تازہ تر ین

دھرنا پارلیمنٹ ھاوس کے اندر شفٹ 15 ارکان اسمبلی موجود۔ارکان اسمبلی میں راجہ ناصر اچکزئی علی ظفر شاھد خٹک علی ظفر مشعا ل بھی شامل۔۔ملک میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے۔بھارت امریکا اسرائیل گٹھ جوڑ ذمہ دار کون۔ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو اپنی آنکھ عطیہ دینے کا اعلان کر دیا۔ ۔دھرنا ختم نہیں ہوگا یہ عوام کا دھرنا ہے جاری رہےگا…یو اے ای نے پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع۔۔دھرنا ختم نہیں ہوگا یہ عوام کا دھرنا ہے جاری رہےگا…۔عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 8 ٹیمز اگلے راوںڈ۔پاکستان اور بھارت کا میچ کل جوا بازوں کی چاندنی۔کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن۔خالدہ ضیا کی جماعت کی جیت۔صوابی موٹروے مکمل بند۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

چین نے سب میرین صلاحیتوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بیجنگ جلد ٹائپ 095 نیوکلیئر سب میرین لانچ کرے گا تاکہ امریکی ورجینیا کلاس کے مقابلے میں توازن قائم کیا جا سکے۔ورجینیا کلاس کے برعکس، ٹائپ 095 سب میرینز ہائپر سونک اینٹی شپ میزائلز فائر کر سکتی ہیں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔

*نیا چاند 17 فروری کو شام 05 بج کر 01 منٹ پر پیدا ہوگا،19 فروری کو پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے،ترجمان سپارکو*پاکستان میں یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026ء کو ہونے کا امکان ہے۔ سپارکو کے ترجمان سپارکو کے مطابق نیا چاند 17 فروری 2026ء کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 1 منٹ پر پیدا ہو گا اور 18 فروری کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہو گی۔ ترجمان کے مطابق 18 فروری کی شام آنکھ سے چاند نظر آنے کے امکانات ہیں، مقدس مہینے کے آغاز کا حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کرے گی۔ دوسری جانب آسٹریلیا اور عمان میں باضابطہ طور پر یکم رمضان المبارک 2026ء کے حوالے سے اعلان کر دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا اور عمان میں رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری 2026ء بروز جمعرات سے ہو گا۔

ملک بھر چین نے سب میرین صلاحیتوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بیجنگ جلد ٹائپ 095 نیوکلیئر سب میرین لانچ کرے گا تاکہ امریکی ورجینیا کلاس کے مقابلے میں توازن قائم کیا جا سکے۔ورجینیا کلاس کے برعکس، ٹائپ 095 سب میرینز ہائپر سونک اینٹی شپ میزائلز فائر کر سکتی ہیں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔

*آج کی پوسٹ میں 42 ہیڈلائنز ہیں🚨 (1) انڈونیشیا کا پاک فضائیہ کے جنگی تجربے اور تربیتی مہارت سے استفادے کی خواہش کا اظہار🚨 (2) ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی انڈونیشین ہم منصب، صدر، وزیر دفاع اور مسلح افواج کے کمانڈر سے ملاقاتیں🚨 (3) کراچی حیدرآباد موٹروے پر گاڑیوں میں تصادم، 13 افراد جاں بحق، انسانی اعضا بکھر گئے🚨 (4) پی ٹی آئی احتجاج کا معاملہ، پارلیمنٹ جانیوالے تمام راستے بند، پولیس کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکے🚨 (5) پی ٹی آئی احتجاج؛ پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے بند، ارکان اسمبلی کو باہر جانے سے روک دیا گیا🚨 (6) پی ٹی آئی کارکنان کا خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ🚨 (7) 2 ماہ میں اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا: وزیر داخلہ🚨 (8) بانی پی ٹی آئی کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی، انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی کی گفتگو🚨 (9) عمران خان کے حق میں مال روڈ لاہور پر بھی وکلاء نے احتجاج ریکارڈ کرایا🚨 (10) اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن کی رہائشگاہ پہنچ گئے، خصوصی ملاقات🚨 (11) اسلام آباد: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں ہزاروں افراد پر مشتمل ریلی، سانحہ ترلائی کیخلاف احتجاج🚨 (12) عمران خان کی 80 فیصد سے زائد بینائی ختم ہوگئی، انہیں ان کی مرضی کے اسپتال منتقل کیا جائے: محمود اچکزئی🚨

(13) 4 ماہ کی غفلت والی کوئی بات نہیں، عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے: رانا ثنااللہ🚨 (14) عمران خان کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ، ہرممکن علاج کرائیں گے: طارق چودھری🚨 (15) جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو دل کا دورہ، اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل🚨 (16) عمران خان کے ساتھ ہونے والے رویے سے نفرتیں بڑھیں گی پھر کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا، سہیل آفریدی🚨 (17) جنرل باجوہ پھسلے نہیں، دل میں خرابی کی وجہ سے بیہوش ہو کر گرے تھے، فیملی ذرائع🚨 (18) بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 209 نشستیں جیتنے میں کامیاب، جماعت اسلامی اتحاد 68 سیٹوں تک محدود🚨 (19) وزیرِاعظم کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی🚨 (20) اخترمینگل کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری، پولنگ 5 اپریل کو ہوگی🚨 (21) فی تولہ سونا 8,600 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 19 ہزار 962 روپے پر آگیا🚨 (22) لکی مروت میں کواڈ کاپٹر سے پولیس پر حملہ، دو اہلکار زخمی🚨 (23) اڈیالہ جیل میں کسی کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ دار انتظامیہ، حکومت پنجاب ہے، شاہ محمود قریشی🚨 (24) سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے 6 مقدمات کی سماعت کیلیے مقرر🚨 (25) یوٹیوب کا بڑا فیچر اپ ڈیٹ: اب کسی بھی زبان کی ویڈیوز اپنی زبان میں دیکھیں🚨 (26) ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ🚨 (27) کراچی؛ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ، بلدیہ میں گھر میں فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق🚨 (28) مسلم لیگ ن کے سابق رہنما و رکن پنجاب اسمبلی اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما زعیم قادری انتقال کر گئے🚨 (29) حکومت نے بھارت سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کی ملک بدری روک دی🚨 (30) کچھ لو کچھ دو! کیا عمران خان کو ملک سے باہر بھجوانے کی تیاری ہو رہی ہے؟🚨 (31) وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کے صدر سے رابطہ، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے فروغ کا اعادہ🚨 (32) امارات کا پاکستان کے 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ توسیع پر اتفاق🚨 (33) 26نومبر احتجاج؛ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار🚨

(34) کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی بلکہ وڈیروں کا تسلط ہے، حافظ نعیم🚨 (35) سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج🚨 (36) پی ٹی آئی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب کال کا اعلان کر سکتی ہے، شیخ وقاص🚨 (37) ملکی سات ایئرپورٹس سے سال بھر میں 2 کروڑ 68 لاکھ افراد نے سفر کیا🚨 (38) افـغـاـ ن سرزمین سے دہشت گردی ناقابل قبول ہے، طاـ لباـ ن اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان کا مطالبہ🚨 (39) ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کو سیف سٹی کے ساتھ لنک کر دیا: مریم نواز🚨 (40) سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد، اپوزیشن کا شدید احتجاج🚨 (41) عُمان زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اُٹھا؛ شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی🚨 (42) ’میں پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں ہوتا تو ان کو ضرور شامل کرتا‘، آفریدی عمر اکمل اور احمد شہزاد کے حق میں

*”بریکنگ: امنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان پر شدید تنقیدی الزام – 15 سال سے لاپتہ افراد کے خطوط پر کوئی جواب نہیں”*امنسیٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان نے 15 سال تک لاپتہ افراد کے حوالے سے بھیجے گئے سینکڑوں خطوط کو نظرانداز کیا۔ تنظیم نے بتایا: “یہ مہلک عمل بلا روک ٹوک جاری ہے، جو خاندانوں اور کمیونٹیوں میں خوف پھیلا رہا ہے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی جواب کیوں نہیں ملتا؟” یہ خطوط پاکستان کے سفیر واشنگٹن ڈی سی کو بھیجے گئے تھے۔

بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -1اگر بیوروکریٹ کے نیفے میں پسٹل چلنا شروع ہوگئے تو آدھے سے زائد ”رِمل شاہ“ بن جائیں گے۔یہ وہ ٹاپک ہے جسے میں بہت عرصے سے لکھ نہیں پارہا تھا جبکہ بہت سارے دوستوں کو چاہ کر بھی ڈائریکٹ سمجھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ایک گالی۔۔۔بیٹی چ ود۔۔۔سب نے سنی ہوگی اس کا مطب پہلی دفعہ سمجھ آیا۔پولیس سروس کے ایک طاقتور اور سنئیر افسر جس کی ابھی دو سال سے زائد سروس باقی ہے وہ سپلائیر ہے۔اس کی ایک سوشل ورکر خاتون کے ساتھ طریقہ واردات کی پوری چیٹ دیکھی کہ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا کوڈ ورڈ ہوگا کہ میں تمہیں بیٹی کہوں گا تم مجھے ڈیڈی۔مجھ سے ملو گی تب بھی پیکٹ اگر کسی کے پاس بھیجوں گا تب بھی پیکٹ میری گارنٹی،اگلا تمیں کچھ انعام دے دے تو وہ بھی تمھارا۔میرے دفتر آکر پچاس ہزار ایڈوانس لے کر کسی پارلر سے خود کو اپڈیٹ کروا لو۔جہاں بھیجوں آنکھ اور کان بند کرکے جانا ہے۔میں نے پہلے بھی کالم لکھا تھا کہ بہت سارے بیوروکریٹ اچھی پوسٹنگ کیلئے سپلائی کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔پارٹی،پلائی اور سپلائی یہی انکی کامیابی کا راز ہے۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کے اندر چپھی انکی غلاظت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔پاؤں چاٹ گروپ کی بات کی جائے تو پولیس افسران سر فہرست اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس والے دوسرے جبکہ پی ایم ایس والے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کام میں کوئی سپیشلائیزیشن کی ہوئی ہے یا پھر سب نے لڑکی پھنسانے کے ٹوٹکوں والا ایک ہی میگزین لے رکھا ہے کہ ہر دوسرے افسر کی چیٹ کا آغاز پاؤں چاٹنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔ ایک ڈی آئی جی کی ویڈیو دیکھی تو وہ سابق چئیرمین نیب کو پیچھے چھوڑ چکے تھے جناب نے عرق گلاب سے ڈانسر کے پاؤں دھوئے اور کئی منٹ تک چاٹتا رہا۔ یہ جنسی درندے ہر سوشل خاتون پر ٹرائی کرتے ہیں۔ میڈیا گرلز کی بات کی جائے تو یہاں سرکاری افسران کی دال نہیں گلتی ہرلڑکی کی بلاک لسٹ میں پچاس سے زائد بیوروکریٹ ملیں گے۔ بیوروکریسی کے افسران کا آسان ٹارگٹ سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین،جونئیر اور ماتحت خواتین افسران ہوتی ہیں۔جنسی درندگی کا آسان طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو سی ایس ایس اور سرکاری نوکری کا خواب دکھا کر یہ سستے مینٹور اپنی ہوس پوری کرتے ہیں

۔ سرکاری جنسی درندوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ سرکاری ہائرنگ فائرنگ کا ریکارڈ دیکھ لیں باس کی بات ماننے سے انکار کرنے والی خوتین کو مہینوں اور دنوں میں نکال دیا جاتا ہے جبکہ باس کی خواہش کی تکمیل کرنے والوں کیلئے ترقی کے تمام در کھل جاتے ہیں۔جنسی درندے بنے افسران سنیپ چیٹ کو سیکس چیٹ کیلئے محفوظ تصور کرتے ہیں۔کچھ نے انٹرنیشنل واٹس ایپٹ نمبر رکھے ہوئے تو کچھ ایسے نڈر ہیں کہ اپنے پرسنل نمبر سے once کرکے گندی اور ننگی تصاویر اور آڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ لیکن دوسرے موبائل سے انکی سنیپ چیٹ اور once والی ساری چیٹ ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے۔درجنوں افسران ان حسیناؤں سے بلیک میل ہوکر خفیہ نکاح نبھا رہے ہیں۔ان پاؤں چاٹنے والوں کی زندگی آوارہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔بلیک میل ہونے والے افسران کی زندگی شرمندگی بن چکی ہے، ایک کال پر یہ گھر میٹنگ اور دفتر چھوڑ کر دم ہلاتے پہنچ جاتے ہیں۔ پی ایم ایس کے ایک لڑکے نے واقع سنایا کہ ایک سنئیر آفیسر نے اسے بہت تنگ کیا ہوا تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہی افسر ٹیلیفون کال پر اسکی عزت افزائی کررہا تھا،کال ختم ہوئی تو گرل فرینڈ نے پوچھا کہ کون تھا تو میں نے بے خیالی میں بتادیا کہ فلاں سیکرٹری ہے۔ اس نے فوری موبائل نکالا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کال ملا دی اور دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی بولی اوئے بات سن۔نیکسٹ۔۔۔۔۔اسکو تنگ کرنے کی شکایت نہ ملے۔دوسری طرف سے سے سیکرٹری نے پوچھا ک تمہارا کیا لگتا ہے تو اس نے جھٹ سے جواب دیا کہ جس طرح تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے۔ افسر کہ کہنا تھا کہ اس کا کام تو ہوگیا لیکن یہ فقرہ آج تک تکلیف دیتا ہے کہ”جیسے تم میرے کتے ہو ویسے ہی یہ بھی ہے“۔یہ باتیں کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں ہر افسر کو پتا ہے کہ دوسرا افسر کہاں اور کس کے ساتھ منہ کالا کرتاہے ان بے شرم افسران کو سمجھانے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان سے اس لیے ہمدردی ہے کہ ان افسران کی اکثریت انتہائی غریب گھروں کے بچے ہیں،خاص طور پر فخر سے اولڈ راوین کہلوانے والے 40ویں کامن سے 46ویں کامن والوں میں سے درجنوں کو میں تب سے جانتا ہوں جب یہ جی سی کی ہاسٹل فیس ادا نہیں کرسکتے تھے اور گاؤں کے دوستوں کی مدد سے کریسنٹ ہاسٹل سول لائنز میں ایک بستر پر دو،دو سوتے تھے، اور دعائیں دیں ہاسٹل مسجد کو جو عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک انکے کیلئے آرام گاہ ہوتی تھی۔ سنئیرز کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں کوئی گاؤں کے چوہدری سے پیسے لیکر شہر آیا تو کسی کی فیس بیرون ملک بیٹھے رشتے دار ادا کرتے تھے۔ یتیم الشانی سے عظیم الشانی کا سفر مبارک ہو، ریکارڈ توڑ کرپشن کے بعد یہ امیر تو ہوگئے لیکن انکی ذہنی پسماندگی اور غربت آج بھی وہیں کی وہیں ہے۔ان کو ڈائریکٹ نہیں سمجھا سکتا تھا کہ بیچارے نظریں نہیں ملا پائیں گے۔میں انکو پچانا چاہتا ہوں اس لیے ان بے غیرتوں کو سمجھا رہا ہوں کہ لعنتیوں سمجھ جاؤ اس سے پہلے کہ تم اشتہار بن جاؤ۔50 سے 60 کے درمیان والے سینیئر افسران جنھیں عام پبلک حتی کہ سیاستدان بھی سر سر کرتے ہیں وہیں پر انکی “شوگر بی بیز” نے ان کا نام “ٹھرکی بابا” “دادا ابو” اور “بے غیرت بڈھا” رکھا ہوا ہوتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق نوجوان بیوروکریٹ میں سے 50 فیصد جبکہ سینیئر افسران میں سے 65 فیصد ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتے سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مالی کرپشن کے بغیر اخلاقی کرپشن افورڈ نہیں ہو سکتی۔جاری ہے۔۔۔

اسلام آباد(رپورٹ: ناصر جمال) سوئی سدرن گیس کمپنی لیمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے اختیارات استعمال کرنا شروع کردیئے۔ صرف دو روز کے بعد 60 سال پر ریٹائر ہونے والے قائمقام ایم ڈی امین راجپوت کو مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع دے دی۔ وہ سابق چیئرمین شمشاد اختر مرحومہ کے منظور نظر ہیں۔ 2024 میں وہ وزارت کی مخالفت کے باوجود وہ قائمقام ایم۔ ڈی بننے میں کامیاب رہے۔ سابق بورڈ نے عمران منیار کا تین سالہ کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود انھیں بھی مزید سات ماہ ایم۔ ڈی رکھا۔ وہ استعفیٰ نہ دیتے تو ابھی تک ایم ڈی ہوتے۔ نئے بورڈ نے بھی سابقہ بورڈ کی روایت کو دوام دیا۔ معروف قانون دان فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ایم ڈی کو گھر جانا ہوگا۔ قانون واضح ہے۔ بورڈ کے پاس اُسے توسیع دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ سینئر موسٹ ڈی ایم ڈی سعید رضوی کو اس کے باوجود چارج نہیں دیا گیا کہ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں نہیں ہیں اور غیر جانبدار ہیں۔معتبر ذرائع کے مطابق ایس۔ ایس۔ جی۔ سی۔ ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری اہم ایجنڈا آیٹم تھا۔ تقریباً تین سال توسیع در توسیع پر چلنے والے سابق بی او ڈی کو حکومت نے نئے ایم۔ ڈی کے تقرر سے الگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ مرحومہ شمشاد اختر، وہاں پر زبردستی تین ٹرم براجمان رہیں۔ وزیر خزانہ ہونے کے باوجود انھوں نے ایس۔ ایس۔ جی۔ سی کا بورڈ نہیں چھوڑا تھا۔

ابھی بھی وہ اپنی جگہ باامر مجبوری اپنے بہنوئی خالد رحمان کی شکل میں اپنی نمائندگی چھوڑ گئیں۔12 ستمبر 2024ء میں امین راجپوت کو زبردستی، شمشاد اختر نے قائمقام ایم ڈی لگوایا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس نے وزارت کے ایما پر اُن کی شدید ترین مخالفت کی۔ سابق سیکرٹری مومن آغا بھی یہی چاہتے تھے مگر وزارت اور ان کے ڈائریکٹرز نے سابق وزیر اعظم کے سمدھی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اور اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا۔ امین راجپوت ڈیڑھ سال سے قائمقام ایم ڈی ہیں۔ وہ اتنے طاقتور ہیں کہ انھوں نے ایک بار پھر پوری وزارت اور بورڈ کو لٹا کر، ریٹائرمنٹ کے باوجود تین ماہ کی توسیع لے لی۔ حالانکہ وہ دو روز میں اپنی ساٹھ سال ملازمت کی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ نئے ایم۔ ڈی کی تقرری تک قائمقام ایم ڈی رہیں گے۔ مگر کمپنی وزارت اور سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم۔ ڈی کا میچ بظاہر ”فکس“ محسوس ہورہا ہے۔بورڈ کو بتایا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد امیدوار شارٹ لسٹ کئے گئے ہیں۔کمپنی کے ڈی۔ ایم۔ ڈی سعید رضوی کو قائمقام ایم۔ ڈی کا چارج دیا جاسکتا تھا۔ مگر بورڈ نے بظاہر اُن پر عدم اعتماد کیا ہے۔ جس کا دوسرامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کمپنی میں کوئی اور ایم۔ ڈی بننے کے اہل ہی نہیں ہے۔ حالانکہ سعید رضوی ایم۔ ڈی کے امیدوار بھی نہیں ہیں۔ جبکہ امین راجپوت کو ریٹائرمنٹ کے باوجود ایم۔ ڈی برقرار رکھنا ’’دال کے کالا‘‘ ہونے کی جانب اشارہ کررہا ہے۔ امین راجپوت ایم۔ ڈی کے آفس کو پہلے بھی خود کو قائم رکھنے میں مبینہ طور پر استعمال کررہے ہیں۔ انھیں تین ماہ کی ’’توسیع‘‘ ایم ڈی شپ کی دوڑ میں ترجیح فراہم کررہی ہے۔ جو کہ ایس۔ او۔ ای ایکٹ اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔وفاقی ملازم یا وفاقی ادارے کا ملازم ساٹھ سال میں ریٹائر ہوتا ہے۔ تو اُس کی مدت ملازمت میں توسیع صرف وزیر اعظم کا اختیار ہے۔مگر یہاں بورڈ وزیراعظم کا اختیار استعمال کرچکا ہے۔ کیا صرف ایک لیگل اوپینین لینے سے وزیر اعظم کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں بورڈ ایک کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو نہیں، ایک روز بعد ریٹائرڈ ہونے والے وفاقی ادارے کے ملازم کو ایکسٹینشن دے رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی بطور میں ارمی چیف پہلی تقرری سے پہلے بھی توسیع وزیراعظم و کابینہ نے کی تھی۔ یعنی یہ کام فوج نے بھی نہیں کیا، جو سوئی سدرن کا بورڈ کررہا ہے۔ حالانکہ بورڈ کا تقرر کابینہ نے کیا ہے۔ اس ضمن میں ان سوالات پر مبنی ایک سوال نامہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور وزارت کے ترجمان، بورڈ کے رکن، ایڈیشنل سیکرٹری ظفر عباس کو بھی بھیجا گیا۔ مگر ان کا جواب نہیں آیا۔مشہور قانون دان فیصل چوہدری نے کہا کہ ساٹھ سالہ مدت ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے والے قائمقام ایم۔ ڈی اپنی قائمقام ایم۔ ڈی شپ جاری نہیں رکھ سکتے۔ 2016 کے مصطفٰے اپیکس فیصلے کے مطابق، یہ معاملہ وزیراعظم واہ وفاقی کابینہ کے پاس جائے گا۔ ساٹھ سالہ ریٹائرمنٹ اور کنٹریکٹ میں توسیع دو مختلف معاملے ہیں۔ بورڈ کنٹریکٹ ایم۔ ڈی کو خدمات جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو نہیں۔ انھیں ریٹائرڈ ہونے والے ایم۔ ڈی کو نیا کنٹریکٹ دینا ہوگا۔ اس کے لیے پروسیس کرنا ہوگا۔ بورڈ کسی بھی صورت میں یہ اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔ بورڈ کے پاس ساٹھ سالہ مدت پوری کرنے والے قائمقام ایم۔ ڈی کی توسیع دینے کا اختیار نہیں ہے۔ بطور نیو ایم۔ ڈی قواعد و ضوابط کے تحت ان کو بورڈ کنٹریکٹ دے سکتا ہے۔ تین سالہ کنٹریکٹ والے ایم۔ ڈی کو بھی ایس۔ او۔ ای ایکٹ کے تحت توسیع مل سکتی ہے۔ جب تک کہ نیا ایم۔ ڈی نہ آجائے۔ مگر ریٹائرمنٹ والے قائمقام ایم۔ ڈی کو ہر صورت میں گھر جانا ہوگا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک خود ایک قانون دان اور معتبر قانون قانونی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے طاقتور شمشاد اختر کے ہوتے ہوئے نئے بورڈ کی تشکیل کی۔ جو کئی وفاقی وزیر نہ کر سکے۔ بیرسٹر حمدون سبحانی نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز ریٹائرڈ شخص کو توسیع دے کر آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ توسیعِ ملازمت (Extension) درج ذیل قوانین اور قواعد کے تحت منضبط ہے:ایف آر 56 (Fundamental Rule 56)رولز آف بزنس 1973اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایاتتوسیع صرف درج ذیل شرائط کے تحت دی جا سکتی ہے:ریٹائرمنٹ سے پہلے منظور کی جائے۔عوامی مفاد (Public Interest) میں ہو۔وفاقی حکومت کی جانب سے دی جائے۔رولز آف بزنس کے تحت وزیرِ اعظم / وفاقی کابینہ کے ذریعے استعمال کی جائے۔یہ اختیار آئینِ پاکستان کے تحت ایک انتظامی (Executive) اختیار ہے، جو کہ:آرٹیکل 90 (وفاقی حکومت کا انتظامی اختیار)آرٹیکل 99 (وفاقی حکومت کے امور کی انجام دہی)کے تحت استعمال ہوتا ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز وفاقی حکومت نہیں ہے۔بورڈ کسی خودمختار آئینی یا انتظامی اختیار کا حامل نہیں ہے۔لہٰذا:بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس ایف آر 56 کے تحت کسی سول سرونٹ کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کا کوئی دائرۂ اختیار (Jurisdiction) نہیں ہے۔ایسا کوئی اقدام قانوناً کالعدم (Ultra Vires) تصور ہوگا۔

