
*کراچی میں مظاہرہ؛ حلیم عادل شیخ سمیت پی ٹی آئی کے 20 خواتین و مرد کارکنان گرفتار*کراچی پریس کلب کے باہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سمیت 20 کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔عمران خان سے ملاقاتوں کی کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا جس کے اختتام پر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کے احتجاج سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری کراچی پریس کلب کے باہر پہنچی اور پھر دھاوا بول کر پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی حلیم عادل شیخ سمیت دیگر کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔

این ایچ اے سی ای او کی تقرری نے نیا بحران چھیڑ دیا:پارلیمانی کمیٹیاں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی قانونی خلاف ورزی پر خاموشرانا تصدق حسیناسلام آباد — انجینئرنگ کمیونٹی، این ایچ اے کے پیشہ وران، اور حکومتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین میں اس وقت شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جب وفاقی حکومت نے ایک بار پھر NHA (Amendment) SOE Act 2024 کو نظرانداز کرتے ہوئے کیپٹن (ر) اسداللہ خان (BS-21, PAS) کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کردیا۔یہ تقرری اس بنیاد پر شدید تنقید کی زد میں ہے کہ قانون کے مطابق این ایچ اے کے اعلیٰ انجینئرنگ و تکنیکی عہدے صرف اہل، تجربہ کار اور متعلقہ پیشہ ور انجینئروں کے لیے مخصوص ہیں— نہ کہ سیاسی یا بیوروکریٹک شخصیات کے لیے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹن (ر) اسداللہ خان جو اس وقت پنجاب حکومت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضیاء اللہ خان (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں — کو وزارت مواصلات کے ماتحت تعیناتی کے لیے این ایچ اے میں بطور سی ای او بھیجا گیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ملک کی کھربوں روپے کی شاہراہوں کی نگران اتھارٹی کو سیاسی تعلقات رکھنے والے افسران کے لیے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ یہ ادارہ گہرے انجینئرنگ، مالیاتی نظم و ضبط اور آپریشنل اہلیت کا متقاضی ہے

۔پارلیمنٹ کا اپنا قانون — کھلی خلاف ورزی کے باوجود مکمل خاموشیاین ایچ اے ایس او ای ایکٹ میں سی ای او کے لیے واضح، غیر مبہم، اور سخت معیار وضع ہے۔مگر اس کے باوجود یہ تقرری کھلی آنکھوں کے سامنے کی گئی اور پارلیمانی نگرانی کے ادارے مکمل طور پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی — سب خاموش تماشائیسب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ:قائمہ کمیٹی برائے مواصلاتچیئرمین سینٹاسپیکر قومی اسمبلیتینوں ہی اس کھلی قانونی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ خاموشی ایک خطرناک پیغام دے رہی ہے:> اگر پارلیمنٹ اپنے ہی منظور کردہ قوانین کا دفاع نہیں کرے گی، تو اس کی اتھارٹی پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے۔یہ طرز عمل حکمرانی کے لیے تباہ کن ہے کیونکہ ادارہ جاتی حفاظتی دیواریں سیاسی مصلحت کے ہاتھوں ٹوٹ رہی ہیں۔این ایچ سی اجلاس ای-چینل کے ذریعے “منظوری” — محض ربڑ اسٹیمپمزید حیران کن بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے کونسل (NHC) کا اجلاس محض ایک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ ای-سرکولیشن کے ذریعے بلایا گیا تاکہ:کیے گئے فیصلے پر بعد ازاں رسمی مہر ثبت کی جا سکے۔کسی نے یہ دیکھنے کی زحمت تک نہ کی کہ ایس او ای ایکٹ کیا کہتا ہے اور تقرری کا درست طریقہ کار کیا ہے

۔یہ پورا عمل ایک مشینی منظوری کے سوا کچھ نہ تھا۔قانونی طوفان سر اٹھا رہا ہے: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح خبرداریاںاندرونی ذرائع کے مطابق اگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے این ایچ اے میں مزید کسی افسر— خاص طور پر کسی ڈیپوٹیشنسٹ — کو ممبر ایڈمن یا کسی ترقیاتی عہدے پر تعینات کرنے کی کوشش کی تو:پورا این ایچ اے انتظامیہ عدالتی کارروائی کے لیے طلب ہو سکتی ہے۔خصوصاً حالیہ فیصلے کے بعد جو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا ہے، جس میں واضح کہا گیا ہے کہ:> ڈیپوٹیشن پر خدمات صرف وہاں لی جا سکتی ہیں جہاں اندرونِ ادارہ اہل اور تجربہ کار افسر دستیاب نہ ہوں۔این ایچ اے میں، حقیقت اس کے برعکس ہے:سینئر ترینتجربہ کارمکمل طور پر اہل افسرانکو مسلسل ان کے جائز حقِ ترقی اور تبادلوں سے محروم رکھا جا رہا ہے

۔اس کے برعکس تنازعوں میں گھرے اور بیرونی اثر و رسوخ رکھنے والے افسران مسلط کیے جا رہے ہیں۔یہ صورت حال این ایچ اے کو ایک انتظامی اور قانونی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔مالی اسکینڈلز اور قیادت کا بحران — مزید اندیشےیہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب:شاہریار سلطانعمر سعید دونوں کو 5 نومبر 2025 کو وسیع مالی بے ضابطگیوں کے باعث ہٹایا گیا۔ایسی حساس صورتحال میں تکنیکی اور پیشہ ور انجینئر کی تعیناتی ناگزیر تھی، مگر حکومت نے ایک بار پھر سیاسی و غیر تکنیکی تقرری کا فارمولا دہرایا ہے۔آگے کیا ہوگا؟نئے سی ای او این ایچ اے میں گہرے انتظامی مسائل اور بدعنوانیوں کا سامنا کس حد تک کر پائیں گے — اس پر شدید شکوک ہیں۔لیکن اصل سوال کچھ اور ہے:> اگر پارلیمنٹ اپنی ہی بنائی ہوئی قانون سازی کا دفاع نہیں کرے گی، تو پاکستان کے اداروں کو سیاسی اور بیوروکریٹک قبضے سے کون بچائے گا؟این ایچ اے میں جنم لیتا ہوا بحران اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں-یہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

اے ٹی وی کے ملازمین قابل تحسین ہیں جنہوں نے کل اپنا پیٹ کاٹ کر وکیل کی فیس کے لیے پیسے اکٹھے کیے اور سی ایم ہائی کورٹ میں دائر کی، اج ہائی کورٹ نے 15 تاریخ دے دی اور فیصلہ دیا اگر 15 تاریخ تک وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے پلان سامنے نہ ایا تو اے ٹی وی کی پراپرٹی بیچ کر ملازمین کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔حیرت اس بات کی ہے اس جمہوری دور میں حکومتی سطح پر کوئی اس ادارے کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہا۔خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی، کیونکہ صدر پاکستان اصف علی زرداری کا اس ادارے کو کامیاب بنانے میں بڑا ہاتھ رہا ہے۔ گو کہ میرا براہ راست اب اے ٹی وی سے واسطہ نہیں رہا لیکن میں نے زندگی کے تقریبا 12 سال اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات محنت کر کے اسے مقبول ترین چینل بنایا ۔ میرا سفر پروڈیوسر سے شروع ہوا اور جنرل منیجر تک پہنچا ۔ہماری ٹیم میں سینکڑوں لوگ شامل تھے ۔ لاہور ،کراچی ، پشاور ،کوئٹہ ، ملتان اور اسلام آباد کے دفاتر میں بیٹھے افرادصرف اے ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے۔جبار صاحب کی سربراہی میں یہ ایسی ٹیم تھی جس نے میڈیا انڈسٹری کے لیے ٹیکنیکل ہنر مند، اینکرز ،نیوز کاسٹرز ،اسکرپٹ رائٹرز اور اداکار تیار کئے ۔وقت گزرنے کے ساتھ اے ٹی وی کے ساتھ وہی ہوا جو پاکستان میں ہوتا آیا ہے ،جوکامیاب ہوتا ہے سب اسے گرانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔ ایک سادہ اور محنتی انسان جس نے میڈیا انڈسٹری کو کھڑا کیا تھا اب وہ آنکھوں میں کھٹکنے لگا تھا۔2017 میں جب اے ٹی وی کو ختم کیا گیا تو ایس آر بی سی کے ملازمین نے خوشیاں منائیں حالانکہ اس وقت بھی سینکڑوں خاندان بے روزگار ہوئے تھے ۔سپورٹس سٹار انٹرنیشنل جس نے اے ٹی وی کی بنیاد رکھی تھی یہ سینکڑوں لوگ اس ادارے سے منسلک تھے جن کو بے روزگار کر دیا گیا ۔اے ٹی وی کو چلانے میں سپورٹس سٹار انٹرنیشنل کے ہنرمند کام کرتے تھے اور ایس آر بی سی کے لوگ صرف میٹھا پھل کھاتے تھے ۔ 2017 سے آج 2025 تک اے ٹی وی صرف نقصان میں گیا۔بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود ایس ار بی سی اے ٹی وی نہیں چلا سکا۔ تقریبا تین سال سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں ۔۔افسوس اس ادارے کو گرانے میں جن لوگوں نے اس وقت کی طاقتور شخصیت سکھیرا کے ساتھ مل کر اسے تباہ کرنے میں کردار ادا کیا،

آج وہ اسی صف میں کھڑے ہیں لیکن ہم ایس آر بی سی کے ملازمین کے دکھ میں شریک ہیں جو 15 دسمبر 2026 تک سولی پر لٹکے رہیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بے روزگاری کس بلا کا نام ہے ۔یہ فیصلہ ایک جمہوری دور میں کیا گیا ہے ، ہماری اب بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کوشش ہے کہ حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس لے تاکہ لوگوں کا روزگار اور جمہوریت کا بھرم قائم رہے۔میں وفاقی حکومت ، اور وزارت اطلاعات سے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اگر اپ ایک ٹک ٹاکر کے چینل کو سپورٹ دے سکتے ہیں تو اے ٹی وی کو سپورٹ دیجئے یہ اپ کے بہت کام ائے گا اب بھی کئی پرائیویٹ کمپنیاں “اے ٹی وی ” کو چلانا چاہتی ہیں لہذا ورکرز کا روزگار بچانے کے لئے اس نکتے پر غور کریں اور اپنا فیصلہ واپس لیں تاکہ 280 خاندان بے روزگار نہ ہوں ۔یاد رکھیں جب آپ کسی کی روزی روٹی چھینتے ہیں تو اس n










