تازہ تر ین

وفاقی وزیر اطلاعات سابق سینیٹر اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ سیاسی مفاہمت کے لئے راہ ہموار کرسکتے ہیں

ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ

اسلام آباد:13 جنوری سابق وفاقی وزیراطلاعات اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ سیاسی مفاہمت کے لئے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ جیل میں شہبازشریف سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کی راہ ہموار کی تھی، اب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے مل کر اُن سے بھی معاملات کے حل کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستداننے کہاکہ پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ اور عوام میں موجودہ قیادت کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں جس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی کی پوری قوت کو حکومت خود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ پراپگنڈہ بھی خود کرارہے ہیں۔ جیل والا اس لئے مطمئن ہے کہ اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور حکومت خوش ہے کہ اُس کا اقتدار چل رہا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بن گئے تو وہ کہیں گے کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرائو۔ پھر ملاقات کے بعد وہ کہیں گے دوبارہ ملاقات کرائوکہ میں نے فلاں بات کی بھی اجازت لینی ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی لاحاصل چلتا رہے گا۔ محمد علی درانی نے کہاکہ گائے چوری سے لے کر بم تک کے تمام مقدمات میں ملوث پی این اے کے لیڈروں سے ذوالفقار علی بھٹو نے جیل سے باہر نکال کر بات چیت کی تھی۔ محض بات چیت کرو سے معاملہ سیاسی عمل آگے نہیں بڑھے گا۔ سابق وزیراطلاعات نے کہاکہ پاکستان کی سیاست ٹھیک کرنے کے لئے اُن تمام لوگوں پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جائے جن کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہائیبرڈ نظام سے اقتدار کا این آراو لینے والوں نے اقتدار میں لانے والوں کوہمیشہ اقتدار سے باہر کیا۔پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کو خوف ہے کہ اگر پی ٹی آئی سے مفاہمت ہوئی تو اُن کا اقتدار پگھل جائے گا۔

مجھے اجازت دی جائے تو عمران خان سے جیل میں مل کر بات چیت کی راہ ہموار کراسکتا ہوں۔ موجودہ حکمران جماعتیں اقتدار کے مزے تو لوٹ رہی ہیں، کامیابیاں اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہےں اور ناکامیاں اسٹیبلشمنٹ کے سرتھونپ رہی ہیں۔ ایک انٹرویو میں سینئر سیاستدان نے کہاکہ ملک کی معیشت نہیں چل رہی، کاروباری برادری دہائیاں دے رہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ادارے کے سربراہ کے سوا اُن کی کوئی بات سننے والا نہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) گورننس کو بہتر نہیں کرسکتے۔ عوام حکمران سیاسی جماعتوں سے بیزار ہوچکے ہیں ۔ محمد علی درانی نے کہاکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کی اقتدار کی ٹانگ ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔ یہ فائدہ اکٹھے لیتے ہیں اور مل کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے انکشاف کیا کہ2018 میں اُن پر دبائو تھا کہ وہ متحدہ محاذ صوبہ بہاولپور کو پی ٹی آئی میں شامل کرائیں لیکن انہوں نے خود بھی اور متحدہ محاذ بہاولپور کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ملک میں ہائیبرڈ نظام کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ پہلی ہائیبرڈ حکومت ذوالفقار علی بھٹو نے یحیٰی خان کے ساتھ مل کر بنائی۔ پھر یحییٰ خان کو اقتدار سے نکال کر وہ خود حکمران بن گئے۔ دوسری ہائیبرڈ ضیائ الحق نے نوازشریف کے ساتھ مل کر بنائی۔ ضیائ الحق طیارہ حادثے کا شکار ہوگئے اور نوازشریف خود انقلابی بن اقتدار میں آگئے اور ضیائ الحق کی جماعت پر بھی قبضہ کرلیا۔ میثاق جمہوریت ہونے کے چار دن بعد بے نظیر بھٹو پرویز مشرف کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ این آر او کرکے پرویز مشرف اقتدار سے نکل گئے اور یہ آج تک اقتدار میں ہیں۔ عوام نے ووٹ دیا نہیں پھر بھی فارم 47 کے این آر او آج بھی اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں ہائیبرڈ نظام کی یہ تاریخ بذات خود ایک گواہی ہے کہ ہائیبرڈ نظام بنانے والوں کے ساتھ کیا ہوا اور اُس سے فائدہ اٹھانے والوں نے فائدہ دینے والوں کے ساتھ کیا کیا۔ ایک اور سوال پر سابق وزیر اطلاعات نے کہاکہ 9 مئی کے مقدمات حکومت نے خود خراب کئے۔قومی ادارے سے زیادتی ہوئی لیکن ایسے مقدمات بنائے گئے جن کا فائدہ جرم کرنے والوں کو ہوا اور نقصان ادارے اور قوم کا ہوا۔ وزرا ٹی وی پر غدار بنارہے ہیں اور عدالتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوتا، اس سے بڑی اور کیا سازش ہوسکتی ہے؟ جنہوں نے جرم کیا ہے اُنہیں سزا ملنی چاہیے لیکن حکمران جماعتوں کی پوری کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ خود گڑ بڑ کررہے ہیں۔ سیاسی مفاہمت اور عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ یہ درست ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو میں جیل میں جاکر شہبازشریف سے ملا تھا اور اُن سے چند گزارشات کی تھیں جس کے بعد سیاسی صورتحال بدل گئی تھی۔ اب اگر اجازت دی جاتی ہے تو میں جیل جاکر عمران خان سے ملنے کے لئے بھی تیار ہوں۔ اُن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ ضدی ہیں لیکن میں عمران خان کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ میرا اُن کے ساتھ بہت قریبی تعلق رہا ہے اور سیاست کا پہلا سبق ہم نے ہی انہیں پڑھایا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے جیل جانے کی اجازت دی جائے تو میں سیاسی عمل آگے بڑھانے کی راہ ہموار کرسکتا ہوں۔ اس راستے میں رکاوٹ پی ٹی آئی کی باہر موجود لیڈرشپ اور حکمران جماعتوں کا اپنا رویہ ہے جو محض زبانی جمع خرچ کررہے ہیں۔ *********

مجھے اجازت دی جائے تو عمران خان سے جیل میں مل کر بات چیت کی راہ ہموار کراسکتا ہوں، محمد علی درانی شہبازشریف سے جیل میں ملا تھا، اب عمران خان سے ملنے کے لئے بھی تیار ہوں تاریخ گواہ ہے ہائیبرڈ نظام سے اقتدار میں آنے والوں نے اقتدار میں لانے والوں کوہمیشہ اقتدار سے نکالا ذوالفقار علی بھٹو نے یحییٰ خان کے ساتھ ہائیبرڈ نظام بنایا، بعد میں یحییٰ کو نکالا اور خود اقتدار میں آگئے جنرل ضیائ کے ساتھ مل کر نوازشریف نے ہائیبرڈ نظام بنایا، ضیائ الحق کا طیارہ پھٹ گیا اور نوازشریف آج بھی اقتدار میں ہیں پرویز مشرف سے این آر او کرنے کے بعد چوریاں جائز قرار پاگئیں، پرویز مشرف اقتدار سے باہر اور این آر او کرنے والی دونوں جماعتیں آج بھی اقتدار میں ہیں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کو خوف ہے کہ اگر پی ٹی آئی سے مفاہمت ہوئی تو اُن کا اقتدار پگھل جائے گا اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر نہ ملک چل سکتا ہے نہ ہی سیاسی مسائل حل ہوسکتے ہیں، عمران خان کی سیاسی لڑائی حکمران جماعتوں سے ہونی چاہیے اسٹیبلشمنٹ سے نہیں موجودہ حکمران جماعتیں کامیابیاں اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہےں ، ناکامیاں اسٹیبلشمنٹ کے سرتھونپ رہی ہیںملک کی معیشت نہیں چل رہی، کاروباری برادری دہائیاں دے رہی ہےسابق وفاقی وزیراطلاعات اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved