تازہ تر ین

شھباز شریف نے 24 کروڑ عوام پر رمضان المبارک کی رات پٹرول بم گرا دیا۔فارم 47 کی حکومت اس سے قبل ایک لیٹر پٹرول پر 160 روپے ٹیکس لے رھی ھے۔۔ وزیر اعطم ھاوس کی وزیر اعظم اور سکواڈ کی گاڑیاں جو وزیر اعظم کے زیر استعمال ھے ماہانہ ایک ارب روپے سے زائد پٹرول استعمال کرتی۔۔۔۔پٹرول پمپ مالکان کو کھربوں روپے سے نواز دیا گیا۔امریکا کی فوج بھی جنگ کے خلاف ۔ ٹرمپ پر عدم اعتماد۔۔پاکستان کراچی ایئرپورٹ لاری اڈہ بن چکا۔۔روس میدان جنگ میں کود پڑا ایران کو مدد فراہم۔۔ایران پر حملے جاری جبکہ دوسری جانب ایران بھی اپنے اہداف حاصل کرنے لگا۔شمالی کوریا: نئے بحری جنگی جہاز کا معائنہ اور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سپیڈ کی تباہیاں،معافی دے دیں۔۔۔محاسبہناصر جمالروز یہی رونا ہے کس کے ساتھ گزاریں دن اور راتسارے! ہمارے دشمن ٹھہرے، سورج ہو کہ ستارہ ہو(رام ریاض)ہمارے وکٹ کیپر، محمود ٹوانہ نے کیچ ڈراب کردیا۔ جلالی کوچ، بابائے کرکٹ جھنگ فیاض خان مرحوم کی پنجابی میں بھاری آواز گونجی۔۔۔ محمود یہ کیا کردیا۔۔۔ بذلہ سنج، شرارتی وکٹ کیپر نے باآوازِ بلند جواب دیا۔۔۔ جناب، کیچ کو چھوڑیں پھرتیاں دیکھیں۔آج، آپ یہ جملہ شہباز سپیڈ سے لیکر محسن نقوی سپیڈ، حکومت سے لکیر ایس۔ آئی۔ ایف سی سپیڈ، پر جابجا سنیں گے۔بے نظیر نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ پھر آصف زرداری سے لیکر بلاول زرداری نے پارٹی سمیت اس ریاست، ملک، آئین اور عوام سے خوب انتقام لیا۔یہاں تو آمریت بھی انتقام لیتی ہے۔ شریفوں سے لکیر ’’باجی مریم‘‘ عمران خان سے لیکر بابو ازم اور حُفاظ سے لیکر محسن نقوی اور واڈا تک دیکھ لیں، کوئی کمی نظر نہیں آئے گی۔ میاں شہباز شریف اور محسن نقوی اور ان کی سپیڈ دیکھ کر ’’رند لکھنوی‘‘ کا یہ شعر بے اختیار پڑھنے کو دل چاہتا ہے کہآ، عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاںتو ہائے گُل پُکار میں چلائوں ہائے دلوزیراعظم شہباز شریف کی اتنی سپیڈ ہے۔ وہ آصف زرداری کا گریبان پکڑ کر انھیں لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے والے تھے۔ان کا پیٹ پھاڑ کر مال برآمد کرنے والے تھے۔آج کل وہ، آصف اور بلاول زرداری کی بہن آصفہ کے لئے چھتری پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔دو، دو درجن وزیر بنانے کے بعد، انھیں سادہ ناشتہ کروا کر قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ میری کفایت شعاری دیکھو۔

ہمارے دوست پہلے پنجاب سے مرکز میں شہباز شریف امپورٹ کرکے لائے، پھر محسن نقوی کو امپورٹ کیا۔دونوں ایک ہی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ مینجمنٹ اور میڈیا مینجمنٹ سٹائل، ایک ہی ہے۔ماشاء اللہ، دونوں ہی مرکز میں بُرے طریقے سے پٹنے والی سپیڈ فلم ثابت ہوئے ہیں۔ایک ہی طرح کا سکرپٹ اور 12 مصالحے تھے۔اس کے باوجود آجکل، باجی مریم بھی، اسی یونیورسٹی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کررہی ہیں۔ اللہ خیر ہی کرے۔ابھی میں نے سابقہ نگران’’خدائی تحفے‘‘ کی فیوض و برکات پر روشنی نہیں ڈالی۔محسن نقوی نے نگران وزیراعلیٰ کے طور پر جو کیا، اُس کا آڈٹ تو وقت آنے پر ہوگا۔ بہرحال، وہ عمران خان کے وسیم اکرم پلس سے پھر بھی کروڑ درجے بہتر تھے۔ جن کا فیس، فردوس عاشق اعوان تھیں۔۔۔ایسے میںفرح گوگی کا ذکر کیا کرنا۔۔۔؟محسن نقوی، صوبے ہی میں رہتے تو بھرم رہ جاتا۔ مگر اسلام آباد کی کشش نے بڑے بڑوں کو رسوا کیا ہے۔مارگلہ ایونیو سے لکیر ایف۔ ایٹ اور سرینا کے سگنل فری منصوبے، قذافی اسٹیڈیم سے لیکر کراچی اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے پروجیکٹ، آرکیٹیکٹ، معیار، اور اربوں روپے کے بربادی کے منصوبے ہیں۔ایف۔ ایٹ طیب اردوان منصوبے پر پڑنے والا بدترین گڑھا کام کا معیار بتا رہا ہے۔حالانکہ ابھی افتتاح کا ربن اور پھول بھی ابھی تک نہیں مرجھایا تھا۔ یہاں قوم کے اربوں روپے، انتہائی بدترین ڈیزائن میں جھونک دیئے گئے۔

ایسے ہی سرینا انڈرپاس ہے۔مضحکہ خیز یوٹرنز ان دونوں منصوبوں کی بدصورتی اور بدترین پلاننگ کا مُنہ بولتے ثبوت ہیں۔یہ نقائص دور کرنے میں قوم کے اربوں روپے مزید خرچ ہوں گے۔قذافی اسٹیڈیم کے گرائونڈ میں کھڑا اور چھتوں سے بہتا پانی ’’معیار‘‘ اور تھرڈ کلاس کام پر گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا ہے۔ کراچی اسٹیڈیم میں وہی بدصورتی کا راج ہے۔ بھدی چھت، غیر معیاری وویو، اسٹیڈیم کے اطراف اور اندر مین بلڈنگ کے ساتھ پڑی مٹی آپ کا مُنہ چڑچڑاتی ہے۔ وہاں گھاس لگانا کونسا مسئلہ تھا۔وگرنہ مصنوعی گھاس اور رف ٹائلز تو لگائے ہی جا سکتے تھے۔راولپنڈی سٹیڈیم میں بھی آپ کو ایسے ہی آدھا تیتر آدھا بٹیر نظر آئے گا۔ایسا محسوس ہوتا ہے۔

بس فنڈز اڑانے کی جلدی تھی۔ قذافی اسٹیڈیم میں پانی کا بہائو اور نکاس، عالمی سطح پر منہ چڑچڑتا رہا تھا۔ پانی وائپرز سے خشک کرنے کا منظر، کسی جگہ ہنسائی سے کم نہیں تھا۔اسلام آباد میں طیب اردوان انڈر اور اوور پاس کی منصوبہ بندی اتنی ناقص ہے کہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کا آدھے شہر سے براہ راست رابطہ ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ غلطی بلیو ایریا خیبر پلازہ انڈر اور اوور برج پر کامران لاشاری نے بھی کی تھی۔ اس نے فضل الحق اور ناظم الدین روڈ آدھے شہر سے کاٹ دیئے تھے۔ پورےے شہر والے پمز ہسپتال سے براہ راست رابطہ سے محروم ہوچکے تھے۔ اب یہی اغلاط، محسن اسپیڈ نے کیا ہے۔اربوں روپے خرچ کرنے کے بعدبھی ”بھیڑ“ پانی میں ہے۔ ایٹمی قوت والے ملک کے ذمہ داران، سیدھی سڑک، ڈھنگ سے بنانے کا ھنر بھل چکے ہیں۔یہ سگنل فری پُل، اور کرکٹ اسٹیڈیم تک تعمیر نہیں کرسکتے۔