
کل ٹی وی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی آنسو بہانے لگے۔ یہ دیکھ کر مجھے اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقعہ یاد آ گیا۔ اندلس یعنی موجودہ سپین میں آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ تھا۔ نا اہل اور بزدل ابو عبداللہ نے اپنی جان بخشی کی رعایت کے عوض اپنی ریاست غرناطہ ایک معاہدے کے تحت فرڈینینڈ اور اسرائیل کے حوالے کر دی اور خود اپنے خاندان سمیت افریقہ روانہ ہو گیا۔ جب وہ افریقہ جا رہا تھا تو ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر اس نے غرناطہ پر آخری نظر ڈالی اور آنسو بہانے لگا۔ اس پر اس کی ماں عائشہ الحرا نے ایک تاریخی جملہ کہا۔ تم جس ریاست کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے ۔ اب اسے دیکھ کر عورتوں کی طرح رونے کا تمھیں کوئی حق نہیں۔ جلدی چلو سفر بہت لمبا ہے۔ سرفراز بگٹی صاحب سے بھی یہی گزارش ہے کہ تم جس صوبے اور جن عوام کی حقوق کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکتے، اب ان کے نقصان پر سامنے آ کر عورتوں کی طرح ٹسوے بہانے کا کوئی تمھیں کوئی حق نہیں۔

امریکی بظاہر ایران پر حملہ کیلئے خلیج میں موجود ہیں لیکن ہدف پاکستان ہے ۔پاکستان کو نشانہ بنانے میں بھارتی معاونت کیلئے امریکہ نے بھارتی درآمدات پر ٹیرف پچاس فیصد سے کم کر کے اٹھارہ فیصد کر دیا ہے ۔افغان حکومت کے زریعے بلوچ عسکریت پسندوں کو بگرام ایئر بیس پر چھوڑا جدید ترین اسلحہ دیا جا رہا ہے ۔

بساط ۔اظہر سیدامریکی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کا ایپسٹن فائل ریلیز کرنا جب امریکہ کا طاقتور بحری بیڑا ایران پر حملہ کیلئے خلیج میں موجود ہے دلیل ہے معاملات امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھوں میں نہیں ریاست کے اندر ریاست والوں کے پاس ہیں ۔امریکی صدر وہی فیصلہ کرے گا جو ایپسٹن فائل ریلیز کرنے والے چاہیں گے ۔سابق صدر کلنٹن نے فائل میں اپنا نام ظاہر ہونے پر پریس ریلیز جاری کی ہے کچھ نام چھپا لئے گئے ہیں یعنی صدر ٹرمپ ۔موجودہ امریکی صدر اپنی مرضی کرے گا تو ایک تلوار لٹکا دی گئی ہے تیرہ سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کا معاملہ کھول دیا جائے گا ۔چینی آرمی چیف کی برطرفی ،وینویلا کے صدر کا اغوا ،ایران کا گھیراؤ اور اچانک بلوچ عسکریت پسندوں کا متحرک ہونا اور آٹھ شہروں پر حملہ کرنا سارے معاملات چین امریکہ کشمکش سے منسلک ہیں۔وینویلا اور ایران چین کو اسکی صنعتی ایمپائر چلانے کیلئے تیل فراہم کرتے ہیں ۔بلوچستان ون بیلٹ ون روڈ کا مرکزی نکتہ ہے ۔مزید آگے بڑھیں تو کہا جا سکتا ہے تحریک انصاف کے احتجاج کا اعلان اور افغانستان کو ہر ہفتے ملنے والے چالیس ملین ڈالر امریکی امداد کی بندش ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ایک ہفتے پہلے امریکہ امداد بڑھا کر نوئے ملین ڈالر کی گئی تھی اور چھ روز بعد امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ،یعنی افغانستان سے کچھ مانگا جا رہا ہے ۔ریڈ آرمی کے سربراہ کی برطرفی معاملہ کی گھمبرتا کی دلیل ہے کہ دنیا کی دونوں سپر پاور ایک ختم ہوتی ہوئی اور دوسری ابھرتی ہوئی ایک معرکہ لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔ریڈ آرمی کے سربراہ کو شائد کسی فیصلہ میں اختلاف رائے پر برطرف کیا گیا ہے

۔پاکستان چین کا فطری حلیف ہے اس لئے سمجھا جائے خلیجی میں طاقتور امریکی بیڑا کا اصل ہدف ایران نہیں بلکہ پاکستان ہے ۔افغانستان کو بھی استعمال کیا جائے گا اور اگر ایران میں حکومت تبدیل کر دی گئی تو ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو انگیج کیا جائے گا ۔معاملات کی رفتار تیز ہوئی تو بھارت بھی متحرک ہو جائے گا ۔مہرے رکھے جا رہے ہیں ۔چینی بھی یقینی طور پر ہر معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔پاکستان پر بھی ایران پر بھی اور افغانستان پر بھی ۔کھیل میں سب سے اہم عنصر امریکی معیشت کا دیوالیہ پن ہے ۔37کھرب ڈالر کی مقروض سپر پاور اس سپر پاور کے ساتھ سینگ لڑانے جا رہی ہے جس کے محفوظ زخائر دنیا کے ہر ملک سے زیادہ ہیں ۔سائنس ٹیکنالوجی میں بھی امریکہ کو برابر کی ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسٹیج تیزی سے تیار ہو رہی ہے ۔ڈرامہ کے مختلف کردار سکرپٹ یاد کر رہے ہیں۔بہت کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ ابتدا ہو گئی تو وہ انتہا ہونے تک جاری رہے گی ۔

پنجاب پولیس میں بڑی تبدیلی متوقع، جعلی مقدمات اور ماورائے عدالت کارروائیوں پر حکومت کا فیصلہ کن قدم رانا تصدق حسینلاہور: صوبائی حکومت کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو عہدے سے ہٹائے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے بھر میں بے گناہ اور قانون پسند شہریوں کے خلاف جعلی مقدمات، بالخصوص من گھڑت منشیات کیسز، مبینہ پولیس مقابلوں اور حراست میں ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اندرونی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پنجاب میں جرائم پر قابو پانے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پولیس قیادت میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے نئے آئی جی کے لیے تین مضبوط نام زیر غور ہیں جن میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) وسیم سیال اور سینئر پولیس افسر راؤ عبد الکریم شامل ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر عثمان انور کو آئندہ کسی وفاقی عہدے پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے

۔اہم پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) میں تعینات افسران کے سروس ریکارڈ اور پروفائلز کی آزاد اور بیرونی قانون نافذ کرنے والے و انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے جانچ پڑتال کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اس عمل کا مقصد وردی کے پیچھے چھپے کسی بھی جرائم پیشہ عنصر کی نشاندہی اور بیخ کنی بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق جعلی پولیس مقابلوں، ماورائے عدالت قتل، پولیس حراست میں اموات اور کم عمر بچوں و طلبہ کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد منشیات مقدمات نے حکومت کو سخت اقدام پر مجبور کر دیا ہے۔ ان واقعات پر سول سوسائٹی، وکلاء، انسانی حقوق کے حلقوں اور خود سرکاری سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے بعد بالآخر آئی جی پنجاب کو ہٹانے کا فیصلہ کن اقدام سامنے آیا ہے۔صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پولیسنگ کے پورے نظام کو درست سمت میں لانے، اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے، اور ادارہ جاتی احتساب یقینی بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی قیادت اور حساس محکموں کی آزاد نگرانی سے نہ صرف جرائم پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، کیونکہ اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشاورت تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔

اقتصادی تباہی کے اندر سے انجنیئر


بلوچستان جتنے ائیرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، آزادی کے وقت وہاں صرف چند سو کلومیٹر سڑکیں تھیں، اب 26 ہزار کلومیٹر سڑکیں ہیں، 15 ہزار 96 اسکول اور 13 کیڈٹ کالجز ہیں، 13 بڑے اسپتال ہیں، بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب روپے ہے۔ سرداری نظام نے تمام وسائل لوٹے۔ خواجہ آصف










