ایک دورے کے دوران جب وہ ایک آپریشنل فارمیشن میں پہنچے تو معمول کے مطابق انہیں پروٹوکول اور بریفنگ کے لیے مخصوص جگہ پر لے جایا جانا تھا۔ مگر انہوں نے ہدایت دی کہ پہلے وہ اُن جوانوں سے ملیں گے جو کئی دنوں سے فیلڈ میں تعینات تھے۔انہوں نے جوانوں کے ساتھ سادہ ماحول میں وقت گزارا، ان کی ڈیوٹی کے اوقات، آرام، راشن اور طبی سہولتوں کے بارے میں براہِ راست سوال کیے۔ جب معلوم ہوا کہ کچھ مقامات پر لاجسٹک مسائل ہیں تو انہوں نے موقع پر ہی احکامات جاری کیے کہ جوان کی سہولت، آپریشن کی کامیابی جتنی ہی اہم ہے۔ان کا یہ جملہ وہاں موجود افسروں اور جوانوں کے لیے خاصا حوصلہ افزا تھا:”جو فوج اپنے جوان کا خیال رکھتی ہے، وہی قوم کا بھی مضبوطی سے دفاع کرتی ہے۔”یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ جرنل عاصم منیر کے نزدیک قیادت کا مطلب صرف فیصلے کرنا نہیں، بلکہ میدان میں موجود سپاہی کی فلاح کو ترجیح دینا بھی ہے۔










