190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق وزارتِ داخلہ نے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں چار اشتہاری ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کردیے۔ ملک ریاض اور علی ریاض کے پاسپورٹ وزارت داخلہ نے بلاک کردیے۔سابق مشیر شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بھی بلاک کردیے گئے۔ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق وزارتِ داخلہ نے پاسپورٹ نیب کی سفارش پر بلاک کردیے۔یاد رہے کہ نیب نے 28 جنوری کو ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔—2———— سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 11 فروری کو طلب کیا جانے والا اجلاس اب ایک دن قبل 10 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے۔اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں دن 2 بجے ہوگا۔ جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو اجلاس ایک دن پہلے بلانے سے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کے لیے پانچوں ہائی کورٹس کے 5 سینئر ججز کے نام طلب کیے گئے ہیں۔—3———- ایک ماہ کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 3 پیسے کمی کا امکان ہے۔نیپرا نے سی پی پی اے کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ۔ چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں نیپرا اتھارٹی نے درخواست پر سماعت کی ، نیپرا اعداد و شمار کا جائزہ لیکر بعد میں فیصلہ جاری کرے گا۔سی پی پی اے حکام نے کہا کہ دسمبر میں ہاور پلانٹس میرٹ کے مطابق چلے ہیں، دسمبر کے دوران فیول کی قیمتیں بھی کم رہی ہیں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ اگر چلتا ہوتا تو عوام کو مزید فائدہ پہنچتا۔سی پی پی اے حکام کے مطابق ونٹر پیکج کے تحت بجلی کی ڈیمانڈ میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، صارفین نے ونٹر پیکج کے ذریعے 18 کروڑ یونٹس اضافی استعمال کیے،سماعت کے دوران سی پی پی اے کے نقصانات پورے کرنے پر صارفین نے سوالات اٹھا دیے ۔ صارفین نے استفسار کیا کہ بتایا جائے سی پی پی اے کے نقصانات کیسے پورے ہوتے ہیں۔اتھارٹی کے مطابق دسمبر میں سی پی پی اے نقصانات 2.63 فیصد کی بجائے 2.44 فیصد رہے۔ نیپرا حکام نے کہا کہ سی پی پی اے کے نقصانات کا بوجھ بجلی صارفین پر نہیں ڈالا جاتا۔صارفین نے استفسار کیا کہ اگر عوام سے یہ پیسے وصول نہیں ہوتے تو کہاں سے ہوتے ہیں۔ سی پی پی اے حکام کے مطابق سی پی پی اے اپنے یہ نقصانات اپنے منافع سے پورے کرتا ہے۔صارفین نے کہا کہ آپ کے منافع کی شرح کتنی ہے جو اربوں روپے کے نقصانات پورے کر لیتے ہیں۔—4————–بیرون ممالک میں پاکستانیوں کے بھیک مانگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ بیرون ملک پاکستانی بھکاریوں کی روک تھام سے متعلق بھی قانون سازی سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلقہ ترمیمی بل کے اہم مندرجات سامنے آگئے۔نئی قانون سازی کے تحت بل میں منظم بھیک مانگنے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ منظم بھیک مانگنے کے لیے بھرتی کرنے، پناہ دینے پر 7 سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ منظم بھیک مانگنے سے مراد کسی شخص کو جان بوجھ کر،فراڈ، یاخیرات وصول کرنے میں ملوث کرنا ہے۔مننظم بھیک مانگنے سے مراد دھوکہ دہی، زبردستی، ورغلا کر بہانے سے بھیک مانگنے میں ملوث کرنا ہے۔ منظم بھیک مانگنا کسی عوامی مقام پر خیرات مانگنا یا وصول کرنا ہے۔بل کے مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ قسمت کا حال بتا کر ،کرتب دکھا کر بھیک مانگنا منظم بھیک مانگنا ہے۔ منظم بھیک مانگنے سے مراد بہانے سے اشیاء فروخت کرنا بھی ہے۔گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دینا، زبردستی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا بھی منظم بھیک ہے۔ منظم بھیک مانگنے سے مراد کسی نجی احاطے میں داخل ہو کر بھیک مانگنا یا خیرات وصول کرنا ہے۔کسی زخم، چوٹ، بیماری، معذوری کو دکھا کر کے خیرات یا بھیک حاصل کرنے بھی منظم بھیک ہے ۔بل کے متن میں بتایا گیا ہے کہ خود کو بطور نمائش استعمال ہونے دینا بھی منظم بھیک مانگنے کے زمرے میں آتا ہے۔جی سی سی ممالک کے مطابق حج، عمرہ، زیارت کے دوروں پر آنے والے کچھ پاکستانی بھیک مانگنے میں ملوث ہیں۔ بھیک مانگنے والے اور ان کے پیچھے موجود گینگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔بل کے متن میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملوث ایجنٹ اور گینگ آسانی سے قانونی کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔—–5——- چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کیخلاف درخواست خارج کرنے کو چیلنج کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بیرسٹر گوہر نے آئینی بینچ کے 12 دسمبر 2024 کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی۔ درخواست میں صدر پاکستان، سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیل منظور کرتے ہوئے 12 دسمبر کا آئینی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کی شق 2، 3، 4، 5 آئین سے متصادم ہیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔—6—-ڈی جی آئی ایس پی آر کی آئی بی اے کراچی کے طلباء و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ آئی بی اے آمد پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس خصوصی نشست میں پاکستان کی ترقی اور خوش حالی میں طلباء کے مثبت کردار کو سراہا۔ انھوں نے ابتدائیہ کلمات میں اس بات کا اظہار کیا کہ آئی بی اے لرننگ کا سسمبل ہے اور میں اس کامیابی پر آئی بی اے کے اساتذہ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔آئی بی اے اپنی طرز کا نہ صرف بہترین ادارہ ہے بلکہ یہاں کا نظام تعلیم بھی دنیا کے جدید تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آئی بی اے کے طلباء و طالبات کے سوالات کے جواب انتہائی خوش اسلوبی سے دیئے اور طلباء کی سوچ کو سراہا۔ طلباء و طالبات نے پاک افواج کی قربانیوں اور خدمات کو سراہا۔ اساتذہ اور طلبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے تحفظات کے تفصیلی جوابات دیئے گئے جو انتہائی تسلی بخش تھے۔اس موقع پر طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈا کی مکمل نفی کرتے ہیں۔طلبہ اور اساتذہ نے سیشن کو سراہا اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے کہا کہ اس طرح کےمزید سیشن منعقد کیے جائیں۔——7—–چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ دوسری ہائیکورٹ سے لانے کے خلاف اسلام آبادکے وکلاء میدان میں آ گئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نےمشترکہ اعلامیہ جاری کردیا۔ اعلامیہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاست علی آزاد اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر نعیم گجر کی جانب سے جاری کیاگیا۔اسلام آبادمیں باہر کے ججز کی تعیناتی پر ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ارباب اختیار کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز ججز صاحبان کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کسی کو بھی تعینات نہ کیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز صاحبان میں سے ہی چیف جسٹس اسلام آباد تعینات کیا جائے۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اس عمل کو عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر حملہ تصور کرے گی۔ ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی اور اسلام آباد میں آل پاکستان وکلاء کنویشن کا انعقاد کیا جائے گا اور ارباب اختیار کے خلاف با قاعدہ تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔——-8——خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں بھرتی ہونے والے 9 ہزار 762 ملازمین کی فہرست سامنے آگئی، جنہیں سروس سے فارغ کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں ہونے والی بھرتیوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ نگراں حکومت دورمیں 9ہزار 762 بھرتیاں ہوئیں۔ بھرتیاں 23 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 تک کی گئیں۔ نگراں دورمیں سب سے زیادہ ہزار19بھرتیاں پولیس میں ، محکمہ بلدیات 192، محکمہ جیل خانہ جات میں 159بھرتیاں کی گئیں۔محکمہ اعلی تعلیم 702، محکمہ صحت میں 693 افراد اور محکمہ ایلمنٹری وسیکنڈری ایجوکیشن میں2 ہزار323 افراد بھرتی کئے گئے جبکہ محکمہ محنت،محکمہ داخلہ و دیگر اداروں میں بھی بھرتیاں کی گئیں۔یاد رہے کے پی اسمبلی میں خیبرپختونخوا ملازمین 2025 بل منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت نگراں دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو سروس سے فارغ کیا جائیگا۔ بل کا اطلاق 22 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 کی بھرتیوں پر ہو گا تاہم سن اور اقلیتی کوٹہ، کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کو استثنی حاصل ہو گا۔ملازمین کو نکالنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائیگی، 7 رکنی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کریں گے اور تمام ادارے نگراں دور کی بھرتیوں پر 30 دن میں رپورٹ مرتب کریں گے۔——9——–وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نےوفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کمیٹی میں پی ٹی آئی کے مطالبات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے یہ دعوت مذاکرات کے عمل میں تعطل کے دو روز بعد دی گئی ہے۔یادرہےمنگل کے روز مذاکرات کے طے شدہ راؤنڈ میں پی ٹی آئی کے وفد نے شرکت نہیں کی تھی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، تاہم سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مشاورتی اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکراتی سیشن میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں اسد قیصر اور عمر ایوب سے دوبارہ ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی۔سپیکر نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور یہ وقت ہے کہ فریقین مل بیٹھ کر معاملات طے کریں۔ تاہم، پی ٹی آئی نے مشاورت کے بعد مذاکراتی عمل میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔جس کے بعد حکومتی کمیٹی مذاکراتی اجلاس کے لیے کمیٹی روم میں آئی اور سپیکر کی سربراہی میں باضابطہ اجلاس ہوا۔ تاہم اپوزیشن کے نہ آنے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہم نے ایک کمیٹی بنائی اور سپیکر کے توسط سے یہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ جس کے لیے ان کی کمیٹی کے جانب سے ڈیمانڈ کی گئی کہ انہیں لکھ کر دیا جائے، ہماری کمیٹی نے کہا ہم آپ کو لکھ کر جواب دیں گے، میٹنگ اسی ماہ کی 28 تاریخ کو ہونی تھی لیکن اس سے پہلے وہ بھاگ گئے۔ ہمارے(حکومتی کمیٹی) ممبرز نے انہیں کہا کہ آپ نے لکھ کر ہمیں ڈیمانڈز دی ہیں، ہم بھی آپ کو لکھ کر جواب دینے کے لیے تیار ہیں، ہم آپ سے بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ 2018 کے انتخابات کے بعد جب احتجاجاً پارلیمنٹ میں کالی پٹیاں باندھ کر داخل ہوا، تو پی ٹی آئی کے عمران خان نے کہا کہ ہم ہاؤس کمیٹی بنا رہے ہیں، وہ ساری تحقیق کرے گی، آپ اپنے ممبرز منتخب کر دیں۔تو میں نے انہیں اعلان کرنے کو کہا، انہوں نے وہاں پر اعلان کیا لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ، کمیٹی ضرور بنی ہو گی ایک آدھا اجلاس ہوا اور باقی تاریخ کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ اپنے گریبان میں جھانکیں، وہ ہاؤس کمیٹی بنی تھی جوڈیشنل کمیشن نہیں بنا تھا، جس کی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔‘شہباز شریف نے پی ٹی آئی ارکان سے کہا کہ آئیں، بیٹھیں، ہاؤس کمیٹی کے لیے ہم تیار ہیں، 2018 الیکشن کمیٹی اپنا کام مکمل کرے اور 2024 پر بھی ہاؤس کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لے کر آئے۔اسی طرح 26 نومبر کے دھرنے کی بات کرتے ہیں تو 2014 کا جو دھرنا تھا، اس کا بھی ہاؤس کمیٹی احاطہ کرے اور 26 نومبر کو بھی احاطہ کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں صدق دل اور نیک نیتی سے تیار ہوں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں تا کہ ملک بھی آگے بڑھے، ملک مزید نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔———–10—— پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 نافذ العمل ہو گیا جس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔وزارت قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پیکا قانون کا باضابطہ اطلاق ہو گیا، ڈیجیٹل نیشن بل کا بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔-










