
پاکستان نے بگرام ایئربیس تباہ کر دی ،بیس سے ملحقہ علاقوں میں امریکی فوج کے چھوڑے ہوئے تین اسلحہ ڈپو مکمل تباہ ،اس وقت افغانستان کا کوئی ائر پورٹ اسرائیل،بھارت یا امریکی جیٹ طیاروں کی لینڈنگ کے قابل نہیں رہا ۔
ایران نے دو چیزوں سے مار کھائی ہے ایک تو داخلی سیکیورٹی پہ توجہ نہیں دی۔۔ دو دن کی جنگ میں اپنا سپریم لیڈر گنوا بیٹھے۔۔ سیکورٹی میں اتنی زیادہ لیکج ہے کہ حد نہیں پتہ نہیں ایرانی کیا کرتے رہے ابتک ۔۔ ایران اسرائیل کی پہلی جنگ میں تقریبا ساری اہم قیادت راستے سے ہٹا دی گئی۔۔ صف اول کے سائنسدان چن چن کر ہلاک کر دیے گئے۔۔ ارمی چیف مار دیا گیا تو پیچھے کیا بچا ۔۔ ویسے بھی ایران غداروں کی سرزمین ہے۔۔ یہاں غداری اور جاسوسی بہت زیادہ ہاں پائی جاتی ہے۔۔ دوسری خامی یہ کہ مضبوط ائیر فورس نہیں بنائی۔۔ ایٹمی قوت کے حصول پر ساری توجہ مرکوز رکھی میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی لیکن ایئر فورس کو مضبوط نہیں کیا۔۔ جس کا نقصان وہ اج برداشت کررہا ہے۔۔ یہ ہوتی ہے پالیسی کی ناکامی ۔۔ ایران کی سوچ یہ رہی کہ اسرائیل ایران سے 1500 سے 1800 کلومیٹر دور ہے، اسرائیل اتنی دور سے ہم پر فضائی حملہ نہیں کر سکتا نہ ہی ایران اتنی دور جاکر فضائی حملہ کرسکتا ہے۔۔ فیصلہ کن ہتھیار میزائل ثابت ہوں گے ۔۔ اس لئے ائیر فورس پہ توجہ نہیں دی بلکہ اس نے لانگ رینج میزائل بنانے کی دوڑ میں دوڑتا رہا ۔۔اب ایران کا حال یہ ہوا پڑا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے ایران کی فضاؤں میں دناتے پھر رہے ہیں۔۔ جہاں چاہتے ہیں اٹیک کر دیتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ایران کی فضائیں بے بسی کی تصویر پیش کررہی ہیں۔۔ ایسی صورتحال میں میزائل ٹیکنالوجی یا ایٹمی قوت کیا کام آسکتی ہے ۔۔ سب سے بڑا خسارہ تو قیادت کھونے کی صورت اٹھا چکے ہیں ۔۔ یہ ایران کا لوز پول تھا جس کا اسرائیل اور امریکہ کو بخوبی ادراک تھا جس کا فایدہ اٹھاکر دو دن میں ہی سپریم لیڈر ہلاک کردیا ۔۔

آیت اللہ علی رضا اعرافی نئے سپریم لیڈر منتخب۔۔نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگانِ رہبری کرتی ہے۔ یعنی ہروقت88خامنہ ائ موجود ہیںجب ان میں ایک لیڈر کم ہو جائے تو ایک نئے عالم کو شوری نگہبان نامزد کرتاہے۔۔شوری نگہبان 12 افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔جس میں 6 براہ راست سپریم لیڈر منتخب کرتا ہے۔۔عدلیہ کا سربراہ پارلیمنٹ کو 6 افراد کے نام دیتا ہے، جو پارلیمنٹ سے منظور ہوتا ہے،عدلیہ کا سربراہ بھی سپریم لیڈر منتخب کرتاہے۔۔جب ایرانی پارلیمنٹ اور شوری نگہبان کی رائے ایک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔تو پھر مجمع تشخیص مصلحت نظام فیصلہ کرتا ہے۔۔اس میں تقریباً 60 افراد ہوتے ہیں، جس میں 40 سے زائد افراد سپریم لیڈر کو منتخب کرتے ہیں۔۔تمام ملک انہی 88 مجلس خبرگان کی جماعت کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔۔یہ کنفرم ہے کہ ایران میں رجیم چینج ممکن نہیں، البتہ عوامی فسادات کا خدشہ ضرور ہے۔۔۔۔۔اس میں سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے تمام شخص پرستوں کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ہے، جو کہہ رہے تھے خامنہ شہید ہوگیا تو رجیم چینج ہوگیا، یعنی وہ ایک ہی فرد کو ایران سمجھ رہے تھے۔۔

پاکستان اور ایران: اخوت، ایمان اور یکجہتی کا رشتہپاکستان میں بسنے والے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، چاہے وہ بچے ہوں یا بزرگ، اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ ایک اسلامی برادر ملک بھی ہے، جس کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط بندھنوں سے جڑا ہوا ہے۔اسلام ہمیں اخوت، محبت اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہی جذبہ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے اور مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان اور ایران کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور تعاون پر قائم ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف مواقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔

عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان محبت اور خیرسگالی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔آج کے دور میں امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اتحاد اور باہمی سمجھ بوجھ ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔ ہمارا دین ہمیں امن، بھائی چارے اور انصاف کا درس دیتا ہے، اور یہی پیغام ہمیں دنیا تک پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں محبت، اتحاد اور اتفاق کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور تمام اسلامی ممالک کو امن و سلامتی نصیب فرمائے۔ آمین۔
چین اور روس اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ایران کو جارحیت سے بچانے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ ہی اب واحد سپر پاور ہے- برکس بتدریج ختم ہوگی۔ ایس سی او کا مستقبل بھی مشکوک ہے۔ ہم بہت سے معاملات میں یک قطبی دنیا میں واپس آ گئے ہیں۔ عبدالباسط، سابق سفیر

مسعود پزشکیان، صدرِ مملکتِ جمهوری اسلامی ایران، نے اپنے ویڈیو پیغام میں رہبرِ انقلاب کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی اور اعلان کیا کہ عبوری مجلسِ قیادت نے اپنے فرائض باقاعدہ طور پر سنبھال لیے ہیں۔صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ مسلح افواجِ جمہوری اسلامی ایران پوری قوت کے ساتھ دشمنوں کے اڈوں کو نیست و نابود کرنے کے اقدامات میں مصروف ہیں اور آئندہ بھی بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی، اور دشمنوں کو ہمیشہ کی طرح مایوس کر دیں گی۔










