
ملٹری آپریشن کے سربراہ کی بریفنگ میں ای ایس ای کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک چیف آف جنرل سٹاف عامر رضا ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ واجد عزیز اور فوجی ترجمان شریک

پاکستان کے خلاف کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی اشتعال انگیزی یا جارحیت ہوتی ہے تو بغیر کسی خوف اور ڈر کے ہم پاکستان کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائینگے۔ یہ صرف حکومت خیبر پختونخوا نہیں بلکہ ہر پاکستانی اپنا قومی فریضہ سمجھتا ہے۔

اندرونی اختلاف اور غلط پالیسیوں پر تنقید کے باوجود بیرونی سازشوں یا جارحیت میں ہم اپنے ملک اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہینگے۔وفاقی نمائندوں سے میں نے اپنی آخری ملاقات میں عمران خان صاحب کی دی گئی ہدایات کو آن ریکارڈ لایا تھا۔”اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔ “عمران خان”تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔

“عمران خان عمران خان صاحب کے ان ہدایات کے تناظر میں، میں نے وفاقی نمائندوں کو نیشنل جرگہ بنانے کا مشورہ دیا جس میں صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے، قبائلی مشران اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مشران شامل ہو۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے مسائل بہترین انداز میں حل ہونگے۔ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ جنگ سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام

پاکستان افغانستان کے ساتھ بہت اچھا کر رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ
مداخلت نہیں کروں گا
جب بھارت کو مار پڑی تو جنگ رکوا دی
اب افغانستان میں اسکی مرضی سے جنگ ہو رہی ہے کرائے پہ ہائیر کیا ہوا ہے وہ کیوں روکے گا
بس یہ سب عالمی طاقتوں سے کئے گئے معاہدے کا نتیجہ ہے

رمضان کے ماہ میں قتل عام۔۔۔ ہمیشہ سے استعمال ہوئے تاریخ ہے ۔۔۔
جنگی جرائم ،اور ٹرمپ کی جنگ
ٹرمپ اپنے غلاموں کی روز جھوٹی تعریفیں اس لئے کرتا ہے کہ ان سے بڑے بڑے کام لینے ہوتے ہیں
عمران خان باہر ہوتا نہ افغانستان کیساتھ جنگ ہوتی
نہ اسرائیل سے دوستی
نہ خیبرپختنوخواہ میں ملٹری آپریشن نہ معدنیات کا سودا
نہ جنگی جرائم










