
*23 مارچ کویومِ پاکستان پریڈ اور اس سے منسلک تمام تقریبات منعقد نہیں کی جائیں گی: وزیراعظم آفس*اسلام آباد: وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق 23 مارچ کویومِ پاکستان کی پریڈ اور اس سے منسلک تمام تقریبات منعقد نہیں کی جائیں گی۔

وزیر اعظم آفس سے کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 23 مارچ کو یوم پاکستان وقار اور احترام کے ساتھ سادہ پرچم کشائی کی تقریبات کے ساتھ منایا جائے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یومِ پاکستان کے نظریات سے وابستگی کے ساتھ وسیع ترکفایت شعاری پالیسی کوبھی برقرار رکھا جائے، تمام وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کو ہدایت کی جاتی ہےکہ یوم پاکستان سادگی اور پر وقار طریقے سے منائیں۔وزیر اعظم آفس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ محدود تقریبات کے باوجود اس دن کی اہمیت اور اس کا حقیقی پیغام اجاگر کیا جائے۔

امریکا میں ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال پر اختلافات بڑھنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں اعلیٰ سرکاری سطح پر بھی دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔اسی تناظر میں امریکا کے قومی انسدادِ دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر Joe Kent نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

۔رپورٹس کے مطابق ایران کے معاملے پر پالیسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور یہ تنازع صدر Donald Trump کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ اہم اتحادیوں کے بعد اب سرکاری افسران بھی اس پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔اپنے بیان میں جو کینٹ نے کہا کہ انہوں نے گہرے غور و فکر کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا،

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے مطابق ایران سے امریکا کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔اس استعفے نے امریکی پالیسی سازی کے اندر موجود اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، جبکہ یہ پیش رفت ایران کے معاملے پر عالمی سطح پر جاری بحث کو بھی نئی جہت دے سکتی ہے۔

*امریکہ نے معاشی بحران کے باعث 90 ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے**جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی دشمن کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں*