عمران خان کی سیاست ۔اظہر سیداب جو معافیاں مانگ کر ریلیف لے رہا ہے سیاستدانوں کی وکٹ پر کھیلتا سیاست بچ جاتی ،جماعت بچ جاتی اور ووٹ بینک بھی برباد نہ ہوتا ۔ہفتے دس دن بعد یوٹیوبرز اور یوتھیوں پر جو بجلی گرنا ہے نہ گرتی ۔ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین مالکوں سے جتنی معافیاں مانگ لیں اب واپسی ممکن نہیں ۔عمران خان کی کل کمائی یہی ہے جان بچ جائے اور باقی کے دن ٹریان خان کے ساتھ سکون سے گزار لے سیاست کی اجازت اب نہیں ملے گی ۔جھوٹ دھوکہ اور فراڈ سے جو ووٹ بینک بنا تھا مالکوں نے ہی بنا کر دیا تھا ۔اس نے اتنا بڑا سیاسی اثاثہ مالکوں سے سینگ پھنسا کر برباد کر دیا ۔اسی طرح کا ووٹ بینک اور سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنے کیلئے میاں نواز شریف کو بھی دی گئی تھی لیکن انہوں نے گڈ کاپ بیڈ کاپ کا کھیل کامیابی سے کھیلا ۔مالکوں سے سینگ پھنسا کر جمہوریت کا پرچم بلند رکھا اور گڈ کاپ شہباز شریف کے زریعے مالکوں سے بنا کر بھی رکھی ۔عمران خان نے دو فاش غلطیاں کیں ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو شکست دینے کی ٹھانی ۔فوج کو براہ راست نشانہ بنا کر اپنی سیاسی قسمت اسی طرح کھوٹی کر لی جس طرح الطاف حسین نے کی تھی ۔جو ریلیف ملتا نظر آرہا ہے وہ رو رو کر معافیاں مانگنے کے بعد مل رہا ہے مالکوں کو چیلنج کرنے سے نہیں مل رہا ۔نو ستاروں نے بھٹو کو پھانسی گھاٹ پر پہنچا دیا تھا، لیکن نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے انہی نو ستاروں کو ساتھ ملا کر ایم آر ڈی کی تحریک چلائی اور سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ووٹ بینک ہی ایک دوسرے کی دشمنی پر مبنی تھا لیکن دونوں سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے زریعے ایک دوسرے کو تحفظ دیا اور مالکوں کو مسلسل چیلنج بھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست ہی تھی مالکوں نے عمران خان کی شکل میں نیا گھوڑا میدان میں اتارا ۔یہ گھوڑا اصل میں سیاستدان تھا ہی نہیں خچر تھا “گدھے سے تھوڑا بہتر”جنہوں نے مالکوں سے بچانا تھا انہی کو چور ڈاکو کہتا رہا ۔چور ڈاکو تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ والے بھی ایک دوسرے کو کہتے تھے لیکن آج بھی ہائی برڈ نظام میں صدر وزیراعظم بن کر سیاست سیاست کھیل رہے ہیں ۔اس خچر کو آصف علی زرداری نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مولانا فضل الرحمٰن نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مسلم لیگ ن نے بار بار بچانے کی کوشش کی لیکن یہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا لیکن تھا خچر ۔سیاستدانوں کی وکٹ پر اجاتا ایک بڑے ووٹ بینک والی سیاسی جماعت کے طور پر سیاست بچا لیتا اور یوں رو رو کر معافیاں مانگ مانگ کر ریلیف لینے سے بچ جاتا ۔نو مئی کو اس نے جو کچھ کیا ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو جس طرح عاجز کیا اس کو ریلیف مل جانا ہی بہت بڑی چیز ہے ۔سیاست ختم اور قوم کو نیا الطاف حسین مبارک ۔

اسلام آباد کی فضا آج وفا اور غیرت کے جذبات سے معطر تھی، جب گذشتہ جمعہ نمازِ جمعہ کے دوران شہید ہونے والے مومنین کی یاد میں ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ہزاروں عاشقانِ اہلِ بیت علیھم السلام نے شرکت کر کے شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس اجتماع میں ان کے پاکیزہ خون سے تجدیدِ عہد کا ولولہ انگیز مظاہرہ کیا گیا اور حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے کے عزم کو تازہ کیا گیا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved