
لیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خانایک عظیم سپاہی، ممتاز معالج اور انسان دوست رہنمالیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کا شمار پاکستان کی

اُن عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف عسکری میدان میں اپنی خدمات سے وطنِ عزیز کا نام روشن کیا بلکہ طب، فلاحِ انسانیت اور خدمتِ خلق کے شعبوں میں بھی ایک درخشاں مثال قائم کی۔ وہ 1921ء میں پیدا ہوئے اور 2017ء میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی خدمات اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔عسکری زندگی کا آغازل

یفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان نے 1942ء میں برطانوی ہندوستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ایک طویل، باوقار اور مثالی عسکری کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 41 برس تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں،

جو اُن کی پیشہ ورانہ وابستگی، نظم و ضبط اور فرض شناسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بطور فوجی معالج اور قائدانہ کردارفہیم احمد خان پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر فوجی معالج تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران طبّی شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں اور پاک فوج کے میڈیکل کور کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی صلاحیتوں، دیانت داری اور قائدانہ اوصاف کے باعث انہیں متعدد اہم اور حساس ذمہ داریاں سونپی گئیں۔1983ء میں وہ پاک فوج کے سرجن جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ یہ منصب اس بات کا اعتراف تھا کہ وہ نہ صرف ایک بہترین ڈاکٹر تھے بلکہ ایک اعلیٰ منتظم اور رہنما بھی تھے۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی خدماتفوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کی خدمات کا سفر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے دو برس تک عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تحت اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے صحتِ عامہ کے عالمی منصوبوں میں حصہ لیا اور ترقی پذیر ممالک میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنی مہارت بروئے کار لائی۔ یہ مرحلہ اُن کے بین الاقوامی وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھا۔فلاحِ انسانیت اور خدمتِ خلقاقوامِ متحدہ سے وابستگی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی مکمل طور پر انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے ایک فلاحی ادارہ (این جی او) قائم کیا، جس کے وہ بانی اور سربراہ تھے۔ اس ادارے کے ذریعے وہ تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کی دیکھ بھال، علاج اور معاونت کرتے رہے۔

یہ بچے، جو معاشرے کے کمزور ترین طبقات سے تعلق رکھتے تھے، لیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کے لیے محض مریض نہیں بلکہ ایک امانت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک ان بچوں کی خدمت کی، انہیں علاج فراہم کیا، خاندانوں کو سہارا دیا اور امید کی شمع روشن کیے رکھی۔شخصیت اور کردارلیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان ایک نہایت شفیق، منکسر المزاج، دیانت دار اور نیک سیرت انسان تھے۔ ان کی زندگی سادگی، اخلاص اور ایثار سے عبارت تھی۔ اعلیٰ عسکری عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود وہ عاجزی اور انسان دوستی کی زندہ تصویر تھے۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اصل عظمت طاقت یا عہدے میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔وفات اور وراثت2017ء میں ان کا انتقال ہوا،

مگر وہ اپنے پیچھے خدمت، شرافت اور ایثار کی ایک عظیم روایت چھوڑ گئے۔ ان کی زندگی نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک فرد بیک وقت ایک کامیاب فوجی، ممتاز معالج اور سچا انسان دوست بن سکتا ہے۔اختتامیہلیفٹیننٹ جنرل فہیم احمد خان کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی خدمت صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی میں بھی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی فرض، خدمت اور اخلاقی اقدار کے مطابق گزاری۔










