تازہ تر ین

پی ایس ایل گورننگ کونسل کا آج ہونے والا اہم اجلاس ملتوی اجلاس کل رات 7 بج کر 30 منٹ پر ہوگا۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا۔۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ معاہدے سے الگ ہے۔ وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کا بیان۔۔ سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں خوارج۔۔۔۔کے 40 جان بحق ۔۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کی کردار کشی کی مہم چلانے والے مسلم لیگ نواز آئرلینڈ کے رہنما احسان چٹھہ عرف مٹھا جی کیخلاف تھانہ Nccia لاہور میں سائبر دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔امریکہ کا ایران پر ممکنہ حملہ پر میرا تجزیہ. ایران پر حملہ خطے کو تباہی سے دوچار کریگا۔ اسکو روکنا ہو ھوگا ۔ پاکستان، ترک، سعودی عرب اور مشرق وسطہ ، جنوبی ایشیا کے ممالک اپنی معیشت جیسے ہی ٹھیک کرتے ہیں ، امریکہ بہادر اسلحہ اور بارود لیکر آ دھمکتے ہیں ۔بلاول بھتو کی سندھ حکومت کی 17 سالہ کارکردگی پر بریفنگ۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن۔۔سیکنڈ مارکو روبیو نے 75 ممالک سے تمام غیر ملکی ویزا پروسیسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے منجمد۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان ہاکی کے سنہری دور میں ایک نام ریحان بٹ کا بھی تھا- جو اپنی بے خوف ڈرِبلنگ کے لیے نمایاں تھا— 6 جولائی 1980 کو لاہور میں پیدا ہونے والے ریحان بٹ پاکستانی فارورڈ لائن کی دھڑکن بن گئے، اور تین اولمپکس گیمز اور دو ورلڈ کپ کے دوران شائقین کو محظوظ کیا۔ 274 کیپس اور 109 گولز نے، بٹ کی اسٹک ورک اور وژن نے میچز کو جادوئی لمحات میں بدل دیا۔دوحہ 2006 میں کانسی سے لے کر Guangzhou 2010 میں سونے تک، انہوں نے ایشیائی میدان پر پاکستان کا پرچم بلند کیا، جبکہ 2006 کامن ویلتھ گیمز میں بھی چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کی برتری چیمپیئنز ٹرافی میں بھی نمایاں تھی، جہاں پاکستان نے ابتدائی 2000 کی دہائی میں مسلسل تین مرتبہ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ، بٹ کو دو مرتبہ FIH آل سٹار ٹیم میں شامل کیا گیا اور 2008 میں بہترین ایشین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔بٹ کی کہانی صرف تمغوں کے بارے میں نہیں ہے—یہ ایک قوم کی ہاکی میں کامیابی کی خواہش کو لے کر چلنے کے بارے میں ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی، وہ ایک رہنما کے طور پر کھیل کی خدمت جاری رکھتے ہیں، تاکہ پاکستان کے ہاکی خواب زندہ رہیں۔

توہین کا ایک تازہ کیس کیسے بنایا گیا۔10 تاریخ کو پنجاب بھر میں وکلا کے ضلعی بارز کے الیکشن تھے۔ ہماری تاریخ ہے کہ الیکشن چاہے وکلا کے ہوں، صحافیوں کے یا ڈاکٹرز کے، ہلڑ بازی، تنازع، تلخ کلامی، مدمقابل گروہوں میں چپقلش رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن پرامن ماحول میں ہونا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ مجموعی طور پر ماحول بہتر نہیں رہتا۔10 تاریخ کو میاں چنوں بار میں ووٹنگ کے دوران تنازع ہوا۔ کسی ایک پارٹی کے کارندے/کارندوں نے ووٹر پرچیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔ دوسری پارٹی نے پکڑے جانے والے بندے کے ساتھ جہاں موقع پر “انصاٖف” (تشدد) کیا، وہیں اس کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی۔ میں نے تنازع کے بعد متاثرہ فریق (وکلا) کی پولیس آفیشلز کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو دیکھی

۔ وہ ایف آئی آر میں توہین کی دفعات لگانے کا بھی اصرار کر رہے تھے۔ کہ جن ووٹر پرچیوں کو پھاڑا گیا ان پر ووٹرز کے نام لکھے ہوئے تھے جن میں “محمد، علی، فاروق اور فاطمہ” کے نام بھی شامل تھے۔ پولیس آفیشلز پہلے تو اس ایف آئی آر میں توہین کی دفعہ شامل کرنے پر راضی نہ تھے لیکن دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے کہ وکلا احتجاج کرنا شروع ہو گئے تھے اور دھرنا دے دیا تھا۔مجھے بتائیے، ایک سادہ الیکشن کے تنازعے پر آپ کسی شخص یا مخالف گروہ کو توہین کا مرتکب کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہو گیا ہے کہ صرف مخالف فریق کو زیادہ رگڑا لگوانے کیلئے توہین کی سخت دفعات لگوا دی جائیں یہ دیکھے بغیر کہ کسی کی ایسا کرنے کی نیت تھی بھی یا نہیں؟ کیا اس ملک میں اکثریت مسلمان نہیں؟ کیا توہین کے قانون کو اس طرح استعمال کر کے ہم لوگ خود دنیا کو اس قانون پر تنقید کا موقع نہیں دے رہے؟ کیا توہین کے مرتکب ملزمان کے والدین اور متاثرین کا موقف درست ہے کہ ان کے بچوں کی خدانخواستہ توہین کرنے کی نیت نہیں تھی، انہیں ٹریپ کیا گیا۔ کیا ہم اپنی معمول کی لڑائی یا تنازعہ میں اصل مدعیٰ پر رہیں گے یا معاملے کو گھوم پھر کر توہین کا رنگ دے کر مخالف کو معاذ اللہ گستاخ رسول یا گستاخ قرآن و مذہب قرار دلوانے کی کوشش کریں گے اور اس قانون کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے؟ کیا آپ کو خدا و رسول کا ذرہ بھر خوف نہیں؟ کہ وہ تو سب جانتے ہیں کہ معاملہ اصل میں ہے کیا تھا اور آپ نے اسے کیا رنگ دے دیا۔ کیا آپ کو مرنے کے بعد اس بابت پوچھے جانے سے متعلق کوئی ڈر نہیں کہ پوچھا جائے کہ باقی گناہ بھی ہیں لیکن تمہیں ذرا بھر شرم نہ آئی کہ خالص اپنی لڑائی میں ہمارے ناموں کو شامل کر لیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ الیکشن کے اس واقعہ کی ایف آئی آر درج نہ ہوتی۔

اگر قابل دست اندازی پولیس کیس بنتا ہے تو ضرور ایف آئی آر درج ہونی چاہیے، لیکن الیکشن کے اس تنازع پر مخالف فریق پر توہین کا الزام۔۔۔۔۔۔۔۔؟میری جیب سے ابھی سو اور دس کا ایک نوٹ نکلا ہے۔ ان نوٹوں پر احمد، رضا اور باقر کے نام لکھے ہیں۔ پہلا نام نبی پاک کا صفاتی نام ہے۔ دوسرے نام امام رضا اور امام باقر کے ناموں پر۔ آپ لوگ شادی بیاہ، محفل نعت، تقریبات، ناچنے گانے والوں، والیوں پر نوٹ پھینکتے ہیں۔ یہ نام زمین پر گرتے ہیں، پاؤں تلے روندے جاتے ہیں۔ توہین کے پرچے کروائیں؟طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔

عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، دارالحکومت میں اضطراب: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی، عوامی سطح پر انتظامیہ کی برطرفی کے مطالباترانا تصدق حسیناسلام آباد — وفاقی دارالحکومت میں انتظامی سرکشی کو بے نقاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ایک فیصلہ کن عدالتی اقدام کے تحت چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) محمد علی رندھاوا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ، اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کامران بخت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ کارروائی نور پور شاہاں کے رہائشیوں کے خلاف عدالتی احکامات کے باوجود جاری جبری آپریشنز اور عدالتی فیصلوں پر دانستہ عدم عملدرآمد کے باعث کی گئی

۔جسٹس اکرام امین منہاس نے رِٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 16 جنوری کے لیے باضابطہ توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سی ڈی اے کی کارروائیاں بادی النظر میں عدالتی اختیار اور قانون کی حکمرانی کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔حتمی فیصلہ نظرانداز، آپریشن جاریتوہینِ عدالت کی درخواست اصل درخواست گزار تنظیر حسین کی جانب سے دائر کی گئی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26 جون 2025 کو دیا گیا حتمی اور واجب التعمیل عدالتی فیصلہ ہونے کے باوجود سی ڈی اے نے دانستہ طور پر اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔عدالتی فیصلے کے برعکس انفورسمنٹ آپریشنز میں شدت لائی گئی، جس کے نتیجے میں نور پور شاہاں کے رہائشیوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا—جو کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں واضح کیا گیا کہ:فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا تھاکسی قسم کی حکمِ امتناعی، معطلی یا ترمیم نافذ نہیں تھیسی ڈی اے حکام فیصلے سے مکمل طور پر آگاہ تھےاس کے باوجود انفورسمنٹ کارروائیاں جاری رہیں، جو دانستہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہیںان حقائق کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے تقدس کے تحفظ اور انتظامی

تجاوزات کو روکنے کے لیے توہینِ عدالت کی کارروائی ناگزیر قرار دیا۔

قانونی برادری کی بے مثال یکجہتیسماعت کے دوران قانونی برادری کی غیر معمولی یکجہتی دیکھنے میں آئی۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار کونسل، اور نور پور شاہاں کے متاثرہ مکینوں کی نمائندگی کرنے والے مقامی وکلا کی بڑی تعداد عدالت میں پیش ہوئی۔ وکلا نے بے دخل کیے گئے شہریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی ناگزیر حیثیت کو اجاگر کیا۔عوامی غم و غصہ، انتظامیہ کے خلاف شدید ردِعملعدالتی کارروائی کے ساتھ ہی اسلام آباد میں عوامی غصہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔شہریوں، سول سوسائٹی اور قانونی کارکنوں نے چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ عہدیداران عوامی خدمت کے بجائے نمائشی اقدامات، آئینی انحراف اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مظاہرین اور شہری تنظیموں نے انفورسمنٹ اختیارات کے مسلسل غلط استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو قانون، شفافیت اور جوابدہی کے بجائے خوف، تشہیری مہمات اور من مانی مسماریوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔آئینی حکمرانی کا کڑا امتحانقانونی ماہرین نور پور شاہاں کے معاملے کو پاکستان میں آئینی حکمرانی، سول انتظامیہ کی جوابدہی اور عدالتی بالادستی کا ایک فیصلہ کن امتحان قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اختیار عوام کے ذریعے، عوام کے لیے اور عوام کی مرضی کے مطابق استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ جبر، طاقت کے مظاہرے اور عدالتی حدود سے تجاوز کے ذریعے۔یہ کیس 16 جنوری کو دوبارہ مقرر ہے، جب نامزد افسران کو ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر یہ وضاحت دینا ہوگی کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟نشریاتی دنیا کی ایک معتبر آواز، عشرت فاطمہ، تقریباً 45 سال تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ رہنے کے بعد خاموشی سے پسِ منظر میں چلی گئیں۔ وہ محض ایک خبر رساں نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے اپنے مخصوص لہجے اور درست تلفظ سے نشریات کو ایک اعلیٰ معیار عطا کیا۔عشرت فاطمہ نے ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں اپنی جذباتی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جس ادارے کو وہ اپنا گھر اور پہلی محبت سمجھتی تھیں، وہاں سے علیحدگی کا فیصلہ کتنا مشکل تھا۔ انہوں نے ادارے کے اندرونی ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا:”جب آپ کسی کا مقابلہ کام سے نہیں کر سکتے، تو آپ نیگیٹیو طریقے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں اس کی زندگی ہی چھین لو، اس کی سانسیں ہی چھین لو، اس کے لیے وہ سپیس ہی ختم کر دو جہاں پر بیٹھ کر وہ کام کر رہا ہے۔”وہ طویل عرصے تک اس امید میں رہیں کہ شاید حالات بدلیں اور انہیں ایک ‘لیجنڈ’ کے طور پر وہ مقام ملے جس کی وہ حقدار تھیں، لیکن ان کے بقول انہیں مسلسل یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔عشرت فاطمہ یہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں آج بھی مکمل طور پر برقرار ہیں، لیکن پھر بھی وہ گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کی سرد مہری کے بارے میں انہوں نے کہا:”ادارہ دراصل در و دیوار، مائیکس، کیمرے اور راہداریوں کا نام ہے، یہ محسوس نہیں کرتا، محبت نہیں کرتا۔ اگر یہ محسوس کر سکتا تو شاید مجھے روک لیتا، گلے لگا لیتا اور میں رک جاتی۔”ان کا ماننا ہے کہ بولنا اور الفاظ کے ذریعے سچ پہنچانا ان کے لیے محض نوکری نہیں بلکہ ایک جنون رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا:”بولنا، الفاظ سے کھیلنا اور آواز کے ذریعے لوگوں تک سچ پہنچانا میرے لیے محض روزگار نہیں بلکہ عشق رہا ہے۔”عشرت فاطمہ کا تعلق ایک مہذب اور علمی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد، شفقت حسین، قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر کے آئے تھے۔ یہی تہذیب ان کی شخصیت کی سنجیدگی میں نظر آتی ہے۔انہوں نے اسلام آباد سے اردو میں ایم اے کیا۔ 1983 میں ریڈیو اور ٹی وی سے کیریئر شروع کیا اور 1984 سے باقاعدہ خبریں پڑھنے کا آغاز کیا۔ان کی شادی ثاقب باقری سے ہوئی، جن کا تعلق میڈیا سے نہیں ہے۔ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ وہ اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کی قائل رہی ہیں۔ لہذا ان کے نجی زندگی کے بارے میں ذیادہ معلومات دستیاب نہیں ہے۔ اپنے دکھ کے باوجود، عشرت فاطمہ نے واضح کیا کہ وہ اداروں سے ناراض نہیں ہیں بلکہ انہیں اپنی “پہلی محبت اور پہلا عشق” سمجھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا:”میں اس دکھ سے گزر رہی ہوں اور دعا چاہتی ہوں کہ میری یہ محبت میرے لیے درد نہ بنے۔”وہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سامعین سے رابطے میں رہنے اور اپنے تجربات شیئر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاکہ عوامی محبت کا یہ سلسلہ منقطع نہ ہو۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی سینئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ کے گھر آمد عشرت فاطمہ کی نیوز کاسٹنگ اور براڈکاسٹنگ سروسز کے حوالے سے ایک پہچان ہے، عطاء اللہ تارڑ عشرت فاطمہ نے اپنے 45 سالہ کیریئر میں ملک کے لئے خدمات سر انجام دیں، عطاء اللہ تارڑ پاکستان کا بچہ بچہ ان کو جانتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑعشرت فاطمہ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں، عطاء اللہ تارڑ ان سے درخواست کی ہے کہ بطور مینٹور پاکستان ٹیلی ویژن آئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعاتعشرت فاطمہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ انداز سے کام کیا، عطاء اللہ تارڑ عشرت فاطمہ کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا، عطاء اللہ تارڑانہوں نے پروفیشنل طور پر اپنی پوری زندگی گزاری ہے، عطاء اللہ تارڑوزیر اطلاعات کی جانب سے عزت افزائی کی مشکور ہوں، عشرت فاطمہحوصلہ افزائی اور محبت کا اظہار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، عشرت فاطم

ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائقہسپتالوں کی سفید عمارتوں اور سفید کوٹ کے پیچھے اکثر ایسے ”سیاہ سچ“ چھپے ہوتے ہیں جن سے ایک عام مریض اور اس کے لواحقین بے خبر رہتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ڈاکٹرز آپس میں تو کرتے ہیں، لیکن آپ کے سامنے کبھی نہیں کریں گے۔یہ رہے ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائق1-جولائی ایفیکٹ (The July Effect)دنیا بھر کے (اور خاص طور پر ٹیچنگ) ہسپتالوں میں سال کے کچھ مخصوص مہینوں میں (اکثر جولائی/اگست) نئے اور ناتجربہ کار ڈاکٹرز (House Officers/Interns) آتے ہیں۔ اس دوران طبی غلطیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ آپ دراصل ان کے لیے ”سیکھنے کا سامان“ (Practice Subject) ہوتے ہیں۔2-ہسپتال،جراثیم کا گھرہسپتال صحت یاب ہونے کی جگہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب سے گندی جگہ بھی ہے۔ یہاں ”سپر بگس“ (Superbugs) ہوتے ہیں۔وہ جراثیم جن پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں۔ اکثر مریض اپنی بیماری سے نہیں بلکہ ہسپتال سے لگنے والے انفیکشن (Hospital Acquired Infection) سے مر جاتے ہیں۔3-غیر ضروری ٹیسٹ اور کمیشنیہ ایک کھلا راز ہے کہ بہت سے پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو وہ ٹیسٹ بھی لکھ کر دیتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ہر ٹیسٹ پر ڈاکٹر کا 20 سے 40 فیصد ”کمیشن“ (Cut) فکس ہوتا ہے۔4-وینٹیلیٹر کا میٹرپرائیویٹ ہسپتالوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض دماغی طور پر مردہ (Brain Dead) ہو چکا ہوتا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی، لیکن ہسپتال والے اسے وینٹیلیٹر پر رکھتے ہیں تاکہ ”میٹر چلتا رہے“ اور لاکھوں کا بل بن سکے۔5-جمعہ کی دوپہر اور ویک اینڈ کا خطرہکوشش کریں کہ جمعہ کی دوپہر یا چھٹی والے دن سیریس آپریشن نہ کروائیں۔ ان دنوں میں سینئر اور ماہر ڈاکٹرز چھٹی پر ہوتے ہیں اور ہسپتال جونیئر سٹاف کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ویک اینڈ پر ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔6-ڈاکٹر کی نیند اور تھکاوٹآپ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر خدا کا روپ ہے، لیکن وہ ایک انسان ہے۔ ہو سکتا ہے جو سرجن آپ کا پیچیدہ آپریشن کرنے لگا ہے، وہ پچھلے 24 گھنٹوں سے سویا نہ ہو یا کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو۔ نیند کی کمی ڈاکٹر کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔7-سی سیکشن (C-Section) کا بزنسآج کل نارمل ڈیلیوری بہت کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ صرف پیچیدگی نہیں، بلکہ ”وقت“ اور ”پیسہ“ ہے۔ نارمل ڈیلیوری میں گھنٹوں لگتے ہیں اور بل کم بنتا ہے، جبکہ بڑا آپریشن (C-Section) 45 منٹ میں ہو جاتا ہے اور بل بھی ڈبل بنتا ہے۔8-دوا ساز کمپنیوں کے تحفےڈاکٹر اکثر آپ کو وہ دوائی نہیں لکھ کر دیتا جو سب سے سستی اور اچھی ہو، بلکہ وہ لکھتا ہے جس کی کمپنی نے اسے ”کانفرنس“ کے نام پر یورپ کا ٹرپ یا مہنگا تحفہ دیا ہو۔ یہ ”نسخہ“ دراصل ”بزنس ڈیل“ ہوتی ہے۔9-موت کی خبر چھپانا (False Hope)ڈاکٹر اکثر جانتے ہیں کہ مریض نہیں بچے گا، لیکن وہ لواحقین کو فوراً نہیں بتاتے۔ وہ کہتے ہیں ”اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں، دعا کریں“

۔ یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ فیملی کو ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے اور ہسپتال پر توڑ پھوڑ کا خطرہ کم ہو۔10-وی آئی پی کلچرہسپتال میں ”خون“ سب کا لال ہوتا ہے لیکن پروٹوکول الگ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی جان پہچان یا سفارش ہے، تو آپ کو سینئر ڈاکٹر دیکھے گا، ورنہ آپ وارڈ بوائے اور نرسوں کے آسرے پر رہیں گے۔11-کوڈ ورڈز (Code Words)ڈاکٹر اور سٹاف آپ کے سامنے ایسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو آپ نہ سمجھ سکیں۔ مثلاً کچھ ممالک میں ڈاکٹرز انتہائی بگڑے ہوئے کیس کے لیے ”GPO“ (Good for Parts Only) یا اسی قسم کے کوڈز استعمال کرتے ہیں تاکہ مریض کو اپنی حالت کا علم نہ ہو۔12-سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ رویہوہی ڈاکٹر جو سرکاری ہسپتال میں آپ کو ڈانٹ کر باہر نکال دیتا ہے، شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک میں آپ کو مسکرا کر ملتا ہے۔ فرق ”آپ“ نہیں، فرق وہ ”فیس“ ہے جو آپ نے ادا کی ہے۔13-غلطی تسلیم نہ کرنااگر آپریشن کے دوران ڈاکٹر سے کوئی نس کٹ جائے یا غلطی ہو جائے، تو وہ کبھی آپ کو نہیں بتائیں گے۔ وہ اسے ”پیچیدگی“ (Complication) کا نام دے کر فائل بند کر دیں گے، کیونکہ غلطی ماننے کا مطلب ہے قانونی کارروائی اور بدنامی۔14-دوائیوں کی غلطی (Medication Errors)ہسپتالوں میں نرسنگ سٹاف کی تبدیلی (Shift Change) کے دوران اکثر مریضوں کو غلط دوائی یا غلط ڈوز دے دی جاتی ہے۔ یہ غلطیاں ریکارڈ پر نہیں لائی جاتیں جب تک کہ ری ایکشن بہت شدید نہ ہو۔15-آپ صرف ایک ”کیس“ ہیںآپ کے لیے آپ کا مریض ”پوری دنیا“ ہے، لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ بیڈ نمبر 14 پر لیٹا ہوا ”گردے کا مریض“ ہے۔ ڈاکٹروں کو جذباتی طور پر ”ڈی ٹیچ“ (Detach) ہونا سکھایا جاتا ہے، ورنہ وہ روزانہ درجنوں اموات دیکھ کر کام نہیں کر پائیں گے۔ ان کی بے حسی ان کی مجبوری بھی ہے۔ہر ڈاکٹر برا نہیں ہوتا اور مسیحا آج بھی موجود ہیں، لیکن سسٹم ایک ”کاروبار“ بن چکا ہے۔ہسپتال جاتے وقت آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں، اپنی تحقیق کریں اور سوال پوچھنا سیکھیں۔

سیکنڈ مارکو روبیو نے 75 ممالک سے تمام غیر ملکی ویزا پروسیسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے منجمد کر دیا۔افغانستان، البانیہ، الجیریا، انٹیگوا اور باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، ڈیموکریٹک ریپبلک، مصر، ایوریا، ڈومینیکا فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مالڈووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال، مراکش جمہوریہ، روس، نیپال، کانگرو، نیپال روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوسیا، سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز، سینیگال، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved