سنیارٹی کا جنازہ۔۔۔۔۔۔تحریر۔سجاد جرال آزاد کشمیر میں آئی جی پولیس کی تعیناتی کے معاملے نے ایک بار پھر ہمیں سرکاری پروٹوکول، سینیارٹی اور وفاقی روایات کے حسین امتزاج پر غور کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے پنجاب پولیس میں خدمات انجام دینے والے ڈی آئی جی کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ موجودہ آئی جی یاسین قریشی بدستور ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سرکاری طریقۂ کار کے مطابق تقرریاں حکومتِ وقت کا اختیار ہوتی ہیں اور بلاشبہ ہر افسر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور خدمات کی بنیاد پر اہمیت رکھتا ہے۔تاہم سرکاری نظم و ضبط میں ایک اصول “سینیارٹی” بھی کہلاتا ہے، جو فائلوں میں تو بڑی باوقار نظر آتا ہے مگر عملی فیصلوں میں کبھی کبھار شرما سا جاتا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے کہ نئے متوقع آئی جی، موجودہ افسر سے تقریباً دس سال جونیئر ہیں، جبکہ 7 کے قریب پولیس آفیسر ان سے سنیر ہیں اور انکے کورس میٹ آزاد کشمیر میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات ہیں، انکی بطور ائی جی آزاد کشمیر تعیناتی پر ان افسران پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔۔ ؟یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ کیا تجربہ اور سروس اسٹرکچر محض سرکاری کتابچوں کی زینت کے لیے ہوتے ہیں؟یاسین قریشی کی مختصر مدت کی کارکردگی کے حوالے سے مقامی حلقوں میں مثبت رائے پائی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ چند ماہ مزید اپنی ذمہ داریاں انجام دے لیتے تو غالباً سرکاری نظام کی دیواریں کم از کم لرز تو نہ جاتیں۔ آخر پانچ ماہ کی مدت کوئی آئینی بحران تو پیدا نہیں کرتی۔یہ بات بھی بجا ہے کہ کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی ایک قابل اور پیشہ ور افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور ان کی خدمات پر کسی کو اعتراض نہیں۔ مگر سوال فردِ واحد کی قابلیت کا نہیں، بلکہ ادارہ جاتی توازن اور افسران کے وقار کا ہے۔ اگر ایک سینئر افسر کے اوپر واضح طور پر جونیئر افسر تعینات کیا جائے تو اس کا تاثر محض تقرری نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہوتا ہے—اور پیغامات اکثر فائل نوٹنگ سے زیادہ دیرپا اثر رکھتے ہیں۔آزاد کشمیر حکومت، بالخصوص وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس معاملے پر وفاق سے باوقار اور آئینی انداز میں مشاورت کریں، تاکہ سرکاری پروٹوکول کی پاسداری بھی ہو اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی برقرار رہے۔ اختلاف رائے جمہوری حسن ہے، بشرطیکہ وہ مہذب اور اصولی انداز میں پیش کیا جائے۔آخرکار آزاد کشمیر کوئی تجربہ گاہ نہیں جہاں سینیارٹی کو محض رسمی شے سمجھ لیا جائے۔ اگر تقرری ناگزیر ہو تو کم از کم اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ میرٹ، تجربہ اور ادارہ جاتی وقار تینوں پہلو ساتھ ساتھ چلیں—کیونکہ پولیس فورس صرف وردی سے نہیں، اعتماد سے بھی چلتی ہے۔