پتہ نہیں کہاں سے کنسلٹنٹ اور انجینئرنگ فرمز ڈھونڈ کر لاتے ہیںسرینا کا انڈر پاس تعمیر ہی غلط جگہ پر کیا گیا ہے۔ اسے چھٹے ایونیو پر تعمیر ہونا چاہیے تھا۔ اسلام آباد کلب سے آنیوالی سڑک کو مارگلہ روڈ پر نادرا اور میریٹ کے سامنے سے ہوتے ہوئے گزرنا تھا۔جہاں پہلے سے جگہ موجود ہے۔ایسا ہی بلنڈر، مارگلہ ایونیو پر مارا گیا ہے۔ ایف ۔ڈبلیو ۔او۔ نے یہ بدترین معیار کی سڑک تعمیر کی ہے۔ جہاں جگہ جگہ سیدھی سڑک پر جمپ ہیں۔ وہ افتتاح والے روز ہی بیٹھ گئی۔تیز رفتار سڑک کے درمیان میں پہاڑ جیسے اونچے سٹیل کے سپیڈ بریکر لگائے گئے ہیں۔لوگوں کی گاڑیوں کے یہ ٹائر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔شاید یہ لگائے بھی اسی مقصد کے لیے گئے ہیں کسی ٹائر کمپنی والوں نے سپانسر کر دیا ہوگا۔ ای الیوناور ایف الیون کے درمیان الیونتھ ایونیو مکمل تعمیر کرنے کی بجائے، ایک بیہودہ راونڈ ٹرن پر سڑک ختم کردی گئی۔جہاں الٹے ہاتھ پر پھر ایک کلومیٹر کا یوٹرن ہے۔یہ پلاننگ اور ارکیٹیکٹ ڈیزائن ہے۔؟ٹین تھ ایونیو چوک پر جو بربادی کی گئی وہ کسی سے چھپی نہیں۔ ایف ایٹ طیب اردوان ایونیو سے ایف ٹین گول چکر ختم کرکے، جو لُچ فرائی کیا گیا ہے۔ اس پر پورا شہر ہنس رہا ہے۔ یہی معاملہ کراچی کمپنی سے پمز کے درمیان سڑک بندکرکے، جو بدترین، یوٹرن بنائے گئے ہیں۔ وہاںپر دل جلتا ہے کیسے قوم کے اربوں روپے اڑا دیے گئے۔ سیاستدانوں، بابوئوں اور ٹھیکیداروں نے مل کر، شہر اسلام آباد کو بدصورت ترین انفراسٹریکچر والا شہر بنانے کا ”عزم صمیم“ کیا ہوا ہے۔جب احمد نواز سکھیرا کے مقابلے میں آپ کی چوائس محسن نقوی ہوگی۔ کیپٹن (ر) انور کی جگہ پر آپ کے فیورٹ لاھوری رندھاوا ہونگے تو یہی کچھ ہوگا۔قائرین یقین مانیے کوئی تقابل ہی نہیں تھا۔آپ جس منصوبے کو اٹھاتے ہیں۔ وہیں پر غیر معیاری کام جابجا نظر آتا ہے۔ جس نے بھی ایف۔ ڈبلیو ۔ او کو شاہراہ ایران؍ مارگلہ ایونیو کا ”کمپلیشن اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ“ دیا ہے۔ وہ قومی مجرم ہے۔ ایف۔ ایٹ اور سرینا چوک انڈر اور اوورہیڈ برج کے آرکیٹیکٹچر اور منظور کرنے والوں کی گردن ناپی جانی چاہئے۔جبکہ قذافی، نیشنل اور پنڈی اسٹیڈیم کے کام کا انٹرنیشنل آڈٹ نہیں فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے۔اُس کے بعد کرکٹ ٹیم کے چیمپئن ٹرافی میں انتخاب اور چیمپئن ٹرافی کے بعد، نیوزی لینڈ دورے والی ٹیم کے انتخاب کرنے والوں کو تو کرکٹ بورڈ میں ہونے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہئے۔سلیمان علی آغا اور شاداب خان کی کپتانی، نائب کپتانی کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ شاداب کی فہم اشرف اور خوشحدل کی طرح کونسی کارکردگی ہے۔ عاقب جاوید، نرگسیت کا مارا شخص ہے، دوسرے مہاتمائوں کے ساتھ مل کر، قوم کے جنون کرکٹ سے، کیوں انتقام لے رہا ہے۔وہ مسلسل قوم کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔کسی کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔انہیں کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ۔کیونکہ سیاں میرے کوتوال جو ہیں۔آج، جب پوری قوم منقسم ہے۔ یہ کھیل، کرکٹ، انھیں متحد کرتا تھا۔ اسے بھی برباد کررہے ہیں

۔تاکہ کوئی ایک ایسی کڑی رہ نہ جائے جو اس قوم کو متحد کر دے۔نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ میں نے اپنی افریقی قوم کو امریکن ساکر کے ذریعے متحد کیا تھا۔اگر حافظ صاحب اور اس۔ آئی۔ ایف۔ سی والوں کے پاس وقت ہے تو نیلسن منڈیلا پر بنی فلم ہی دیکھ لیں۔یہاں ملک میں شادیانے بجائے جارہے ہیں۔ جیسے ریکوڈک سے روزانہ ٹنوں سونے کی پیداوار شروع ہوگئی ہے۔ تھرمیں ہیروں کی کانیں نکل آئی ہیں۔ کیکڑا سے کھربوں ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ کی پیداوار شروع ہے۔جبکہ حالات یہ ہیں۔ وزیر خزانہ غیر قانونی اَن کسٹم پیڈ گاڑی پر جھنڈا نہ لگانے پر اس خاتون افسر کو معطل کررہے ہیں۔جو قانون کے ساتھ کھڑی ھوئی۔ہر منصوبہ ناکامی پر منتمج ہے۔ غیر معیاری کاموں میں، ہم سب کوناقابلِ یقین ”سپیڈ“ سے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ زراعت اور کسان برباد ہو چکے ہیں۔ قوم مایوسیوں میں گھرتی اور گرتی جارہی ہے۔ہر ادارہ منہ کے بل پڑا ہے۔ بدانتظامی کی مٹھی سے زوال کی ریت جس تیزی سے گررہی ہے۔ اور کوئی اسے ماننے کو تیار نہیں۔ یہ تباہی، رکنے والی نہیں ہے۔ سب ننگے ہوچکے ہیں۔ جیل میں بیٹھا شخص تو پہلے ہی خود کو بدترین منتظم ثابت کرچکا ہے۔ کوئی ایک دانہ ہی دکھادیں۔ساٹھ صفحات کا سپلیمنٹ ،گرین سڑک کے رنگ کی طرح ھوا میں اڑ چکا ہے۔ضد، انا، چھوڑیں، قوم، ریاست، معاشرے اور ملک کی فکر کریں۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں۔۔۔ ملک، ریاست اور معاشرے مستقل ہوتے ہیں۔ سب اپنا قبلہ درست کریں۔ یہی واحد راستہ ہے۔آج ہی مستنصر حسین تارڑ کا ایک اقتباس پڑھا۔۔۔انقلاب وہاں آتا ہے۔ جہاں ایک شخص ظالم ہو۔ جس ملک میں ہر شخص اپنے حصے کا ظالم ہو، وہاں انقلاب نہیں، عذاب آتے ہیں۔۔۔نسل در نسل ہم حسینی ہیںصبر کا دشت ! دیکھا بھالا ہےمجھ کو وحشت پڑھائی جاتی تھیمیں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استاد مارڈالابھوک ! دونوں کو مار ڈالے گیدرمیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری نوالا ہے (خالد ندیم شانی)

لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ مزید 3 سال چیئرمین نیب رہیں گےپانچ مارچ 2026 کو اچانک حکومت کو پتہ چلا ایکسٹنشن دینی ہے مگر قانون نہیںبس پھر ہنگامی بنیادوں پر پیاری پارلیمنٹ و صدرزرداری نے چند گھنٹوں میں سب کچھ کر دکھا دیاابھی بھی شکوہ ہے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرین کام نہیں کرتے

عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل ہو گئ ہے (کچھ رپورٹس اسے 10 ڈالر یومیہ اضافہ بتا رہی ہیں)امریکی کروڈ آئل wti بھی 80 ڈالر پر پہنچ گیایہ اضافہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، خلیجی علاقے میں کشیدگی (خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تنازع)، اور ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ اکیلے پاکستان میں ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ان دانشوروں کی سادگی پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے کنوؤں سے لے کر روس کی پائپ لائنوں تک، عالمی معیشت کا ہر پیچ ان کے محلے کے احتجاج سے بندھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عالمی منڈی کے تغیرات کو بھی “سیاسی سازش” کے عینک سے دیکھتے ہیں، گویا ٹرمپ روزانہ ان کا ٹویٹر ہینڈل فیس بک اور واٹس ایپ دیکھ کر تیل کی قیمتیں مقرر کرتا ہو۔ ان کا پروپیگنڈہ عقل کی موت اور جہالت کا جشن ہے۔خیبر پختونخوا میں تو کمال کا نظامِ اخفا ہے؛ یہاں ہر مہنگی چیز پر “صوبائی خودمختاری” اور “مجبوری” کا ایسا پردہ ڈالا جاتا ہے کہ غریب کو اپنی بھوک بھی ایک مقدس فریضہ لگنے لگتی ہےآٹا، چینی اور بجلی جب پہنچ سے باہر ہوں، تو بیانیہ بدل کر اسے “دوسروں کی نااہلی” کا غلاف پہنا دیا جاتا ہے۔: جو زبانیں وفاق کی مہنگائی پر قینچی کی طرح چلتی ہیں، اپنے صوبے کی منڈیوں میں لوٹ مار دیکھ کر وہ اچانک “روزے” سے ہو جاتی ہیں۔: جہاں ضمیر پر مصلحت کا پردہ ہو، وہاں مہنگی روٹی بھی “نظریاتی” لگنے لگتی ہے۔اس پر بھی کبھی لکھیں یہاں فارم 45 والوں کی حکومت نہیں یہاں عوام روز شور کرتی ہے صحت تعلیم ٹرانسپورٹ زندگی کے کسی شعبہ ہاۓ جات پر زبان گونگی کی پیڈ خاموش اور موبائل بند کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔خدارا ہوش کے ناخن لیں ہر چیز کو پروپیگنڈہ بنا کر پیش مت کریں اور نا ہی ملک میں افرا تفری کا ماحول پیدا کریں۔

عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل ہو گئ ہے (کچھ رپورٹس اسے 10 ڈالر یومیہ اضافہ بتا رہی ہیں)امریکی کروڈ آئل wti بھی 80 ڈالر پر پہنچ گیایہ اضافہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے، خلیجی علاقے میں کشیدگی (خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تنازع)، اور ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ اکیلے پاکستان میں ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ان دانشوروں کی سادگی پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے کنوؤں سے لے کر روس کی پائپ لائنوں تک، عالمی معیشت کا ہر پیچ ان کے محلے کے احتجاج سے بندھا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عالمی منڈی کے تغیرات کو بھی “سیاسی سازش” کے عینک سے دیکھتے ہیں، گویا ٹرمپ روزانہ ان کا ٹویٹر ہینڈل فیس بک اور واٹس ایپ دیکھ کر تیل کی قیمتیں مقرر کرتا ہو۔ ان کا پروپیگنڈہ عقل کی موت اور جہالت کا جشن ہے۔خیبر پختونخوا میں تو کمال کا نظامِ اخفا ہے؛ یہاں ہر مہنگی چیز پر “صوبائی خودمختاری” اور “مجبوری” کا ایسا پردہ ڈالا جاتا ہے کہ غریب کو اپنی بھوک بھی ایک مقدس فریضہ لگنے لگتی ہےآٹا، چینی اور بجلی جب پہنچ سے باہر ہوں، تو بیانیہ بدل کر اسے “دوسروں کی نااہلی” کا غلاف پہنا دیا جاتا ہے۔: جو زبانیں وفاق کی مہنگائی پر قینچی کی طرح چلتی ہیں، اپنے صوبے کی منڈیوں میں لوٹ مار دیکھ کر وہ اچانک “روزے” سے ہو جاتی ہیں۔: جہاں ضمیر پر مصلحت کا پردہ ہو، وہاں مہنگی روٹی بھی “نظریاتی” لگنے لگتی ہے۔اس پر بھی کبھی لکھیں یہاں فارم 45 والوں کی حکومت نہیں یہاں عوام روز شور کرتی ہے صحت تعلیم ٹرانسپورٹ زندگی کے کسی شعبہ ہاۓ جات پر زبان گونگی کی پیڈ خاموش اور موبائل بند کیوں ہو جاتا ہے۔۔۔خدارا ہوش کے ناخن لیں ہر چیز کو پروپیگنڈہ بنا کر پیش مت کریں اور نا ہی ملک میں افرا تفری کا ماحول پیدا کریں۔

ایران کیوں بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ہر دن حملے کررہاہے ؟امریکہ یہاں سے جوابی کارروائی کیوں نہیں کررہا؟ اور یہ اڈہ اسرائیل کی لائف لائن کیسے ہے؟آئیے سمجھتے ہیں ۔بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا محض ایک فوجی چھاؤنی نہیں، بلکہ یہ مشرق وسطی کا وار روم ہے جہاں سے پورے خطے کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔یہ اڈہ پاکستان سمیت تقریباً 21 ممالک کی سمندری حدود اور فضائی نگرانی کرتا ہے۔ایران کے ڈاکٹر فواد ایزدی کے مطابق یہ اڈہ مشرق وسطی میں امریکی استعمار کا مرکز ہے یہاں سے ہونے والے فیصلے عرب ملکوں کے خودمختاری کو کچلتے ہیں ۔امریکہ میں فلسطینی نژاد عبد الباری کے مطابق یہ اڈہ اسرائیل کا فرنٹ لائن ڈیفنس ہے ۔ اسکی موجودگی کا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے ۔پانچواں بیڑا اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فوجی تعاون کا پل ہے، جس کی وجہ سے ابراہیمی معاہدوں جیسے سیاسی فیصلے ممکن ہوئے۔اس اڈے کے بغیر امریکہ مشرق وسطیٰ میں محض ایک تماشائی رہ جائے گا اور پھر یہاں کے فیصلے چین اور روس کریں گے ۔جنگ کے پہلے دن ڈرونز سے انٹرسیپٹ میزائل کا ذخیرہ کم کروایا، دوسرے دن ڈیٹا سنٹر کو نقصان پہنچایا اور سب سے اہم کامیابی ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کرکے امریکہ کو اندھا کردیا ، تیسرے دن تیل کے ڈیپو کو اڑایا گیا ، اور 1امریکی ڈسٹرائر جہاز کو نشانہ بنایا پھر چوتھے دن ائیر فیلڈ اور بندرگاہ، فوجیوں کے رہائشی عمارت پر کامیاب حملہ کیا گیا ۔جب ایران کے قریب اتنا بڑا بحری اڈہ موجود ہے تو پھر امریکہ جوابی کارروائی یہاں سے کیوں نہیں کررہا؟ایران کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نیول مائن کا ذخیرہ ہے ۔اگر امریکہ ایران کے ساحلوں یا بحری اثاثوں پر بڑا حملہ کرتا ہے، تو ایران آبنائے ہرمز میں ہزاروں سمارٹ بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔جس سے عربوں ڈالر کے امریکی جہاز ڈوبے گے ۔اگر امریکہ جنگ جیت بھی جائے تو اسے مائنر کو کلیئر کرنے میں کم سے کم سے کم 6 مہینے لگے گے یعنی آبنائے ہرمز جنگ میں بھی بند ہوگا اور اسکے بعد بھی مکمل بند ہوگا جو عالمی معیشت یعنی امریکہ کی موت ہے ۔ایک بھی ڈرون اگر یہاں موجود اربوں ڈالر کے طیارہ بردار جہاز کو ہٹ کر دے، تو یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی سیاسی اور فوجی شکست ہوگی۔ابرہام لنکن دور تھا اسکی تباہی دنیا سے چھپا سکتا ہے

یہ نہیں چھپا سکتا یہ پوری دنیا دیکھی گی ۔اور سب سے بڑا خوف ہے ایرانی ہائپر سونک میزائل جو دو سے تین منٹ میں یہاں پہنچتے ہیں انہیں روکنا امریکہ کیلئے ناممکن ہوگا جب ایک ساتھ حملہ ہوگا ۔ایک تو عربوں ڈالر کا نقصان ، دوسرا فوجی اڈہ ختم تیسرا اگر یہاں سے حملہ ہوا یعنی بحرین کی سرزمین استعمال کی گئ تو بحرین کیلئے کتنے خرم شہر 4 کلسٹرز بموں والے میزائل کافی ہونگے جو صرف ایک میزائل 7 مربع کلومیٹر رقبے کیلئے کافی ہے ؟اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا ناقابلِ تسخیر پانچواں بیڑا خود محفوظ نہیں تو اب امریکہ عرب ملکوں کو تحفظ نہیں دے سکتا۔یہاں کا ریڈار سسٹم ، جاسوسی کے ڈرونز ایران کے ہر ایک قدم پر نظر رکھتے ہیں ، ایران سے جو بھی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کی طرف جاتا ہے یہ اڈہ انہیں فوراً اطلاع کرتاہے ، انٹلیجنس فراہم کرتاہے اسی لیے ایران نے اسکے ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کیا ہے ۔ایران بحرین کو یہ باور کرا رہا ہے کہ یہ بحری اڈہ آپکی حفاظت کیلئے نہیں اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے جب پانچواں بیڑا اپنے دفاع میں مصروف ہوا، تو اسرائیل کو ملنے والی انٹیلیجنس اور میزائل ڈیفنس سپورٹ کمزور پڑ گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر ایران نے اسرائیل کے اندر نیواتیم اڈہ ، موساد کے مرکز کو کامیابی سے ہٹ کیا۔ایران کے حملوں سے ریڈار ، فیول ڈیپو ، دو ڈسٹرائر ایک کے ڈک کو اور دوسرے کو بحیرہ احمر میں ریڈار اور کمیونیکشن سنٹر کو ہٹ کیا گیا ہے تمام نقصان تقریبا 450 ملین ڈالر ہے۔جہازوں کے ایندھن ، تنخواہیں اور گشت سے امریکہ کو 150ملین ڈالر کا خرچ ہوا ہے ۔اور ایرانی سستے ڈرونز کو انٹرسیپٹ میزائلوں سے روکنے کیلئے 600 ملین ڈالر سے زائد کا خرچ آیا یے یعنی تقریبا 1.2 ارب ڈالر کا نقصان صرف 5 دنوں میں ۔ایران کا مقصد امریکہ کو جنگ میں ہرا کر مکمل تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے دیوالیہ کرنا ہے۔ وہ سستے ہتھیاروں سے امریکہ کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو معاشی طور پر نچوڑ رہا ہے۔

صہیونی اخبار اسرائیل ہائوم کے بعد اب وائٹ ہاؤس اور صدر ٹرمپ نے پاکستان کی دھمکی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہیہ بات درست ہے کہپاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران سمیت کسی بھی مسلم عرب ملک کے عوام پر حملہ کیا گیا تو وہ امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کر دے گا جب کہاسرائیل کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ایران پر ایٹمی حملے کی صورت میں پاکستان اگلے پانچ منٹ کے اندر اسرائیل پر ایٹمی حملوں کی بارش کر دے گا اور اس جنگ کا باقاعدہ حصہ بھی بن جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہپینٹاگون کو یہ دھمکی پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے ذریعے دی گئی ہے۔اس پریس کانفرنس کے بعد ایرانی عوام نے پاکستان سے اپنی بھرپور محبت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس کا حملے کے فوراً بعد ایران حکومت نے شکریہ ادا کیا ہے اور پھر چین اور روس کی حمایت کے بعد ان کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔یاد رکھیے کہاس وقت پاکستان کے جو دشمن اور غدار اپنی اقتدار کی ہوس پوری نہ کرنے پر پاک فوج سے نفرت کے باعث نوبل انعام کے لئے صدر ٹرمپ کی نامزدگی پر نفرت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں،وہ دراصل وہی امریکی غلام ہیں جنہوں نے صدارتی الیکشن میں نہ صرف صدر ٹرمپ کا بھرپور ساتھ دیا تھا بلکہ ان کے جیتنے پر گھنگھرو توڑ دھمال ڈالتے ہوئے انہیں مبارکباد بھی پیش کی تھی۔امریکی غلامی کا اس حد تک مظاہرہ کرنے کے باوجود بھی جب ان کی آتما کو شانتی نہیں ملی تھی تو پھر اس کے بعد ان امریکی غلاموں نے صدر ٹرمپ کو اپنے والدِ محترم کا درجہ دے دیا تھا…!!!اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو انڈیا نے امریکہ کو بحری اڈے دے دیے ہیں یہ پاکستان اور ایران کے لیے غمبھیر مسئلہ ہے دیکھتے ہیں اگے ہوتا ہے کیاڈی جی ائی ایس پی ار کا بیان تو اپ سب نے سنا ہی ہوگا انہوں نے دنیا کو ان کر دیا ہے الجزیرہ چینل کے انٹرویو کے ذریعے ۔ کیا ایسی کوئی بھی حماقت کی گئی تو اس کا انجام ہولناک ہوگا جس کا دنیا نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگااور ماشاءاللہ سے ہمارے فیڈ مارشل صاحب ہمارے مرشد صاحب نے پہلے ہی امریکہ میں کھڑے ہو کے کفار کو للکار کے بولا تھا کیا اگر ہمیں لگا کہ ہم ڈوبنے لگے ہیں تو آدھی دنیا کو لے کے ڈوبیں گےبس اب ہم سب پہ فرض ہے کہ اپنے پیارے پاکستان کے لیے اپنی عوام کے لیے اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں یہ جنگ صرف اور صرف اسلام اور کفر کےدرمیان ہوگی اور انشاءاللہ فتح مسلمانوں کی ہوگی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved