تازہ تر ین

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق۔۔پاکستان نے چین کے ساتھ ہنگور کلاس کی آٹھ آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کیا۔ٹرمپ سے تیسری ملاقات اھم ترین انتظامات مکمل۔سہیل آفریدی آج یاسمین راشد عمرچیمہ اور باقی اسیران سے لاہور میں ملاقات کریں گے۔۔51 ھزار افراد کو جھازوں سے اف لوڈ کیا گیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے۔6 ھزار افراد کو عمرے کے ویزے پر اف لوڈ کیا گیا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے۔۔بجلی کے بلوں میں اضافہ یونٹ 100 روپے کا شھباز حکومت کا کارنامہ۔۔شھباز حکومت غیر سنجیدگی کی آخری حد تک پھنچ گئی۔۔ بیس دسمبر کو اس حماقت کی فرد جرم عائد ہونے جا رہی ہے ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ ہنگور کلاس کی آٹھ آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کیا۔چار چین میں بنائی جا رہی ہیں اور چار پاکستان میں کراچی شپ یارڈ میں ٹیکنالوجی کے تحت بنائئ جائیں *پی ٹی آئی کے 70 ارکان کے پی اسمبلی پر مقدمات، اسلام آباد پولیس ماضی کا ریکارڈ نکال لائی*اسلام آباد: اسلام آباد پولیس پی ٹی آئی کے اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی پر ماضی میں درج مقدمات کی تفصیل سامنے لے آئی۔پی ٹی آئی اراکین کی اکثریت کے پی اسمبلی قانون کو مطلوب ہے، پی ٹی آئی کے 70 ارکان کے پی اسمبلی پر اسلام آباد میں مقدمات درج ہیں۔مقدمات میں دہشت گردی، پولیس رینجرز اہلکاروں کے قتل جیسی سنگین دفعات شامل ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد میں 11 مقدمات میں مطلوب ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کے خلاف 52 ایف آئی آرز درج ہیں۔

ایئر مارشل ملک نور خان — پاکستان کا فولادی معمارایئر مارشل ملک نور خان (22 فروری 1923ء — 15 دسمبر 2011ء) پاکستان کی عسکری، سیاسی اور انتظامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس کے تیسرے کمانڈر اِن چیف، مغربی پاکستان کے چھٹے گورنر، نامور سیاست دان، عالمی شہرت یافتہ منتظم، اور قومی اداروں کے معمار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہیں Man of Steel اور The Man with the Midas Touch جیسے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ دوست احباب انہیں محبت سے نورو کہتے تھے۔—ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرملک نور خان پنجاب کے ضلع چکوال کے قصبہ تمن میں ایک معزز آوان خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صوبیدار میجر ملک مہر خان برطانوی ہند کی فوج میں ایک ممتاز افسر تھے جنہوں نے پہلی جنگِ عظیم میں فرانس اور بیلجیم کے محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ عسکری روایت، نظم و ضبط اور حب الوطنی نور خان کو ورثے میں ملی۔انہوں نے گورنمنٹ مڈل اسکول تمن سے تعلیم کا آغاز کیا، بعد ازاں کرنل براؤن کیمبرج اسکول اور چیفز کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ پھر پرنس آف ویلز رائل انڈین ملٹری کالج میں داخل ہوئے جہاں عسکری تربیت کے ساتھ ساتھ باکسنگ میں غیر معمولی شہرت پائی۔ اسی ادارے میں ان کی رفاقت ایئر مارشل اصغر خان جیسے نامور افسران سے رہی۔—فضائیہ میں شمولیت اور دوسری جنگِ عظیممحض 17 برس کی عمر میں 1941ء میں وہ رائل انڈین ایئر فورس میں کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ برطانیہ میں رائل ایئر فورس کے ساتھ گنری اور بمبار پائلٹ کی تربیت حاصل کی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما محاذ پر جاپانی افواج کے خلاف اہم مشنز اڑائے اور 1944ء میں اراکان فرنٹ پر ایک جرات مندانہ ڈائیو بمبنگ آپریشن انجام دیا۔یہی وہ دور تھا جب ان کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قیادت کے اوصاف نمایاں ہونا شروع ہوئے۔—قیامِ پاکستان اور پاک فضائیہ میں خدمات1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد ملک نور خان نے پاکستان ایئر فورس کا انتخاب کیا۔ وہ پی اے ایف اسٹیشن چکلالہ کے کمانڈر مقرر ہوئے اور جلد ہی لندن میں پاکستان کے پہلے ایئر اتاشی بنے۔ بعد ازاں آر پی اے ایف کالج کے کمانڈنٹ، ایئر ہیڈ کوارٹر میں ڈائریکٹر آرگنائزیشن، اور مختلف کمانڈ اسائنمنٹس پر فائز رہے۔1950ء کی دہائی میں انہوں نے ایف-86 سیبر طیاروں کی شمولیت کی بھرپور وکالت کی، جو بعد ازاں پاک فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے۔ 35 برس کی عمر میں وہ دنیا کے کم عمر ترین ایئر افسران میں شمار ہونے لگے۔—پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) کے سنہری سال1959ء میں ملک نور خان کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں پی آئی اے نے عالمی سطح پر ایک ممتاز اور منافع بخش ایئر لائن کی حیثیت حاصل کی۔ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل، پیرس کا اسکرائب ہوٹل اور مشرقِ وسطیٰ میں کئی اسٹریٹجک اثاثے پی آئی اے کے پورٹ فولیو میں شامل ہوئے۔ان کے دور کو، اور بعد ازاں ایئر مارشل اصغر خان کے تسلسل کو، پی آئی اے کی تاریخ کے سنہری سال کہا جاتا ہے۔ بعد میں 1973ء میں بطور چیئرمین ان کی واپسی پر بوئنگ 747 اور ڈی سی-10 جیسے وائیڈ باڈی طیارے متعارف ہوئے اور قومی شناخت کی سبز و سنہری لِوری اپنائی گئی۔—پاک فضائیہ کے کمانڈر اِن چیف (1965–1969)23 جولائی 1965ء کو ملک نور خان نے پاک فضائیہ کی کمان سنبھالی۔ چند ہی ہفتوں بعد 1965ء کی جنگ چھڑ گئی۔ محدود وسائل کے باوجود پاک فضائیہ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ نور خان نے نہ صرف قیادت کی بلکہ خود طیارہ اڑا کر آپریشنل تیاریوں کا عملی مظاہرہ کیا۔

