*بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی ، بھارتی فضائیہ کی ناقص کارکردگی*بھارتی فضائیہ اندرونی طور پر ناکامیوں، تکنیکی خرابیوں اور غیر پیشہ ورانہ کارکردگی کا شکاربھارتی فضائیہ کا خطے کی طاقتور ایئر فورس بننے کا خواب چکنا چور مودی سرکار کی کرپشن اور ذاتی فوائد نے بھارتی فضائیہ کو نااہلی کی نذر کردیاگزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی فضائیہ کے متعدد لڑاکا طیارے حادثات کا شکار ہوچکے ہیں13 فروری 2024 کو بھارتی فضائیہ کا ہاک ایم کے-132 تربیتی طیارہ مغربی بنگال کے کلائیکنڈا ایئر فورس سٹیشن کے قریب گر کر تباہ ہو گیا 12 مارچ 2024 کو بھارتی فضائیہ کا لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ راجستھان کے علاقے میں تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوا03 اپریل 2024 کو لداخ میں آپریشنل تربیتی مشن کے دوران بھارتی فضائیہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر کو بھاری نقصان اٹھانا پڑاجون 2024 میں ناسک، مہاراشٹرا میں بھارتی فضائیہ کا سخوئی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو استمبر 2024 میں ایک مگ تھری طیارہ ساحل پر جبکہ راجستھان کے ضلع باڑ میر میں مگ 29 طیارہ رات کو تربیتی پرواز کے دوران فنی خرابی کا شکار ہو کر گر گیا اکتوبر 2024 میں، بھارتی فضائیہ کے اے ایل ایچ ہیلی کاپٹر کی انجن فیل ہونے کے باعث ریاست بہار کے دلدلی علاقے میں ہنگامی لینڈنگ کی گئی جس سے طیارے کو شدید نقصان پہنچانومبر 2024 میں آگرہ کے قریب ایک اور مگ 29 تربیتی پرواز کے دوران فنی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوافروری 2025 میں مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپوری میں میراج 2000 طیارہ فنی خرابی کے باعث تباہ ہو گیا7 مارچ 2025 کو دو حادثات کے دوران امبالا میں جگوار طیارہ گر کر تباہ ہوا جبکہ مغربی بنگال میں اے این 32 طیارہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا 2 اپریل 2025 کو جام نگر کے قریب بھارتی فضائیہ کا جیگوار لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پائلٹ بھی ہلاک ہو گیاتمام حادثات میں مشترکہ عنصر “تکنیکی خرابی” رہاپے در پے جدید طیاروں کا گر کر تباہ ہونا بھارتی فضائیہ کی دفاعی صلاحیت پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے،*دفاعی ماہرین* بھارتی فضائیہ میں رونما ہونے والے حادثات نے ادارے کی پیشہ ورانہ اور تربیتی کمزریوں کو بے نقاب کردیا ،*دفاعی ماہرین*ہر حادثے کے بعد رسمی کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہےجو منظر عام پر نہیں لائی جاتی،*دفاعی ماہرین**










