
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔صرف چوبیس گھنٹوں میں امریکیوں نے روسی آئل ٹینکر ضبط کیا ۔سعودی عرب نے یمن میں عرب امارات کی پراکیسوں پر خوفناک بمباری کی ۔افغانستان میں چینی انجینئرز پر خوفناک حملہ میں متعدد چینی ہلاک متعدد اغواء کر لئے گئے۔وین ویلا میں صدر کے اغواء کے خلاف لاکھوں شہری احتجاج پر نکل آئے ۔صدر کی سیکورٹی کے زمہ دار چھ اعلی افسران کو حکام نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ان پر اغواء میں امریکیوں کی معاونت کا الزام تھا۔یورپین یونین کے چھ طاقتور ملکوں جرمنی،فرانس سمیت گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی کوشش کو نیٹو توڑنے کے مترادف قرار دے دیا۔جدید ترین امریکی لڑاکا جیٹ اور اسلحہ بردار ٹرانسپورٹ طیارے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ مسلط کی جائے گی۔یہ تمام خبریں گزشتہ چوبیس گھنٹے کی ہیں۔امریکی دیوالیہ ہو چکے ہیں ۔وسائل کے حصول کیلئے کبھی صدر کو اغوا کرتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات کرتے ہیں ۔کبھی غزہ کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی معیشت کا یہ حال ہو چکا ہے دو ماہ قبل شٹ ڈاؤن کے دوران سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے دوست سے قرضہ لیا تھا ۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ فراغت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے گئے ہیں ۔تین لاکھ ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دے جا چکے ہیں۔امریکہ کا حال کسی ترقی پزیر غریب ملک سے بھی بدتر ہو چکا ہے ۔صحت کے بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے۔یو ایس ایڈ ،وائس آف امریکہ سمیت چالیس وفاقی محکمے ختم کر دیے گئے ہیں ۔یورپین یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا ہے تاکہ اضافی پیسے ملیں قرضوں کی ادائیگی ہو اور امریکی سرکاری مشنری چلائی جا سکے ۔امریکی سینٹ نادہندگی سے بچنے کیلئے جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد تو بڑھا دیتا ہے لیکن قابل ادا قرضوں کی ادائیگی تو بڑھتی ہی جائے گی اور ربڑ مزید کھنچنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی ۔نادہندگی کے خوفناک خواب کی تعبیر سے بچنے کیلئے جہاز کے ڈیک پر چوہے بھاگتے پھر رہے ہیں ورنہ خاموشی سے جہاز کے نچلے حصوں کے سٹور روم میں خوراک کترتے رہتے تھے ۔ایک بڑی جنگ ہی امریکی معیشت کو بچا سکتی ہے کہ اسلحہ کی صنعتیں چل پڑیں اور نادہندگی ٹال دی جائے ۔جتنا بڑھا قرضہ اور جتنی بڑی ادائیگیاں ہیں یہ ڈھول جلد پھٹ جائے گا۔ہر عروج کو زوال ہے ۔امریکیوں نے عروج دیکھ کیا اب زوال کی باری ہے ۔