جنگ کے بعد انہوں نے چین کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کیا اور ایف-6 طیاروں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا۔ 1967ء کی عرب۔اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹس کی شمولیت بھی انہی کے فیصلوں کا نتیجہ تھی۔—گورنری، اصلاحات اور سیاسی کردار1969ء میں انہیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے تعلیم، صنعت اور محنت کش طبقے کے لیے اصلاحات متعارف کروائیں۔ تعلیمی نظام میں اردو اور بنگالی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کی سفارشات انہی کے دور میں سامنے آئیں۔ ون یونٹ کے خاتمے اور صنعتی مشاورتی پینلز کے قیام میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔بعد ازاں وہ قومی سیاست میں سرگرم رہے، 1985ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1988ء کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔—کھیلوں خصوصاً اسکواش میں انقلابملک نور خان نے پاکستان میں اسکواش کے کھیل کو عالمی سطح تک پہنچانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پی آئی اے کولٹس اسکیم کے ذریعے قمر زمان، محب اللہ خان اور بالخصوص جہانگیر خان جیسے لیجنڈز سامنے آئے۔ کراچی میں پی آئی اے اسکواش کمپلیکس اور پاکستان اوپن جیسے ٹورنامنٹس انہی کی بصیرت کا ثمر ہیں۔—1978ء کا ہائی جیکنگ واقعہ اور بے مثال جرات1978ء میں پی آئی اے کے ایک طیارے کی ہائی جیکنگ کے دوران نور خان نے مسافروں کی جان بچانے کے لیے خود کو یرغمال بنانے کی پیشکش کی۔ مذاکرات کے دوران انہوں نے ہائی جیکر کو قابو کرنے کی کوشش کی اور گولی لگنے کے باوجود حوصلہ نہ ہارا۔ اسی جرات پر انہیں ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔—ذاتی زندگی اور وفات1952ء میں انہوں نے بیگم فرحت سلطان سے شادی کی اور چار بچوں کے والد بنے۔ سادگی، دیانت اور خدمتِ خلق ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ 15 دسمبر 2011ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔—اعزازات (Awards & Decorations)ایئر مارشل ملک نور خان کو ان کی بے مثال جرات، قیادت اور قومی خدمات کے اعتراف میں ملکی اور غیر ملکی سطح پر متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کا شمار ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے عسکری اور سول دونوں میدانوں میں اعلیٰ اعزازات حاصل کیے۔ہلالِ شجاعت (1978ء): یہ اعزاز انہیں 1978ء میں پی آئی اے کے طیارے کی ہائی جیکنگ کے دوران غیر معمولی جرات، مسافروں کی جان بچانے اور اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر عطا کیا گیا۔Midalja għall-Qadi tar-Repubblika (1979ء): مالٹا کا اعلیٰ سول اعزاز، جو انہیں بین الاقوامی ہوا بازی اور انتظامی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔پاک فضائیہ اور قومی سطح کے دیگر تمغے اور اعزازی اسناد، جو ان کی طویل اور شاندار عسکری خدمات کا اعتراف تھیں۔ایئر مارشل نور خان کا نام ان چند افسران میں شامل ہے جنہیں نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ امن کے زمانے میں بھی قومی ہیرو کی حیثیت حاصل رہی۔—عسکری ترقیات (Promotions & Ranks)ایئر مارشل ملک نور خان کی عسکری ترقیات ان کی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور قائدانہ اوصاف کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نہایت کم عمر میں اعلیٰ عسکری عہدے حاصل کیے اور پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک مثال قائم کی۔پائلٹ آفیسر — 6 جنوری 1941ءفلائنگ آفیسر — اکتوبر 1942ءفلائٹ لیفٹیننٹ — 14 جون 1945ءاسکواڈرن لیڈر — نومبر 1946ءونگ کمانڈر — 15 ستمبر 1948ءگروپ کیپٹن — 1954ءایئر کموڈور — 1957ءایئر وائس مارشل — 19 مئی 1964ءایئر مارشل — 5 جولائی 1965ءایئر مارشل کے عہدے تک ان کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاک فضائیہ کے ان چند افسران میں شامل تھے جن پر قیادت، حکمتِ عملی اور اعتماد تینوں حوالوں سے مکمل بھروسا کیا گیا۔ایئر مارشل ملک نور خان صرف ایک عسکری کمانڈر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت قومی معمار تھے۔ فضائی دفاع، قومی ایئر لائن، کھیلوں کی ترقی اور ریاستی نظم و نسق—ہر میدان میں ان کی خدمات ایک روشن مثال ہیں۔ ان کے اعزازات اور ترقیات دراصل پاکستان کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہیں۔

عمران خان کی شہادت ۔ اظہر سید عمران خان کے بیٹے کا باپ کی شہادت کی صورت سیاست میں حصہ لینے کا اعلان مزیدار ہے۔اس کا مطلب ہے مالکوں اور ریاست کی جان سوشل میڈیا انفراسٹرکچر سے جلد چھٹنے والی نہیں۔مبینہ شہید کی میراث سنبھالنے والے کو ایلن مسک سمیت تمام سوشل میڈیا مالکان کی حمایت کے ساتھ مالکوں سے عاجز اور ایٹمی اثاثوں کے درپے قوتوں کے سائبر سیلوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی ۔جنرل باجوہ کی بے مثال قیادت میں ففتھ جنریشن وار کا جو تجربہ کیا گیا اس کے شاندار نتایج نے ایک بہت بڑی پاکستان اور فوج مخالف نئی رائے عامہ ہی پیدا نہیں کی صوبوں کے عوام میں نفرت،لسانی اور نسلی تعصب بھی پیدا کیا۔بھارتیوں نے آپریشن سیندور میں سوشل میڈیا کو اپنے مفادات کے تحت استمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہ داؤ الٹا پڑ گیا۔مثالی صورت وہی ہے جو پی ٹی آئی ٹرولز کے زریعے پیدا کی گئی ہے ۔اس قدر بڑا اور موثر نیٹ ورک شائد ہی دنیا کے کسی ملک میں ہو جتنا پاکستان میں قائم کیا جا چکا ہے ۔کوئی بھی معاملہ تقریبآ ہر پاکستانی تک اس کے ہاتھ میں موجود فون کے زریعے پہنچایا جا سکتا ہے ۔کوئی بھی بیانیہ بنا کر اسے قومی مسلہ بنایا جا سکتا ہے ۔

اس خوفناک عفریت سے جان چھڑانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں سوائے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے یا سوشل میڈیا ایپس کے مالکان کو اپنا بنانے کے ۔انسٹا گرام ،فیس بک یا ٹویٹر کے مالکان یہودی لابی یا امریکی اشارے پر چلیں گے پاکستان کے کہنے میں کبھی نہیں آئیں گے ۔اگر کہیں پر یہ سوچ ہے عمران خان کی شہادت کے بعد اس کے حمایتی سوشل میڈیا سے جان چھوٹ جائے گی ،خوش خبری دی جا سکتی ہے ایسا نہیں ہو گا ۔ ایسا ممکن ہی نہیں ۔یہ انفراسٹرکچر نیا بت عمران خان کے بیٹے کی صورت تراش لے گا بھلے وہ پاکستان آئے یا نہ آئے یہ حمایتی سوشل میڈیا بندوق اس کے کاندھے پر رکھ کر لڑائی جاری رکھے گا۔مستقبل میں کیا ہوتا ہے کون جانے لیکن تجزیہ تو کیا جا سکتا ہے جس طرح تحریک عدم اعتماد سے پہلے عمران خان عوامی حمایت کھو بیٹھا تھا تحریک عدم اعتماد کے بعد صرف فوج مخالف بیانیہ کے زور پر نہ صرف ووٹ بینک دوبارہ حاصل کر لیا بلکہ اس میں شائد اضافہ بھی ہو گیا۔اب یہ دلیل ٹھیک نہیں پی ٹی ائی ضمنی الیکشن ہار گئی ۔ضمنی الیکشن مالکوں کی مرضی سے ہارے اور جیتے جاتے ہیں۔یہی سچ ہے ۔اس سوشل میڈیا کی زہرناکی ثابت ہو چکی ہے تو مالکوں سے عاجز عالمی قوتیں کیوں اسے ختم ہونے دیں گی ۔ففتھ جنریشن وار سے پہلے چھ سیٹوں پر ضمانت ضبط کروا لینے والا اگر طاقتور فوج کیلئے پریشان کن چیلنج بننے کے ساتھ لیڈر کا روپ اختیار کر سکتا ہے تو انہی ہتھیاروں سے اس کے بیٹے کو بھی مسیحا بنایا جا سکتا ہے ۔عمران خان کو تو ووٹ بینک بنا کر دیا گیا تھا بیٹے کو بنے بنائے یوتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی ۔ہمیں لگتا ہے میثاق جمہوریت کے بعد مالکوں نے گملہ میں جو گلاب اگائے تھے انکی خوشبو ابھی کافی دیر آتی رہے گی ۔

ڈی جی ایف آئی اے کی قومی اسمبلی کی کمیٹی میں ہوشربا انکشافات اسلام آباد اس سال 51 ہزار لوگون کو اف لوڈ کیا گیا۔اس سال 24 ہزار افراد کو صرف سعودی عرب نے بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی نے بھی اس سال 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا۔ آزربیجان نے 2 ہزار 5 سو پاکستانی بھیکاروں کو ڈی پورٹ کیا۔ لوگ عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں ثبوت کے ساتھ اف لوڈ کیا عمرے کے نام پر لوگوں کے پاس یورپ جانے کے ڈاکومنٹس موجود تھے تب آف لوڈ کیا۔اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے 12 ہزاد افراد تاحال واپس نہیں آئے۔ برما میں سیاحتی ویزے پر چار ہزار افراد گے اڑھائی ہزار واپس نہیں آئے۔گزشتہ سالوں میں غیر قانونی جانے والے افراد میں پاکستان ٹاپ فائیو ملکوں میں تھا۔ گزشتہ برس 8 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ گئے۔اس سال تعداد چار ہزار ہوگئی اب تک مجموعی طور پر 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے باعث سعودی عرب نے ڈی پورٹ کیا۔ دوبئی اور جرمنی نے ہمارے سرکاری پاسپورٹ پر ویزہ فری کردیا۔ ایمی اپلیکیشن جنوری کے وسط میں لانچ کردی جائے گئ۔ ایمی ایپلیکیشن میں بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل ایمیگریشن حاصل کرلیں گے۔ زمبابوے میں ہمارے سفیر بتایا ایتھوپیا زمبیا سے غیر قانونی طریقے سے یورپ جارہے ہیں، سیکرٹری سمندر پار پاکستانی اسلام آباد میں ایف آئی اے کے کاونٹر زیادہ عملہ کم ہے۔ ایک جعلی فٹ بال کلب نے فٹ بال ٹیم کو جاپان بھیجا جس میں ایک لنگڑا شخص بھی جاپان چلا گیا ۔ تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ 2022 میں بھی جاپان جعلی کلب کو بھیجا جا چکا ہے۔

‏اس سے اندازہ لگائیں وزیراعظم شہباز شریف حکومت اہم ایشوز پر کتنی غیرسنجیدہ ہے اور فیصلہ سازی کا معیار کتنا بوگس اور ترجیح زیرو ہے۔ HEC چیرمین کی پوسٹ 29 جولائی یعنی ساڑھے چاہ ماہ سے خالی ہے۔ سیکرٹری ندیم محبوب نے کمشن کا چارج اپنے پاس رکھ لیا ہے اور سمری دبائے بیٹھے ہوئے ہیں اور کمشن چارج پر چلا رہے ہیں جہاں وہ اہم فیصلے کررہے ہیں جو ایک پورے چیرمین کی اتھارٹی ہوتی ہے ایکٹنگ کی نہیں۔ ندیم محبوب کب چاہیں گے کہ نیا چیرمین لگے اور جو مزے کمشن میں کررہے ہیں وہ ختم ہوں لہذا بھینس گئی پانی میں ۔ جیسا آپ کے علم میں ہوگا وزیراعظم شہباز شریف کبھی کبھار پاکستان کے دورے پر آتے ہیں۔ اگر مستقبل قریب میں کبھی وہ پاکستان آن نکلے تو شاید بھی سمری منگوا لیں۔۔ فیصلہ بھی کر

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved