تازہ تر ین

پاکستان میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔۔50 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور۔40 فیصد عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور ہو کر شادیوں اور تقریبات میں شرکت سے محروم۔پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریاں ختم زندگی سسکیاں لینے لگی۔پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریاں ختم زندگی سسکیاں لینے لگی۔مڈل کلاس پاکستان میں ختم امیر اور غریب صرف 2 کیٹیگری۔عوام نمک سے روزہ کھولنے پر مجبور 30 فیصد آبادی ایک وقت کی روٹی کو ترسنے لگے۔گیس کی قیمت.. 9411فکسڈ چارجز.. 3100جنرل سلیز ٹیکس…۔۔جنرل سلیز ٹیکس… 2559ٹوٹل بل… 14810 ایسے ہی یہ تمہارا جینا محال کریں گے۔۔دیکھتے جاؤ کہ آگے آگے تمہارے ساتھ یہ کرتے کیا ہیں ۔پاکستانی عوام کے ساتھ دیکھنے جاو تمھارا حال کیا کرینگےتحریک انصاف کا تقاضا اور مستقبل جماعت کا سربراہ عمران کے بعد کونسا۔۔آزاد کشمیر میں جونیئر ای جی کی تعیناتی 7 سئینزز افسران کی بغاوت۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

“صدر زرداری ، خلوت اور جلوت کی ملاقاتوں کا احوال “””کيچپ گرل کے بعد ڈريم گرل “ان دنوں ہر شخص سوشل ميڈيا اور ٹی ٹاک شوز ميں صدر زردری کے جيل ميں گزارے ہوئے وقت ، اور سب جيل قرار ديئے گئے اسپتال کی سرگرميوں پر تبصرے کر رہا ہے جنکا ان دنوں وجود بھی نہيں تھا، صدر زرداری کے عمران خان کے جيل کے حوالے سے بيان کو ليکر پی ٹی آئی کی سوشل ميڈيا ٹيم اور انکی جو پوسٹيں گردش کر رہی ہيں وہ انتہائی ناشائستہ زبان ميں لکھی گئی ہيں ، جو قابل مذمت ہيں ، يہاں يہ وضاحت کردوں کہ ، ميرا تعلق نہ پيپلز پارٹی سے ہے اور نہ ميں صدر زرداری کی حمايت ميں کوئی پوسٹ لکھ رہا ہوں ، آصف زرداری کی ساری خامياں ايک طرف، مبينہ کرپشن کے الزامات کا اس تحرير سے کوئی واسطہ نہيں ہے ،مجھے اندازہ ہے کہ معلومات کا صرف ايک حصہ تحرير کرنے کے بعد پی ٹی آئی کی سوشل ميڈيا ٹيم اس ميدان ميں ضرور کودے گی، پی ٹی آئی والے صبر سے کام ليں ، شائستہ انداز ميں ، صدر زرداری کی جيل کہانی لکھنے کی کوشش ضرور کرونگا ، مگر ميں يہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ صدر زرداری کی “خلوت اور جلوت “کی تمام ملاقاتوں ، جيل ميں محترمہ بے نظير بھٹو کی آمد اور روانگی ، اور انکے پاس آنے والے مھمانوں کی مکمل فہرست سے واقف ہوں ، کم از کم لانڈھی جيل اور سينٹرل جيل کراچی کی حد تک کيونکہ ميں آصف علی زرداری کی ہر پيشی پر جيل کے اندر موجود ہوتا تھا ، مبينہ طور پر تاجر مرتضی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر رقم طلب کرنے کے الزام ميں گرفتار ہوکر سی آئی اے سينٹر ميں تفتيش کے مراحل سے ليکر ، جيل ميں “وينا حيات “سے ملاقاتوں تک ، تما م معاملات سے نہ صرف واقف ہوں ، بلکہ کراچی ميں جتنے عرصہ وہ جيل اور اسپتال رہے اور جو انہيں سہوليات حاصل تھيں اس ميں کسی حکومت يا اسٹبلشمنٹ کی مہربانی نہيں تھی، وہ کمال مہارت انکی ڈيلنگ کے طريقہ کار کا بھی تھا انہيں آدمی اور سسٹم خريدنے کا فن آتا ہے ، اسی لئے صدر زرداری اسٹريٹ اسمارٹ ہونے کی وجہ سے ، بڑے سے بڑے کرپشن کے الزام ، اور جيل ميں سختی کے احکامات کے باوجود پر تعيش زندگی گزارتے تھے ، جيل اسٹاف ، جيل اور اسپتال کے ڈاکٹرز، جيل کسٹڈی لانے اور ليجانے والے اہلکاروں، انٹيلجنس ايجنسيوں کے وہ اہلکار جو انکی نگرانی پر معمور ہوتے تھے ، اسپيشل برانچ کے وہ اہلکار جو جيل اور اسپتال پر معمور ہوتے تھے ، سب کمپرومائز تھے ، وہ انکی مالی مدد پابندی سے کيا کرتے تھے، اور جيل سے رہائی کے بعد بھی اگر کوئی رابطہ کرتا تو اسکا خيال رکھتے تھے ، اسلئے مياں نواز شريف اور عمران خان سے انکا موازنہ کرنا درست نہيں ہے ، ميں نے نواز شريف کی جيل ميں پريشانی ، اور خوف کو لانڈھی جيل ميں بہت قريب سے ديکھا ہے ، اسکے مقابلہ ميں صدر زرداری سے تمام تر اختلافات کے باوجود انہوں نے جيل ميں جتنا عرصہ گزارا اس ميں ، انہوں نے جيل کو اپنے اوپر حاوی نہيں ہونے ديا ، اگر صدر زرداری نے مبينہ طور پر اربوں روپے کمائے تو چند لاکھ خرچ بھی کئے ،جيل کی زرداری بيرک کا “لنگر اور پيری مریدی”

اسی لئے مشہور تھی ، پھر آپ اس بات کو بھی تسليم کريں کہ صدر زرداری ميں لچک اور انکے کمپرو مائزنگ مزاج نے بھی جيل ميں انکے لئے آسانياں پيدا کيں ، يہ لچک آپ کو عمران خان ميں نظر نہيں آئے گی پاکستان ميں سياست ، اصولوں کے ساتھ نہيں بلکہ لچک اور اسٹبلشمنٹ کی مرضی اور حمايت سے چلتی ہے ، مجھے معلومات کا صرف ايک حصہ وہ بھی محطاط طريقے سے لکھنے کا خيال ، صحافی عامر متين کی فرزانہ راجہ کے حوالے سے تحرير “کيچپ گرل “پڑھ کر آيا، وہ بھی پيکا ايکٹ 2025 کو سامنے رکھ کر صدر زرداری سے جيل اور سب جيل ميں ملاقات کے لئے آنے والی خواتين کون ہوتی تھيں اور وہ انکے لئے کس کے پيغامات لاتی تھيں ، ان ملاقاتوں کا اہتمام کرنے والے صدر زرداری کے دوست اور دست راز کون تھے ؟ محترمہ بے نظير بھٹو جب مقرہ دن کے علاوہ لانڈھی جيل پہنچی تو وہ کس بات پر ناراض ہوکر واپس لوٹ گئيں ،؟؟صدر زرداری کے سابقہ دوست ڈاکٹر ذولفقار مرزا کو کيوں ناعبدللہ ھارون روڈ پر واقع پرانے امريکی قونصليٹ کے عقب ميں انسداد دہشت گردی کی عدالت ميں ، ڈاکٹر فہميدہ مرزا صدر زرداری سے ملاقات کے لئے کيوں آتی تھيں ،

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹھلیاں انٹرچینج پر واقع غیر قانونی ہاوسنگ سوسائیٹی اینکرایج اسلام آباد فیز 2 کا سائیٹ آفس سیل

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹھلیاں انٹرچینج پر واقع غیر قانونی ہاوسنگ سوسائیٹی اینکرایج اسلام آباد فیز 2 کا سائیٹ آفس سیل کرتے ہوئے اس کی لانچنگ کی تقریب روک دی۔ ایک نیوز ویب سائیٹ کے مطابق ہاوسنگ سوسائیٹی کے پاس این او سی نہیں تھا اور اس نے سوشل میڈیا پر تشہیر اور مارکیٹنگ شروع کر رکھی تھی۔

ایک بنگلہ دیشی نوجوان کی یہ بات حیرت انگیز تھی “ہم پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ یکساں اور بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں ، آپ دونوں نے ہم سے ایک ہی طرح کا سلوک کیا ، ایک 1971 کا ذمہ دار ہے تو دوسرا 2024 میں قتل و غارت گری کا ، ہمیں دونوں زخم لگے ہیں مگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔”عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کے 5 اگست 2024 کو بھارت چلے جانے سے عام عوام میں بھارت مخالف جذبات ہیں مگر یہ جذبات بھارتی حکومت مخالف ہیں عوام مخالف نہیں ۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4096 کلومیٹر لمبی زمینی سرحد ہے اور پدما ، بھراما پترا ، ٹیسٹا سمیت 54 چھوٹے بڑے دریا دونوں ملکوں کو جوڑتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی تجارت 14 سے 16 ارب ڈالرز تک کی ہے۔ دونوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ میں سارے انڈے رکھنے کی پالیسی مہنگی پڑی ہے مگر وہ وآپسی کے راستے بنا رہا ہے۔ بھارت کو احساس ہوگیا ہے کہ اس کی پالیسی ٹھیک نہیں تھی یا کم ازکم بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بنگلہ دیش کی نئی حقیقت ہے اسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔دوسری طرف وزیراعظم الیکٹ طارق رحمان سے جب اس نمائندے نے پوچھا کہ ڈھاکہ میں لوگ شیخ حسینہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا آپ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔ اس پر انہوں نے بہت محتاط انداز میں مختصر جواب دیا کہ “ یہ عدالتی عمل پر منحصر ہے”۔طارق رحمان بہت منجھے ہوئے اور محتاط سیاستدان کے طور پر جواب دے رہے تھے۔ وہ کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی پاپولسٹ طریقہ کار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے بارے میں ایک بھی تنقیدی لفظ نہیں بولا جو ان کے بڑے پن کی علامت کے طور پر واضع ہوا ہے۔اس سارے عمل میں اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے لیے دروازے کھلے ہیں ڈھاکہ میں پاکستانیوں کو لوگ دیکھ کر خوشی کا اظہارکرتے ہیں۔مجھے ڈھاکہ میں ایک پاکستانی ائیر فورس کی 1958 میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والی بیٹی افروزہ بیگم ملیں۔ وہ اپنی دو بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ ایک ریستوران میں کھانا کھانے آئیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح بنگلہ دیش کے مطیع الرحمان کی طرف سے پاکستانی طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کے بعد ان سب کو پکڑا گیا تاہم اس تلخ یاد کے ساتھ اس کے پاس حسین یادیں بھی تھیں۔ اسے کراچی اور پشاور کے کھانے اور جگہیں یاد تھیں۔ “ ہم 1974 میں پاکستان سے آئے مگر دل آج بھی ادھر ہی ہے، اسی لیے ڈھاکہ میں پشاوری کچن ریستوران کا نام سنا تو یہاں کھانا کھاکر یادیں تازہ کرنے آگئے ۔” بنگلہ دیش میں مشکل وقت میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران صدیقی کی طرف سے کیے گئے کام دکھتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر عمران حیدر اور ان کی ٹیم بھی محنت کررہی ہے تاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں اضافہ ہو۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی مجموعی تجارت 865 ملین ڈالرز ہے، پاکستانی سفارتکار سماجی تعلقات کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی توجہ دے رہے ہیں ۔پاکستان میں پالیسی ساز بنگلہ دیش کو بھارت کے لینز سے دیکھنے کی بجائے ایک ایسے بھائی کے طور پر دیکھیں جو آزاد و خودمختار ہے جس کا اپنا کنبہ اور اپنے تعلقات ہیں۔ بھارتی پالیسی سازوں کو بھی بنگلہ دیش کو پاکستانی لینز سے دیکھنے کی بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جس نے سارک شروع کی اور وہ اسے دوبارہ منظم کرنا چاہتا ہے۔“ ہم حکومت کی تشکیل کے بعد سارک کو دوبارہ منظم کرنے پر کام کریں گے کیونکہ یہ ہمارا (بنگلہ دیش کا ) اقدام تھا ۔” طارق رحمان نے پریس کانفرنس میں اس نمائندے کے سوال کے جواب میں کہا ۔بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان کی پہلی ترجیح بنگلہ دیش اور اسکے مفادات ہیں

۔ وہ پاکستان اور بھارت کے موضوعات کی بجائے “ سب سے پہلے بنگلہ دیش” پر توجہ دے رہے ہیں ۔ان کی اس سوچ میں نفرت نظر نہیں آرہی حالانکہ انکی والد کو قتل کیا گیا اور والدہ طویل جلاوطنی کے بعد وطن وآپس آئیں تو علالت میں وفات پاگئیں وہ خود بھی جلاوطنی کا شکار رہے۔ اتنے مصائب کے بعد بھی مخالفین کے بارے میں ایک لفظ تک نہ بولنا عملی طور پر بڑے دل کی بات ہے۔داخلی سیاست میں وہ اپنے مخالف جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کے گھر کھانے پر جارہے ہیں اور شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے نکالنے کی تحریک چلانے والے نوجوانوں کی نمائندہ جماعت نیشنل سیٹزن پارٹی کے نومنتخب رکن پارلیمینٹ اور سرکردہ رہنما ناشاد اسلام سے بھی ملاقات کر رہے ہیں کیونکہ شائد انہیں معلوم ہے کہ کسی ملک کی تعمیرنو کے لیے مخالفین کو عزت دینا پڑتی ہے۔یہ وہ سبق ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ان سے سیکھنا ہوگا۔ امید ہے کہ وہ سارک کو دوبارہ متحرک کرکے بنگلہ دیش کو پاک بھارت تقسیم کی بجائے محبت کا مرکز بناتے ہوئے باہمی علاقائی مفادات کو یکجا کریں گے تاکہ خطے میں امن کے ساتھ ترقی آسکے ۔

*_وزیراعظم آفس_**_میڈیا ونگ_**وزیراعظم محمد شہباز شریف کا رمضان المبارک 1447 (19فروری 2026) پر پیغام*پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ماہ رمضان المبارک کے بابرکت اور روح پرور آغاز پر دل کی گہرائیوں سے اظہار تہنیت اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔بے شک یہ عظیم ماہ مقدس اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے جو مسلمانوں کو خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت اور تقویٰ و پرہیزگاری، اور روحانی پاکیزگی جیسی مذہبی اقدار کو ترو تازہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔رمضان المبارک انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ شعور دیتا ہے کہ عبادت کی حقیقی روح کردار کی اصلاح، باہمی ایثار و احساس، معاشرتی ذمہ داریوں اور حقوق العباد کا احترام ہے۔ روزہ محض مذہبی فریضہ کی ادائیگی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی میں صبر، نظم و ضبط اور احساس ذمہ داری کی عملی تربیت ہے۔ بحیثیت قوم بھی رمضان المبارک ہمیں باہمی کاوشوں سے اجتماعی خیر سگالی اور بالخصوص کمزور طبقہ کی فلاح و بہبود کا پیغام دیتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اپنے کمزور طبقات کی ہر ممکن معاونت کے لئے رمضان پیکج کا آغاز کیا ہے۔ جسکے تحت مستحق افراد کو باعزت طریقے سے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مالی امداد منتقل ہو جاۓ گی تاکہ تمام گھرانے رمضان میں سحر و افطار کے دستر خوان کی رونقیں قائم رکھ سکیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں قران پاک کی تعلیمات ، اسوہ حسنہ اور اس مقدس مہینے کی حقیقی عملی تربیت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ اس ماہ مقدس کے آغاز پر ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری انفرادی اور اجتماعی عبادات اور نیک اعمال کو شرف قبولیت بخشے اور پاکستان کو امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔ آمین!

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارلیمانی وفد کی ملاقات۔ وفد میں سابق وزیرِ اعظم سردار تنویر الیاس بھی موجود تھے۔وفد نے آزاد جموں و کشمیر کی مجموعی صورتحال سے صدرِ پاکستان کو آگاہ کیا۔ وفد نے صدر زرداری سے پارٹی معاملات پر رہنمائی طلب کی اور آئندہ اقدامات پر مشاورت کی۔ ملاقات میں مرحوم بیرسٹر سلطان محمود، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ صدر زرداری نے بھارتی غیر قانونی تسلط میں مقیم کشمیری عوام کے تحفظ اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے قومی یکجہتی اور پختہ موقف پر زور دیا۔

پی ٹی آئی کو تتر بتر ہوکر انتشار کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے عمران خان اور فیملی کے پاس دستیاب آپشنز ۔۔۔۔۔۔اس وقت پی ٹی آئی مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے ۔۔۔اسٹیبلشمنٹ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو مکمل طور پر کمپرومائزڈ کرنے کے بعد کے پی کے میں کامیابی سے نفاق کے بیج ڈال کر سہیل خان آفریدی کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کررہی ہے ۔۔ایک طرف عمران خان صاحب کی صحت اور زندگی کے حوالے سے حقیقی خطرات اور خدشات ہیں تو دوسری طرف عمران خان کی حقیقی آزادی کے لیے تاریخی جہدوجہد کو درپیش چیلنجز ۔۔۔چومکھی لڑائی کے اس مشکل ترین دور میں قوم کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچانے۔۔۔اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات مطابق پی ٹی آئی کو بکھرنے سے بچانے کے لیے فوری فیصلوں کی ضرورت ہے ۔۔۔عمران خان اور علیمہ خان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اب علیمہ خان کو سیاست سنبھالنی ہوگی اور اعلانیہ پی ٹی آئی اور سہیل خان آفریدی کی سرپرستی کرنی ہوگی ورنہ علی امین گنڈاپور سے لیکر اسد قیصر علی محمد خان جیسے پشت پر وار کرنے والے ناپاک عزائم میں کامیاب بھی ہوسکتے ہیں جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی مکمل طور پر کرنل صاحبان کی جھولی میں جاچکے۔۔۔ اس موقع پر سہیل خان آفریدی کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے۔۔۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرنے کے بعد علیمہ خان اور سہیل خان آفریدی نے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں بھرپور رابط عوام مہم چلانی ہوگی سہیل خان آفریدی کو قائم مقام پارٹی چیئرمین بناکر گلگت بلتستان کشمیر اور کوئٹہ کے دورے کروائے جائیں ورنہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی باقیات اپنی چالوں میں کامیاب ہو جائیں گی اور ھم اپنے عظیم لیڈر کو خدانخواستہ کھودیں گے

جسٹس(ریٹائرڈ)غلام مصطفی مغل چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر تعینات نوٹیفیکیشن جاریاسلام آباد( ) 18 فروری 2026وفاقی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کی نام بحثیت چیف الیکشن کمشنر آزادجموں وکشمیر کی منظوری دے دی ہے ان کی تعیناتی کا عرصہ پانچ سالہ مدت کیلئے ہو گااس سلسلے میں باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل قبل ازیں بھی جب وہ آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے آزادکشمیر کے چیف الیکشن کمشنر رہ چکے ہیں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved