
وزارت داخلہ کی سفارش پر ، مفرور عادل فاروق راجہ کو کالعدم قرار دینے کی منظوری ۔ عادل فاروق راجہ کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل۔۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دے دی ۔ عادل راجہ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد ۔ کابینہ کی متعلقہ ڈویژن اور اداروں کو فوری کاروائی کی ہدایت ۔ کابینہ ڈویژن کا وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو مراسلہ

پاک بھارت تعلقات ۔اظہر سید جنوبی ایشیا کا امن ،خوشحالی اور ترقی پاک بھارت دوستی میں چھپی ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات بھارت کو اندرونی مسائل سے نجات دلائیں گے پاکستان کی جان بھی بلوچ عسکریت پسندی،خارجیوں کی دہشت گردی ،پی ٹی آئی سائبر سیلوں سے چھوٹ جائے گی ۔افغان ملڑا اپنی اوقات میں اجائے گا۔دونوں ملک دفاعی اخراجات کا رخ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں اضافہ کی طرف منتقل کر دیں گے ۔کارگل وار سے پہلے تک یہ ممکن تھا اب ممکن نہیں رہا۔پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستی کے راستے میں غداری کی دیواریں کھڑی کیں ۔مالکوں کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ بھارت کی طرف قدم بڑھائے تو “ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا”بھارت اور پاکستان میں اس وقت کوئی ایسی بڑی شخصیت موجود نہیں جو دونوں ملکوں کو قریب لا سکے ۔پاکستان میں اگر صدر زرداری اور میاں نواز شریف کو مالکوں کا مکمل مینڈیٹ مل جائے بھارتیوں نے پاکستان نفرت کا اتنا بڑا انفراسٹرکچر کھڑا کر لیا ہے گویا پاکستان کی ماضی کی اسٹیبلشمنٹ ہے جو پاک بھارت دوستی کی کسی بھی کوشش کو ناکام کرنے کیلئے کوئی کارگل برپا کر دے گی ۔بھارت ماضی کا پاکستان بن گیا ہے ۔مذہبی ہندو انتہا پسندی بندوق اور عدلیہ کو ساتھ ملا کر ایک گٹھ جوڑ بنا چکی ہے جہاں الیکشن میں کانگرس کا ووٹ اسی طرح چوری ہوتا ہے جس طرح ماضی میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کیلئے چوری کیا جاتا تھا۔یہاں ن لیگ کو جتایا جاتا تھا وہاں بی جے پی جتائی جاتی ہے ۔یہاں انتہا پسند مذہبی جماعتیں ن لیگ کی چھتری تلے لائی جاتی تھیں وہاں شیوسینا ایسی انتہا پسند جماعتیں بی جے پی کے پیچھے کھڑی ہوتی ہیں۔جو کام یہاں دلال ججوں سے لیا جاتا تھا وہی کام اب وہاں ججوں کو دلال بنا کر لیا جاتا ہے ۔ہم نے غلطیوں سے سیکھ لیا ہے۔ہم غلطیاں درست کرنے چل پڑے ہیں ۔مالک مذہبی اثاثے پسپائی سے پہلے تباہ کر رہے ہیں۔سیاسی اثاثوں سے لبیک اور تحریک انصاف کی طرح نجات حاصل کر رہے ہیں۔عدلیہ میں اصلاحات کے زریعے ججوں کو پالتو بنانے کا کام ترک کر رہے ہیں۔بھارت میں کام الٹا چل پڑا ہے ۔جس محنت سے ہم نے خود کو تباہ کیا اس سے زیادہ محنت بھارتی خود کو تباہ کرنے کیلئے کر رہے ہیں۔بھارتی مالکان کروڑوں مسلمانوں کے خلاف جو ہندو رائے عامہ بنا رہے ہیں اس کے اثرات بھارتی میڈیا،عدلیہ اور انتظامیہ میں جگہ جگہ نظر آنے لگے ہیں۔اب وہاں کوئی واجپائی نہیں اور یہاں آگے بڑھ کر ہاتھ تھامنے والا کوئی نواز شریف یا محترمہ بینظیر بھٹو موجود نہیں ۔

جنرل محمد ضیاءالحق پاکستان کی تاریخ کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ملک کی سیاست، معاشرت اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔ وہ 1977ء سے 1988ء تک پاکستان کے صدر، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور آرمی چیف رہے۔ ان کا دور ایک طرف اسلامائزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے تو دوسری طرف جمہوری عمل کے تعطل اور سیاسی سختیوں کی علامت بھی ہے۔جنرل ضیاءالحق 12 اگست 1924ء کو جالندھر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا۔ انہوں نے انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون سے کمیشن حاصل کیا اور بعد ازاں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیا اور پیشہ ورانہ قابلیت کے باعث تیزی سے ترقی کرتے گئے۔اقتدار تک رسائی1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے آرمی چیف مقرر کیا۔ مگر یہ تقرری جلد ہی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ بن گئی۔5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاءالحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا اور آئین معطل کر دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ 90 دن میں انتخابات کرائے جائیں گے، مگر یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔بھٹو کی پھانسیجنرل ضیاءالحق کے دور کا سب سے متنازع اور دردناک واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تھا۔ 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی، جسے آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک متنازع عدالتی و سیاسی فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے قوم کو گہرے زخم دیے۔اسلامائزیشن اور نظامِ حکومتجنرل ضیاءالحق نے ریاست کو اسلامی رنگ دینے کے لیے: • حدود آرڈیننس نافذ کیے • زکوٰۃ و عشر کا نظام متعارف کرایا • شرعی قوانین کو فروغ دیا • نصاب اور عدالتی نظام میں تبدیلیاں کیںان اقدامات کو کچھ حلقے اسلامی تشخص کی بحالی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق ان سے معاشرتی تقسیم اور انتہاپسندی کو تقویت ملی۔افغان جہاد اور عالمی کردار1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان، جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں، افغان جہاد کا مرکز بن گیا۔ امریکہ اور عرب دنیا کی مدد سے مجاہدین کی سرپرستی کی گئی۔اس دور میں: • پاکستان کو عالمی سطح پر اہمیت ملی • معیشت میں وقتی استحکام آیا • مگر اس کے نتیجے میں اسلحہ، منشیات اور شدت پسندی کے مسائل بھی پیدا ہوئےسیاسی عمل اور اختتام1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے اور محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے، مگر اختیارات بدستور صدر کے پاس رہے۔1988ء میں جنرل ضیاءالحق نے اسمبلیاں توڑ دیں، جس سے ایک بار پھر سیاسی بحران پیدا ہوا۔پراسرار موت17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاءالحق ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ آج تک ایک معمہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ کئی اعلیٰ فوجی افسران اور امریکی سفیر بھی ہلاک ہوئے۔تاریخ کا فیصلہجنرل ضیاءالحق کو کوئی • اسلامی نظام کا علمبردار سمجھتا ہے • کوئی انہیں جمہوریت کا قاتل قرار دیتا ہےحقیقت یہ ہے کہ ان کا دور پاکستان کی سمت کو ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت سے نظام بدلا جا سکتا ہے، مگر قوم کی سوچ اور انجام نہیں

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کی 18ویں برسی پر خراجِ عقیدتہماری دھرتی آج بھی آپ کا نام سرگوشیوں میں دہراتی ہے،جرأت اور وقار کی ایک لازوال دھن۔آپ وہاں ابھریں جہاں خاموشی مسلط تھی،جرأت آپ کی تقدیر میں کندہ تھی۔قربانی اور امید سے جنم لینے والی ایک عظیم رہنما۔اٹھارہ برس گزر چکے ہیں، مگر آپ کی جگہ آج تک کوئی نہ لے سکا۔آپ آج بھی قوم کی دھڑکن ہیں، ایک ایسی روشنی جو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی — بے نظیر بھٹو۔شہادت کی 18ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ایک ایسا نام ہے جو جرأت، استقامت، جمہوریت اور پاکستان کے عوام کے ناقابلِ تسخیر حوصلے کی علامت ہے۔ وہ صرف اپنے عہد کی رہنما نہیں تھیں بلکہ مزاحمت، بصیرت اور امید کی ایک لازوال علامت تھیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بن کر تاریخ رقم کی۔

یہ ایک ایسا سنگِ میل تھا جس نے عالمی تصورات کو بدل دیا اور اسلامی دنیا سمیت پوری دنیا کی لاکھوں خواتین کو حوصلہ اور تحریک دی۔ ان کی قیادت محض وراثت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ برسوں کی جدوجہد، قید و بند، جلاوطنی اور بے مثال ذاتی قربانیوں سے حاصل ہوئی۔ جب جمہوریت آمریت کے شکنجے میں تھی تو انہوں نے سمجھوتے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں۔بے نظیر بھٹو کو جو چیز واقعی منفرد بناتی تھی وہ عوام کے ساتھ ان کا گہرا اور زندہ تعلق تھا۔ وہ نہ تو اپنی جماعت یا حکومت بلند دیواروں کے پیچھے سے چلاتی تھیں اور نہ ہی خود کو عوام سے دور رکھتی تھیں۔ وہ عوام کے درمیان رہیں، ان کے دکھ درد سنے، اپنے کارکنوں کو گلے لگایا اور ہر حامی کو عزت اور احترام دیا۔ کارکنوں اور عام شہریوں کے ساتھ ان کا ذاتی رابطہ سیاست سے بڑھ کر اعتماد، محبت اور مشترکہ جدوجہد کا ایک مضبوط رشتہ تھا۔ عوام کے لیے وہ صرف وزیرِ اعظم نہیں تھیں بلکہ ان کی اپنی بی بی، ان کی بہن اور ان کی آواز تھیں۔ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی عظیم درسگاہوں سے تعلیم یافتہ محترمہ بے نظیر بھٹو اسلام اور مغرب کے درمیان ایک مضبوط پل بن کر ابھریں۔ انہوں نے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک ترقی پسند، جمہوری اور روشن تصور پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ ایمان، جدیدیت اور جمہوریت عزت اور انصاف کے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ عالمی فورمز پر ان کی آواز ذہانت، وقار اور اخلاقی قوت کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کرتی تھی اور انہوں نے عالمی سطح پر مسلم خواتین کے کردار کو ایک نئی شناخت دی۔محترمہ بے نظیر بھٹو قومی یکجہتی پر گہرا یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں کے عوام کے ساتھ بھی مضبوط سیاسی اور جذباتی رشتہ قائم کیا۔ وہ مساوات، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل پر مبنی ایک مضبوط وفاق کی حامی تھیں اور نسلی، ثقافتی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کرتی رہیں۔ان کی زندگی بے شمار نمایاں کامیابیوں سے عبارت تھی۔ انہوں نے جمہوری عمل کو بحال کیا، شہری آزادیوں کو فروغ دیا، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے آواز بلند کی، اور خواتین، اقلیتوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ، راولپنڈی میں ان کی شہادت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری جمہوری دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی۔ اس سانحے نے ملک میں ایک گہرا سیاسی خلا پیدا کیا، مگر ان کی شہادت نے ان کے مشن کو خاموش نہیں کیا بلکہ مزید مضبوط کر دیا

۔بے نظیر بھٹو محض تاریخ میں زندہ نہیں رہیں بلکہ وہ خود تاریخ بن گئیں۔ ان کا خون ان کے چاہنے والوں اور ہم سب کے لیے ایک عہد بن گیا، ان کی قربانی ایک وعدہ اور ان کا ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج بھی ان کا نام ان دلوں میں امید جگاتا ہے جو انصاف، جرأت اور عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔وہ عوام کے لیے جئیں۔وہ جمہوریت کے لیے ڈٹ گئیں۔انہوں نے جرأت کے ساتھ شہادت کو گلے لگایا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹوایک ہی تھیں — اور ہمیشہ ایک ہی رہیں گی — بے نظیر۔سفدر علی عباسیصدر، پاکستان پیپلز پارٹی ورکرزناہید خانسیاسی معاون برائے شہید محترمہ بے نظیر بھٹوفیاض علی خانسینئر نائب صدر، پی پی پی ورکرزایڈووکیٹ امجد علی بلوچنائب صدرکنور زاہدسیکریٹری جنرل، پی پی پی ورکرزوحید افضل گولڑہ، رائے قیصر، جنید مسعود، طاہر عباسی، سید اقتدار علی شاہ (فنانس سیکریٹری)، امیر رضوی، ابراہیم خان، فرح اسلم، ساجدہ میر، ناہید و تانیا، حر بخاری، چوہدری اسلم، ملک مظہر، نوید صدیق، اختر خواجہ، ثقلین شیرازی، رانا عثمان، انجینئر عاشق رستمائی، انجینئر ذوالفقار سمّیجو، اویس علی عباسی، اختر عباسی، اے محمد احمد، ریاض میمن، زاہد محمود اور دیگر۔

توہین عدالت مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرلاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔درخواست ایک شہری منیر احمد نے معروف وکیل کی وساطت سے دائر کی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم نواز اور عظمیٰ بخاری نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عوامی سطح پر سخت تنقید کی، جو توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔درخواست گزار کے مطابق، پراپرٹی قانون کی معطلی پر سرکاری سطح سے دیے گئے بیانات نے عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کو “لینڈ مافیا” کے حق میں قرار دینا ایک سنگین الزام ہے جس سے عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی جانب سے عدالتی فیصلوں کو سیاسی رنگ دینا غیر قانونی ہے اور یہ عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ ملوث افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں۔ان کے خلاف توہینِ عدالت کی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے نئے پراپرٹی قانون (پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف غیر منقولہ جائیداد ایکٹ) کو معطل کیا، جس پر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا۔
میں ماں ہوں، میرا بےگناہ بیٹا ڈھائی سال سے جیل میں ہے، ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہے نہ ہی ضمانت کا۔ میں یہی سوچتی ہوں کہ ہم جتنی مزاحمت کرسکیں، کریں، ورنہ یہ ظلم ختم نہیں ہوگا۔ ظالم ڈرپوک ہوتا ہے، ہمیں ان سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ وزیرِاعلیٰ میرے گھر آجاتے تو کیا ہو جانا تھا، کچھ بھی نہیں، لیکن یہ ہر چیز سے خوفزدہ ہیں۔نورین نیازی#خان_کا_حکم_سٹریٹ_موومنٹ

مولانا نےبھی ڈاکٹریٹ کر لیا آئندہ سے ڈاکٹر فضل الرحمٰن لکھا اور پکارا جائے ، انہوں نے جواب میں اعزازی ڈگری سے نوازنے والے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو اپنی تیزی سے کمزور ہوتی گورنری کو محفوظ اور دیرپا بنانے کے لیے انہیں چند مُہلک مشوروں سے بھی نوازا ہوگا










