تازہ تر ین

واشنگٹن سے ای پی ای نیوز ایجنسی کے مطابق 6 ماہ میں دوسرے آرمی چیف کا قتل.. دونوں ارمی چیف کا قائل اسرائیل ھے.. ایسا عذاب آنے والا ہے جس کے لئے حکومیں تیار نہیں ۔۔۔سرکاری ملازم دیواروں سے سر ٹکرا کر اپنا اور ریاست کا سر پھوڑ رہے ہیں۔شالیمار تھانے میں تعینات سب انسپکٹر اور سابق ایس ایچ او تھانہ لوئی بھیر سہیل اشرف ،خاتون ڈاکٹرکو ہراساں کرنے کی الزام میں۔۔نجکاری یا حرام کاری ذمہ دار کون۔۔دلھن عارف حبیب فاطمہ فڑٹلائر اور کون۔40 بیورو کریسی کے شکرے لاپتہ آسمان کھا گیا یا زمین۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA): ایک قومی ادارے کی داستانِ عروج و زوالپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) محض ایک فضائی کمپنی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، ریاستی وقار اور عالمی سطح پر نمائندگی کی علامت رہی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے ایک دور میں پاکستان کو ہوابازی کے میدان میں ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کا رہنما بنا دیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی ادارہ بدانتظامی، مالی خسارے اور سیاسی مداخلت کا شکار ہو کر زوال کی داستان بن گیا۔—قیام اور ابتدائی دورPIA کی بنیاد 1946 میں اورینٹ ایئرویز کے نام سے رکھی گئی، جو قیامِ پاکستان کے بعد 1955 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی صورت اختیار کر گئی۔ اس وقت پاکستان ایک نیا ملک تھا اور قومی ایئر لائن کا قیام دنیا کو یہ پیغام دینے کے مترادف تھا کہ پاکستان جدید، خود مختار اور ترقی کی راہ پر گامزن ریاست ہے۔ابتدائی برسوں میں PIA نے:کراچی سے لندن کی براہِ راست پروازیں شروع کیںجدید طیارے اپنے بیڑے میں شامل کیےایشیا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پروازیں پھیلائیںیہ وہ زمانہ تھا جب PIA کو ایشیا کی بہترین ایئر لائن قرار دیا جاتا تھا۔—سنہری دور (1960–1970 کی دہائیاں)1960 اور 1970 کی دہائیاں PIA کا سنہری دور کہلاتی ہیں۔ اس دور میں:PIA دنیا کی پہلی ایئر لائن بنی جس نے بوئنگ 707 کو ایشیا میں متعارف کرایافضائی سروس، وقت کی پابندی اور مسافر سہولت میں مثال قائم کیکیبن کریو، پائلٹس اور انجینئرز عالمی معیار کے تھےدیگر ممالک کی ایئر لائنز نے PIA سے تربیت حاصل کییہی وجہ ہے کہ کہا جاتا تھا:> “PIA was a role model airline for the world.”—زوال کا آغازوقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ 1980 کے بعد PIA کو جن مسائل نے گھیر لیا، ان میں نمایاں تھے:1. سیاسی مداخلتحکومتی اثر و رسوخ، غیر پیشہ ورانہ تقرریاں اور سفارش کلچر نے ادارے کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا۔2. مالی خسارہPIA مسلسل خسارے میں جاتی رہی۔ غیر ضروری ملازمین، ناقص فیصلے اور غیر منافع بخش روٹس نے نقصان بڑھایا۔3. انتظامی کمزوریاںنجی اور غیر ملکی ایئر لائنز جدید جہاز، بہتر سروس اور کم کرایوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں جبکہ PIA پرانا نظام لیے کھڑی رہی۔4. عالمی ساکھ کو نقصانحادثات، تاخیر، یورپی فضائی پابندیاں اور اندرونی بدانتظامی نے PIA کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔—PIA اور قومی تشخصاس کے باوجود PIA نے کئی مواقع پر قومی خدمات انجام دیں:قدرتی آفات میں امدادی پروازیںبیرونِ ملک پاکستانیوں کی واپسیحج و عمرہ آپریشنزجنگی اور ہنگامی حالات میں قومی ذمہ داریاںیہ تمام خدمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ PIA محض تجارتی ادارہ نہیں بلکہ قومی خدمت کا ادارہ بھی رہا ہے۔—نجکاری کی بحث اور مستقبلPIA کے مسلسل خسارے کے باعث حکومتِ پاکستان نے نجکاری کا فیصلہ کیا۔ حالیہ برسوں میں:حکومت پر مالی بوجھ بڑھتا گیاقومی خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی رہینتیجتاً نجکاری کو واحد حل سمجھا جانے لگانجکاری کے حامیوں کے مطابق: ✔ ادارے میں پیشہ ورانہ نظم آئے گا✔ خسارہ کم ہوگا✔ سروس کا معیار بہتر ہوگاجبکہ مخالفین کا مؤقف ہے: ✖ ملازمین کا مستقبل غیر یقینی ہوگا✖ قومی اثاثہ ہاتھ سے نکل جائے گا—نتیجہپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی تاریخ دراصل پاکستان کی اپنی تاریخ کا عکس ہے—ایک شاندار آغاز، ایک روشن دور، اور پھر غلط فیصلوں کا بوجھ۔اگر PIA کو خلوصِ نیت، پیشہ ورانہ قیادت اور سیاسی مداخلت سے پاک انتظام دیا جائے تو آج بھی یہ ادارہ دوبارہ عالمی سطح پر اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ PIA کی بحالی صرف ایک ایئر لائن کی بحالی نہیں، بلکہ قومی وقار کی بحالی ہے۔Arif habib group 135 Billion Bid winner….پی آئی اے کے 75فیصد حصص 135 ارب روپیہ میں حاصل کرنے والے عارف حبیب کراچی کے ایک میمن خاندان میں نو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کا خاندان بانتوا، گجرات سے تھا، جہاں ان کے پاس چائے کا کاروبار اور کئی جائیدادیں تھیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد، انھوں نے اپنے کاروبار کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی۔ ان کی تعلیم دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوئی اور انھوں نے کبھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لیا۔ 1970ء میں، انھوں نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بروکریج انڈسٹری میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جسے ان کے بھائی نے خریدا تھا۔ 1970 میں، 17 سال کی میں حبیب نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی اسٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) میں اسٹاک بروکر کی حیثیت سے کیا، جسے ان کے بڑے بھائی نے رکھا تھا جنھوں نے تجارتی لائسنس خرید رکھا تھا۔ ان کی ماہانہ تنخواہ 60 روپے تھی۔ انھوں نے اپنے دن ٹریڈنگ ہال میں سرمایہ کاروں کے حصص اور بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے گزارے، جس کا وہ اسٹاک کے بارے میں ان کے علم میں حصہ ڈالنے کا سہرا دیتے ہیں۔ 1992ء میں حبیب کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا صدر منتخب کیا گیا اور انھوں نے اسٹاک ٹریڈنگ سسٹم کو کمپیوٹرائز کیا۔ وہ مزید پانچ بار پاکستان سٹاک ایکسچینج کے صدر منتخب ہوئے۔

لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد علی الحداد سمیت آٹھ سینئر فوجی افسران ترکی میں ایک المناک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کا شکار ہونے والا فوجی طیارہ ترک دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس جا رہا تھا۔ترک حکام کے مطابق پرواز کے کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد ازاں طیارے کا ملبہ انقرہ ایئرپورٹ سے تقریباً 105 کلومیٹر دور ایک دیہی علاقے سے برآمد ہوا۔حادثے میں تباہ ہونے والا طیارہ فالکن 50 جٹ تھا، جو 37 سالہ پرانا جہاز تھا۔

اگست 2020 میں محمد علی احمد الحداد کو لیبیا کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری اس وقت کے وزیر اعظم فیاض السراج نے کی، تقرری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب لیبیا طویل عرصے سے سیاسی انتشار اور عسکری تنازعات کی لپیٹ میں تھا۔اس وقت لیبیا عملی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ دارالحکومت طرابلس میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت قائم ہے، جس کی قیادت عبدالحمید دبیبہ کر رہے ہیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں طاقتور فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی زیرِ قیادت الگ انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہی تقسیم ملک میں پائیدار استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔لیبیا میں جاری یہ بحران 2011 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا، جب نیٹو کی حمایت سے ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں دہائیوں سے اقتدار پر قابض رہنما معمر قذافی کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد سے ریاستی ادارے کمزور ہوتے چلے گئے اور ملک مسلسل بدامنی کا شکار رہا۔علاقائی سطح پر ترکی کا کردار خاص طور پر نمایاں ہے، جو طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ ترکی نہ صرف اقتصادی معاونت فراہم کرتا رہا ہے بلکہ دفاعی تعاون بھی اس تعلق کا اہم حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے اور باہمی دورے لیبیا کی سیاسی و عسکری صورتحال میں ترکی کے اثر و رسوخ کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔۔

نجکاری یا حرام کاری….؟جاوداں سیمنٹ، PSM، پی،آئی،اے، دلہن اور عارف حبیب !محاسبہناصر جمالاے پیشہ ورو ! اس برگد کو بھی تراش دو سنا ہے! اس کی ٹہنیوں میں دودھ بے شمار ہے پی آئی اے (PIA) کی نجکاری کا ”پنڈورا باکس“ کھل گیا ہے۔ نجکاری ہونی چاہیے۔مگر اس کی آڑ میں حرام کاری “جرم” ہے۔ نجکاری کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ گھر کا “سلور گولڈ” کوڑیوں کے بھاؤ، لاڈلوں کو بیچ دیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کا گذشتہ سال کا منافع 26 ارب ہے۔ پی آئی اے کے 777 (ٹریپل سیون) ایک بوئنگ جہاز کی قیمت 400 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ یہاں ایئر لائن ہی 48 ملین ڈالر میں بیچ دی گئی ہے۔ حکومت کے حصہ میں صرف ساڑھے تین ملین ڈالر آئیں گے۔ ساڑھے 44 ملین ڈالر خریدنے والا، ایئر لائن پر لگائے گا۔ یعنی ایئر لائنز صرف 10.2 ارب روپے میں بیچی گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے چوہدری منظور کہہ رہے ہیں کہ پی آئی اے کے ملازمین کا پراویڈنٹ فنڈ 20 ارب، بلڈنگز تقریباً 50 ارب کی ہیں، 10 ارب کے سپیئر پارٹس ہیں۔ 400 گاڑیاں، فرنشڈ دفاتر، 64 انٹرنیشنل لینڈنگ روٹس جو آج 640 ارب روپے میں بھی نہیں ملتے۔ 25 سال سے چلنے والی ایئر لائنز، سخت ترین کوششوں کے باوجود یہ روٹس نہیں لے سکیں۔ ان کا کہنا ہے، پی آئی اے پر قرضہ 650 ارب کا، مگر اثاثے ہزاروں ارب کے ہیں۔ گذشتہ سال 13 جہازوں کے ساتھ 26 ارب کا PIA نے منافع کمایا ہے۔ اسی سال 6 ماہ میں ساڑھے گیارہ ارب کا منافع کمایا گیا ہے۔ 10 ارب کے سپورٹنگ آلات ہیں۔یورپین روٹس کھلنے سے 40 فیصد مزید منافع آنا تھا۔پی آئی اے کا انتظامی خرچ 16 فیصد پر ہے۔سری لنکن اور ایتھوپیا جیسی ایئر لائن کے اخراجات 22 فیصد پر ہیں۔ پی آئی اے کے اثاثوں کے متعلق ابھی اور بہت سے ہوشربا انکشافات ہوں گے۔جیسے پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثوں کے متعلق ہوئے تھے۔قارئین!!! منصوبہ تو روز ویلٹ، سکرائب پیرس وغیرہ کو بھی ہضم کرنے کا تھا۔ فی الحال اسے موخر کیا گیا ہے۔ شاطر جانتے ہیں کہ ٹھنڈا کر کے کھانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر جو اکاؤنٹس اس نجکاری کو عظیم انقلاب قرار دے رہے ہیں ان کے بارے میں پوری قوم جانتی ہے یہ کون لوگ ہیں۔ ان کا تو ایک ہی ماٹو ہے کہ ”مینوں نوٹ ویکھا میرا موڈ بنے۔۔۔۔کراچی، منگھوپیر کے علاقے میں جاوداں سیمنٹ ہوا کرتی تھی۔ یہ 1961 میں قائم ہوئی۔ اس کا ابتدائی نام ویلیکا سیمنٹ لمیٹڈ تھا۔ 1972 میں بھٹو نے اسے نیشنلائز کر لیا۔ 2006 میں نجکاری کے پردے میں یہ عارف حبیب کے زیر انتظام آئی۔ 2010 میں اسے بند کر دیا گیا۔ 1367 ایکڑ زمین پر عارف حبیب نے مشہور زمانہ نیا ناظم آباد ہاؤسنگ پروجیکٹ کھڑا کر دیا۔ ماشاءاللہ، نجکاری کامیاب ہوگئی۔ مل کی روح آسمانوں پر پرواز کر گئی۔ صرف چار سالوں میں بندش کا ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا۔کیا کبھی کسی حکومت نے اس بارے میں ان سے پوچھا۔؟ یا شرائط ہی ان سے پوچھ کر بنائی گئی تھیں؟اسی سال 2006ء میں عارف حبیب کا نام اسٹیل مل کی نجکاری میں خوب گونجا۔ ان کی نظریں اسٹیل مل کے 18660 ایکڑ زمین پر تھیں۔ 10390 ایکڑ پر پلانٹ، 8070 ایکڑ پر ٹاؤن شپ، 200 ایکڑ کا واٹر ریزوائر ہے۔ اسے 22 ارب میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اسٹیل مل کے پاس اس وقت کیش فلو 7 ارب سے زائد کا تھا۔ اتنی ہی مالیت کا فنش اور اس سے زائد مالیت کا غیر فنش سامان تھا۔ انوینیٹری ان پراسیس اربوں میں تھی۔ صرف 6 ماہ پہلے 65 کروڑ کی سٹیل ملز نے نئی گاڑیاں خریدی تھیں۔65 میل لمبا میٹل ٹریک تھا۔ اپنی جیٹی تھی۔اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا کہ اسٹیل مل ”عارف بھائی“ کو دلہن کی طرح سجا کے پیش کی جا رہی ہے۔ بعدازاں اعتزاز احسن کو عارف حبیب کی جانب سے کیس لڑنے پر من پسند فیس کی آفر بھی کی گئی تھی۔اعتزاز احسن انکاری ہو گئے۔ان کا موقف تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں تقریر کر چکے ہیں۔اب اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ وہ یہ کیس نہ لیں۔پھر سپریم کورٹ نے اس نجکاری کو ختم کر دیا۔ یہیں سے مشرف اور شوکت عزیز کا افتخار چوہدری کا جھگڑا شروع ہوا۔آج قلم کار کو بھی یقین ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی طرح ایک بار پھر پی آئی اے بھی عارف حبیب اور اس کے ساتھیوں کو دلہن کی طرح سجا کے پیش کی جاچکی ہے۔ ایسے میں فوجی فرٹیلائزر کی کنسورشیم میں شمولیت کی خبر آچکی ہے۔فوجی فرٹیلائزر ابتدائی بولی سے خود باہر نکل گیا تھا۔ اس پر ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ایک طرف وفاقی حکومت اور اس کے جید ترین وزراء اپنے سوشل میڈیا کے ” موکلوں“ کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ پھر اسی وفاق کی ذیلی سروس، افواج پاکستان کو کیسے کاروبار کا حق دیا جاسکتا ہے۔ ان کی دکانیں بھی تو بند کروائی جائیں۔ان کے شٹر کیوں ڈاؤن نہیں کیے جاتے۔کیا ہم نے انہیں کاکول میں کاروبار کرنے کی تربیت دی تھی۔یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن ہو یا آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، یہ حقیقت نہیں بدل سکتی۔ کیا حکومت کل پی۔ او، ایف واہ ۔ کامرہ، شپ یارڈ جیسے ادارے ایسے ہی چلاتی رہے گی۔ اگر پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لانا ہے تو پھر ان اور دیگر سمیت ماری پٹرولیم کو بھی بیچا جائے۔ جس میں وفاقی حکومت کے 50٪ حصص ہیں۔ امید ہے پر اس پر”ڈاکہ” نہیں ڈلہ ہو گا۔ ماری پٹرولیم تو ایک عرصہ سے وفاق کاحصہ ماننے سے ہی انکاری ہے۔ حالانکہ یہ کمپنی 50/ 50 فیصد برابر سرمایہ کاری پر قائم کی گئی تھی. عوام کے اس مال کا تحفظ کون کرے گا؟میں تو اس لیے بھی ہوں خاکِ وطن کا محافظ یہ بھی بے غریبوں کی کمائی میرے بھائی دشمن تجھے کیسے نظر آنے لگیں دشمن تو نے نہیں دیکھے بھائی ! میرے بھائی (رام ریاض)عارف حبیب کے ساتھی کون ہیں۔ عقیل کریم ڈھیڈی، کو کون نہیں جانتا، وہ کس کا بندہ ہے۔ وہ کس کے لیے۔سب کچھ مینج کرتا ہے۔اسٹاک ایکسچینج میں اتنے ”بلڈ باتھ“ ہوئے اج تک کسی اسٹاک کنگ کا کچھ بگڑا۔ایک اسٹاک کنگ کے خلاف تو کیس سپریم کورٹ تک جا پہنچا تھا۔ کبھ حجازیوں کی بجائے SECP میں کچھ پاگل بھی ھوا کرتے تھے۔ کنسورشیم کا ایک رکن سٹی پرائیویٹ سکول ہے۔پوری قوم اندازہ کر لے تعلیم کتنا منافع بخش کاروبار ہے کہ اب ایک سکول والا بھی ایئر لائن خرید رہا ہے۔ لیک سٹی کے روح رواں،گوہر اعجاز تو کسی تعارف کے ہی محتاج نہیں۔آصف زرداری نے انہیں اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ جب وہ اپٹما کے ان داتا تھے۔ دونوں گیس کمپنیوں کے ایم ڈی ان کے جلال سے تھر تھر کانپتے تھے۔اسحاق ڈار لندن سے حکم دیتے کہ پہلے گوہر اعجاز کی بات سنو وگرنہ تم دفتر سے گھر ہی نہیں جاسکتے۔ اور ایم ڈی رات کو تین تین بجے دفتر سے گھر گئے۔ وہ، محسن نقوی کے 24 ٹی وی کے سرپرست بھی ہیں، حافظ صاحب کی نظر کرم سے، نگران دور میں تجارت کے وزیر رہے۔ابھی تو عارف حبیب معاہدے کے مطابق کسی انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بھی اپنے کنسورشیم میں شامل کر چکے ہیں۔ جبکہ فوجی فاؤنڈیشن کا تو آج مبینہ طور پر اعلان ہوا ہے۔پاکستان کے چھوٹے بچے سے لے کر ایک نابینا تک جانتا ہے کہ یہ پورا میلہ کس کے لیے سجایا گیا تھا اور پی آئی اے کے ”اصل مالکان“ کون ہیں۔ حکومت کو 135 ارب میں سے صرف 10.11 ارب ملیں گے۔ 125 ارب جو کے 92٪ فی صد شیئر ہے۔ کنسورشیم، اپنی نئی نویلی پی آئی۔اے کی بحالی اور توسیع پر خرچ کرے گا۔ 25٪ بقیہ حصص پر حکومت کو ایک سال پریمیم ملے گا۔ جسے کنسورشیم ایک سال تک کسی بھی وقت خرید سکتا ہے۔ ظاہر ہے کنسورشیم 25 فیصد بقایا حصص بھی لازمی لے گا۔قارئین !!!سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ حکومتی ملکیتی ادارے، ساڑھے آٹھ سو ارب روپے سالانہ کھا رہے ہیں۔ ان میں سے پی آئی اے، 25 ارب کھا رہا تھا۔ (پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کا مت پوچھیے گا۔ وہ ور ان کے فصلے ھمیں کتنے کھربوں میں پڑتے ہیں)ہم نے اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا ۔ جبکہ ہم 400 ارب کے قریب فوجی پینشن بھی تو سویلین بجٹ سے ہی دے رہے ہیں۔ یعنی بات 1200 ارب سے اوپر ہے۔اگر 800 یا 1200 ارب سے جان چھڑانی ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ گھر کے اثاثے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیں گے۔ یہ لوٹ مار کا مال تو نہیں ہے جو لٹیروں کو لاٹھیوں کے گز بیچ دیا جائے۔؟؟؟کیا اس ملک کو اب کارٹل بنا کر لوٹا جائے گا۔آپ سے پی آئی اے نہیں چل رہی تھی۔ شاھد خاقان عباسی کو 25 سال کے لیے دے دیتے۔اسے کہتے منافع 50/50 ہوگا جبکہ خسارے میں ہم حصہ دار نہیں ہوں گے.وہ نہیں مانتے تو، آپ جہاز ، بلڈنگز، نام ۔۔گڈول اور روٹس کی الگ الگ بولی لگوا لیتے۔ اب اپ ہمیں یہ بھاشن مت دیجیے گا کہ اپ کو باقائد اعظم کی پی آئی اے سے عشق ہے۔اور آپ اسے کے لئے مرے جارہے ہیں۔ ھم قائد کے پاکستان سے آپ سب کی کمٹنٹ دیکھ نہیں بھگت رہے ہیں۔اب حضور۔۔۔ پاکستان کو ایسے تو فروخت نہ کرو۔ چند کوڑیوں کے عوض، اتنی رسوائی۔ اس سے بہتر ہے، آپ اسے بند کر دیتے۔نثار میمن نے روز ویلٹ کی نجکاری یہ کہہ کر روکی تھی کہ روز ویلٹ مین ہٹن نیویارک میں واقعہ ہے۔ وہاں پر صرف پاکستان کا جھنڈا لگا رہے تو خسارہ نہیں ہے۔ ہم ہوٹل کو بند کر دیں گے لیکن پاکستان کا جھنڈا لگا رہے گا۔ لگتا ہے۔اب والوں میں تو خُو، غیرت خودداری سب کچھ ہی چند سکوں کے عوض داؤ پر لگا دی ہے۔ صرف ملی نغموں سے کام چلا لیتے ہیں۔ سیاست دانوں، بابوؤں اور ملازمین (سیاسی بھرتیوں) نے ادارے کو برباد کر دیا۔ ایک نوجوان نے ریونیو 64 کروڑ سے اٹھا کر ساڑھے چار ارب کے قریب پہنچا دیا۔ ادارے نے اسے ہی نشانِ عبرت بنا دیا۔ انجینیئر ایئر لائن اور جنگی پائلٹ مارکیٹنگ دیکھ رہے ہیں۔ یہ تجربے کیا ہم عوام نے کیے ہیں۔؟

اسٹیل مل کو کس نے بند کیا تھا۔جب وہ منافہ کے قریب پہنچنے لگی۔ کون کون شامل تھا۔۔؟؟؟ کس کس کا سٹیل کا کاروبار تھا؟؟؟ہم کب کہہ رہے ہیں۔ خسارے سے نہ بچو۔ ضرور بچو۔ چاہے ادارے بند کر دو۔ ایسے تو نہ بیچو۔ اندھوں کی طرح، اپنوں میں تو ریوڑیاں نہ بانٹو۔آپ خسارے کی وجہ سے نجکاری چاہتے ہیں نا۔؟؟؟پی آئی اے قرضہ 650 ارب روپے ہے۔ اپ کے نزدیک اس کا حل نجکاری ہے۔آج پاکستان ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا مقرض ہے۔ سالانہ خسارہ اربوں ڈالر کا ہے۔ آپ سے ملک نہیں چل رہا۔ کیا پاکستان کو بھی بیچ دیں گے کیا….؟لوگ اور نظام بدلنا حل ہے۔ یا ملک بیچنا حل ہے۔؟؟؟ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جسے نشئی کہتے تھے وہ جیل میں ایکسرسائز کر رہا ہے۔اور جو تندرست ہیں وہ گھر کی چیزیں بیچ رہے ہیں۔۔ویسے ہی جاپانی ہائیکو یاد آگئیسب کچھ بیچ کھایا ہےایک پڑیا کی خاطر ابکاغذ چن کر لایا ہے۔۔MCB، یو بی ایل، کی نجکاری کی فیوض و برکات گنواؤں کیا۔؟پاکستان کی عسکری، سیاسی، بیوروکریٹک اور سیٹھ نسل اور نسلیں، ناکام ہو چکی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اقتداد ایجنٹوں کی بجائے عوام کو منتقل کر دیا جائے۔ آپ یقین کیجئے عوام اس سے مراد عمران خان تو قطعاً نہیں ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ تباہی مچائے گا۔اس کی ٹیم میں عثمان بزدار،محمود خان، رزاق داؤد، زلفی بخاری،فرح گوگی، پیرنی، فواد چوہدری اور حماد اظہر جیسے وسیم اکرم پلس ہوں گے۔۔۔۔لیکن اگر وہ پھر بھی عوام کی چوائس ہے تو ایک بار پھر عوام کو اپنا شوق پورا کر لینے دیں۔ عوام جانیں اور وہ جانے….آپ ایکسٹینشن کے چکر میں شوق پورے کرنے سے باز رہیں۔ ریاست پرابلم میں ہے۔ اسے اپنا راستہ خود بنانے دیں۔ آپ برائے مہربانی، ہماری جان چھوڑ دیں۔ یا پھر ہمیں بتا دیں کہ ھم سب یہ ملک چھوڑ دیں….؟قحط سالی سے رہائی کی یہی دو صورتیں ہیں یا تیرا خون بہے یا میرا فن برسےیہی دعا ہے !!! مری، اے ارضِ وطن تجھ پہ ! بادل کی طرح میرا جیون برسے میرے شعروں پہ کسی شخص نے بھی داد نہ دی تری ! آواز پہ سکے بھی چھناچھن برسے (رام ریاض)

کچے کے ڈاکوؤں نے اپنے ایک جزیرہ کا نام تحریک انصاف کے سربراہ کے نام پر کچہ عمرانی رکھا ہوا تھا ۔گرفتار ڈاکوؤں کا کہنا ہے کہ پولیس کاروائی میں متعدد ساتھیوں سمیت مارے جانے والا گروپ کا سربراہ انور اندھڑ عمران خان کا شیدائی تھا ،کہتا تھا اس طرح لوٹ مار کرو پورا ملک چیخ اٹھے لیکن کچھ کر نہ سکے ایک علاقہ کچہ کراچی اور ایک علاقہ کچہ رجوانی بازیاب کروایا گیا ہے جہاں جدید ترین اسلحہ کےبہت بڑے زخائر ملے ہیں۔

کچے کے علاقہ میں پولیس اور رینجرز آپریشن کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں۔ڈرون حملوں میں اب تک دو درجن سے زیادہ ڈاکو مارے جا چکے ہیں ۔بڑی تعداد میں زخمی ہیں ۔ڈاکووں کی اکثریت فرار ہو رہی ہے ۔اب تک اغواء کئے گئے چھ افراد بازیاب ہو چکے ہیں۔بڑی تعداد میں جدید ترین اسلحہ برآمد ہو چکا ہے ۔اس مرتبہ پریشن کی نگرانی رینجرز کر رہی ہے۔ڈاکووں کا علاج کرنے والے جس ڈاکٹر اور ڈسپنر کو کچے کے علاقہ سے پکڑا گیا ہے وہ بھی رینجرز نے اپنی تحویل میں لے لئے ہیں ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved