گلگت :(بادبان رپورٹ )فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز چیف آف آرمی سٹاف حافظ سید عاصم منیر صاحب کی پاک-افغان سرحد پر اگلے مورچوں پر تعینات SSG جوانوں سے ملاقات۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کو دہ شت گردی کے لیے استعمال ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔افغان عبوری حکومت سے مؤثر اقدامات کی توقع۔پاک فوج ملکی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اورڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایات پر ملک بھر میں سرکاری جائیدادوں اور املاک کو غیر قانونی قابضین سے واگزار کرانے کی مہم زور و شور سے شروع کر دی گئی ہے اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایف ائی اے اسلام اباد زون شہزاد ندیم بخاری اور ڈپٹی ڈائریکٹر میر فیضان الحق کی خصوصی ہدایات پر قائم کی گئی ٹیم نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف ائی اے شاہد الیاس اور ایس ایچ او اینٹی کرپشن سرکل شہزاد سرور خاکوانی کی سربراہی میں تھانہ گنج منڈی کی حدود میں ٹائر بازار کے علاقے میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیداد غیر قانونی قابضین سے واگزار کرا کر متعلقہ حکام کے حوالے کی گئی.

کسی قسم کے نہ خوشگوار واقع سے بچنے کی غرض سے ایف ائی اے اور مقامی پولیس کی بھاری تعداد میں نفری موقع پر موجود رہی تمام غیر قانونی دکانوں اور جائیداد کو باقاعدہ سربمہر کر کے قبضہ متعلقہ حکام کے حوالے موقع پر ہی کر دیا گیا عوامی حلقوں نے غیر قانونی قابضین سے سرکاری اراضی اور جائیداد واگزار کرنے کی مہم کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے غیر قانونی عناصر کی حوصلہ شکنی جاری رہے گی اور قانون کی عملداری ہر صورت میں قائم کی جائے گی۔

ایران نے عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، اردن، ترکی — حتیٰ کہ قبرص پر بھی بمباری کی ہے۔16 دنوں کی جنگ۔ ہر سمت میں میزائل اور ڈرون۔لیکن ایک ملک جو ایران کی سرحد پر واقع ہے — اسے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔پاکستان۔اور پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوجی نگرانی (reconnaissance) آپریشنز موجود ہیں۔تو پھر ایران پاکستان کو کیوں نظرانداز کر رہا ہے؟یہ اس پوری جنگ کے سب سے دلچسپ اسٹریٹجک سوالات میں سے ایک ہے۔ اور اس کا جواب صرف پاکستان سے کہیں بڑی تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔سب سے پہلے — آئیے وہ حقائق دیکھتے ہیں جو ہمیں معلوم ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ہمسایہ ممالک ہیں۔ایران نے ان ممالک پر حملہ کیا ہے جو اس کے لیے کم خطرہ رکھتے ہیں — جیسے اردن، ترکی، عمان، قبرص — ایسے ممالک جن کی نہ تو ایران کے ساتھ سرحد ہے اور نہ ہی امریکی مہم میں بڑی اسٹریٹجک اہمیت۔لیکن پاکستان —

جو براہ راست ایران کا ہمسایہ ہے، جس کی سرزمین پر امریکی نگرانی کے اثاثے موجود ہیں، جس نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت F-16 طیارے تعینات کیے ہیں — اس پر ایران نے ایک بھی حملہ نہیں کیا۔ایران نے پاکستان کو زبانی طور پر بھی نشانہ نہیں بنایا۔ نہ کوئی دھمکی، نہ کوئی انتباہ، نہ کوئی الٹی میٹم۔ایک ایسی جنگ میں جہاں ایران نے برطانیہ سے لے کر جنوبی کوریا تک سب کو دھمکیاں دی ہیں — پاکستان کے حوالے سے مکمل خاموشی۔اس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں

…1. پاکستان ایک ہی وقت میں ہر فریق کے ساتھ توازن رکھ رہا ہے — اور ایران یہ جانتا ہے۔پاکستان اس وقت دنیا کے پیچیدہ ترین جغرافیائی و سیاسی حالات میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔اس کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے — جو ایران کا علاقائی حریف ہے۔اس نے سعودی عرب میں F-16 طیارے تعینات کیے ہیں۔اس کی 80 فیصد سے زیادہ فوجی خریداری چین سے ہوتی ہے۔یہ افغانستان کی سرحد پر طالبان کے خلاف اپنی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔اسے اپنے شہروں میں ایران کے حامی شیعہ مظاہروں کو بھی سنبھالنا پڑ رہا ہے۔اس نے ایران میں پھنسے تقریباً 35,000 پاکستانی شہریوں کو نکالا ہے۔اور اس نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کو امریکی-اسرائیلی جارحیت کے خلاف “دفاع” کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔پاکستان بیک وقت ایران کے دشمنوں کے ساتھ بھی ہے اور ایران کے مؤقف کے ساتھ ہمدردی بھی رکھتا ہے۔پاکستان پر حملہ کرنے کا مطلب ہوگا اسے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنا۔اور اس وقت — پاکستان کا غیر جانبدار رہنا ایران کے لیے کسی بھی میزائل حملے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔2. چینیہاں معاملہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔چین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔یہ ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جو مغربی چین سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر بندرگاہ تک جاتا ہے۔گوادر ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے صرف 170 کلومیٹر دور ہے۔چین واضح کر چکا ہے کہ CPEC اور گوادر بندرگاہ کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔بیجنگ نے یہاں تک تجویز دی ہے کہ گوادر میں مستقل چینی فوجی موجودگی ہو سکتی ہے۔اگر ایران پاکستان پر حملہ کرتا ہے، تو اس کا مطلب ہوگا چین کے اہم ترین اسٹریٹجک منصوبے کے آخری حصے پر حملہ۔چین ایران کے 80 فیصد سے زیادہ تیل کا خریدار ہے۔ یہ جنگ کے دوران ایران کی سب سے اہم معاشی شہ رگ ہے۔ایران اس ہاتھ کو نہیں کاٹے گا جو اسے سہارا دے رہا ہے۔3. کوریڈور تھیورییہ ایک تجزیاتی مفروضہ ہے — تصدیق شدہ حقیقت نہیں

— لیکن دفاعی ماہرین اس پر سنجیدگی سے بات کر رہے ہیں۔ایران نے 16 دنوں میں ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ایران کی میزائل پیداوار کی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی صلاحیت میں 90 فیصد کمی آ گئی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ ایران کے ہتھیار اب بھی کہاں سے آ رہے ہیں؟ایک نظریہ یہ ہے کہ CPEC راہداری — جو بلوچستان سے گزرتی ہے اور ایران کے سیستان-بلوچستان صوبے سے جڑی ہے — ممکنہ طور پر سپلائی روٹ کے طور پر کام کر رہی ہو۔ایران سے تیل پاکستان کے راستے چین جا رہا ہو۔اور دوسری طرف سے ڈرون، میزائل اور فوجی سامان واپس آ رہا ہو۔اگر ایسا ہے — تو پاکستان پر حملہ کرنا اس راستے کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا جو ایران کی جنگی مشین کو چلائے رکھتا ہے۔4. جوہری عنصرپاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ایران نہیں۔کسی جوہری ملک پر حملہ — چاہے روایتی ہتھیاروں سے ہی کیوں نہ ہو — شدید خطرناک ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔پاکستانی سرزمین تک جنگ کا پھیلنا چین، بھارت اور جوہری سطح کے حساب کتاب کو متحرک کر سکتا ہے — جو موجودہ خلیجی صورتحال سے کہیں بڑا بحران بن سکتا ہے۔ایران ایک حساب شدہ، اسٹریٹجک جنگ لڑ رہا ہے — کوئی لاپرواہ جنگ نہیں۔ایک ہی وقت میں امریکہ اور اسرائیل سے لڑتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جوہری نوعیت کا بحران چھیڑنا حکمت عملی نہیں —

بلکہ خودکشی ہے۔جب آپ ان چاروں نکات کو اکٹھا دیکھتے ہیں تو ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے۔ایران نے پاکستان پر حملہ نہیں کیا کیونکہ پاکستان — چاہے جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر — ان تمام اسٹریٹجک مفادات کے بیچ میں کھڑا ہے جنہیں ایران محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔چین کی سرمایہ کاری۔ چین کا انفراسٹرکچر۔ سپلائی چینز۔ جوہری توازن۔ سفارتی ابہام۔ایران پاکستان پر مہربان نہیں ہے۔ایران صرف اسٹریٹجک ہے۔یہ میری رائے ہے۔میں غلط بھی ہو سکتا ہوں — لیکن فی الحال مجھے یہی نظر آ رہا ہے۔مجھے اس وقت کوئی اور مضبوط امکان دکھائی نہیں دے
پاکستانی مزائیل پروگرام سے متعلق متنازعہ بیان ۔ پاکستان اور امریکہ آمنے سامنے آگئے ۔ پاکستان نے تلسی گوبر کو شٹ اپ کال دے دی ۔ پاکستان کے مزائیل صرف اپنے دفاع کیلئے ہیں ۔ امریکہ کو بھارت کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کی حامل میزائل صلاحیتوں پر غور کرنا چاہیےپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس بھارتی نژاد تلسی گبارڈ کی جانب سے پاکستانی میزائل پروگرام سے متعلق دیے گئے گمراہ کن اور حقیقت سے بعید بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کی تزویراتی حقیقتوں کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی تذویراتی صلاحیتیں کسی جارحانہ عزائم کا حصہ نہیں بلکہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں جن کا واحد مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ ہے۔ انہوں نے امریکی دعوؤں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام “بین البراعظمی حدِ مار” (ICBM) سے کہیں کم ہے اور یہ “قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت” کے اصول پر سختی سے قائم ہے۔ترجمان نے امریکی پالیسی میں موجود کھلے تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو پاکستان کے دفاعی پروگرام پر فرضی تشویش کے بجائے بھارت کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کی حامل میزائل صلاحیتوں پر غور کرنا چاہیے، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔ ترکیے کے نامور تجزیہ کار شائق الدین نے بھی اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “روس کی مدد سے تیار ہونے والا بھارت کا بین البراعظمی ذخیرہ امریکہ کو نظر کیوں نہیں آتا؟

یہ صرف اپنی مرضی سے کسی کو خطرہ قرار دینے کی بدترین مثال ہے۔”سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے تلسی گبارڈ کے بیان کو حقیقت سے عاری قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا ایٹمی نظریہ صرف اور صرف بھارت کی جانب سے لاحق خطرات کے لیے مخصوص ہے، اس کا مقصد دنیا بھر میں طاقت کا اظہار یا امریکہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔یاد رہے کہ امریکی سینیٹ کمیٹی میں سماعت کے دوران بھاری نژاد تلسی گبارڈ نے بے بنیاد دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے امریکہ کو تعصب پسندی چھوڑ کر “حقائق پر مبنی” اور “غیر امتیازی” رویہ اختیار کرنا ہوگا۔تلسی گوبر ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں اور بھارتی نژاد امریکن ہیں ۔

میکرون ایمانوئل 🇫🇷 نے جنگ کے 18ویں دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی جیورجیا میلونی 🇮🇹 نے جنگ کے 13ویں دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی کئیر اسٹارمر 🇬🇧 نے جنگ کے 17ویں دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی دریں اثنا، یہ شخص ہسپانوی 🇪🇸 وزیرِاعظم پیدرو سانچیز پہلے دن ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو گیا، حالانکہ ٹرمپ نے اسے تنقید کا نشانہ بنایااس کی عظمت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا










