تازہ تر ین

اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ۔۔۔۔لکی مروت میں اھم دھشت گرد ھلاک۔۔نفرت کی سیاست ختم ھونی چاہیے مولانا فضل الرھمان۔۔نیو اءیر نایئٹ ھوٹل ریسٹ ھاوسئیز بک۔۔ھارٹ اٹیک اور ھارٹ فئیلر۔۔*متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے یو اے ای کے صدر کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال دونوں ملکوں کے بے مثال روابط کو ظاہر کرتا ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ودیرینہ دوستی کا مظہر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانب سے یو اے ای کے صدر کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال دونوں ملکوں کے بے مثال روابط کو ظاہر کرتا ہےچیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کے سیلوٹ کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے صدر کا گرم جوشی سے جوابی سیلوٹ اسی مضبوط برادرانہ رشتہ کا عکاس ہے

):متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر راولپنڈی پہنچ گئے،وزیراعظم محمد شہباز شریف ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔شیخ محمد بن زاید النہیان اپنے طیارے سے باہر آئےتو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے یو اے ای کے صدر کو پھول پیش کئے۔اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ یو اے ای کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جیسے ہی ان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے انہیں سلامی دی۔شیخ محمد بن زاید النہیان کے اعزاز میں نور خان ایئر بیس پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جس کا انہوں نے معائنہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے تعارف کرایا جبکہ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کرایا۔دونوں ممالک کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا،متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بچوں سے ہاتھ ملایا اور ان کے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور

ایس 400 کیسے تباہ کیا ؟۔ اظہر سیدآپریشن سیندور کے دوران بھارت کے ناقابل شکست سمجھے جانے والے ایس 400 کی تباہی کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔یہ ناقابل یقین کارنامہ پاکستانی شاہینوں نے انجام دیا تھا ۔دفاعی نظام تین سو کلو میٹر دور سے دشمن کی نشاندہی کر سکتا ہے اور بیک وقت ایک سو سے زیادہ لڑاکا جیٹ طیاروں کو انگیج کر سکتا ہے ۔پاکستانی ائر فورس نے جس جرات،بہادری سائنس اور ٹیکنالوجی کے جس تال میل سے اس دفاعی نظام کو تباہ کیا روسی دفاعی مارکیٹ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ترکی اور برازیل نے روس سے ایس 400 دفاعی نظام کی خریداری کے معاہدوں پر بات چیت معطل کر دی جبکہ فلپائن،ایران سمیت متعدد ممالک جو یہ نظام خریدنا چاہتے تھے وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ۔روسی دفاعی نظام کی ایک خصوصیت اسکا الیکٹرانک نظام جام ہونے کے بعد خودکار طریقے سے بحال ہونا ہے ۔جیمنگ کے بعد خودکار بحالی دس سے پندرہ منٹ میں ہوتی ہے۔پاکستانی شاہینوں نے انہی دس سے پندرہ منٹ میں خودکش مشن کیا جو کامیاب ہوا۔اس آپریشن کیلئے درجنوں پائلٹس نے رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا گیا تھا۔پائلٹس کو پتہ تھا اس مشن کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور واپسی کے امکانات اس سے بھی کم ۔بہت احتیاط اور ایک ایک سیکنڈ کی کیلکولیشن سے تیار کردہ مشن میں روسی دفاعی نظام کو جام کیا گیا ۔ دفاعی نظام کے اندھا ہونے کے ساتھ ہی خودکش مشن پر شاہین روانہ ہو گیا اور اگلے گیارہ منٹ میں پاکستانی فائٹر ایس 400 پر پہنچ چکا تھا ۔پائلٹ نے دفاعی نظام کی بیٹریوں کو میزائل سے نشانہ بنایا اور اپنے سارے میزائل استعمال کر لئے۔دفاعی نظام اصل میں اسکی بیٹریاں ہی ہیں وہ تباہ ہو جائیں پیچھے صرف لوہے کے پائپ بچتے ہیں جو سو سالہ بوڑھے کی طرح کھڑے نہیں ہو سکتے اور اسی وجہ سے کچھ پھینک بھی نہیں سکتے۔ دفاعی نظام کی جیمنگ ختم کرنے کے خودکار نظام کی بحالی سے دو منٹ پہلے اسکی بیٹریاں تباہ کر دی گئیں اور پاکستانی پائلٹ بھارتی فضاؤں میں قلابازیاں لگاتا واپس اگیا۔پائلٹ کے استقبال کیلئے ائر چیف خود موجود تھے ۔ارمی چیف اور وزیراعظم کو بھی فوری اس شاندار کامیابی سے آگاہ کر دیا گیا۔اس ناممکن مشن کی کامیابی میں کچھ ہاتھ آپریشن سیندور کے اگلے ہی روز چار رافال ،ایک مگ اور ایک سخوئی جیت کی تباہی کا بھی تھا۔بھارتی فضائیہ نے اپنے قیمتی طیارے تباہ ہونے کے بعد اپنی طیارے گراؤنڈ کر دئے تھے اور دور دراز کے فضائی مستقر منتقل کر دیے تھے ۔پاکستانی جیٹ صرف نو منٹ تک بھارتی فضاؤں میں رہا۔جب تک بھارتی پاکستانی جیٹ کو چیلنج کرنے کیلئے جوابی اقدام کرتے وہ روسی دفاعی نظام تباہ کر کے واپس بھی آگیا تھا۔بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت بھی پاکستان کی سمندری حدود سے ابھی بہت دور ہی تھا لاک کر لیا گیا تھا ۔بھارتی فوجی منصوبہ سازوں نے عقلمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے وکرانت کو لاک ہونے کا سگنل ملتے ہی واپس بلا لیا تھا۔وکرانت کو واپس نہ بلایا جاتا جنگ پھیل جاتی اور لامحدود تباہی خطہ کا مقدر بن جاتی۔پاکستان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا جبکہ بھارتیوں کے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ تھا۔وکرانت کی ممکنہ تباہی کی کوکھ سے ایٹمی جنگ کے خدشات پیدا ہو سکتے تھے بھارتیوں نے اسی جنگ سے بچنے کیلئے وکرانت واپس بلا لیا۔بھارتیوں کی اس برتری کی سوچ اور غلط فہمی کہ پاکستان ان کے سامنے کچھ بھی نہیں تبدیل کرنے کا سارا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور انکے کمانڈ سٹرکچر کا تھا۔فیصلہ یہی ہوا تھا بھارتیوں کو تمام تر موجود وسائل کے ساتھ پوری طاقت سے اس طرح جواب دیا جائے کہ بھارتی طویل مدتی جنگ کی شیطانی سوچ سے باہر نکل آئیں ۔جنگ کی طوالت پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تھی ۔جوابی حملہ میں بھارتیوں کے چار ہزار کلو میٹر کے فوجی اہداف کو گویا اس طرح میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جیسے لائیو نظر آرہے ہوں ۔سائبر وار فئیر سے پورے بھارت کے بجلی کی ترسیل کے نظام پر کنٹرول،ایس 400 کی تباہی ،اکتیس سے زیادہ فوجی تنصیبات پر کامیاب میزائل باری سے بھارتی سچ مچ بوکھلا گئے ،گھبرا گئے ۔”گھس کر ماریں گے”کا نعرہ لگا کر سرجیکل سٹرائیک کرنے والے بھارتی جنگ بندی کیلئے جلدی جلدی امریکی صدر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے ۔جنگ بندی تو ہو گئی لیکن بھارتیوں کے عزت خاک میں مل گئی ۔روایتی ہتھیاروں میں سبقت کا جو دعویٰ بھارتی گزشتہ پچاس سال سے کرتے آرہے ہیں وہ تین دن میں پاکستانیوں نے بلف ثابت کر دیا ۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت اور وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔یہ عزت اور وقار ایک نوسر باز اور ایک جنرل باجوہ نے بھارتی پائلٹ واپس کر کے خاک میں ملا دیا تھا۔

’’کارٹل کا ڈاکہ یا واردات‘‘؟محاسبہناصر جمالکن چراغوں کی بات کرتے ہوسب ! چراغوں تلے اندھیرا ہےاگر ریاست کے بیٹے ہی، وارداتیوں اور ڈاکوئوں کے ساتھی بن جائیں۔ چوکیدار چوروں ڈاکووں اور لٹیروں کے دوست بن جائیں۔ تو پھر سفید دن میں ہی قومیں لٹتی ہیں۔ یہ پی۔آئی۔اے کی نجکاری نہیں بدترین ڈاکہ ہے۔ ایک میمن سیٹھ نے قلم کار کو کہا کہ جب’’دھندہ‘‘ کرنا شروع کیا تو’’باپ نے بلا کر نصیحت کی‘‘ ملازم چوری کرے تو کاروبار چلتا رہتا ہے۔ مالک خود چور بن جائے تو کاروبار نہیں چلا کرتا۔ اسی میمن نے کہا تھا کہ استاد نے کہا کہ بلی وہ رکھو جو شکار کرنا جانتی ہو۔۔۔ کہیں یہ نہ ہو سالی دودھ پیے اور سوتی رہے۔ اس قوم نے جو بلے اور بلیاں رکھی ہیں۔ وہ تو دودھ پیتے ہیں اور خراٹے لے کے سوتے رہتے ہیں۔ ویسے اس کے بارے میں قوم کا کیا خیال ہے۔۔؟قلم کار !!! ہر کسی سے سوال کر رہا ہے کہ ایک پراپرٹی جو 135 ارب کی بکتی ہے۔ بیچنے والا مالک، خریدنے والے کو کہتا ہے کہ مجھے 135 ارب میں سے 10ارب گیارہ کروڑ دے دو۔ بلکہ اس میں سے بھی فلحال صرف 6 ارب 78 کروڑ دے دو۔ 3 ارب 33 کروڑ سہولت کے ساتھ بھلے ،سال بھر میں دے دینا۔۔چلو !!!تم بھی کیا یاد کرو گے۔باقی 124 ارب 89 کروڑ، کا ایساکرنا۔۔۔ کہ جس پراپرٹی کے عارف بھائی آپ مالک ہیں۔ اس پراپرٹی کی توسیع اور مرمت پر لگا لینا۔ وہ تمہارے ہوئے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ کھربوں کے دیگر اثاثے بھی تمہارے ہوئے۔ جبکہ پراپرٹی پر 650 ارب کا قرض ہمارا ہوا۔ کیونکہ مجھے آپ کے کارٹل سے عشق ھوگیا ہے۔ محبوب پر سب کچھ قربان، اس سے حساب کتاب کیسا۔۔۔؟ ویسے بھی اپن کے کونسا باپ کا مال ہے۔حضور… ایسا دھندہ، دنیا کی تاریخ میں کہیں ہوا ہے۔۔ تو آپ مجھے بتا دیں۔؟ کوئی تو اس قوم کو بتائے اور سمجھائے۔؟؟؟جب پراپرٹی کے ذمہ کوئی قرض نہیں ہے۔ تو آپ اس میں مزید پیسے کیوں ڈالیں گے۔اس ضمن میں قوم کو کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اب پی ائی اے میں مزید پیسے نہیں ڈالنے پڑیں گے۔۔جبکہ PIA نے رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں گیارہ ارب منافع کمایا ہے. تو وہ خسارے میں کیسے ہوئی…پھر دوست کہہ رہے ہیں کہ “بِلو دی بیلٹ” لکھ رہے ہو….بھائی !!! یہ اثاثے میرے ہیں۔ جنہیں تم کوڑیوں کے بھائو، اپنے لاڈلوں میں اندھوں کی ریوڑیوں کی طرح تقسیم کر رہے ہو۔ اب میں، اس پر بولوں بھی نا…. زبان کو سی لوں….. سوگ بھی نہ مناوں۔۔۔بالوں میں خاک بھی نہ ڈالوں۔۔۔ دہائی بھی نہ دوں۔۔مرثیہ اور نوحہ خوانی تو کر لینے دو۔۔۔ اپنے بزرگوں کو تو رو لینے دو۔۔ اور نہیں تو 25 دسمبر کو جو ماتم واجب الادا ہے۔ اسے تو کر لینے دو۔۔۔ زنجیر زنی خود پر ہی تو کر رہے ہیں۔۔۔ ایک کالم کا نوحہ نہیں لکھنے اور تعزیہ بھی نہیں نکالنے دیتے۔۔۔؟ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری پرسارے رینٹیڈ صحافی، بابو، سیٹھ، زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ جیسے حکومت اور “بدکاری کمیشن” نے کوئی معجزہ برپا کر دیا ہو…آج ریاست اپنے بچوں سے پوچھ رہی ہے۔۔۔ بولتے کیوں نہیں میرے حق میں آبلے….. پڑ گئے، زبان پہ کیا ؟ اب تو کوئی مجھ کو پوچھتا بھی نہیںیہی !!! ہوتا ہے خاندان میں کیا؟جون ایلیا….آخر اس ڈاکے یا واردات میں اتنی بھی کیا عجلت تھی۔؟پی۔آئی۔اے کی جو دستاویزات “کارٹلز” کو دی گئیں ہیں۔ وہ عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئیں۔۔۔۔۔ جب قرضہ حکومت نے اپنے پاس ”پارک“ کر لیا تھا۔ تو پھر ایئر لائن کو تو کسی سبسڈی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیا 650 ارب کا قرض عارف حبیب کنسورشیم نے اپنے سر لے لیا ہے۔؟؟؟ اس کی ذمہ کونسی’’لائبیلٹی‘‘ ہے۔ذرا وہ بھی تو بتا دیں۔۔؟؟؟وہ 6 ارب، 78 کروڑ میں 18 جہاز، 50 ارب سے زائد کی بلڈنگز، 35 ارب کے رینو ویٹیڈ آفسز، 400 گاڑیاں، 64 روٹس، ملازمین کا 10 ارب روپے کا پراویڈنٹ فنڈ اور پی۔آئی۔اے کی ’’گڈول” فری میں لے اڑے۔ یہاں تو خالی نام اربوں میں فروخت ہوتا ہے۔ 64 روٹس کھربوں روپے کے تھے۔ سپیئر پارٹس، ہینگر، کس، کس اثاثے کی بات کریں۔ ایئر پورٹ ہینڈلنگ مشینری، مارکیٹنگ سسٹمز، کس کس کو روئیں۔۔۔۔حکومت نے اگر یہ کام اتنا ہی شفاف کیا ہے تو اثاثہ جات کی ابتدائی تخمینہ رپورٹ جو کنسلٹنٹ نے دی۔

وہ جاری کرے اور اس کے بعد بتائے کہ اس نے اس تخمینہ کی دوہری تصدیق کس سے کروائی ہے۔( ایک دوست کہہ رہے تھے اس ضمن میں جو کنسلٹنٹ ہائر کیا گیا ہے اس نے دنیا کی 17 بڑی ایئر لائنز کی ری اسٹرکچرنگ کی ہے۔۔ میں نے اسے کہا ہمارے والی کی ری اسٹرکچرنگ کرنے کی بجائے بیچی دی۔۔۔ وہ کہنے لگے کنسلٹنٹ سے جو کام لینے کے لیے کہا جاتا ہے۔ وہ کر دیتا ہے۔ اسے تو اپنی فیس سے غرض ہوتی ہے۔) حکومت کا یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے کہ اُسے اس سال بھی پی۔آئی۔اے میں اربوں ڈالنا تھے۔ 650 ارب کے قرضے، اپنے پاس پارک کر لینے کے بعد تو اس سال کم از کم 30 ارب منافع متوقع تھا۔ کیونکہ یورپ کے نئے روٹس کُھل گئے ہیں۔سیاستدان، بابو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ مل کر 78 سالوں سے بھرتیوں، مفادات اور وارداتوں کے رریعے ادارے برباد کرتے رہے۔ انہیں کس نے کوڑیوں کے بھائو قومی اثاثے بیچنے کا حق دیا ہے۔؟؟؟’’کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے‘‘۔ مگر اداروں کی بندر بانٹ بھی حکومتوں کا حق نہیں ہے۔کھربوں روپےجیب سے دیکر پونے سات ارب لے لینا، کہاں کی دانشمندی ہے۔یہ شریف، زرداری اور حافظ عاصم منیر، کیا اپنے کاروبار شوگر ملیں، فوجی فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، ڈی۔ایچ۔اے کو ایسے کسی سیٹھ کو فروخت کر سکتے ہیں۔؟؟؟کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ تو اسٹیبلشمنٹ کا بھی نہیں ہے۔ پہلے ہم غریبوں کے اثاثے برباد کرتےہو، پھر خود ہی بروکرز کے ذریعے خریدار بن جاتے ہو۔۔۔۔”اتنا بُرا سلوک میری سادگی کے ساتھ… یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج کے صحافی اپنا سب کچھ ہی گروی رکھ چکے ہیں۔ واچ ڈاگ صرف اپنی چھوٹی سی بوٹی سے خوش ہے۔ یہ اپنے اندر ضمیر، قلم، حب الوطنی، حتیٰ کہ انسانیت بھی دفن کرچکے…… منصفوں کی تو بات ہی نہ کریں۔ ظالم کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں۔ کوئی ان کے پاس نجکاری چیلنج کر بھی دے تو،،،،، فیصلہ کیا ھوگا۔ پہلے سے ہی سب کو معلوم ہے۔ جہاں ججوں کو انصاف نہیں مل رہا، وہ عوام کو کیا دیں گے۔پی۔آئی۔اے کی نجکاری قومی اثاثوں کی لوکل ’’اولیکس‘‘ ہے۔ اس کے بعد ہر طرف سے ایک جیسی آوازیں آئیں گی ’’سب بیچ دے‘‘ لے لے۔۔لےلے۔۔…ایسا لگتا ہے۔ملک میں انصاف سے لیکر ضمیر، مزاحمت سے لیکر خودداری، آئین سے لیکر قانون، سب کے سب رخصت ہو گئے ہیں۔ کہیں پر کوئی اصول نام کی شے نہیں بچی۔ بس ایک ہی نظریہ بچا ہے۔ جہاں ظالم کو دیکھو…. جی حجور، جی حجور، جی حجور کی گردان شروع کر دو۔ویسے ہی جناب عمر فاروقؓ یاد آئے۔ مولانا شبلی نے ”الفاروق“ میں لکھا ہے کہ امیر المومنین، مدینہ سے باہر پریشانی کے عالم میں جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ اتنے پریشان کہاں جا رہے ہیں۔ جواب دیا۔۔۔۔ بیت المال کی وہ بکریاں گم ہو گئیں ہیں۔ جن سے یتیموں کی کفالت ہوتی تھی۔۔۔۔ ساتھ ہی کہا کہ عمر نے آگے تھوڑی چیزوں کا حساب دینا ہے۔۔۔۔ اب ان بکریوں کا حساب بھی عمر کو دینا پڑے گا۔؟آج کے فاتحین نے کیا اس زاویے سے کبھی سوچا ہے۔۔قارئین !!!آج والے جو چھڑیاں اور انگلیاں ہلاتے نہیں تھکتے۔ ان سے پوچھنا چاہتا ہوں…. کیا انہوں نے یہی نجکاری والی فتح، اترتی یکھی تھی۔؟آج عارف حبیب اور اس کے کنسورشیم کو ہیرو اور قوم کا مسیحا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عارف حبیب کے حوالے سے تو صحافی زم زم، عنبر مشک کپور، چھڑک کر، عود میں نہائے باتیں کررہے ہیں۔ ان کی پاک بازی اور پاک دامنی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔۔ (جاوداں سیمنٹ اور اسٹیل مل کے نجکاری کے پیچھے تو یقنناً ہم عوام تھے۔)ویسے ہی صحافیوں سے پوچھنا تھا کہ کیا وہ ملک ریاض سے بھی زیادہ سخی ہیں۔ یا ملک ریاض کی غیر موجودگی میں نان نفقہ مشکل ہو رہا تھا۔تو نیا در دیکھ لیا ہے۔؟ کہاں گئی پیپلز یونٹی، اے۔کے۔ڈی کی غلام ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، سب کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔کہاں ہیں وہ خونخور اینکرز جو روزانہ “قیدی” کو چیر پھاڑ کر کھاتے ہیں۔ اُن کے گلوں سے ’اوں‘ تک کی آواز بھی کیوں نہیں نکل رہی۔؟ اگر عارف حبیب، اے۔کے۔ڈی، گوہر اعجاز اور سٹی سکول والے اتنے ہی بڑے “دماغ” ہیں۔ تو پونے سات ارب سے نئی ایئر لائن، جس کے پاس 64 روٹس اور کھربوں کے اثاثے ہوں۔ کھڑی کرکے دکھادیں۔یہ گدھ سیماب لوگ صرف قوم کا مردہ کھا سکتے ہیں۔۔۔سب دوست کہہ رہے ہیں۔ مت لکھو۔ بچوں کا سوچو۔۔۔۔۔ انقلابی بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جتنا لکھ دیا اتنا ہی کافی ہے۔کیا پاگل ہو گئے۔ ہو کن سے پنگا لینے چلے ہو۔کیا تمہیں نہیں پتہ کارٹل کے پیچھے کون ہے۔۔؟ میں انھیں صرف ایک بات کہتا ہوں۔ ابراہیم خلیل اللہ کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ایک ننھی چڑیا چونچ کے ذریعے مسلسل پانی ڈال رہی تھی۔ کسی نے چڑیا کو کہا کہ… اس سے آگ نہیں بجھنے والی۔۔۔۔ چڑیا نے ہنس کے کہا کہ مجھے بھی معلوم ہے۔ مگر میں روز قیامت اللہ کے حضور… اتنا دعویٰ تو رکھوں گی۔ جو میری بساط تھی۔ میں نے تیرے دوست کو بچانے کے لیے اتنی کوشش تو کی تھی۔ میں تاریخ کے اس موڑ پر، نواز شریف، زرداری، انٹرنیشنل ہوٹل لاھور کی نجکاری والا عمران خان اور علامہ اشرفی نہیں، ننھی چڑیا بننا پسند کروں گا۔ میرے چند قطرے اور نحیف کوشش اللہ کے حضور حاضر ہے۔۔۔۔جیسے تخلیق میں خالق کا ہنر بولتا ہے گھر کے ماحول کا لہجے میں اثر بولتا ہے جسم کے ساتھ جڑا ہو یہ ضروری تو نہینسل اچھی ہو تو نیزے پہ بھی سر بولتا ہے

قصر شاہی کے ستوں کانپنے لگ جاتے ہیں مصلحت چھوڑ کہ اے دوست، ڈر بولتا ہے بزدلی خوف کے پردوں میں چھپی رہتی ہے جبر کو آنکھ دکھاتا ہے، نڈر بولتا ہے اِک آواز اٹھانے میں، یہ برکت دیکھی اب ! میرے ساتھ یہاں سارا نگر بولتا ہے خامشی توڑ کے بولوں گا میں ایسے شاہد جس طرح ! کسی دیوار میں ، در بولتا ہے(شاہد خیالوی)

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان شازیہ مری نے گڑھی خدابخش میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، شازیہ مری سکھر سے گڑھی خدابخش پہنچی اور مزار پر حاضری دی انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر شہداء کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی اس وقت ملک بھر سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور کارکنان گڑھی خدابخش پہنچ رہے ہیں جہاں شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو کی 18ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کریں گے۔

*🚨(1) پی ٹی آئی کا بریڈ فورڈ میں احتجاج، پاکستان کے ڈیمارش پر برطانیہ نے شواہد مانگ لیے🚨(2) بریڈ فورڈ احتجاج، اگر برطانیہ میں کوئی جرم ہوا تو پولیس کو شواہد فراہم کیے جائیں، برطانوی ہائی کمیشن🚨(3) پی ٹی آئی احتجاج میں عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں، پاکستان کا برطانوی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ🚨(4) بریڈ فورڈ مظاہرے پر قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب، ڈیمارش جاری🚨(5) پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے آرمی چیف کے قتل کے مطالبے کی ویڈیوز زیر گردش ہیں، پاکستان نے برطانیہ کو خط لکھ دیا🚨(6) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا قافلہ لاہور پہنچ گیا، پنجاب اسمبلی میں آمد🚨(7) وزیر اعلیٰ کے پی، سہیل آفریدی کے سکیورٹی گارڈز اور پنجاب اسمبلی کے گارڈز کے درمیان ہاتھا پائی🚨(8) سہیل آفریدی کو خوش آمدید، یہ پاکستان کا یورپ دیکھنے لاہور آئے ہیں، وزیراطلاعات پنجاب🚨(9) پنجاب حکومت کی مہمان نوازی سب نے دیکھ لی جہاں سہیل آفریدی کی آمد پر رکاوٹیں لگادی گئیں، کے پی حکومت🚨(10) 9 مئی مقدمات کا تفصیلی فیصلہ جاری؛ پی ٹی آئی رہنما محمود الرشید کو 33 سال قید کی سزا🚨(11) 9مئی مقدمات کا تحریری فیصلہ، یاسمین راشد اور عمر چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا🚨(12) یو اے ای کے صدر کی وزیراعظم و فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں، تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق🚨(13) شہباز شریف اور شیخ بن زاید النہیان کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال🚨(14) یو اے ای کے صدر شیخ زاید النہیان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ، پرتپاک استقبال، فضائی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش🚨(15) ’’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘‘، صدر یو اے ای کی پاکستان آمد پر خصوصی استقبالی نغمہ جاری🚨(16) فیلڈ مارشل سے اردن کی مسلح افواج کے سربراہ کی ملاقات، دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ🚨(17) پراپرٹی اونرشپ کیس: عدالتی حکم کے باوجود کسی نے زمینوں پر قبضے دلوائے تو نتائج کیلئے تیار رہے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ🚨(18) کراچی: گیارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا🚨(19) بنگلادیش: عثمان ہادی کے قتل کیخلاف انقلاب منچہ کا دھرنا، انصاف کے حصول تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان🚨(20) بھارت: گاؤں میں مسجد کی تعمیر کیلئے سکھ خاتون نے 5 مرلے زمین عطیہ کردی🚨(21) پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کیخلاف درخواست، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس🚨(22) سکیورٹی فورسز کی کوہلو میں کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشت گرد جہنم واصل🚨(23) نفرت کی سیاست ختم ہونی چاہیے، زبردستی کی حکومت ہم پر مسلط کی گئی: مولانا فضل الرحمان🚨(24) اپوزیشن اتحاد نے حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کو حتمی شکل دے دی🚨(25) لاہور میں بسنت پر بسیں اور رکشے فری چلانے کا اعلان🚨(26) پی ٹی آئی نے کبھی بھی مذاکرات کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا: اختیار ولی خان🚨(27) نارکوٹکس سبسٹینسز ترمیمی بل 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش ہوکر متعلقہ کمیٹی کو ارسال🚨(28) خیبرپختونخوا حکومت نے سرمائی تعطیلات کے دوران امتحانات لینے پر پابندی عائد کر دی🚨(29) بلوچستان پولیس کے شہدا پیکیج کے تحت ملنے والی مالی معاونت میں اضافہ🚨(30) پی ٹی آئی ایک طرف مذاکرات ، دوسری جانب مزاحمت کی بات کرتی ہے: فیصل کریم کنڈی🚨(31) مانسہرہ: جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق🚨(32) کراچی: 27 دسمبر کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری🚨(33) شہر قائد میں ای چالان سسٹم کا نفاذ، کے ایم سی افسر و ملازم جرمانہ خود ادا کریں گے🚨(34) آصفہ بھٹو زرداری کی گڑھی خدابخش آمد، ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری🚨(35) کراچی میں 4 روزہ عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوگیا🚨(36) ڈکی بھائی دس لاکھ روپے کا چیک گفٹ ملنے پر تنقید کی زد میں آگئے🚨(37) وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کے اعداد وشمار جاری🚨(38) لائیو پروگرام میں اچانک کیا ہوا تھا؟ احسن اقبال نے واقعے کی حقیقت بتادی🚨(39) سونے کی قیمت میں پھر اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 73 ہزار روپے سے زائد ہوگیا🚨(40) حملے کے بعد شہزاد اکبر کا بیان سامنے آ گیا، سوشل میڈیا پر وائرل تصویر جعلی قرار🚨(41) لکی مروت میں انتہائی مطلوب کمانڈر نصرت اللّٰہ مولوی ہلاک🚨(42) کراچی پورٹ پر تاریخی کارروائی، اسکریپ کے کنٹینر سے لاکھوں ڈالر مالیت کی 47 کلو گرام کوکین برآمد

نیو ائیر پارٹیز منانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کیوں زیادہ ہوتا ہے ۔ موسم سرما کی تعطیلات شروع ہوگئی ہیں ۔ نئے سال کی آمد آمد ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ہر سال ان دنوں میں خاص طور پر کرسمس کی شام ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئر کی شرح میں تیس فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اگر آپ دل کے مریض ییں ۔ آپ کی انجیوپلاسٹی ہوگئی ہے یا بائی پاس آپریشن ہوگیا یے یا آپ کو حال ہی میں ہارٹ اٹیک ہوا ہے یا آپ ہائی بلڈپریشر اور شوگر کے مریض ہیں یا آپ کا وزن بہت زیادہ ہے تو ان دنوں میں بہت احتیاط کریں ۔ نیو ائیر پارٹیز میں جانے سے احتراز کریں ۔ مرغن نمکین کھانے ۔ تمباکونوشی اور ڈرگز ۔ شراب نوشی ۔ رات تک جاگنا ۔ ذہنی دباؤ ۔ سرد موسم ۔ یہ سب ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلئیر پیدا کر سکتے ہیں ۔ آپ کا دل بہت قیمتی یے ۔ ان عارضی جذباتی لمحات میں اپنے دل کو شدید نقصان سے بچائیں ۔ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔ لاہور ۔ پاکستان ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved