
بڑھا ہے جب بھی ستم اپنی انتہا کی طرفزمانہ دیکھنے لگتا ہے کربلا کی طرفہوا بدل بھی تو سکتی ہے کیا خبر تھی انہیںجو لوگ ہو گئے چلتی ہوئی ہوا کی طرفمنافقت ہے کہ تلواریں ہوں یزید کے ساتھاور اپنے دل میں رہے سبطِ مصطفی کی طرفسلیم کوثر
آہ ڈاکٹر عبد الحی بلوچ 25 فروری 2022ءکو معمول کے مطابق دوستوں کے ساتھ لنچ کر کے گھر پہنچا تو نیند نے حملہ کر دیا ۔خیال تھا کہ آج کئی ماہ بعد قیلولہ کروں گا۔لیکن احباب کی فون کالز نے نیند کو کوسوں دور کر دیا۔ماضی میں جب ہمیں نیند نہیں آتی تھی تو کسی کتاب کا مطالعہ کر لیا کرتا تھا۔اب کتاب کا متبادل موبائل فون ہے۔جہاں پر دنیا بھر کی تازہ ترین اطلاعات آپ کی چشم ابرو کی منتظر رہتی ہیں۔کبھی نیند، کبھی موبائل اور کتاب کے کاغذ کی خوشبو میں شام کے سات بج گئے۔ تو کمر سیدھی کر کے ایک مرتبہ موبائل فون کے واٹس ایپ میں آئے ہوئے نوٹیفیکیشن دیکھنے لگا۔تو بزرگ سیاستدان، سابق سینیٹر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے کی افسوس ناک خبر پڑھی

۔تو نظروں کے سامنے ان کا محبت بھرا چہرہ سامنے آ گیا۔ کہ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ۔تو یوں لگتا تھا کہ وہ پاکستان کو روشن خیال اور اجلا دیکھنا چاہتے تھے۔گفتگو کرتے ہوئے ان کے لہجے میں جو تلخی دیکھنے کو ملتی۔اس کو الفاظ میں قلم بند نہیں کیا جا سکتا ۔وہ ہمشیہ کہتے۔بلوچستان کے عوام کب تک محروم رہیں گے۔خاص طور پر وہ مشرف دور میں بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذکر پر دل گرفتہ نظر آتے۔ملتان میں ڈاکٹر عبد الحی بلوچ کا ٹھکانہ پہلے سید قسور گردیزی کا گھرانہ تھا۔ان کے انتقال کے بعد سید زاہد حسین گردیزی نے ان کی کئی برس تک میزبانی کی۔جب ان کا تواتر کے ساتھ ملتان آنا جانا ہوا تو پھر ان کے میزبانوں میں ایک نام کامران تھہیم کا اضافہ ہوا۔زاہد حسین گردیزی اور کامران تھہیم ان سے بے لوث محبت کرتے تھے۔خاص طور پر سید قسور گردیزی کے تمام صاحبزادے اکثر اپنے گھروں یا کسی ہوٹل میں ان سے مکالمے کی سبیل پیدا کرتے رہتے۔ وہ اکثر کہتے کہ ملتان اور بلوچستان کے عوام کا مزاج ملتا جلتا ہے۔دونوں علاقوں کے لوگ اپنے حقوق کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ان علاقوں کے عوام کی جھولیاں خالی ہیں۔ڈاکٹر عبدالحی بلوچ یکم فروری 1946 کو بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پیدا ہوئے آبائ علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاو میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔دوران تعلیم ہی انھوں نے طلبہ سیاست کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا۔اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔1970 کے عام انتخابات میں انھوں نے نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور خان آف قلات کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973 کے آئین پر انھوں انھوں یہ کہہ کر دستخط نہ کئے

۔کہ تک آئین میں محروم طبقات کے لیے کچھ نہیں کیا جائے گا۔تو میں اس پر دستخط نہیں کروں گا۔نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد ہونے کے بعد انہوں نے 1988 میں دیگر قوم پرست قیادت کے ساتھ مل کر بلوچستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی۔ 1996 میں اسی پارٹی کے ٹکٹ پر سینٹ کے رکن منتخب ہوئے۔2003 سے لے کر 2018ء تک نیشنل پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔وہ اسی پارٹی کے سربراہ بھی بنے۔بعد میں اختلافات کے باعث مستعفی ہو کر اپنی سیاسی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک کی بنیاد رکھی۔وہ گزشتہ دو عشروں سے تواتر سے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل کو اجاگر کر رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اب ان کا زیادہ وقت انہی علاقوں میں مکالمہ کرتے ہوئے گزرتا۔وہ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔کہ اپنے علاقے کے علاوہ بھی ہر جگہ پر سڑکوں پر پیدل گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا ان کی گھٹی میں شامل تھا۔اس لئے ان گھل مل کر تازگی محسوس کرتے۔بعض اوقات وہ عوام کا مقدمہ لڑتے ہوئے تلخ بھی ہو جاتے۔کہ کہتے تھے کہ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔۔موجودہ حکومت سے کبھی خوش نہ ہوئے۔اور اکثر کہتے کہ جب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے میں ایسی حکومت کے خلاف کلمہ حق بلند کرتا رہوں گا۔2018ء میں جب انھیں جالب امن ایوارڈ سے نوازا گیا تو اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز کے ساتھ انصاف اس وقت کر سکوں گا۔جب بلوچستان کے پرآشوب علاقوں میں امن قائم ہو گا۔ایک مرتبہ جب دوستوں کی منڈلی سید زاہد حسین گردیزی کے گھر لگی ہوئی تھی۔تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے 1973 کے آئین پر دستخط کیوں نہ کئے۔کہنے لگے تب بھی مجھے اس بات کا احساس تھا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا تھا تو تب میں نے نواب خیر بخش مری کے موقف اور نظریہ کی تائید کرتے ہوئے دستخط نہ کئے۔اب جب بھی حکمران آئین میں تبدیلی کرتے ہیں تو مجھے آئین پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ درست لگتا ہے۔عام طور پر ڈاکٹر عبدالحی بلوچ سادہ لباس اور خوش مزاج تھے۔ہر ملنے والے مسکرا کر استقبال کرتے۔

وہ بلوچستان کے مجبور و محکوم عوام کی آخری امید تھے ۔جنہوں نے اپنے آپ کو ان کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ملتان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکثر یہاں کے احباب کی دعوت ہر تشریف لے آتے۔انھوں نے آخری سفر بھی جنوبی پنجاب کی جانب کیا۔کوئٹہ سے فیصل آباد جاتے ہوئے جلال پور پیروالہ کے قریب ڈرائیور کی غفلت کے حادثے کا شکار ہو گئے۔اور موقعہ پر جاں بحق ہو گئے۔ ان کی موت بے سہارا اور اپنے حقوق سے محروم طبقات کے لیے کسی سانحہ سے کم نہیں۔کہ ملکی سیاست میں ان جیسا نڈر اور بے باک سیاست دان اب کہاں دیکھنے کو ملے گا۔جو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سادہ روٹی اور چنے کھا لیتا تھا۔کئی بار جیل یاترا کی۔تشدد کا نشانہ بنے۔لیکن ان کے عزم وہمت میں کوئی کمی نہ آئ۔جب بھی کسی حکومتی جبر کا شکار ہوتے۔وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنے نظریات پر ڈٹ جاتے۔

سی ڈی اے کا بڑا فیصلہ، غوری ٹاؤن فیز 7 کی غیرقانونی تعمیرات گرانے اور تمام کام فوری روکنے کا حکماسلام آباد ہائی وے پر واقع غوری ٹاؤن فیز 7 کے خلاف کارروائی، غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیم میں جاری تعمیراتی کام فوری بند کرنے اور تمام عمارتیں 15 دن میں گرانے کا حکم جاری۔ سی ڈی اے کے مطابق غوری ٹاؤن فیز 7 کی تعمیرات CDA آرڈیننس 1960، ICT زوننگ ریگولیشن 1992 اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2020 کی خلاف ورزی ہیں۔جاری سرکلر کے مطابق حکم نہ ماننے کی صورت میں سی ڈی اے پولیس فورس کے ذریعے زبردستی کارروائی کرے گا اور تمام اخراجات متعلقہ ذمہ داران سے وصول کیے جائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ، ایس ایس پی اسلام آباد، ڈی جی بی اینڈ ایچ سی اور ڈی جی انفورسمنٹ کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق غیرقانونی تعمیرات کی رجسٹریاں اور انتقالِ اراضی روکنے کی بھی ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ شہر میں غیرقانونی اور غیرمنظور شدہ ہاؤسنگ اسکیمیں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی.#sardarmohsinzai
مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا مشترکہ اجلاس مورخہ 2 مارچ 2026 بروز پیر سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، ترجمان قومی اسمبلی مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت آصف علی زرداری خطاب کریں گے، ترجمان قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال حال کے پیش نظر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں کسی بھی غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہو گا، ترجمان قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس کے موقع پر مہمانوں کی انٹری پر پابندی عائد کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلی موجودہ صورتحال کے پیش نظر غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہو گا، ترجمان قومی اسمبلی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے معزز اراکین پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس کے موقع پر اپنے ساتھ کوئی بھی مہمان نہ لانے کی درخواست کی گئی ہے، ترجمان قومی اسمبلیپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کوریج کے لیے صرف اُن صحافی حضرات کی انٹری ہو گی جن کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ کا 2026 کا نیا کارآمد پریس گیلری کارڈ موجود ہو گا،

ترجمان قومی اسمبلی ہر چینل سے صرف ایک کیمرہ مین کو کوریج کی اجازت ہو گی جس کے کوائف متعلقہ ادارے نے ارسال کیے ہونگے، ترجمان قومی اسمبلی کیمرہ مین حضرات اپنی مخصوص الاٹ کردہ جگہ سے کوریج کر سکیں گے اور غیر متعلقہ جگہوں پر کسی بھی چینل کے کیمرہ کو کوریج کی اجازت نہیں ہو گی، ترجمان قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس کے موقع پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے یہ اقدامات سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اُٹھائے گے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی موجودہ صورتحال کے پیش نظر میڈیا کے نمائندوں سے تعاون کی درخواست کی جاتی ہے، ترجمان قومی اسمبلی
قطر کا ایرانی حملے کے بعد پاکستان سے رابطہ پاکستان نے قطر کو وہی جواب دیا جو قطر نے پاکستان کو دیا تھا امیر قطر نے وزیراعظم کو الجزیرہ سے متعلق کہا تھا کہ اسکی ایڈیٹوریل پالیسی آزاد اور خودمختار ہے وہ آپ کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کو حریت پسند لکھیں یا انکو گوریلفائی کریں ہم کچھ نہیں کرسکتے پاکستان نے قطر کو بھی یہی جواب دیا کہ ایران خود مختار ملک ہے وہ آپ پر حملہ کرے یا کچھ بھی ہم کچھ نہیں کرسکتے اور نہ آپ کا ہمارے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ ہے جن کے ساتھ آپ کا دفاعی معاہدہ ہے وہ جانیں اور ایران پاکستان صرف سعودی عرب کا تحفظ کرے گا کیونکہ اسکا دفاع پاکستان کا دفاع ہے۔










