2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ہوئی اس وقت کی سپریم کورٹ میں یہ کیس لیکر جایا گیا تو اس وقت چیف جسٹس افتخار چوہدری بن چکا تھا تو افتخار چوہدری نے اس کیس کو ٹیک اپ کیا- اور یوں سٹیل ملز کی نجکاری کے عمل کو غیر شفاف اور غیر قانونی قرار دیا- کیا آپ جانتے ہیں اس وقت بھی ایک کنشورشیئم بنا تھا اور اس کنشورشیئم کی سربراہی عارف حبیب ہی کررہا تھا—جی ہاں یہی عارف حبیب جس نے آج کنشورشیئم بنا کر پی آئی اے کو خریدا– آپ دیکھ رہے ہیں عاصم چوہدری کی وال اور اس خبر کی پوری اصلی اور نیوٹرل تفصیل جاننے کے لیئے جڑے رہیئیے ہمارے ساتھ- اور ہمارے پیج پر فالو کے بٹن کو دبادیجیئے- سٹیل ملز کی نجکاری کے لیئے عارف حبیب کی قیادت میں ایک کنسورشیم بنا جس میں التوارکی گروپ سعودی عرب، میگنیٹوگورسک آئرن اینڈ سٹیل ورکس روس اور عارف حبیب سیکورٹیز لمیٹڈ نے 75 فیصد شیئر ساڑھے 21 ارب روپے میں (21.68 ارب) خرید لیا- -جون 2006 میں سپریم کورٹ نے اس پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق اس نجکاری کو غیر قانونی اور غیر شفاف قرار دیا- اس میں جن چیزوں کو جواز بنا کر یہ فیصلہ دیا گیا ان کی تفصیل میں یہاں بیان کردیتا ہوں تاکہ ایک پوسٹ جو وائرل ہورہی اس میں موجود کچھ انفارمیشن خراب ہونے کے باعث جگ ہنسائی نہ ہوجائے- سپریم کورٹ کے فیصلے میں عارف حبیب پر ذاتی طور پر فراڈ یا کرپشن کا براہ راست الزام نہیں لگایا گیا تھا بلکہ نجکاری کے مجموعی عمل میں پروسیجرل ایرریگولیریٹیز کی نشاندہی کی گئی- جو کہ سرکاری ملازمین کی طرف کی گئی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ سب عارف حبیب کو فائدہ پہنچانے کے لیئے کی گئی ہیں مثلا کنشورشیئم کی تشکیل ہی غیر قانونی قرار دی گئی- رولز کے مطابق کنسورشیم جس وقت بننا چاہیئے تھا اس وقت نہیں بنایا گیا بلکہ بولی کے بعد بنا۔ کچھ آف شور کمپنیاں (ماریشس بیسڈ) شامل کی گئیں جن کے دستاویزات کورٹ میں پیش نہیں کیے گئے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سٹیٹ فنکشنریز کی غلطیوں سے کنسورشیم کے ممبر عارف حبیب کو فائدہ ہوا- پاکستان سٹیل ملز کے اثاثوں (زمین، مشینری، انوینٹری) کی ویلیو اربوں روپے تھی (زمین اکیلی 250 ارب کی بتائی جاتی تھی)، لیکن سارا کچھ مل ملا کر 21.68 ارب میں بیچی جا رہا تھا۔پھر بولی صرف 30 منٹ میں ختم ہوگئی اور سٹیل مل پر اس وقت سارے قرضے پہلے ادا کر دیے گئے تاکہ سٹیل مل ڈیٹ فری بکے- اور یہی سارے کام تقریبا اب پی آئی اے کو بیچنے کے وقت بھی کیئے گئے ہیں– جیسے 18 طیاروں کی قیمت 70 ارب سے زائد، 170 پریمیم سلاٹس کی موجودگی جن میں ایک سلاٹس کی قیمت 30 ملین ڈالر- اس کے علاوہ آپریشنل آفسز، اور دوسری بہت سی چیزیں– اور پھر پی آئی اے کا قرضہ زیرو کرکے یعنی ڈیٹ فری کرکے عارف حبیب اینڈ کنشورشیئم کو دیا گیا–










