تازہ تر ین

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق۔ 3 اھم ترین شخصیات کو گرفتار کرنے کا فیصلہ۔۔قائدِجمعیت مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستان کےلیے قومی خدمات کے اعتراف میں سر سید یونیورسٹی کراچی کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ‘ڈاکٹر’ بن گئے، پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری موصول۔ قائدِجمعیت مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستان کےلیے قومی خدمات کے اعتراف میں سر سید یونیورسٹی کراچی کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کر رہے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ عراق صدر مملکت زیارات کے ساتھ عراق کے ساتھ دفاعی معاہدہ طے کروانے میں کامیاب۔۔پاکستان دنیا کی نمبر ون ٹیم ھے ارمی چیف۔۔4 وزراء کی رخصتی 3 کے عھدے تبدیل۔۔ملک بھر میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*ایک گھنٹے میں قتل کیس حل، اے ایس پی شہر بانو نے بھارتی ڈرامے سی آئی ڈی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا*سوشل میڈیا پر ایک پوڈکاسٹ کا کلپ غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے، جس میں ایس پی شہر بانو نقوی ایک سنجیدہ گفتگو کے دوران اچانک موصول ہونے والی فون کال کے بعد انٹرویو ادھورا چھوڑ کر روانہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کال سنتے ہی اے ایس پی شہر بانو میزبان کو یہ کہہ کر رخصت ہوتی ہیں کہ ایک قتل کا واقعہ پیش آ گیا ہے اور انہیں فوری جانا ہوگا۔ ’’آپ اس ہی طرح رہیں ، ایک مرڈر ہوگیا ہے ، میں بس آتی ہوں‘‘۔یہ پوڈ کاسٹ ایک معروف یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کیا گیا، جہاں گفتگو کے دوران اسکرین بلیک آؤٹ ہوتی ہے اور ناظرین کو بتایا جاتا ہے کہ ایک گھنٹے بعد اے ایس پی شہر بانو واپس آتی ہیں۔ پوڈ کاسٹ دوبارہ وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں رکی تھی۔ میزبان ان کی واپسی پر ان کی پیشہ ورانہ وابستگی کو سراہتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ اس دوران کیا پیش آیا، جس پر اے ایس پی مختصر جواب دیتی ہیں کہ قتل کا واقعہ تھا۔مزید گفتگو میں اے ایس پی شہر بانو نقوی اس قتل کی تفصیلات بھی بیان کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ڈیفنس کے علاقے میں لین دین کے تنازع پر ایک دوست نے دوسرے دوست کو قتل کردیا اور بعد ازاں مقتول کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنالیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مقتول کے رشتے دار بیرونِ شہر سے واپس آئے اور فون کالز کا جواب نہ ملا تو انہوں نے دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو کر صورتحال دیکھی۔ گھر کی مالکن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، جنہوں نے اشاروں کے ذریعے ملزم کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد اہلِ خانہ نے تھانے جا کر اطلاع دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔یہ پوری تفصیل پوڈ کاسٹ میں محض چند منٹ کے لیے دکھائی گئی، تاہم یہی حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے انٹرویو کی سب سے نمایاں جھلک بن گیا۔ وائرل کلپ کے بعد سوشل میڈیا پر طنز ، تنقید اور تبصروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔کئی صارفین نے اس واقعے کو طنزیہ انداز میں لیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اے ایس پی نے پوڈ کاسٹ کے دوران ایک گھنٹے میں قتل کا کیس حل کر دیا، جو غیر معمولی رفتار ہے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ جتنی دیر میں یہ کیس حل ہوا، اتنی دیر میں وہ ایک تعلیمی سوال بھی حل نہیں کر پاتے۔ بعض صارفین نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایک گھنٹے میں نہ صرف ملزم کی گرفتاری بلکہ مکمل کہانی سامنے آجانا حقیقت پسندانہ ہے؟دوسری جانب کچھ صارفین اے ایس پی شہر بانو نقوی کے حق میں بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پولیس افسر نے ڈیوٹی کو ذاتی مصروفیت پر ترجیح دی، جو قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی اور افسر کو ایسی اطلاع ملتی تو شاید وہ موقع واردات پر جانے کے بجائے ماتحت عملے کو ہدایات دے کر معاملہ نمٹا دیتا، مگر شہر بانو نقوی نے خود جا کر ذمے داری نبھائی۔تاحال اے ایس پی شہر بانو نقوی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر جاری بحث میں یہ سوال شدت اختیار کرگیا ہے کہ چاہے واقعہ حقیقی ہو یا نہیں، کیا اسے اس انداز میں ریکارڈ کرکے ایڈیٹ شدہ شکل میں عوام کے سامنے پیش کرنا ضروری تھا؟ یہی سوال اس پوڈ کاسٹ کو محض ایک انٹرویو سے بڑھا کر ایک متنازع بحث میں تبدیل کرچکا ہے۔

*💥ہم دفاعی قوت کو دفاع کے اعتبار سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں، مولانا فضل الرحمان**🌼سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، فـلسـطـین فوج بھیجنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے، سربراہ جے یو آئی**🔴یہ بات انہوں نے کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ گورنر سندھ نے مولانا فضل الرحمان کو اعزازی ڈگری سے نوازا۔*

صدر آصف علی زرداری کی بغداد میں زیاراتِ مقدسہ پر حاضریصدر مملکت نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کیصدر مملکت نے کاظمیہ مقدسہ میں امامِ موسیٰ الکاظمؑ اور امامِ محمد التقیٰ الجوادؑ کے روضوں پر حاضری دیصدر مملکت نے روضۂ کاظمیہ میں امتِ مسلمہ کے امن، اتحاد اور سلامتی کے لیے دعا کیصدر آصف علی زرداری نے روضۂ کاظمیہ میں زائرین کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیےصدر مملکت نے ائمۂ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو علم، صبر، حکمت اور اخلاقی قوت کا دائمی سرچشمہ قرار دیاصدر آصف علی زرداری کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے مزار پر بھی حاضریصدر نے تمام مزارات کے منتظمین اور مبلغین سے بھی ملاقاتیں کیں

*بریکنگ**سری لنکا میں بدترین سمندری طوفان، پاکستان کے ریلیف آپریشن کی راہ میں بھارتی حکومت کی تنگ نظری اور پاکستان دشمنی حائل*مودی سرکار کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی: انا کی تسکین کیلئے خطے کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگابھارتی حکومت نے فضائی حدود کی بندش کر کے سری لنکا میں پاکستان کے ریسکیو آپریشن میں حائل ہو گئیسمندری طوفان ڈٹوہ نے 28 نومبر کو سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دیسر ی لنکا میں سمندری طوفان ڈٹوہ کے باعث کئی افراد ہلاک، زخمی جبکہ ایک بڑی تعداد بے گھر ہو گئیحکومت پاکستان اور عوام اس مشکل گھڑی میں اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیںسمندری طوفان کے بعد وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی خصوصی ہدایاتپاک فوج کی 45 رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم این ڈی ایم اے اور پاک فضائیہ کی مدد سے سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا روانگی کیلئے تیارسری لنکا بھیجی جانے والی ریسکیو ٹیم ترکیہ میں بھی ناگہانی آفت کے دوران اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے چکی ہے بھارت نے اس انسانی ہمدردی کے مشن کیلئے فضائی اجازت دینے سے انکار کردیااین ڈی ایم اے نے 100 ٹن صلاحیت والے تجارتی کارگو طیاروں کے ذریعے امداد بھیجوانے کی بھی کوشش کیان طیاروں کی روانگی بھی بھارتی فضائی حدود کی بندش سے مشروط ہونے کے باعث سست روی کا شکار ہےپاکستان کی امدادی کھیپ اور ریسکیو ٹیم کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کیلئے زیادہ وقت درکار ہےبھارتی فضائی حدود کی بندش کے باعث 100 ٹن امدادی سامان بحری راستے سے 8 دن میں سری لنکا پہنچے گاامدادی سامان میں ریسکیو کشتیاں، پمپس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، کمبل، دودھ، خوراک اور ادویات شامل ہیںپاک بحریہ کا پی این ایس سیف جو انٹرنیشنل فیلٹ ریویو 2025 کیلئے کولمبو میں موجود تھا امدادی سرگرمیاں میں پہلے ہی مصروف عمل ہےتمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان سری لنکا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رکھے گابھارتی حکومت کا اس ناگہانی صورتحال میں فضائی حدود کی بندش کا فیصلہ انسان دشمنی کی بڑی مثال ہے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved