کیا بھارت سجدہ سہو کرنے جا رہا ہے؟یہ سوال بھارت کے بدلتے ہوئے موڈ کو دیکھ کر پیدا ہوا ہے۔ اسی تبدیلی کا مظہر وہ منظر ہے جب بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر ڈھاکا میں خود چل کر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی نشست پر پہنچے اور خوش گوار انداز میں ان سے مصافحہ کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مئی کی جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ پہلا خوش گوار اور براہِ راست رابطہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ اتنی اعلیٰ سطح پر ایسا رابطہ ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے پہلا نہیں بلکہ دوسرا اشارہ ہے۔بھارت کی جانب سے پہلا اشارہ دبئی ایئر شو میں سامنے آیا تھا، جب انڈین ایئر فورس کے پائلٹ اور افسران پاکستان کے پویلین پر آئے اور پاکستان ساختہ طیارے جے ایف–17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ یہ واقعہ معمولی نہیں تھا۔ ایک ایسی فضائیہ، جس نے حالیہ تصادم میں انہی طیاروں سے نقصان اٹھایا ہو، اس کے افسروں کا اس انداز میں ان کے قریب آنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ بھارتی افواج میں کوئی اہل کار اجازت بلکہ حکم کے بغیر ایسی جسارت نہیں کر سکتا۔ اب ڈھاکا میں محترمہ خالدہ ضیا کی آخری رسومات کے موقع پر جے شنکر کی پاکستانی وفد کے سربراہ سے ملاقات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔سوال یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے ایسے اشارے کیوں مل رہے ہیں؟کیا یہ پاکستان کی مؤثر خارجہ حکمتِ عملی کا اثر ہے؟یا پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس زبان سے، جس میں وہ آئے روز بھارتی طیارے گرنے کے تذکرے کرتے ہیں، دہلی کو تپش پہنچنے لگی ہے؟یا یہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک بتدریج بھارتی اثر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟بین الاقوامی تعلقات میں تبدیلیوں کی کبھی ایک وجہ نہیں ہوتی۔ بسا اوقات ایک راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو ساتھ ہی دوسرا متبادل بھی کھلا رکھا جاتا ہے۔ بھارت کیا کرنے جا رہا ہے، اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔ چانکیہ سیاست میں کھانے کے دانت اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔ تاہم ڈھاکا کے واقعے کے بعد یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بھارت کم از کم موجودہ جمود سے نکلنے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔بھارت کی سنجیدگی کا اشارہ صرف ایاز صادق سے مصافحہ نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں نمائندگی کے لیے وزیرِ خارجہ کو بھیجا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اسپیکر قومی اسمبلی نے نمائندگی کی جو نائب صدر کا پروٹوکول رکھتے ہیں، تقریباً تمام سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی ڈھاکا میں موجودگی کو یقینی بنایا گیا۔ بھارت کی سفارتی روایت کو دیکھتے ہوئے، خصوصاً موجودہ بنگلہ دیشی قیادت کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں، یہ غیر معمولی اقدام تھا۔عمومی تاثر یہی تھا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی کے بعد بھارت اسے سزا دینے کے موڈ میں ہے، اور چکن نیک کے محاذ پر دباؤ بڑھا کر، میانمار کے راستے اسے کٹ ٹو سائز کرنے کی حکمت عملی اپنائے گا۔ لیکن جے شنکر کی ڈھاکا آمد کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ دہلی نے اپنی حکمتِ عملی میں کم از کم وقتی طور پر ہی سہی، کچھ نرمی پیدا کی ہے۔ایاز صادق سے مصافحہ کر کے بھارت نے پاکستان کو مثبت اشارہ دیا، اور خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کر کے بنگلہ دیش کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا۔ جنوبی ایشیا میں یہ تبدیلی بظاہر خوش آئند ہے، اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ چوکنا رہنا بھی ضروری ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے، اس کا اندازہ آئندہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔#ڈاکٹرفاروق_عادل #خالدہ_ضیا#بھارت #جےشنکر#بنگلادیش










