گا ،بحرین ا ٓ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر آئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان دو برادر ملک ہیں اور ہمارے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں ،یہ تعلقات ثقافتی ،مذہبی، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور یہی ہمارے تعلقات کے ستون ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن آج وہ ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کےلئے آئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم سے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ زراعت، آئی ٹی، اے آئی، فن ٹیک اور دیگر تمام شعبوں سمیت اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے،ہم ان شعبوں میں اپنی کوششوں، علم ،تجربے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے عزم کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ا ن کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیش رفت لانا ہے، شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی پر ان کا انتہائی شکر گزار ہوں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ملاقاتوں کا ماحول بالکل ایک خاندان کے مل بیٹھنے جیسا تھا اور یہ ملاقاتیں انتہائی با مقصد اور نتیخہ خیز رہی ہیں ، اسی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ میں یہاں مہمان نہیں ہوں بلکہ اپنے خاندان کے افراد، اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملنے آیا ہوں

۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہماری طاقت ہیں ہمارے 60 فیصد نوجوانوں کی عمر15 سے 30 سال کے درمیان ہے،نوجوان آبادی ایک چیلنج ،بڑی نعمت اور ایک موقع بھی ہے، چینی کہاوت کے مطابق یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ایک زبردست موقع بھی ہے ہم اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اس چیلنج کو عظیم موقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انہیں آئی ٹی ،اے آئی ،فنی و پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر شعبوں میں تربیت دے کر اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے اور اپنے بحرینی کاروباری بھائیوں کے ساتھ مل کر ہم ان شعبوں میں ایک زبردست قوت بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہی وقت ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ وقت اور لہر کسی کا انتظار نہیں کرتی،یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے کہ بحرین میں ہماری متحرک پاکستانی کمیونٹی ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں موجود ہے، یہ کمیونٹی ہمارے لئے باعث فخر ہے، جس ملک کا بھی میں نے دورہ کیا ہے میں نے پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت کی ہے اور میں نے وہاں پاکستانیوں کی داستانیں سنی ہیں جن کی پاکستان سے محبت کبھی کم نہیں ہوئی اگرچہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور محنت کو دوسرے ممالک اور ثقافتوں کی ترقی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شناخت کسی جغرافیہ کی پابند نہیں ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں یہ شناخت ان پاکستانیوں کے دلوں میں موجود ہوتی ہے ،یہاں بحرین میں بھی یہی جذبہ کسی شک و شبہ سے بالاتر واضح طور پر نظر آتا ہے ، عظیم پاکستانیوں کو بحرین اور پاکستان دونوں کے لیے خدمات پر سلام پیش کرتا ہوں، یہ پاکستان کے عظیم سفیر ہیں اور پاکستان کی قومی معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے پر ان پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کی محنت و کوششوں سے کمائی ہوئی رقم قیمتی ترسیلات زر کی شکل میں گزشتہ مالی سال کے دوران 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک رہی، یہ انتہائی قابل قدر ہے ،شاہ بحرین کی پاکستانیوں کے لیے فراخدالانہ حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے گزارش کروں گا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بحرین کے بھی عظیم سفیر بنیں کیونکہ پاکستان اور بحرین یک جان دو قالب ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی زبردست خدمات سے اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں کو خود پر فخر کرنے پر مجبور کر دیں گے، آپ کےلئے پاکستان اور میرے دروازےہمیشہ کھلے رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ کی بصیرت افروز، متحرک اور دانشمندانہ قیادت اور بحرین کے ولی عہد و وزیراعظم کی عظیم قیادت اور رہنمائی میں بحرین معاشی ترقی، مالیاتی جدت اور انسانی مرکزیت پر مبنی ترقی کی ایک مشعل کے طور پر ابھرا ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے ماڈل سے بہت متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسیع مواقع ، ہنرمندی ، وسائل اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد والی مارکیٹ کا حامل ملک ہے جو تزویراتی محل وقوع رکھتا ہے

،بحرین کی مالیاتی مہارت ،کاروباری بصیرت اور عالمی نقطہ نظر کا اشتراک ہو جائے تو پاکستانی منڈیاں وسیع امکانات کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے جو معاشی اصلاحات، ڈیجیٹل جدیدیت اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے فیصلہ کن کردار کا حامل ہو چکا ہے، ہم نے سرخ فیتے کی رکاوٹوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اپنے ضوابط کو مضبوط بنایا ہے، زرعی کاروبار، آئی ٹی ،معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے نئے شعبوں میں طویل مدت شرکت داری کے لیے کھول دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین کے نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ ،وزیر صنعت، وزیر خارجہ اور بحرین کے کاروباری اداروں کے سرمایہ کار پاکستان آئیں ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، آپ کے عظیم تجربے اور مہارت سے ہم سیکھیں گے، آپ اپنے مشورے اور علم سےپاکستان کی صنعت اور زراعت کو متحرک بنائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد دستخط ہونے کی توقع ہے ،اس معاہدے سے پاکستان اور جی سی سی ممالک بالخصوص بحرین کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کےطور پر ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ایک قوم کے سی ای او کے طور پر مخاطب ہیں جو بحرینی کاروباری افراد کے ساتھ شراکت کی خواہاں اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور بحرین کی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی طور پرمفید سفر میں تعاون کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر آپ جلدی پہنچنا چاہتے ہیں تو اکیلے جائیں اور اگر اپ دور جانا چاہتے ہیں تو اکٹھے سفر کریں، ہم پاکستان اور بحرین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں

چاہے آپ ایک بحرینی سرمایہ کار ہوں جو پاکستان میں امکانات دیکھ رہے ہوں یا ایک پاکستانی کاروباری شخص ہوں جو بحرین کی عظیم ترقی میں حصہ ڈال رہا ہو، دعا ہے کہ یہ لمحہ ایک جرأت مندانہ اور معنی خیز تعاون کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی ہمارے تعلقات کی تجدید ہے،نسل در نسل پاکستانی شہریوں نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بہت سے پاکستانی مملکت بحرین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بنک ،یونائٹڈبنک اور نیشنل بنک جیسے پاکستانی مالیاتی ادارے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ہمارے مالیاتی شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ا ٓرہے ہیں،پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے، یہ خطہ جدت ، پائیداری اور تکنیکی برتری کا مرکز بنتا جارہا ہے،مملکت بحرین کو اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر فخر ہے، بحرین ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہا ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، کاروباری جذبہ اور جرأت مندانہ خیالات خوشحال مستقبل کی بنیاد بنے ہیں ۔مالیاتی خدمات کےلئے بحرین کا جدید نظام بہترین افرادی قوت اور ابھرتا ہوا فن ٹیک موجود ہے، بحرین کا جدید نظام پاکستانی بنکوں اور جدت کاروں کےلئےعلاقائی اورعالمی سطح پر بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو اگے بڑھاتے ہوئے وژن 2050ء کی بنیاد رکھ رہا ہے ،ہم پاکستان کو ایک مشترکہ معاشی مستقبل کے حامل شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

معیشت پر توجہ دیں ۔ اظہر سیدنادہندگی سے ریاست بچ گئی لیکن ریاست میں رہنے والوں کی اکثریت نادہندہ ہو گئی ہے۔روزگار نہیں ہے ۔مہنگائی ہے ۔صنعتی عمل مہنگے انفراسٹرکچر یعنی بجلی ،پانی ،گیس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ،مہنگے قرضوں اورقوت خرید میں کمی کی وجہ سے منافع بخش نہیں رہا ۔پیچھے زندگی گزارنے کیلئے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ بچتا ہے ،یا پھر بیرون ملک نقل مکانی ۔نوجوان فراڈ سیکھ رہے ہیں یا پھر بیرون ملک جانے کیلئے اپنی کشتیاں جلا رہے ہیں۔ریاست کے مالکوں کو سوچنا چاہئے خلیجی ممالک میں پاکستانی بھیک کیوں مانگتے ہیں۔زندگی تو گزارنا ہے ۔کیسے گزاریں ۔معاش کا بندوبست تو کرنا ہے کیسے کریں ۔ائر پورٹس پر نوجوانوں کو بیرون ملک سفر سے روکنا مسلہ کا حل نہیں ہے ۔شائد دس پندرہ فیصد بیرون ملک جا کر بھیک مانگتے ہونگے باقی تو قسمت آزمانے نکلتے ہیں ۔معیشت ٹھیک کریں سارے مسائل حل ہو جائیں گے ۔خارجی جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں انہیں بے روزگار نوجوانوں کی وجہ سے بھی ایندھن ملتا ہے ۔افغان ملڑے جو پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔مدارس میں جو لاکھوں بچوں کو غریب والدین دینی تعلیم کیلئے جمع کراتے ہیں اور مولوی ان سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔والدین خوشحال ہونگے تو وہ اپنے بچوں کو مدارس بھیجنے کی بجائے اعلی تعلیم دلائیں گے ۔چوری ،ڈکیتی،رشوت ،ملاوٹ چور بازاری ہر معاشرتی بیماری کے پیچھے معیشت ہے ۔ریاست بانجھ نہیں ہے ۔شاندار زہین لوگ موجود ہیں۔خلوص نیت کے ساتھ کام کرنا شروع کریں گے تو بتدریج معیشت مستحکم ہوتی جائے گی ۔افسران، ججوں ،وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کی مراعات ختم کریں قومی اعتماد پیدا ہو گا ۔بہتری کا راستہ نکلے گا۔ٹیکس بڑھا کر اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے معیشت نہیں چلتی۔ عوامی مسائل میں اضافہ سے معیشت کی جڑیں کھوکھلی ہوتی جاتی ہیں۔بہت مسائل ہیں ۔طاقتور فوج احتجاج کرنے والوں کو بندوق سے خاموش تو کر سکتی ہے معاشی استحکام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ایجنسی اگر ملک دشمنوں کو پاتال سے جاکر پکڑ لیتی ہے تو آئی پی پی ایز کے مالکان کی ڈی بریفنگ سے انہیں کیوں مہنگی بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی پر مجبور نہیں کر سکتی۔لوگ پریشان ہیں۔غریب لوگوں کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ۔انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے اور جنگی بنیادوں پر عملدرامد کی ۔










